مشہور کتاب "الفوز الکبیر" کے چوتھے باب کی چوتھی فصل کی "تأویل قصص الأنبیاء" والی بات کو کیسے سمجھا جائے؟

    حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے "الفوز الکبیر" کے چوتھے باب کی چوتھی فصل میں، فنِ تفسیر سے متعلق اپنے بعض خاص وہبی علوم کے بیان میں، یہ ایک دقیق بات تحریر فرمائی ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کی قوموں کے مابین پیش آنے والے ہر واقعے کا ایک "مبدأ" ہوتا ہے، جو "نبی کی استعداد"، "قوم کی استعداد" اور "اللہ تعالیٰ کی تدبیر" کے عین مطابق ظہور پذیر ہوتا ہے.

    اس بات کا اصل مطلب اور اس کی گہرائی سمجھنے میں دشواری پیش آ رہی ہے؛ براہِ کرم آسان اور واضح انداز میں سمجھا دیں کہ ان واقعات میں "مبدأ"، "فریقین کی استعداد" اور "تدبیرِ الٰہی" کا آپس میں کیا عملی ربط ہے، اور امام صاحب ان اصطلاحات کے ذریعے دراصل ہمیں قصصِ قرآنی کو سمجھنے کا کون سا بنیادی اصول عطا فرمانا چاہتے ہیں؟ 


حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کی کتاب "الفوز الکبیر" کا صفحہ، جس میں انبیاء علیہم السلام کے قصوں کی تاویلِ احادیث، رسول و قوم کی استعداد اور تدبیرِ الٰہی سے متعلق چوتھی فصل کا اصل عربی متن نمایاں ہے۔
کتاب "الفوز الکبیر" کی چوتھی فصل سے علومِ وہبیہ اور نظریۂ "تاویلِ احادیث" کا اصل عربی متن


    قرآنِ کریم میں مذکور حضراتِ انبیائے کِرام (علیھم السلام) کے قصص و واقعات کو سمجھنے کے لیے، حضرت الاِمام شاہ ولی اللہ دہلوی (رحمہ اللہ) کی کتاب "الفوز الکبیر" کی یہ بات، ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتی ہے۔ بظاہر حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کی یہ تحریر اور ان کی استعمال کردہ اصطلاحات، جیسے "استعدادِ نبی"، "استعدادِ قوم"، "تدبیرِ الٰہی" اور "مبدأ (یعنی مخفی سبب)"، کافی دقیق اور فلسفیانہ محسوس ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے عام قاری کو ان کے باہمی ربط کو سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ لیکن جب ہم ان تمام اصطلاحات کی گہرائی میں اترتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) نے حضرات انبیائے کِرام (علیھم السلام) اور اُن کی قوموں کے درمیان پیش آنے والے واقعات (جن سے خاص طور پر معجزات اور عذابِ الٰہی کے واقعات مراد ہیں) کی ایک ایسی حکیمانہ اور معقول تفسیر پیش کی ہے جو انسان کے دل و دماغ دونوں کو تسلی دیتی ہے۔ اس دقیق نقطے کو سمجھنے کے لیے ان تمام اجزاء کے باہمی ربط اور ان کے پیچھے کارفرما الٰہی نظام کو قدرے تفصیل سے سمجھنا ضروری ہے۔

بنیادی اصطلاحات کی تفہیم اور ان کی حقیقت

    حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کی اس فکر کو سمجھنے کی پہلی کڑی، ان چار بنیادی اصطلاحات کے مفہوم کو درست طور پر ذہن نشین کرنا ہے۔ پہلی اصطلاح "استعدادِ نبی" ہے، جس سے مراد پیغمبرِ وقت کی وہ انتہائی پاکیزہ، اعلیٰ اور نورانی و روحانی حالت ہے جو اللہ تعالیٰ انھیں عطا فرماتا ہے، جس کے ذریعے وہ حق کی نصرت اور باطل کے مٹانے کے لیے بے چین ہوتے ہیں۔ دوسری اصطلاح "استعدادِ قوم" ہے، جس سے مراد اس قوم کی فکری و اعتقادی، اخلاقی اور عملی حالت ہوتی ہے؛ اگر قوم نیک ہے تو اس کی استعداد ہدایت کی قبولیت والی ہوتی ہے، اور اگر وہ سرکش اور ہٹ دھرم ہے تو اس کی منفی استعداد باطل پر جم جانے اور عذابِ الٰہی کو دعوت دینے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ تیسری اصطلاح "تدبیرِ الٰہی" ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کائنات کا نظام کسی حادثاتی طور پر نہیں چلا رہا ہے، بلکہ اس کی ایک خاص حکمت، وقت اور تدبیر طے ہے جس کے مطابق وہ ہر واقعے کا فیصلہ فرماتا ہے۔ چوتھی اصطلاح "مبدأ یا مخفی سبب" ہے، جس سے مراد وہ باطنی اور گہرا ذریعہ ہے جس کے تحت وہ واقعہ وجود میں آتا ہے۔ یہ تمام اصطلاحات الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ ایک دوسرے سے مکمل طور پر جڑی ہوئی ہیں۔

استعدادِ نبی، استعدادِ قوم اور تدبیرِ الٰہی کا باہمی ربط

    جب ہم قرآن کے بیان کردہ حضراتِ انبیائے کِرام (علیھم السلام) کے واقعات کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہر معجزہ یا عذاب ایک خاص موڑ پر رونما ہوتا ہے۔ حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کی بات کا مفہوم اور حاصل یہ ہے کہ جب کسی قوم کی سرکشی، عناد اور باطل پر اصرار اپنی آخری حد کو پہنچ جاتا ہے، تو یہ اس قوم کی منفی "استعداد" کا عروج ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں، اس وقت بھیجا گیا نبی اپنی انتہائی قوی "استعداد" اور روحانی قوت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کرتا ہے اور حق کو ظاہر کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ان دونوں استعدادوں یعنی نبی کی مجاہدانہ اور نورانی استعداد اور قوم کی سرکشانہ استعداد کے تصادم کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی "تدبیر" حرکت میں آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علمِ ازلی کے مطابق اس خاص وقت میں ایک ایسا نظام ترتیب دیتا ہے جہاں سے اس واقعے کا "مبدأ" یعنی بنیاد نکلتی ہے۔ یوں وہ واقعہ، جسے دنیا معجزہ یا عذاب کہتی ہے، حقیقت میں نبی کی دعا اور روحانی طاقت، قوم کی سرکشی کے استحقاق، اور اللہ کی تدبیر کے باہمی ملن سے جنم لیتا ہے۔

"مخفی سبب" اور معجزے کے "خارقِ عادت" ہونے کا فرق

    اس مقام پر سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ اگر معجزے یا عذاب کا کوئی نہ کوئی سبب اور مبدأ ہوتا ہے، تو پھر وہ "خارقِ عادت" یعنی عام طبعی قوانین سے ہٹ کر کیسے رہتا ہے؟ حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کے علوم و افکار کی روشنی میں اس کی وضاحت کچھ یوں کی جاسکتی ہے کہ انسان کی عقل اور اس کا تجربہ بہت محدود ہے، اور انسان صرف ان ظاہری مادی اسباب کو دیکھ سکتا ہے جو اس کے روزمرہ کے مشاہدے میں آتے ہیں۔ جب کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے جو ان عام مادی اسباب سے بالاتر ہو، تو عام انسان اسے "بے سبب" یا اچانک ہوجانے والا خرقِ عادت سمجھ لیتا ہے۔ مگر حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی کائنات صرف انہی ظاہری مادی اسباب تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کائنات میں بے شمار مخفی، لطیف اور باطنی اسباب بھی کام کررہے ہیں جن کا علم صرف اللہ اور اس کے عطا کرنے سے حضراتِ انبیائے کِرام (علیھم السلام) کو ہوتا ہے اور وہبی طور پر کسی حد تک اُن کے محقق اور راسخین فی العلم وارثین کو بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا، جب مثلاً اصحابِ سبت عذابِ الٰہی کے تحت ذلیل بندر بن گئے، تو وہ عام انسانوں کی نظر میں تو خارقِ عادت ہے؛ کیونکہ وہ ظاہری اسباب کے خلاف ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی تدبیر اور اس کے قائم کردہ باطنی قوانین کے لحاظ سے اس کا ایک "مخفی سبب" موجود ہے۔ یوں معجزے کی عظمت اور اس کا خرقِ عادت ہونا بھی برقرار رہتا ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کا کوئی فعل حکمت سے خالی اور اِس عالَم میں جاری اُس کی اسبابی سنت سے باہر نہیں ہے۔

    خوب سمجھ لیں، اِس والے سوال کا جواب حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کے وسیع تر فلسفے اور کائنات کے نظامِ اسباب کی ان کی تفہیم میں مضمر ہے۔ حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) اسبابِ عادیہ (جنہیں ہم عام طبعی قوانین کہتے ہیں) کا انکار نہیں کرتے، اور نہ ہی وہ معجزے کی حقیقت اور اس کے مافوق الفطرت ہونے کے منکر ہیں۔ ان کے نزدیک معجزہ یقیناً عام اور معلوم طبعی اسباب کے خلاف ہوتا ہے۔ تاہم، ان کا استدلال یہ ہے کہ کائنات میں صرف وہی اسباب نہیں ہیں جنہیں انسان اپنی محدود عقل اور تجربے سے جانتا ہے۔ اس کائنات کو چلانے والے نظام (جس کے مختلف پہلوؤں کو وہ اپنی تحقیقات میں "عالمِ مثال"، "ملأِ اعلیٰ" اور "حظیرۃ القدس" وغیرہ سے تعبیر کرتے ہیں) میں ایسے لطیف، مخفی اور قوی اسباب موجود ہیں جو عام انسانوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کسی نبی کے ہاتھ پر کوئی معجزہ ظاہر فرماتا ہے، تو وہ ہمارے دیکھے بھالے مادی اسباب سے تو بالاتر ہوتا ہے (اس لیے وہ ہمارے لیے خارقِ عادت ہے)، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے اپنے قائم کردہ ان مخفی اور اعلیٰ نظامِ اسباب (جسے "مبدأ" کہا گیا ہے) کے تحت ہی واقع ہوتا ہے۔ لہٰذا، معجزہ ہمارے علم اور تجربے کی حد تک تو بالکل خارقِ عادت ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کے کامل نظامِ ربوبیت کے لحاظ سے وہ کسی نہ کسی حکمت اور لطیف سبب کے تحت ہی ہوتا ہے، کیونکہ اللہ کا کوئی بھی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کا مقصد معجزے کی عظمت کو کم کرنا نہیں ہے، بلکہ اسے اللہ کی بے پناہ حکمت اور اس کے ہمہ گیر نظامِ اسباب کا حصہ بتانا ہے۔

مخفی اسباب بمقابلہ تعطیلِ اسباب: ایک اور علمی و فکری سوال

    اب یہاں ایک دوسرے ناحیے ایک اور سوال یہ ہوسکتا ہے جو ذہن میں قدرتی طور پر ابھرتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ "فعال لما یرید" ہے اور وہ کسی طبعی قانون یا اسباب کے سلسلے کا محتاج نہیں ہے، تو پھر معجزات کے پیچھے مخفی اسباب کا تانا بانا بُننے کی بھی کیا ضرورت ہے؟ کیا اِس کے مقابلے میں یہ بات اللہ کی عظمت کے زیادہ مناسب نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ اس نے اس موقع پر اپنے بنائے ہوئے اسبابی نظام کو معطل کردیا اور اپنی قدرتِ کاملہ کا براہِ راست مظاہرہ فرمایا!؟! معجزے میں اسباب کو معطل ماننے سے تو اللہ کی بے نیازی اور شانِ حاکمیت زیادہ نمایاں ہوتی ہے، اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے قوانین کے آگے مجبور نہیں ہے!! یہ سوال بظاہر ایمانی جذبے پر مبنی اور بہت قوی محسوس ہوتا ہے، لیکن جب حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کی حکیمانہ نظر سے اس کا جائزہ لیا جائے، تو معجزات کے پیچھے اسباب کو تسلیم کرنے کی اصل حقیقت کھُل کر سامنے آتی ہے۔

قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ کا الٰہی توازن

    حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان صفات میں صرف "قدرت" ہی شامل نہیں ہے، بلکہ اس کی صفتِ "حکمت" بھی اتنی ہی کامل اور لامحدود ہے۔ اگر یہ مانا جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کے لیے اپنے ہی بنائے ہوئے نظام کو بار بار توڑتا یا معطل کرتا ہے، تو اس سے بظاہر یہ تاثر ابھرسکتا ہے کہ (نعوذ باللہ) اس کا بنایا ہوا تکوینی نظام اتنا ناقص تھا کہ وہ ایک غیر معمولی واقعے (معجزے) کا بوجھ نہ اٹھاسکا، اس لیے اسے ہنگامی طور پر روکنا پڑا۔ اس کے برعکس، حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کے مطابق اللہ تعالیٰ کی حقیقی عظمت اور اس کے کمالِ صنعت کا مظہر یہ ہے کہ اس کا بنایا ہوا نظامِ عالم اتنا وسیع، ہمہ گیر اور محکم ہے کہ اس میں معمول کے طبعی واقعات سے لے کر حضراتِ انبیائے کِرام (علیھم السلام) کے عظیم ترین معجزات تک، ہر واقعے کے لیے ازل سے ایک لطیف اور مخفی قانون موجود ہے۔ پس معجزہ اللہ کی قدرت کی بے بسی یا نظام کی ناکامی کا ثبوت نہیں ہے، بلکہ اس کی حکمتِ بالغہ، اس کی کامل منصوبہ بندی اور اس کے نظام کی بےانتہا وسعت کا بیّن ثبوت ہے۔

نظامِ اسباب کی وسعت اور معجزے کا "خارقِ عادت" ہونا

    جیسا کہ میں نے اوپر بھی عرض کیا کہ حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) جب "اسباب" کا لفظ استعمال کرتے ہیں، تو ان کی مراد صرف وہ محدود اور مادی اسباب ہی نہیں ہوتے جنہیں انسان اپنی ناقص عقل اور طبعی علوم سے جانتا ہے۔ کائنات میں مادی نظام کے علاوہ غیبی، لطیف اور مجرد عوالم بھی موجود ہیں، جن کے مختلف پہلوؤں کو وہ "عالمِ مثال" "ملأِ اعلیٰ" اور "حظیرۃ القدس" وغیرہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ جب کوئی معجزہ رونما ہوتا ہے، جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کا اژدہا بننا یا عذابِ الٰہی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے، جیسے اصحابِ سبت کا بندر بن جانا، تو اللہ تعالیٰ اسبابی نظام کو معطل نہیں کرتا، بلکہ وہ اپنے ہی بنائے ہوئے ان اعلیٰ اور مخفی عوالم کے اسباب کو اس مادی دنیا پر غالب کردیتا ہے۔ انسانی عقل چونکہ صرف مادی اسباب سے واقف ہوتی ہے، اس لیے وہ ان مخفی اسباب کا ادراک نہ کر سکنے کی وجہ سے اسے "بے سبب" یا "تعطیلِ اسباب" سمجھ لیتی ہے۔ لہٰذا، عام انسانوں کی نظر میں اور طبعی قوانین کے اعتبار سے وہ واقعہ یقیناً "خارقِ عادت" اور معجزہ ہی رہتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہمہ گیر نظامِ تکوین کے اعتبار سے وہ اس کی سنت اور ایک مخفی سبب کے تحت ہی وقوع پذیر ہوتا ہے۔

قصصِ قرآنی کو سمجھنے کا بنیادی ولی اللّٰہی اصول

    اس پوری تفہیم سے قرآنِ کریم کا وہ بنیادی اصول بالکل واضح ہو جاتا ہے جس میں ارشاد فرمایا گیا: "ولن تجد لسنة الله تبديلا" (اور تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے)۔ اللہ کی سنت اور اس کا قانون کبھی متزلزل نہیں ہوتا۔ حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) اپنی بات اور اپنے نظریۂ "تاویلِ احادیث" کے ذریعے ہمیں در اصل اصولِ تفسیر کا ایک انتہائی عظیم الشان اور بہترین ابدی اصول عطا فرمانا چاہتے ہیں۔ وہ ہمیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ قرآنِ کریم میں بیان کردہ حضراتِ انبیائے کِرام (علیھم السلام) کے قصص اور معجزات محض جادوئی یا طلسماتی قسم کی داستانیں یا بلا سبب رونما ہونے والے اتفاقات یا غیر مربوط واقعات نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ قوانینِ ربوبیت، اس کے عدل، اس کی بے پناہ حکمت اور سنتِ الٰہیہ کا عملی اظہار ہیں۔ جب ایک طالبِ علم اس زاویۂ نظر کو اختیار کرتا ہے، تو اس کے سامنے سے وہ تمام الجھنیں اور دشواریاں ختم ہوجاتی ہیں جو عقل اور نقل کے بظاہر ٹکراؤ سے پیدا ہوتی ہیں۔ حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کا مقصد وحی اور عقل (نقل و عقل) کے درمیان پائی جانے والی بظاہر خلیج کو پاٹنا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اسلام کا مزاج یہ ہے کہ کائنات میں رونما ہونے والے تمام عظیم الشان واقعات اللہ کی حکمت، عدل اور تدبیر کے تحت ہوتے ہیں۔ جب ایک مفسر اس زاویۂ نظر سے قرآن کو پڑھتا ہے، تو اسے قرآن کے واقعات میں ایک گہرا ربط، معقولیت اور ربانی حکمت نظر آتی ہے، اور وہ ان واقعات کو صرف ماضی کے قصے سمجھنے کے بجائے ہر دور میں اللہ کی سنت اور اس کے نظامِ مجازات کو سمجھنے کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔

    حاصلِ کلام یہ ہے کہ حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کا نظریہٴ "تاویلِ احادیث" اللہ تعالیٰ کی قدرت کو محدود کرنے کے بجائے اس کی عظمت، تدبیر اور حکمت کو اس کے اعلیٰ ترین مقام پر جلوہ گر دکھاتا ہے۔ یہ فلسفہ ہمیں باور کراتا ہے کہ اللہ جل جلالہ صرف ایک قاہر اور قادرِ مطلق ہستی ہی نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا حکیمِ مطلق بھی ہے جس کا ہر فعل حکمت کی محکم زنجیر سے جڑا ہوا ہے۔ معجزات اور عذابِ الٰہی وغیرہ کے واقعات میں اسبابی نظام کو سرے سے معطل ماننے کے بجائے، اس نظام کی گہری اور مخفی تہوں کو تسلیم کرنا درحقیقت خالقِ کائنات کی بے مثال کاریگری کا اعتراف ہے، اور یہی وہ بنیادی کلید ہے جو "الفوز الکبیر" کی اس گہری عبارت کو کھول کر انسان کے قلب و ذہن کو ایمانی اور علمی اطمینان کی دولت سے مالا مال کر دیتی ہے۔ حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کے نظریۂ "تاویلِ احادیث" کی یہ تشریح بظاہر جتنی پیچیدہ نظر آتی ہے، حقیقت میں اتنی ہی روشن اور بصیرت افروز ہے۔ یہ تشریح ہمیں سکھاتی ہے کہ انبیاء (علیھم السلام) کے معجزات جہاں ایک طرف اللہ کی قدرتِ کاملہ کا شاہکار ہیں، وہاں دوسری طرف وہ اللہ کی بے پناہ حکمت اور کائنات کے لطیف قوانین کے عین مطابق ہیں۔ جب انسان نبی کی پاکیزہ و اعلیٰ استعداد، قوم کی مجموعی حالت، اور اللہ کی ازلی تدبیر کے اس باہمی تعلق کو سمجھ لیتا ہے، تو "الفوز الکبیر" کی یہ دشوار گزار عبارت اس کے لیے معرفت اور تدبرِ قرآن کا ایک ایسا وسیع سمندر بن جاتی ہے جس سے ایمانی اور علمی دونوں طرح کی بالیدگی حاصل ہوتی ہے۔

    ہاں، یہ بات ضرور ہے کہ قرآنِ مجید میں مذکور، حضراتِ انبیائے کِرام (علیھم السلام) اور اُن کے قوموں کے بیچ پیش آئے واقعات میں پیغمبرِ وقت کی استعداد، مخاطَب قوم کی استعداد، تدبیرِ الٰہی اور مبدأ و مخفی سبب وغیرہ کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر، اُن واقعات کی حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کے نظریۂ "تاویلِ احادیث" کے مطابق بالکل درست انداز میں توجیہ کرنا، ظاہر ہے کہ یہ ہرگز کوئی آسان کام نہیں ہے، بڑا ہی مشکل اور نازک ترین ہے، ہر کسی کے کرنے کا نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت اور وہبی علم کے بغیر ممکن نہیں ہے؛ اسی وجہ سے حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) نے بھی اِس کو فنِ تفسیر سے متعلق اپنے کو من جانب اللہ عطا ہوئے ایک خاص وہبی علم کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔


🤝 اسلامی رہنمائی کے اِس سفر میں ہمارا ساتھ دیں!

    محترم قارئین! اگر آپ کو "اسلامی رہنمائی" کی یہ تحقیقی کاوش مفید لگی ہو، تو صدقۂ جاریہ کی نیت سے اسے اپنے حلقۂ احباب میں ضرور شیئر کریں۔ اِس علمی و دعوتی کام کو مستقل اور بہتر انداز میں جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے مالی تعاون کی بھی ضرورت ہے؛ آپ اسی پیج پر موجود (موبائل میں تھوڑا نیچے اسکرول کرنے پر اور پی سی اسکرین پر دائیں جانب) QR Code یا UPI ID کے ذریعے بآسانی اپنا قیمتی تعاون پیش کر سکتے ہیں۔ جزاک اللہ خیراً!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے