(سوال):
ملک کے چار بیٹے ہیں: زبیر، اکبر، ذاکر اور طاہر۔ چاروں بیٹوں کے اپنے اپنے بچے ہیں، اور ہر ایک کے دو بچے ہیں۔
ملک کے پاس بہت بڑی جائیداد ہے۔ طاہر کا انتقال ملک کی زندگی میں ہی ہوجاتا ہے، جبکہ طاہر کی بیوی اور اس کے دو بیٹے زندہ ہیں۔ بعد میں ملک کا بھی انتقال ہوجاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ملک کی جائیداد اسلامی شریعت اور ہندوستانی قانون کے مطابق کس طرح تقسیم ہوگی؟
کیا طاہر کے دونوں بیٹوں کو وہ حصہ ملے گا جو طاہر کو ملتا اگر وہ ملک کی وفات کے وقت زندہ ہوتا؟ یا چونکہ طاہر ملک کی وفات سے پہلے ہی فوت ہوچکا تھا، اس لیے طاہر کے دونوں بیٹے ملک کی جائیداد میں اپنے والد کا حصہ نہیں لے سکتے اور صرف ملک کے زندہ بیٹے یعنی زبیر، اکبر اور ذاکر ہی وارث ہوں گے؟
خاص طور پر اگر ملک کی جائیداد ایک ارب روپے کی ہو تو طاہر کے دونوں بیٹوں کا اس ایک ارب روپے میں کیا حق ہوگا؟
![]() |
| وراثت کی تقسیم کا ایک تمثیلی اجلاس |
(رہنمائی):
اللہ رب العزت نے قرآنِ مجید میں وراثت کے جو اصول اور ضوابط مقرر فرمائے ہیں، وہ اس کی کامل حکمت، عدل اور انسانی معاشرے کی نفسیات اور ضروریات کے عین مطابق ہیں۔ اسلامی شریعت میں وراثت کا نظام محض جذبات پر نہیں، بلکہ قرابت داری کے درجے، معاشی ذمہ داریوں اور رشتوں کی قربت پر استوار کیا گیا ہے۔ آپ نے جو صورتِ حال بیان کی ہے، وہ واضح ہے، اُس میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہے۔ ذیل میں اس معاملے کی تمام جہتوں کو تفصیل کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
وراثت کا بنیادی اصول اور مورث کی حیات میں وفات پانے والے وارث کا معاملہ
کسی کے، وراثت کا مستحق قرار پانے کے لیے سب سے بنیادی اور لازمی چیز یہ ہے کہ مورث (جس کی جائیداد تقسیم ہونی ہے) کے انتقال کے وقت وہ زندہ ہو؛ کیونکہ وراثت دراصل ایک شخص کی ملکیت سے نکل کر دوسرے زندہ شخص کی ملکیت میں جائیداد کے منتقل ہونے کا نام ہے۔
زیرِ بحث صورتِ حال میں چونکہ طاہر کا انتقال اپنے والد ملک کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا، اس لیے طاہر اپنے والد کی وفات کے وقت وارث بننے کی اہلیت کھوچکا تھا۔ اور جو شخص خود کسی جائیداد کا وارث نہ بن سکا ہو، تو اس کے انتقال کے بعد اس کی اولاد بھی اس مخصوص جائیداد میں اپنے والد کے حق کی بنیاد پر کوئی دعویٰ نہیں کرسکتی۔ طاہر چونکہ ملک کی جائیداد کا مالک بننے سے پہلے ہی وفات پاگیا تھا، اس لیے اس کا کوئی فرضی حصہ مقرر کر کے اس کی اولاد کی طرف منتقل نہیں کیا جاسکتا۔
قریبی رشتہ داروں کی موجودگی میں دور کے رشتہ داروں کی حیثیت
جب میت کا کوئی قریبی رشتہ دار موجود ہو، تو وہ اپنے سے دور والے رشتہ دار کو وراثت سے محروم کردیتا ہے۔ وراثت میں ترجیح ہمیشہ اس شخص کو دی جاتی ہے جس کا رشتہ میت سے زیادہ قریب ہو۔
اب چونکہ ملک کے تین سگے بیٹے (زبیر، اکبر اور ذاکر) بقیدِ حیات ہیں، اس لیے یہ تینوں براہِ راست اور قریبی وارث ہونے کی حیثیت سے ملک کے پوتوں (طاہر کے بیٹوں) کو وراثت سے محروم کردیں گے۔ پوتے وراثت میں اسی صورت میں حق دار ٹھہرتے ہیں جب میت کا اپنا کوئی سگا بیٹا زندہ نہ ہو۔ لہٰذا طاہر کے دونوں بیٹے، اپنے چچاؤں کی موجودگی کے سبب دادا کی وراثت میں شرعی طور پر کسی حصے کے حق دار نہیں ہوں گے۔
ہندوستانی قانون اور مسلم پرسنل لاء کا اطلاق
جہاں تک ہندوستانی قانون کا تعلق ہے، ہندوستان میں مسلمانوں کے عائلی اور وراثت کے معاملات "مسلم پرسنل لاء (شریعت) ایپلیکیشن ایکٹ انیس سو سینتیس" کے تحت طے پاتے ہیں۔ اس قانون کے مطابق وراثت کے مسائل میں خالصتاً اسلامی شریعت اور فقہِ حنفی (یا متعلقہ مسلک) کے اصولوں کو ہی نافذ کیا جاتا ہے۔
میری معلومات کے مطابق، واللہ اعلم، بعض پڑوسی ممالک کی طرح ہندوستان کے مسلم پرسنل لاء میں ابھی تک کوئی ایسی ترمیم نہیں کی گئی ہے جو یتیم پوتوں کو دادا کی وراثت میں لازمی حصہ دار بناتی ہو۔ اس لیے ہندوستانی عدالتوں کے نزدیک بھی طاہر کے دونوں بیٹے ملک کی جائیداد میں کوئی قانونی حق نہیں رکھتے۔ عدالت اس پوری ایک ارب روپے کی جائیداد پر صرف اور صرف زندہ بیٹوں یعنی زبیر، اکبر اور ذاکر ہی کا حق تسلیم کرے گی اور یتیم پوتوں کو قانونی طور پر وراثت کے دعوے سے خارج سمجھے گی۔
ایک ارب روپے کی خطیر جائیداد کی منصفانہ تقسیم کا عملی خاکہ
مذکورہ بالا گفتگو کی روشنی میں، اگر ملک کے ورثاء میں صرف اس کے تین بیٹے (زبیر، اکبر، ذاکر) ہی حیات ہیں (بشرطیکہ ملک کی کوئی بیوہ یا والدین بقیدِ حیات نہ ہوں اور اس کے ذمے کوئی قرض یا وصیت نہ ہو)، تو ملک کی چھوڑی ہوئی پوری ایک ارب روپے کی جائیداد ان تینوں بیٹوں کے درمیان برابر تقسیم کر دی جائے گی۔ اس ایک ارب روپے کی مالیت میں سے طاہر کی بیوہ اور اس کے دونوں بیٹوں کو بطورِ حقِ وراثت کوئی بھی حصہ نہیں ملے گا۔ طاہر کے بیٹوں کا اس ایک ارب روپے میں کوئی حق ثابت نہیں ہوتا، لہٰذا یہ خطیر رقم مکمل طور پر تینوں زندہ بھائیوں کی ملکیت متصور ہوگی۔
اسلامی اخلاقیات، یتیم پوتوں کی کفالت اور حکیمانہ متبادل نظام
یہاں اس بات کی وضاحت کرنا بھی انتہائی ضروری ہے کہ قانون اگرچہ یتیم پوتوں کو چچاؤں کی موجودگی میں وراثت کا حق دار نہیں ٹھہراتا، لیکن اسلام کا اخلاقی اور سماجی نظام انھیں بے یار و مددگار بھی نہیں چھوڑتا۔
دادا (ملک) کے لیے یہ بہترین متبادل موجود تھا کہ وہ اپنی زندگی میں ہی اپنی جائیداد کے ایک تہائی (ون تھرڈ) حصے تک کی وصیت اپنے یتیم پوتوں کے حق میں کرجاتے، جسے اُن کی موت کے بعد وراثت کی تقسیم سے پہلے نافذ کیا جانا لازمی ہوتا۔ اس کے علاوہ دادا اپنی زندگی میں ہی جائیداد کا کچھ حصہ پوتوں کو بطورِ ہبہ (گفٹ) دے کر ان کے نام منتقل کر سکتے تھے۔ اب چونکہ دادا کا انتقال ہو چکا ہے، تو ذمہ داری زبیر، اکبر اور ذاکر پر عائد ہوتی ہے۔
یہ تینوں بھائی کروڑوں روپے کی خطیر جائیداد کے مالک بن رہے ہیں، اس لیے صلہ رحمی، خاندانی ہمدردی اور یتیم پروری کے اسلامی جذبے کے تحت ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے مرحوم بھائی طاہر کی بیوہ اور یتیم بچوں کی کفالت کا مکمل انتظام کریں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی رضامندی اور خوش دلی سے اس ایک ارب روپے کی جائیداد میں سے ایک معقول اور باعزت حصہ اپنے بھتیجوں کو ہبہ کردیں؛ تاکہ وہ معاشرے میں دست نگر نہ رہیں اور خاندانی محبت و اخوت کا رشتہ ہمیشہ قائم رہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں قانونی حدود ختم ہوتی ہیں، وہاں سے اعلیٰ اخلاقیات اور ایثار کا آغاز ہوتا ہے۔
دینی و علمی خدمت میں ہمارا ہاتھ بٹائیے!
اگر "اسلامی رہنمائی" کے ذریعے آپ تک پہنچنے والی یہ کاوش مفید لگی ہو، تو اس سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے اپنا تعاون ضرور پیش فرمائیں؛ اسکرین پر (موبائل میں نیچے اور پی سی پر دائیں جانب) موجود QR Code یا UPI ID کے ذریعے آپ آسانی سے حصہ لے سکتے ہیں۔ نیز، اس پوسٹ کو دیگر احباب کے ساتھ شیئر کرکے صدقۂ جاریہ کے اس خیر میں بھی اپنے لیے ثواب کا سامان کریں۔

0 تبصرے