کمیٹی (بی سی) ڈالنا شرعاً کیسا ہے؟ اور تمام شرکاء کی رضامندی کے ساتھ کمیٹی کے صدر (جو پیسے جمع کرتے ہیں) کا، جس شخص کی بھی کمیٹی (بی سی) نکلے اُس سے، پانچ سو یا ہزار روپے لینا یا کاٹ کردینا کیسا ہے؟
![]() |
| روایتی مالیاتی کمیٹی (بی سی) کی میٹنگ میں رقم کا تبادلہ |
شریعت نے انسانوں کی معاشی اور معاشرتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے باہمی تعاون، اخوت اور ہمدردی کے جو اصول وضع کیے ہیں، ان کی روشنی میں روزمرہ کے مالی معاملات کا حل نہایت خوش اسلوبی اور توازن کے ساتھ نکل آتا ہے۔ آپ نے مروجہ کمیٹی (جسے بی سی بھی کہا جاتا ہے) اور اس کے منتظم کی اجرت کے حوالے سے جو دریافت کیا ہے، اس کا جواب ذیل میں دینے کی کوشش کرتا ہوں۔
مروجہ کمیٹی (بی سی) کی حیثیت اور اس کی نوعیت
ہمارے عرف میں معاشی ضروریات کو احسن انداز میں پورا کرنے کے لیے جو کمیٹی ڈالی جاتی ہے، اس کی حیثیت باہمی "قرضِ حسنہ" کے لین دین کی ہے۔ اس نظام میں شریک تمام افراد درحقیقت ایک دوسرے کو باقاعدگی کے ساتھ قرض فراہم کر رہے ہوتے ہیں اور جب کسی ایک رکن کی باری آتی ہے، تو وہ دیگر تمام اراکین سے اپنا دیا ہوا قرض یکمشت وصول کرلیتا ہے۔ چونکہ اس پورے عمل میں ہر شخص آخرکار اتنی ہی رقم وصول کرتا ہے جتنی وہ جمع کرواتا ہے، اور اس پر وقت کے عوض کسی قسم کا کوئی مشروط منافع یا اضافی رقم (سود) نہیں لی جاتی، اس لیے یہ عمل درست ہے۔ بلکہ اگر اس کا بنیادی مقصد ایک دوسرے کی جائز مالی ضروریات میں دستگیری کرنا، معاشی بوجھ کو بانٹنا اور بچت کی ترغیب دینا ہو، تو یہ ایک مستحسن اور باعثِ اجر عمل بھی بن سکتا ہے۔ دینِ اسلام ہمیشہ ایسے معاملات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جن میں معاشرے کے افراد ایک دوسرے کے کام آئیں، بشرطیکہ وہ معاملات سود، غرر (دھوکہ دہی) اور قمار (جوئے) جیسی مہلک برائیوں سے مکمل طور پر پاک ہوں۔
کمیٹی کے منتظم (صدر) کے لیے طے شدہ کٹوتی یا اجرت
جہاں تک کمیٹی کے صدر یا منتظم کی جانب سے ہر نکلنے والی کمیٹی پر ایک مخصوص اور طے شدہ رقم (جیسے پانچ سو یا ہزار روپے) وصول کرنے یا کاٹ لینے کا معاملہ ہے، تو اس کا تعلق "وکالت بالاجرت" یا "اجارہ" کے باب سے ہے۔ کمیٹی کا منتظم تمام اراکین سے رقوم اکٹھا کرنے، ان کا باقاعدہ اور شفاف حساب کتاب رکھنے، بروقت ادائیگیوں کے لیے اراکین سے تقاضا کرنے اور پھر مستحق شخص تک پوری امانت داری کے ساتھ وہ رقم بحفاظت پہنچانے کے لیے اپنا قیمتی وقت، صلاحیت اور محنت صرف کرتا ہے۔ بسا اوقات اس مشقت طلب عمل میں اسے سفر اور رابطوں کی مد میں کچھ مالی اخراجات بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ کسی بھی جائز، معلوم اور مباح خدمت (Service) کے عوض اجرت لینا درست ہوتا ہے۔ لہٰذا، اگر کمیٹی شروع ہوتے وقت ہی تمام شرکاء کی مکمل رضامندی، خوش دلی اور افہام و تفہیم کے ساتھ یہ طے پا جائے کہ منتظم اپنی اس محنت اور انتظامی خدمات کے صلے میں ہر کمیٹی میں سے ایک متعین رقم اجرت کے طور پر لے گا، تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ یہ کٹوتی کسی طور پر سود یا ناجائز خرد برد کے زمرے میں نہیں آتی، بلکہ یہ منتظم کی اپنی جائز محنت کی حلال کمائی اور اجرت سمجھی جائے گی۔
معاملات کی شفافیت اور احتیاط کے لازمی تقاضے
اگرچہ منتظم کے لیے اپنی خدمات کے عوض یہ اجرت لینا درست ہے، تاہم ایک صاحبِ بصیرت مسلمان ہونے کے ناطے معاملات میں چند اہم احتیاطوں کو ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ کٹوتی کی جانے والی یہ رقم پہلے دن سے ہی بالکل متعین اور واضح ہونی چاہیے تاکہ بعد میں کسی قسم کے ابہام، شکوک و شبہات یا نزاع (جھگڑے) کی نوبت نہ آئے۔ دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کٹوتی پر واقعی تمام اراکین کی صدقِ دل سے رضامندی شامل ہو، محض مروت، شرم یا کسی دباؤ میں آکر اجازت نہ دی گئی ہو، کیونکہ کسی بھی مسلمان کا مال اس کی دلی خوشی اور رضامندی کے بغیر دوسرے کے لیے حلال نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ، کمیٹی کے صدر کو چاہیے کہ وہ اس جمع شدہ سرمائے کو اپنے پاس ایک ربانی امانت سمجھے اور اسے اپنے ذاتی استعمال یا کاروبار میں لگانے سے سختی سے گریز کرے، الا یہ کہ تمام اراکین نے اسے اس بات کی واضح اور پیشگی اجازت دے رکھی ہو۔ ان تمام شرائط اور احتیاطی تدابیر کو پیشِ نظر رکھ کر اگر کمیٹی کا یہ نظام چلایا جائے تو یہ نہ صرف محفوظ و مامون رہے گا بلکہ باہمی اعتماد، اخوت اور سماجی فلاح کا ایک بہترین اور پائیدار ذریعہ بھی ثابت ہوگا۔
ایک مستحسن اور محتاط طریقہ
معاملات کو ہر قسم کے شبہات اور عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والی الجھنوں سے پاک رکھنے کا ایک زیادہ بہتر اور مستحسن طریقہ یہ ہے کہ کمیٹی کی اصل رقم اور منتظم کی فیس کو وصولی کے وقت ہی بالکل الگ کر دیا جائے۔ مثلاً، اگر کمیٹی کی اصل ماہانہ قسط ایک ہزار روپے ہے اور منتظم کی فیس سو روپے بنتی ہے، تو شرکاء ہر ماہ گیارہ سو روپے جمع کروائیں۔ اس میں سے ایک ہزار روپے کمیٹی (قرضِ حسنہ) کے کھاتے میں محفوظ رہیں گے اور سو روپے منتظم کی انتظامی فیس کے طور پر ادا ہو جائیں گے۔ اس طرح جب کسی کی کمیٹی نکلے گی تو اسے کٹوتی کے بغیر پوری رقم یکمشت مل جائے گی، جس سے یہ معاملہ مزید شفاف ہو جائے گا۔

0 تبصرے