نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تلاوتِ قرآن میں اچانک دشواری اور زبان کا رکنے کا معاملہ اور رہنمائی

(سوال):       ہماری والدہ ایک مسئلہ کو لیکر نہایت پریشان ہیں۔ وہ یہ کہ وہ بحمد اللہ قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں اور روزانہ تلاوت کا معمول بھی ہے، مگر اس رمضان میں یہ محسوس کررہی ہیں کہ وہ قرآن پڑھتی ہیں، مگر ایک ایک لفظ کئی کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کے باوجود زبان پر نہیں چڑھ پارہا ہے اور پہلے، پون گھنٹے میں یا ایک گھنٹے میں ایک پارہ پڑھ لیتی تھیں، مگر اب دو ڈھائی گھنٹے میں بھی نہیں پڑھا جارہا ہے۔ نیز پہلے جو معمولات تھے ان کے پڑھنے میں بھی زبان نہیں پلٹ پارہی ہے۔ تو اس کا کیا ریزن ہوسکتا ہے؟ اس کا کوئی حل یا دعا ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔ اور ایک چیز یہ بھی ہے کہ عام گفتگو میں الحمد للّٰہ کوئی دشواری نہیں ہے۔   (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک نقشین رحل پر کُھلا ہوا قرآنِ مجید، جو کھڑکی سے آتی سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا ہے۔ پاس رکھی تسبیح اور عینک تلاوت اور ذکر کے پرسکون ماحول کی عکاسی کر رہے ہیں۔      یہ پڑھ کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی؛ ایک طرف ایک اللہ والی بندی کا کلامِ الہی سے عشق ہے کہ معمول چھوٹنے پر تڑپ رہی ہیں، اور دوسری طرف عمر ک...

بے روزگار بیٹی کے سونے پر زکات کا اور ادائیگی کے لیے اُس کے پاس نقد رقم نہ ہونے کا مسئلہ اور رہنمائی


(مسئلہ):

     ہم نے اپنی بیٹی کو شادی کے موقع پر سونا تحفے میں دیا تھا۔ اب یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا اس سونے پر زکات ادا کرنا بیٹی پر فرض ہے، جبکہ بیٹی فی الحال کہیں ملازمت نہیں کر رہی ہے اور اس کے پاس زکات ادا کرنے کے لیے نقد رقم بھی موجود نہیں ہے؟

(رہنمائی):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
     شریعتِ مطہرہ کے اصولوں کے مطابق، جب کسی لڑکی کو اس کی شادی کے موقع پر سونا تحفے میں دے دیا جائے اور وہ اس کی مکمل مالک اور قابض بن جائے، تو اس مال کی زکات کی ادائیگی کی بنیادی ذمہ داری شرعی طور پر خود اسی لڑکی پر عائد ہوتی ہے۔
     اور اسلام میں زکات کا تعلق انسان کی ملکیت اور مال کی نامی (بڑھنے والی) صفت سے ہے؛ اس لیے یہ ضروری نہیں کہ زکات ادا کرنے والا لازمی طور پر ملازمت پیشہ ہو یا اس کی اپنی کوئی مستقل آمدنی ہو۔
     لہٰذا اگر اس سونے کی مقدار نصاب یعنی ساڑھے سات تولہ کو پہنچتی ہو، یا سونے کے ساتھ کچھ تھوڑی بہت نقدی اور چاندی بھی موجود ہے جس کی مجموعی مالیت چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) کے برابر ہوجاتی ہو، تو سال گزرنے پر اس کی زکات ادا کرنا اس بیٹی پر فرض ہے۔
     اور یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ خواتین کے استعمال کا سونا ہو یا بچت کی نیت سے رکھا گیا زیور، ہر دو صورتوں میں اس کی زکات نکالنا لازم ہے۔
​     اب جہاں تک اس الجھن کا تعلق ہے کہ بیٹی کے پاس نقد رقم موجود نہیں ہے، تو یہ صورتحال زکات کی فرضیت کو ختم نہیں کرتی، بلکہ اس کے لیے دوسرے آسان اور متبادل راستے بھی موجود ہیں۔ مثلاً ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ بیٹی کے والدین یا اس کے شوہر، اس کی خوشی اور اجازت سے، اس کی طرف سے زکات کی رقم ادا کردیں۔ یہ ان شاء اللہ اُن کی طرف سے بیٹی کے ساتھ تعاون اور صلہ رحمی شمار ہوگا، جس کا انہیں اللہ کے ہاں اجر ملے گا۔ لیکن اگر گھر والے ادائیگی کی استطاعت نہ رکھتے ہوں یا کسی وجہ سے وہ ادائیگی نہ کریں، تو پھر اس بیٹی کے لیے طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے زیور میں سے ایک بہت چھوٹا سا حصہ (کل قیمت کا ڈھائی فیصد) فروخت کر دے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم سے تمام سونے کی زکات ادا کردے۔ اس طرح اس کا سونا بھی پاک ہو جائے گا اور اس کے سر سے فریضہ بھی اتر جائے گا۔
​     خلاصۂ کلام یہ ہے کہ بیٹی کو یہ ذہنی طور پر سمجھنا چاہیے کہ زکات اس کے مال کا وہ حصہ ہے جو درحقیقت اس کا نہیں بلکہ مستحقین کا حق ہے، اور اسے نکالنے سے مال میں کمی نہیں بلکہ برکت آتی ہے۔ نقد رقم کا پاس نہ ہونا محض ایک تکنیکی رکاوٹ ہے جسے زیور کا معمولی حصہ فروخت کر کے یا گھر والوں کے تعاون سے دور کیا جاسکتا ہے۔
     والدین کو چاہیے کہ وہ بیٹیوں کو اس فریضے کی اہمیت سے آگاہ کریں؛ تاکہ وہ اپنی نئی زندگی کا آغاز اللہ کے حکم کی پابندی اور مال کی پاکیزگی کے ساتھ کریں۔ زکات کی ادائیگی سے نہ صرف اُن کا مال محفوظ ہوگا بلکہ اُن کی ازدواجی زندگی میں بھی خیر و برکت کا اضافہ ہوگا۔
​(واللہ اعلم بالصواب) 

============================================= =============================================
(کچھ ضروری باتیں)
  • یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
  • اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
  • آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
  • اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غسلِ احرام کے بعد اگر سِلے ہوئے کپڑے پہن لیے تو کیا غسل دوبارہ کرنا ہوگا؟

  (مسئلہ):      مجھے عمرے کے لیے احرام باندھنا تھا، اس کے لیے میں نے غسل بھی کر لیا تھا، لیکن چونکہ مغرب کی نماز کا وقت ہو چکا تھا، تو میں نے جلدی میں نارمل (سِلے ہوئے) کپڑے ہی پہن کر مغرب کی نماز ادا کر لی (کیوں کہ احرام کو اچھی طرح سیٹ کر کے باندھنے میں مجھے تھوڑا وقت لگتا ہے)۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا احرام باندھنے کے لیے مجھے دوبارہ غسل کرنا ہوگا یا وہی پہلے والا غسل کافی ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      اس معاملے میں آپ مکمل اطمینان رکھیں کہ مغرب سے پہلے کیا گیا آپ کا غسل شرعی طور پر بدستور کارآمد ہے اور احرام کی نیت کے لیے آپ پر دوبارہ غسل کرنا ہرگز لازم نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ احرام سے قبل غسل کرنا ایک مسنون عمل ہے جس کی حیثیت "شرط" کی نہیں بلکہ ایک مستحب تیاری کی ہے، جس کا منشاء جسمانی میل کچیل دور کرنا اور تازگی حاصل کرنا ہے، جسے فقہی اصطلاح میں "للنظافۃ" (صفائی کے لیے) کہا جاتا ہے نہ کہ "للطہارۃ" (پاکی حاصل کرنے کے لیے)۔ چونکہ آپ نے ابھی کچھ دیر قبل ہی غسل کیا تھا اور درمیان میں صرف مغرب کی نماز کا وقفہ آیا ہے جس میں آپ نے س...

انتقال کے بعد کھانے کی دعوت اور رسمی قرآن خوانی: ایک متوازن رہنمائی

(مسئلہ):      معاشرے میں ایک رواج جڑ پکڑ چکا ہے کہ کسی کے انتقال کے بعد اُس کے اہلِ خانہ ایصالِ ثواب کی نیت سے فوراً اگلے دن یا تیجہ وغیرہ کے موقع پر بڑے پیمانے پر کھانے کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں قریبی رشتہ دار اور دیگر متعلقین شریک ہوتے ہیں۔ شرعی نقطۂ نظر سے غم کے موقع پر سوگوار خاندان کی طرف سے اِس طرح کی دعوت کا کیا حکم ہے؟ نیز ایصالِ ثواب کی ایک دوسری رائج صورت یہ بھی ہے کہ مدارس کے طلبہ کو بلا کر اجتماعی قرآن خوانی کروائی جاتی ہے یا مدرسہ میں ہی ختمِ قرآن کروا کر اُن کی طعام و نقود سے تواضع کی جاتی ہے۔ کیا یہ طریقہ درست ہے اور کیا اِس طرح پڑھوانے سے میت کو ثواب پہنچتا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      شریعتِ مطہرہ نے خوشی اور غم، ہر موقع پر انسانی فطرت اور نفسیات کی رعایت رکھتے ہوئے احکام وضع کیے ہیں؛ تاکہ لوگ افراط و تفریط سے بچے رہیں۔      جہاں تک میت کے اہل خانہ کی جانب سے انتقال کے فوراً بعد یا اگلے دن یا تیجہ و چالیسواں کے نام پر برادری اور رشتہ داروں کے لیے کھانے کا اہتمام کرنے کا تعلق ہے، تو فقہائے کرام اور محدثین نے ...

مرحوم بےاولاد چچا کی وراثت کی تقسیم: بیوہ، بہن اور بھائیوں کے ساتھ بھتیجوں کی بھی موجودگی کی صورت میں

(مسئلہ):     ایک صاحب نے دریافت کیا ہے کہ  میرے دادا کا انتقال 1965ء میں ہوا، ان کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ بڑے بیٹے کا انتقال 2010ء میں ہوا جن کے تین بچے ہیں۔ سب سے چھوٹے چچا کا انتقال 2020ء میں ہوا اور ان کی بیوہ کا بھی حال ہی میں انتقال ہو گیا، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم لاولد چچا کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ کیا ان کے باقی ماندہ تین بھائیوں اور فوت شدہ بھائی کے بچوں (بھتیجوں) کے درمیان تقسیم ہوگی یا کوئی اور حکم ہے؟ (( [نوٹ]: یہ سوال واٹس ایپ کے ایک گروپ میں بذریعہ  ٹیکسٹ  موصول ہوا تھا، جسے قارئین کی سہولت کے لیے ضروری نوک پلک سنوارنے کے بعد معمولی لفظی تبدیلیوں کے ساتھ یہاں پیش کیا گیا ہے۔)) (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اللہ سے توفیق مانگتے ہوئے، اِس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ:     پوچھی گئی  صورت میں چوں کہ مرحوم چچا بے اولاد تھے، لہذا قرآنِ مجید کے حکم کے مطابق ان کی بیوہ کا حصہ کل جائیداد میں ایک چوتھائی (1/4) مقرر ہوگا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: " وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُ...