بچوں کو کس عمر میں کون سے کھلونے دینے چاہییں؟

     آج کے دور میں بچوں کے لیے مختلف اقسام کے کھلونے دستیاب ہیں، جو شعوری اور لاشعوری طور پر ان کی ذہنی، نفسیاتی، جذباتی اور تخلیقی نشوونما پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسے میں والدین اور سرپرستوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ بچے کی پیدائش سے لے کر عمر کے مختلف مراحل تک اسے کس نوعیت کے کھلونے مرحلہ وار فراہم کیے جائیں تاکہ اُس کی ذہنی استعداد، سیکھنے کی صلاحیت، تخلیقی فکر، مسئلہ حل کرنے کی مہارت اور متوازن شخصیت کی مثبت اور صحت مند نشوونما ہو سکے؟


ایک نوجوان مسلمان ماں اور اس کے تین بچے (دھندلے چہروں کے ساتھ) گھر میں ایک میز کے گرد بیٹھے مختلف تعلیمی اور تخلیقی کھلونوں، جیسے بلاکس اور پزل، کے ساتھ کھیلتے ہوئے۔
گھر میں بچوں کے ساتھ تعلیمی کھیل: نشوونما اور تفریح


     اللہ تعالیٰ نے بچے کو ایک امانت اور فطرتِ سلیمہ پر پیدا کیا ہے۔ اس کی شخصیت، سوچ، مزاج، جذبات اور کردار کی تعمیر بتدریج ہوتی ہے، اور اس تعمیر میں گھر کے ماحول، والدین کے رویّوں، صحبتوں اور کھلونوں تک کا حصہ ہوتا ہے۔ جدید نفسیات بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ کھیل بچے کی زبان ہے اور کھلونے اس کے سیکھنے، سمجھنے اور دنیا کو جاننے کے ذرائع ہیں۔ ماہرینِ اطفال اور ماہرینِ نفسیات کے نزدیک کھیل بچے کی فطری ضرورت ہے اور مناسب کھلونے اس کی علمی، جسمانی اور سماجی ترقی میں معاون بنتے ہیں۔ اسلام بھی بچوں کی فطری ضروریات، کھیل کود اور تفریح کو نظر انداز نہیں کرتا، بلکہ اُن کی عمر، مزاج اور نشو و نما کے تقاضوں کے مطابق اُن کی مثبت رہنمائی کرتا ہے۔

    الغرض، بچوں کے کھیل اور کھلونوں کو بھی تربیت کے ایک اہم ذریعے کی حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے یہ سوال نہایت اہم ہے کہ بچوں کو زندگی کے مختلف مراحل میں کیسے کھلونے دیے جائیں جو ان کی ذہنی، جذباتی اور اخلاقی نشوونما کے لیے مفید ہوں، نہ کہ انہیں محض وقتی مصروفیت یا غیر ضروری ذہنی الجھنوں میں مبتلا کریں۔

پیدائش سے ابتدائی عمر تک: حواس کی بیداری اور فطری ادراک

     بچے کی زندگی کے ابتدائی مہینوں میں اُس کی اصل ضرورت تفریح نہیں ہوتی، بلکہ اُس کے حواس کی متوازن بیداری ہوتی ہے۔ اس مرحلے میں ایسے کھلونے موزوں ہیں جو رنگ، آواز، حرکت اور لمس کے ذریعے بچے کی فطری صلاحیتوں کو بیدار کریں۔ نرم رنگوں والے، محفوظ اور سادہ کھلونے بچے کو اپنے گرد موجود دنیا کو پہچاننے میں مدد دیتے ہیں۔ مثلاً: نرم کپڑے یا روئی سے بنے محفوظ کھلونے، ہلکی آواز والے جھنجھنے (Rattles)، مختلف ساخت (Texture) والے نرم کھلونے، رنگین لیکن غیر چمکدار لٹکنے والے کھلونے، نرم گیندیں، شکلوں اور رنگوں کی پہچان کے لیے بڑے مباح تصویری کارڈز اور محفوظ اسٹیکنگ رِنگز (Stacking Rings) وغیرہ۔ بہت زیادہ شور مچانے والے، تیز روشنیوں والے یا مسلسل توجہ کھینچنے والے کھلونے بچے کے اعصاب پر غیر ضروری بوجھ ڈال سکتے ہیں۔ اس عمر میں سادگی ہی بہترین تربیت ہے؛ کیونکہ بچہ ابھی دنیا کو سکون اور توازن کے ساتھ دریافت کر رہا ہوتا ہے۔ 

    یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ مرحلہ محبت، شفقت اور انسانی تعلقات کے احساس کا مرحلہ ہوتا ہے۔ والدین کی آغوش، چہرے کے تاثرات اور محبت بھری گفتگو کسی بھی کھلونے سے زیادہ مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے کھلونوں کو والدین کی موجودگی اور توجہ کا متبادل نہیں بنانا چاہیے۔

دو سے چار سال کی عمر: جستجو، تخیل اور عملی تجربہ

     جوں جوں بچہ چلنا، پکڑنا اور مختلف چیزوں کو آزمانا شروع کرتا ہے، اس کی فطری جستجو بھی بڑھتی ہے۔ اس مرحلے میں ایسے کھلونے مفید ہوتے ہیں جو ہاتھ اور دماغ کے درمیان ربط پیدا کریں۔ مختلف شکلوں کو جوڑنے، ترتیب دینے، بنانے اور پہچاننے والے کھلونے بچے کی ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح بلاکس، سادہ تعمیراتی اشیاء اور تخیلاتی کھیلوں کے سامان بچے کے اندر تخلیقی سوچ پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً: بڑے بلاکس (Building Blocks)، شکلیں ملانے والے کھلونے (Shape Sorters)، سادہ پزلز، جانوروں، پھلوں اور گاڑیوں کے ماڈلز، کھلونا باورچی خانہ (Toy Kitchen Set)، ڈاکٹر سیٹ، استاد سیٹ یا کاریگر سیٹ، رنگ بھرنے کی کتابیں، مٹی یا پلے ڈو (Play Dough) اور کھلونا ٹرین یا گاڑی جسے بچہ خود چلا سکے وغیرہ۔

     نیز، یہ عمر سوالات اور دریافت کی عمر بھی ہوتی ہے، لہٰذا ایسے کھلونے زیادہ مفید ہیں جو بچے کو کچھ نیا سوچنے اور کرنے پر آمادہ کریں۔ اس کے برعکس وہ کھلونے جو صرف ایک بٹن دبانے سے سب کچھ خود انجام دیتے ہیں، بچے کی تخلیقی قوت کو محدود کر سکتے ہیں۔ بچے کو فعال بنانے والے کھلونے، غیر فعال تماشائی بنانے والے کھلونوں سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہیں۔

چار سے سات سال کی عمر: تخلیقی صلاحیت اور سماجی شعور کی تعمیر

     یہ وہ مرحلہ ہے جب بچہ کرداروں، رشتوں اور معاشرتی رویّوں کو سمجھنا شروع کرتا ہے۔ اب اس کے کھلونوں کے ذریعے اس کے ذہن میں زندگی کے بارے میں تصورات بھی بننے لگتے ہیں۔ گھریلو کھیل، تعمیری سیٹ، آرٹ اور دستکاری کا سامان، کتابوں سے وابستہ سرگرمیاں، عمر کے مطابق مباح تصویری اور کہانیوں کی کتابیں اور ایسے اجتماعی کھیل جو بچے میں تعاون، اظہارِ خیال اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہوں، اِس مرحلے میں بہت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً: درمیانی درجے کے پزلز، لیگو (LEGO) یا دیگر تعمیراتی سیٹس، آرٹ اور کرافٹ کا سامان، ڈرائنگ، رنگ سازی اور خطاطی کے ابتدائی سیٹس، مباح کٹھ پتلیاں (Puppets)، بورڈ گیمز جو تعاون اور سوچ پیدا کریں، کہانیوں سے متعلق کرداروں کے تعمیری کھیل، باغبانی کے چھوٹے سیٹس، رسّی کودنا، گیند کے کھیل اور دیگر جسمانی سرگرمیوں کے سامان وغیرہ۔

     والدین کو اس عمر میں خاص طور پر ایسے کھلونوں سے احتیاط کرنی چاہیے جو تشدد، جارحیت، انتقام یا غیر حقیقی طاقت کے تصورات کو غیر معمولی انداز میں پیش کرتے ہوں۔ اگر کسی بچے کی تفریح کا بڑا حصہ صرف لڑائی، تباہی اور دوسروں کو شکست دینے کے تصور کے گرد گھومنے لگے تو یہ اس کی شخصیت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اسلامی تربیت توازن، رحم، تعاون اور ذمہ داری سکھاتی ہے، اس لیے کھلونوں کا انتخاب بھی انہی اقدار کو تقویت دینے والا ہونا چاہیے۔

سات سے بارہ سال کی عمر: ذمہ داری، مہارت اور مقصدیت کی تربیت

     اس عمر میں بچے کی عقلی صلاحیت پہلے کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہوجاتی ہے۔ اب ایسے کھیل اور سرگرمیاں فائدہ مند ہیں جو غور و فکر، منصوبہ بندی، تجزیہ اور صبر کی تربیت دیں۔ ذہنی مشقوں، سائنسی تجربات، تعمیری منصوبوں، فنون اور مختلف مہارتوں پر مبنی کھلونے بچے کے اندر اعتماد اور خود انحصاری پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً: پیچیدہ پزلز، سائنسی تجربات کے ابتدائی کٹس، ابتدائی اور سادہ مکینیکل یا انجینئرنگ ماڈلز، روبوٹکس کے ابتدائی سیٹس، دوربین (Binoculars) یا ابتدائی فلکیاتی آلات، نقشہ سازی اور جغرافیائی کھیل، الیکٹرانکس کے سادہ تعلیمی سیٹس اور لکڑی یا کاغذ سے ماڈل بنانے کے منصوبے وغیرہ۔ اِسی طرح عمر کے اِس مرحلے میں تیر اندازی، تیراکی، دوڑ، سائیکلنگ اور دیگر صحت بخش کھیلوں کی طرف رغبت دلانا بھی مفید ہے؛ کیونکہ متوازن شخصیت کے لیے جسمانی اور ذہنی دونوں صلاحیتوں کی نشو و نما ضروری ہے۔

     یاد رکھنا چاہیے کہ یہ دور صرف کھیلنے کا نہیں ہوتا، بلکہ زندگی کی تیاری کا بھی آغاز ہوتا ہے۔ چنانچہ بچوں کو ایسی سرگرمیوں سے جوڑنا چاہیے جو انہیں حقیقی دنیا کی سمجھ دیں۔ مثلاً باغبانی، سادہ سائنسی مشاہدات، دستکاری، مطالعہ اور تخلیقی منصوبے۔ اس طرح کھیل آہستہ آہستہ سیکھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے اور بچہ محض وقت گزارنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا ہے۔

بارہ سال کے بعد: صلاحیتوں کی سمت بندی اور شخصیت کا استحکام

    یہ عمر بچپن سے نوجوانی کی طرف منتقلی کا دور ہوتی ہے۔ اب بچے کے اندر اپنی دلچسپیوں، رجحانات اور صلاحیتوں کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا ہونے لگتی ہے۔ اس مرحلے میں محض تفریح پر مبنی کھلونوں کے بجائے ایسی سرگرمیاں اور وسائل زیادہ مفید ہوتے ہیں جو کسی عملی مہارت، تخلیقی صلاحیت یا علمی دلچسپی کو پروان چڑھائیں۔ مثلاً: پروگرامنگ اور کوڈنگ کٹس، روبوٹکس اور آٹومیشن پروجیکٹس، الیکٹرانکس اور سائنس لیبارٹری سیٹس، مباح فوٹوگرافی کے ابتدائی آلات، خطاطی، مصوری یا ڈیزائننگ کے سیٹس، بڑھئی گیری، دستکاری یا ماڈل سازی کے منصوبے، کھیلوں کا سامان اور مطالعے اور تحقیقی سرگرمیوں سے متعلق مواد وغیرہ۔ نوجوان ذہن اب صرف کھیلنے سے مطمئن نہیں رہتا بلکہ کچھ سیکھنے، بنانے، دریافت کرنے اور اپنے آپ کو منوانے کی خواہش رکھتا ہے۔

    والدین کو چاہیے کہ وہ اس عمر میں بچے کی فطری دلچسپیوں کا مشاہدہ کریں اور انہیں مثبت سمت فراہم کریں۔ اگر بچہ سائنس کی طرف مائل ہے تو تجربات اور سائنسی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے، اگر فنون سے دلچسپی رکھتا ہے تو مباح مصوری، خطاطی یا ڈیزائننگ کے مواقع فراہم کیے جائیں، اور اگر عملی مہارتوں کی جانب رغبت ہو تو دستکاری، ماڈل سازی یا دیگر تعمیری سرگرمیوں میں اسے مشغول کیا جائے۔ اس طرح کھیل اور مشغلے محض وقت گزاری کا ذریعہ نہیں رہتے بلکہ مستقبل کی صلاحیتوں کی تعمیر اور شخصیت کے استحکام کا مؤثر وسیلہ بن جاتے ہیں۔

کھلونوں کے انتخاب کا بنیادی معیار

     اصل سوال یہ نہیں ہے کہ کھلونا مہنگا ہے یا سستا، جدید ہے یا روایتی؛ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ بچے کے اندر کیا پیدا کر رہا ہے۔ اچھا کھلونا وہ ہے جو بچے کو سوچنے پر مجبور کرے، کچھ نیا سکھائے، اس کی تخلیقی صلاحیت بڑھائے، اس کے اخلاقی احساس کو نقصان نہ پہنچائے اور اسے حقیقی دنیا سے جوڑے رکھے۔ اس کے برعکس ایسا کھلونا جو صرف وقتی سنسنی، بے مقصد مصروفیت، جارحانہ رویّے یا غیر حقیقی خواہشات پیدا کرے، وہ خواہ کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہو، تربیتی اعتبار سے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ عمر کے ہر مرحلے میں یہ دیکھا جائے کہ کھلونا بچے کو سوچنے، تخلیق کرنے، حرکت کرنے، سیکھنے اور دوسروں کے ساتھ تعاون کرنے کی ترغیب دیتا ہے یا نہیں۔ اگر کوئی کھلونا صرف بچے کو خاموش بٹھا کر مسلسل اسکرین یا بٹنوں کا محتاج بنادے تو وہ عموماً تعمیری کھلونوں کے مقابلے میں کم فائدہ مند ہوتا ہے۔ بہترین کھلونا وہ ہے جو بچے کو محض تماشائی نہیں بلکہ فعال اور تخلیقی کردار ادا کرنے والا بنائے۔ 

     والدین کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بچے کی شخصیت صرف کھلونوں سے نہیں بنتی، بلکہ کھلونے اس ماحول کے معاون ہوتے ہیں جو گھر میں موجود ہوتا ہے۔ ایک صالح، محبت کرنے والا اور بامقصد ماحول بہترین کھلونوں سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔

کھلونوں کے انتخاب میں دینی اصولوں کا خیال

     اسلام میں بچوں کی فطری ضروریات، کھیل کود اور تفریح کی نفی نہیں کی گئی ہے، بلکہ ان کے لیے ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جو جسمانی، ذہنی اور اخلاقی نشوونما میں معاون ہوں۔ چنانچہ کھلونوں کے انتخاب میں اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ بچے کی شخصیت کی تعمیر کریں، نہ کہ اس کے عقائد، اخلاق یا طرزِ فکر کو منفی انداز میں متاثر کریں۔

     بچے کو ایسے کھلونے دیے جائیں جو اس کی فطرتِ سلیمہ کے مطابق ہوں۔ ایسے کھلونوں سے بچنا چاہیے جو بے حیائی، فیشن پرستی، جسمانی نمائش یا غیر اخلاقی طرزِ زندگی کو دلکش بنا کر پیش کرتے ہوں۔ بچپن میں جو تصورات دل و دماغ میں راسخ ہو جاتے ہیں، وہ بعد میں شخصیت کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اس لیے کھلونوں میں بھی پاکیزگی، سادگی اور وقار کا عنصر موجود ہونا چاہیے۔

    اسلام رحم، عدل اور حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ اگرچہ بچوں کے بعض کھیلوں میں مقابلہ یا فرضی جنگ کا عنصر فطری طور پر پایا جاسکتا ہے، لیکن ایسے کھلونوں سے احتراز کرنا بہتر ہے جو ظلم، انتقام، بے رحمی، قتل و غارت یا دوسروں کو اذیت پہنچانے کو تفریح بناکر پیش کریں۔ جب کسی بچے کی دلچسپی مسلسل انہی چیزوں کے گرد گھومنے لگے تو اس کی حساسیت اور رویّوں پر بھی اثر پڑسکتا ہے۔ اس لیے توازن ضروری ہے۔

    بہت سے جدید کھلونے، کارٹون کردار اور خیالی ہیرو ایسے تصورات پیش کرتے ہیں جن میں مافوق الفطرت طاقتوں، جادوئی اثرات یا غیر اسلامی عقائد کو غیر معمولی کشش کے ساتھ نمایاں کیا جاتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اس پہلو پر بھی توجہ دیں اور بچے کو سمجھائیں کہ حقیقی قوت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور انسان محنت، دعا اور اللہ کی مدد سے کامیاب ہوتا ہے۔ اس طرح کھلونا تفریح کا ذریعہ رہے گا لیکن عقیدے کی الجھن کا سبب نہیں بنے گا۔

     اسلامی نقطۂ نظر سے وہ کھلونے زیادہ مفید ہیں جو بچے کے اندر مثبت اوصاف پیدا کریں۔ مثال کے طور پر تعمیراتی سیٹس، سائنسی تجربات کی کٹس، دستکاری کا سامان، تعلیمی کھیل، باغبانی کے آلات، نقشہ جات، پزلز اور ایسے اجتماعی کھیل جو بچے میں صبر، محنت، تعاون، نظم و ضبط اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ یہ وہ صفات ہیں جنہیں دین بھی پسند کرتا ہے اور جو زندگی میں کامیابی کا ذریعہ بنتی ہیں۔

     کھلونوں کے معاملے میں ایک اہم اسلامی اصول اعتدال ہے۔ بعض اوقات والدین محبت کے اظہار میں ضرورت سے زیادہ مہنگے یا بے شمار کھلونے جمع کر دیتے ہیں، جس سے بچے میں ناشکری، ضد اور مادّہ پرستی پیدا ہو سکتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ کم مگر معیاری اور مفید کھلونے دیے جائیں اور بچے کو یہ بھی سکھایا جائے کہ نعمتوں کی قدر کیسے کی جاتی ہے۔

     اسلامی نقطۂ نظر سے صرف کھلونے کا انتخاب ہی کافی نہیں، بلکہ اس کا استعمال بھی اہم ہے۔ ایک ہی کھلونا والدین کی رہنمائی کے ساتھ تعمیری بن سکتا ہے اور نگرانی نہ ہونے کی صورت میں بے فائدہ بھی۔ والدین اگر کھیل میں شریک ہوں، بچے سے گفتگو کریں اور اس کے خیالات کو سمجھیں تو کھیل خود ایک تربیتی عمل بن جاتا ہے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے کھیل تفریح کے ساتھ ساتھ کردار سازی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔

    موجودہ دور میں بچوں کے بہت سے کھیل موبائل، ٹیبلیٹ اور ڈیجیٹل آلات سے وابستہ ہوگئے ہیں۔ اگرچہ بعض تعلیمی ایپلی کیشنز اور پروگرام مفید ہوسکتے ہیں، لیکن اسکرین کے غیر ضروری اور غیر محدود استعمال سے بچے کی توجہ، سماجی روابط، جسمانی سرگرمی اور فطری تخلیقی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ ڈیجیٹل کھیلوں میں اعتدال اور نگرانی کا اصول اختیار کریں اور عملی، تخلیقی اور جسمانی سرگرمیوں کو ترجیح دیں۔

     غرضیکہ دینی اعتبار سے اچھا کھلونا وہ ہے جو بچے کی فطرت کو محفوظ رکھے، اس کے عقیدے اور اخلاق کو نقصان نہ پہنچائے، اس کے اندر مثبت صفات پیدا کرے اور اسے علم، مہارت، تعاون اور تخلیق کی طرف لے جائے۔ دوسرے لفظوں میں، کھلونے کا معیار اس کی قیمت یا جدیدیت نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ بچے کو اللہ کے بہتر بندے اور معاشرے کے بہتر انسان بننے میں کس حد تک مدد دیتا ہے۔

خلاصہ 

     حقیقت یہ ہے کہ بچپن کی دنیا میں کھلونے محض کھیل کا سامان نہیں ہوتے، بلکہ وہ خاموش اساتذہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ بچے کے ذہن کو ایک خاص سمت دیتے، اس کے تخیل کو تشکیل دیتے اور اس کی شخصیت کے کئی پہلوؤں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ بچپن کے ہر مرحلے میں بچے کو ایسے کھلونے دیے جائیں جو اس کی فطرت، عمر اور ذہنی ضرورتوں کے مطابق ہوں، اس کے اندر تجسس، تخلیق، توازن اور حسنِ اخلاق پیدا کریں۔ جب کھلونے تربیت کے شعور کے ساتھ منتخب کیے جائیں تو وہ محض کھیل کا ذریعہ نہیں رہتے بلکہ ایک صالح، باصلاحیت اور متوازن انسان کی تعمیر کا مؤثر وسیلہ بن جاتے ہیں۔ اچھے کھلونے بچے کے وقت کو صرف بھرنے کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ وہ اُس کے ذہن کو روشن، اُس کے کردار کو مضبوط اور اس کی شخصیت اور اُس کے مستقبل کو سنوارنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اسی لیے کھلونا خریدتے وقت یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ وہ کتنا مقبول یا مہنگا ہے، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ بچے کے ذہن، کردار اور مستقبل کی تعمیر میں کیا کردار ادا کررہا ہے۔


🤝 دینی رہنمائی کے اس سفر میں ہمارا ساتھ دیں!

    محترم قارئین! اگر یہ تحریر آپ کے لیے مفید ثابت ہوئی ہے، تو اسے اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ معاشرے میں صحیح شعور بیدار ہو۔ ہماری ویب سائٹ "اسلامی رہنمائی" کی ان علمی کاوشوں کو مستقل جاری رکھنے اور مزید وسعت دینے کے لیے ہمیں آپ کے مالی تعاون کی بھی ضرورت ہے۔ براہِ کرم! موبائل پر نیچے اسکرول کرکے یا کمپیوٹر اسکرین پر دائیں جانب موجود QR Code یا UPI ID کے ذریعے اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ضرور ملائیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے