نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تلاوتِ قرآن میں اچانک دشواری اور زبان کا رکنے کا معاملہ اور رہنمائی

(سوال):       ہماری والدہ ایک مسئلہ کو لیکر نہایت پریشان ہیں۔ وہ یہ کہ وہ بحمد اللہ قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں اور روزانہ تلاوت کا معمول بھی ہے، مگر اس رمضان میں یہ محسوس کررہی ہیں کہ وہ قرآن پڑھتی ہیں، مگر ایک ایک لفظ کئی کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کے باوجود زبان پر نہیں چڑھ پارہا ہے اور پہلے، پون گھنٹے میں یا ایک گھنٹے میں ایک پارہ پڑھ لیتی تھیں، مگر اب دو ڈھائی گھنٹے میں بھی نہیں پڑھا جارہا ہے۔ نیز پہلے جو معمولات تھے ان کے پڑھنے میں بھی زبان نہیں پلٹ پارہی ہے۔ تو اس کا کیا ریزن ہوسکتا ہے؟ اس کا کوئی حل یا دعا ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔ اور ایک چیز یہ بھی ہے کہ عام گفتگو میں الحمد للّٰہ کوئی دشواری نہیں ہے۔   (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک نقشین رحل پر کُھلا ہوا قرآنِ مجید، جو کھڑکی سے آتی سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا ہے۔ پاس رکھی تسبیح اور عینک تلاوت اور ذکر کے پرسکون ماحول کی عکاسی کر رہے ہیں۔      یہ پڑھ کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی؛ ایک طرف ایک اللہ والی بندی کا کلامِ الہی سے عشق ہے کہ معمول چھوٹنے پر تڑپ رہی ہیں، اور دوسری طرف عمر ک...

شرائط و ضوابط | Terms and Conditions


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آخری ترمیم: [۲۴/ شوال/ ١٤٤٧ھ، ۱۲/ اپریل/ ٢٠٢٦ء، اتوار]

​     "اسلامی رہنمائی" بلاگ پر خوش آمدید۔ اس ویب سائٹ کو استعمال کرنے سے پہلے درج ذیل شرائط و ضوابط کو غور سے پڑھ لیں۔ اس بلاگ کا استعمال اس بات کی علامت ہے کہ آپ ان شرائط سے مکمل طور پر متفق ہیں۔

​علمی و تحقیقی مواد کے حقوق (Intellectual Property)

​     اس بلاگ پر شائع ہونے والے تمام جوابات اور رہنما مواد مفتی صاحب کی علمی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ آپ اس مواد کو مطالعہ اور ذاتی رہنمائی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ بلاگ کے مواد کو کسی دوسرے پلیٹ فارم، کتاب یا ویب سائٹ پر شائع کرنے کے لیے اصل لنک (Source Link) دینا ضروری ہے۔ تجارتی مقاصد کے لیے مواد کا استعمال بغیر پیشگی اجازت کے ممنوع ہے۔

ہمارے مشوروں کی حیثیت (Disclaimer)

​     اس بلاگ پر فراہم کردہ معلومات اور جوابات عام اسلامی رہنمائی کے لیے ہیں۔ رہنمائی چونکہ حالات، مقامات اور اشخاص کے بدلنے سے بدل سکتی ہے، اس لیے پیچیدہ اور حساس معاملات میں صرف ویب سائٹ کے مواد پر اکتفا کرنے کے بجائے اپنے مقامی مستند مفکرین، مشائخِ عِظام اور علمائے کِرام سے براہِ راست رجوع کرنا بہتر ہے۔ اس بلاگ پر موجود معلومات کو کسی بھی قسم کی قانونی (Legal) کارروائی کے لیے بطورِ ثبوت استعمال کرنے سے پہلے انتظامیہ سے تصدیق کر لینا ضروری ہے۔

​صارفین کا طرزِ عمل (User Conduct)

​     ہم اپنے قارئین کی آراء اور سوالات کا خیر مقدم کرتے ہیں، تاہم اِن باتوں کا خیال رکھنا لازمی ہے کہ تبصرہ کرتے وقت تہذیب اور اخلاقی حدود کا پاس رکھیں۔ کسی بھی فرقے، مسلک یا شخصیت کی تضحیک یا توہین پر مبنی تبصرہ فوری طور پر حذف کر دیا جائے گا۔ غیر ضروری اشتہارات یا سپیم (Spam) لنکس پوسٹ کرنے سے گریز کریں۔

​بیرونی لنکس (External Links)

​     ہمارے جوابات میں بعض اوقات دیگر مستند ویب سائٹس کے لنکس دیے جاسکتے ہیں۔ ان ویب سائٹس کے مواد یا ان کی پالیسیوں کی ذمہ داری "اسلامی رہنمائی" کی انتظامیہ پر عائد نہیں ہوتی۔

​تبدیلیٔ شرائط

​     بلاگ انتظامیہ کسی بھی وقت ان شرائط و ضوابط میں تبدیلی کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ ان تبدیلیوں کا اطلاق اشاعت کے فوری بعد ہوگا۔

