مشہور اور بنیادی اہمیت کی حامل ''حدیثِ جبرائیل'' میں، جب حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک اجنبی مسافر کی شکل میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتے ہیں، تو اُن کی نشست کا ایک خاص انداز بیان کیا گیا ہے کہ "فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ" (یعنی انھوں نے اپنے گھٹنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا دیے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے)۔
سوال یہ ہے کہ ایک جلیل القدر فرشتے کا انسانی روپ میں آکر اس مخصوص اور انتہائی قریب ترین جسمانی ہیئت کے ساتھ بیٹھنے میں کیا حکمتیں اور کیا مقاصد پنہاں ہیں، اور اس عمل کے ذریعے طالبانِ علم اور اُمتِ مسلمہ کو بالعموم کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟
![]() |
| قدیم طرز پر تعمیر کردہ ایک علمی نشست گاہ میں قریب قریب رحلوں پر رکھی نورانی کتابیں |
مجلسِ علم کے ظاہری اور باطنی آداب کی تعلیم
حدیثِ جبرائیل دینِ اسلام کے بنیادی ستونوں اور اس کے جامع تصور کو سمجھنے کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اور اس میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا یہ مخصوص اندازِ نشست درحقیقت اُمتِ مسلمہ کے لیے مجلسِ علم کے ظاہری اور باطنی آداب کا ایک بے مثال اور عملی نمونہ ہے۔ جب کوئی طالبِ علم حصولِ علم کے لیے کسی معلم یا شیخ کی خدمت میں حاضر ہو، تو اس کا ظاہری برتاؤ اس کے باطنی ادب اور طلبِ صادق کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنے گھٹنوں کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا کر اور اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر رکھ کر یہ تعلیم دی ہے کہ علم کے حصول کے لیے تکبر، انانیت، اور بے اعتنائی کو مکمل طور پر ترک کرکے انتہائی عاجزی، انکساری اور نیازمندی کا پیکر بننا پڑتا ہے۔ یہ مؤدبانہ نشست اس بات کی غماز ہے کہ طالبِ علم کو اپنے استاذ کے سامنے کمالِ ادب کے ساتھ اس طرح بیٹھنا چاہیے کہ اس کے جسم کا کوئی بھی حصہ بے جا حرکت نہ کر رہا ہو، تاکہ وہ پورے انہماک اور سنجیدگی کے ساتھ استاذ کی زبانِ مبارک سے نکلنے والے ہر ہر لفظ کو اپنے دل اور دماغ کی تختی پر محفوظ کرسکے۔
کامل یکسوئی اور سراپا توجہ ہونے کا عملی مظاہرہ
اس مخصوص ہیئت میں دوسری عظیم الشان حکمت، کامل یکسوئی اور سراپا توجہ ہونے کا عملی مظاہرہ کرنا ہے۔ ہاتھوں کو اپنی رانوں پر رکھ لینا، جو کہ یقیناً تہذیب و شائستگی اور انتہائی ادب اور سکون کی ایک علامت ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ سائل کا ذہن اور جسم ہر طرح کے خارجی افکار اور انتشار سے مکمل طور پر آزاد ہے۔ جب انسان اپنے اعضاء کو پرسکون کر لیتا ہے اور اپنی نگاہوں اور توجہ کا مرکز صرف اور صرف اپنے مربی اور معلم کو بنا لیتا ہے، تو علم کی منتقلی کا عمل انتہائی مؤثر اور بابرکت ہو جاتا ہے۔
یہ اندازِ نشست دراصل نماز میں التحیات کے وقت بیٹھنے کی حالت (قعدہ) کے مشابہ ہے، جو بندگی اور سراپا تسلیم و رضا کی ایک اعلیٰ صورت ہے۔ گویا حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنے اس عمل سے یہ باور کرا رہے ہیں کہ مجلسِ علم میں شرکت بھی درحقیقت ایک عظیم عبادت ہے، اور اس میں بھی بڑے خشوع و خضوع اور سکینت کی ضرورت ہوتی ہے۔
طالبِ علم اور معلم کے درمیان قربت اور انسیت کی اہمیت
اس واقعے میں ایک اور انتہائی گہری اور لطیف حکمت طالبِ علم اور معلم کے درمیان علمی قربت اور انسیت کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک اجنبی مسافر کی صورت میں تشریف لائے تھے، جن پر سفر کی کوئی علامت (گرد و غبار وغیرہ) بھی ظاہر نہیں تھی، اور پھر وہ کائنات کی سب سے معزز ترین ہستی کے اتنے قریب ہوکر بیٹھ گئے کہ دونوں کے گھٹنے آپس میں مس ہونے لگے۔ یہ قربت محض جسمانی نہیں تھی، بلکہ اس کا بنیادی مقصد صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توجہ کو اپنی جانب مکمل طور پر مبذول کرانا اور یہ سکھانا تھا کہ سوال پوچھنے والے کو حقائق کی جستجو میں کسی قسم کی جھجک، خوف یا حجاب کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ بسا اوقات طالبِ علم، استاذ کے جلال اور ہیبت کی وجہ سے، دین کے ضروری اور بنیادی سوالات پوچھنے سے کتراتا ہے جس کی وجہ سے اس کا فہم ادھورا رہ جاتا ہے۔ لیکن اس واقعے نے یہ اصول طے کر دیا کہ دین کی تفہیم اور علم کی پختگی کے لیے استاذ سے اس قدر ذہنی ہم آہنگی اور قربت ضروری ہے کہ تمام تر نفسیاتی رکاوٹیں دور ہوجائیں اور علم کا فیض بغیر کسی واسطے کے براہِ راست قلب تک پہنچ سکے۔ یہ قربت، استاذ کی شفقت اور طالبِ علم کے اعتماد کا وہ حسین امتزاج ہے، جو علمِ نبوت کو ایک نسل سے دوسری نسل تک پوری امانت داری اور گہرائی کے ساتھ منتقل کرنے کا ضامن ہے۔

0 تبصرے