​رابطہ کریں

​     اگر آپ کو ان شرائط کے حوالے سے کوئی سوال پوچھنا ہو یا کسی معاملے میں وضاحت مطلوب ہو، تو آپ ہمارے 'رابطہ کریں' (Contact Us) صفحے کے ذریعے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غسلِ احرام کے بعد اگر سِلے ہوئے کپڑے پہن لیے تو کیا غسل دوبارہ کرنا ہوگا؟

  (مسئلہ):      مجھے عمرے کے لیے احرام باندھنا تھا، اس کے لیے میں نے غسل بھی کر لیا تھا، لیکن چونکہ مغرب کی نماز کا وقت ہو چکا تھا، تو میں نے جلدی میں نارمل (سِلے ہوئے) کپڑے ہی پہن کر مغرب کی نماز ادا کر لی (کیوں کہ احرام کو اچھی طرح سیٹ کر کے باندھنے میں مجھے تھوڑا وقت لگتا ہے)۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا احرام باندھنے کے لیے مجھے دوبارہ غسل کرنا ہوگا یا وہی پہلے والا غسل کافی ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      اس معاملے میں آپ مکمل اطمینان رکھیں کہ مغرب سے پہلے کیا گیا آپ کا غسل شرعی طور پر بدستور کارآمد ہے اور احرام کی نیت کے لیے آپ پر دوبارہ غسل کرنا ہرگز لازم نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ احرام سے قبل غسل کرنا ایک مسنون عمل ہے جس کی حیثیت "شرط" کی نہیں بلکہ ایک مستحب تیاری کی ہے، جس کا منشاء جسمانی میل کچیل دور کرنا اور تازگی حاصل کرنا ہے، جسے فقہی اصطلاح میں "للنظافۃ" (صفائی کے لیے) کہا جاتا ہے نہ کہ "للطہارۃ" (پاکی حاصل کرنے کے لیے)۔ چونکہ آپ نے ابھی کچھ دیر قبل ہی غسل کیا تھا اور درمیان میں صرف مغرب کی نماز کا وقفہ آیا ہے جس میں آپ نے س...

انتقال کے بعد کھانے کی دعوت اور رسمی قرآن خوانی: ایک متوازن رہنمائی

(مسئلہ):      معاشرے میں ایک رواج جڑ پکڑ چکا ہے کہ کسی کے انتقال کے بعد اُس کے اہلِ خانہ ایصالِ ثواب کی نیت سے فوراً اگلے دن یا تیجہ وغیرہ کے موقع پر بڑے پیمانے پر کھانے کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں قریبی رشتہ دار اور دیگر متعلقین شریک ہوتے ہیں۔ شرعی نقطۂ نظر سے غم کے موقع پر سوگوار خاندان کی طرف سے اِس طرح کی دعوت کا کیا حکم ہے؟ نیز ایصالِ ثواب کی ایک دوسری رائج صورت یہ بھی ہے کہ مدارس کے طلبہ کو بلا کر اجتماعی قرآن خوانی کروائی جاتی ہے یا مدرسہ میں ہی ختمِ قرآن کروا کر اُن کی طعام و نقود سے تواضع کی جاتی ہے۔ کیا یہ طریقہ درست ہے اور کیا اِس طرح پڑھوانے سے میت کو ثواب پہنچتا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      شریعتِ مطہرہ نے خوشی اور غم، ہر موقع پر انسانی فطرت اور نفسیات کی رعایت رکھتے ہوئے احکام وضع کیے ہیں؛ تاکہ لوگ افراط و تفریط سے بچے رہیں۔      جہاں تک میت کے اہل خانہ کی جانب سے انتقال کے فوراً بعد یا اگلے دن یا تیجہ و چالیسواں کے نام پر برادری اور رشتہ داروں کے لیے کھانے کا اہتمام کرنے کا تعلق ہے، تو فقہائے کرام اور محدثین نے ...

مرحوم بےاولاد چچا کی وراثت کی تقسیم: بیوہ، بہن اور بھائیوں کے ساتھ بھتیجوں کی بھی موجودگی کی صورت میں

(مسئلہ):     ایک صاحب نے دریافت کیا ہے کہ  میرے دادا کا انتقال 1965ء میں ہوا، ان کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ بڑے بیٹے کا انتقال 2010ء میں ہوا جن کے تین بچے ہیں۔ سب سے چھوٹے چچا کا انتقال 2020ء میں ہوا اور ان کی بیوہ کا بھی حال ہی میں انتقال ہو گیا، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم لاولد چچا کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ کیا ان کے باقی ماندہ تین بھائیوں اور فوت شدہ بھائی کے بچوں (بھتیجوں) کے درمیان تقسیم ہوگی یا کوئی اور حکم ہے؟ (( [نوٹ]: یہ سوال واٹس ایپ کے ایک گروپ میں بذریعہ  ٹیکسٹ  موصول ہوا تھا، جسے قارئین کی سہولت کے لیے ضروری نوک پلک سنوارنے کے بعد معمولی لفظی تبدیلیوں کے ساتھ یہاں پیش کیا گیا ہے۔)) (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اللہ سے توفیق مانگتے ہوئے، اِس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ:     پوچھی گئی  صورت میں چوں کہ مرحوم چچا بے اولاد تھے، لہذا قرآنِ مجید کے حکم کے مطابق ان کی بیوہ کا حصہ کل جائیداد میں ایک چوتھائی (1/4) مقرر ہوگا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: " وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُ...