نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تلاوتِ قرآن میں اچانک دشواری اور زبان کا رکنے کا معاملہ اور رہنمائی

(سوال):       ہماری والدہ ایک مسئلہ کو لیکر نہایت پریشان ہیں۔ وہ یہ کہ وہ بحمد اللہ قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں اور روزانہ تلاوت کا معمول بھی ہے، مگر اس رمضان میں یہ محسوس کررہی ہیں کہ وہ قرآن پڑھتی ہیں، مگر ایک ایک لفظ کئی کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کے باوجود زبان پر نہیں چڑھ پارہا ہے اور پہلے، پون گھنٹے میں یا ایک گھنٹے میں ایک پارہ پڑھ لیتی تھیں، مگر اب دو ڈھائی گھنٹے میں بھی نہیں پڑھا جارہا ہے۔ نیز پہلے جو معمولات تھے ان کے پڑھنے میں بھی زبان نہیں پلٹ پارہی ہے۔ تو اس کا کیا ریزن ہوسکتا ہے؟ اس کا کوئی حل یا دعا ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔ اور ایک چیز یہ بھی ہے کہ عام گفتگو میں الحمد للّٰہ کوئی دشواری نہیں ہے۔   (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک نقشین رحل پر کُھلا ہوا قرآنِ مجید، جو کھڑکی سے آتی سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا ہے۔ پاس رکھی تسبیح اور عینک تلاوت اور ذکر کے پرسکون ماحول کی عکاسی کر رہے ہیں۔      یہ پڑھ کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی؛ ایک طرف ایک اللہ والی بندی کا کلامِ الہی سے عشق ہے کہ معمول چھوٹنے پر تڑپ رہی ہیں، اور دوسری طرف عمر ک...

ذہانت کی بنیاد پر بچہ کے ایک درجہ (Class) چھوڑ کر اگلی جماعت میں داخلہ کا مسئلہ اور رہنمائی


(مسئلہ):

     ایک طالب علم جو دوسری جماعت تک باقاعدہ تعلیم حاصل کر چکا تھا، بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر ایک سال اسکول کی تعلیم جاری نہ رکھ سکا اور اس دوران کسی دوسرے فن یا علم کی تحصیل میں مشغول رہا، جس کی وجہ سے وہ تیسری جماعت کا سالانہ تعلیمی نصاب باقاعدہ طور پر مکمل نہیں کرپایا۔ اب وہ بچہ اپنی عمر کے تقاضوں کے مطابق کافی ذہین ہے اور اس کے سرپرست چاہتے ہیں کہ اس کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچانے کے لیے اسے براہِ راست چوتھی جماعت میں داخل کرادیا جائے۔
     دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا شرعی طور پر کسی طالب علم کو ایک درجہ (Class) چھوڑ کر اگلی جماعت میں داخل کرانا درست ہے؟ کیا ایسا کرنا علم کے باب میں کوئی خیانت یا کسی کی حق تلفی کے زمرے میں تو نہیں آتا؟ نیز، اگر بچہ اپنی ذہنی استعداد کے لحاظ سے واقعی اگلی جماعت کے معیار پر پورا اترتا ہو، تو اس صورت میں شرعی رہنمائی کیا ہوگی؟ 

(رہنمائی):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
     علم کا حصول انسانی زندگی کا ایک مسلسل عمل ہے اور تعلیمی درجات (Classes) دراصل طالب علم کی ذہنی نشو و نما اور بتدریج سیکھنے کے عمل کو منظم کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ تعلیم کا اصل مقصد حصولِ علم اور استعداد کی پختگی ہے، نہ کہ محض تعلیمی برسوں کی گنتی پوری کرنا۔ اگر کوئی بچہ اپنی غیر معمولی ذہانت اور محنت کی بدولت کسی ایک درجے کا نصاب خود سے مکمل کرلیتا ہے یا اس میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ براہِ راست اگلے درجے کے تعلیمی بوجھ کو اٹھاسکے اور وہاں کے مضامین کو سمجھنے کی قابلیت رکھتا ہو، تو اسے ایک درجہ چھوڑ کر اگلی جماعت میں داخل کرنا نہ صرف ٹھیک ہے، بلکہ اس کی فطری صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ اس عمل کو علم کے باب میں کسی قسم کی خیانت یا حق تلفی قرار نہیں دیا جاسکتا؛ کیونکہ علم کسی کی موروثی ملکیت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نور ہے جو محنت اور استعداد کے بقدر حاصل ہوتا ہے۔ خیانت اس وقت ہوتی ہے جب کسی نااہل بچے کو جھوٹی دستاویزات یا دھوکہ دہی کے ذریعے ایسے درجے میں بٹھا دیاجائے جس کا بوجھ اٹھانے کی اس میں سکت نہ ہو؛ کیونکہ اس سے اس بچے کی اپنی تعلیمی بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں۔
​     جہاں تک تیسری جماعت کے نصاب کے چھوٹ جانے کا تعلق ہے، تو اگر سرپرست اس بات کا اطمینان کرلیں کہ بچے نے ان بنیادی چیزوں کو کسی حد تک سیکھ لیا ہے جو چوتھی جماعت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہیں، تو اس کا تعلیمی سال بچانا ایک مستحسن عمل ہے۔ جدید نظامِ تعلیم میں بھی اہلیت کی بنیاد پر داخلہ (Competency Based Admission) ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے، بشرطیکہ اس عمل میں اسکول کی انتظامیہ کے ساتھ مکمل سچائی سے کام لیاجائے اور کوئی غلط بیانی نہ کی جائے۔ اگر اسکول انتظامیہ بچے کا کوئی داخلہ ٹیسٹ (Entrance Test) لےکر اسے اگلی جماعت کے لیے موزوں پاتی ہے، تو یہ معاملہ بالکل شفاف ہوجاتا ہے اور اس میں کسی کی حق تلفی کا کوئی پہلو باقی نہیں رہتا۔ بلکہ ایسی صورت میں بچے کو اسی پرانے درجے میں رکھنا اس کی ذہنی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور اس کے قیمتی وقت کو ضائع کرنے کے مترادف ہوسکتا ہے، جو کہ ایک مربی اور سرپرست کی حیثیت سے مناسب نہیں ہے۔
​     سمجھ داری کا تقاضا یہ ہے کہ سرپرست اس بات کا گہرائی سے جائزہ لیں کہ آیا بچہ نفسیاتی اور علمی طور پر بڑی جماعت کے ہم عمر بچوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوسکے گا یا نہیں۔ اگر اس کی ذہانت واقعی معیار پر پوری اترتی ہے، تو اسے اگلی جماعت میں داخل کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس سے بچے میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر طور پر استعمال کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ تاہم، اس دوران اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ جس درجے کو اس نے چھوڑا ہے، اس کی اہم اور بنیادی باتیں (Basics) اسے کسی ٹیوٹر یا اضافی محنت کے ذریعے سمجھادی جائیں؛ تاکہ مستقبل میں اس کی علمی پختگی میں کوئی خلا باقی نہ رہے۔
     خلاصہ یہ ہے کہ سچائی اور بچے کی حقیقی قابلیت کو بنیاد بناکر لیا جانے والا اِس قسم کا فیصلہ درست ہے اور اسے علم کے ساتھ دیانتداری ہی تصور کیا جائے گا۔
​(واللہ اعلم بالصواب)

============================================= =============================================
(کچھ ضروری باتیں)
  • یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
  • اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
  • آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
  • اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غسلِ احرام کے بعد اگر سِلے ہوئے کپڑے پہن لیے تو کیا غسل دوبارہ کرنا ہوگا؟

  (مسئلہ):      مجھے عمرے کے لیے احرام باندھنا تھا، اس کے لیے میں نے غسل بھی کر لیا تھا، لیکن چونکہ مغرب کی نماز کا وقت ہو چکا تھا، تو میں نے جلدی میں نارمل (سِلے ہوئے) کپڑے ہی پہن کر مغرب کی نماز ادا کر لی (کیوں کہ احرام کو اچھی طرح سیٹ کر کے باندھنے میں مجھے تھوڑا وقت لگتا ہے)۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا احرام باندھنے کے لیے مجھے دوبارہ غسل کرنا ہوگا یا وہی پہلے والا غسل کافی ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      اس معاملے میں آپ مکمل اطمینان رکھیں کہ مغرب سے پہلے کیا گیا آپ کا غسل شرعی طور پر بدستور کارآمد ہے اور احرام کی نیت کے لیے آپ پر دوبارہ غسل کرنا ہرگز لازم نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ احرام سے قبل غسل کرنا ایک مسنون عمل ہے جس کی حیثیت "شرط" کی نہیں بلکہ ایک مستحب تیاری کی ہے، جس کا منشاء جسمانی میل کچیل دور کرنا اور تازگی حاصل کرنا ہے، جسے فقہی اصطلاح میں "للنظافۃ" (صفائی کے لیے) کہا جاتا ہے نہ کہ "للطہارۃ" (پاکی حاصل کرنے کے لیے)۔ چونکہ آپ نے ابھی کچھ دیر قبل ہی غسل کیا تھا اور درمیان میں صرف مغرب کی نماز کا وقفہ آیا ہے جس میں آپ نے س...

انتقال کے بعد کھانے کی دعوت اور رسمی قرآن خوانی: ایک متوازن رہنمائی

(مسئلہ):      معاشرے میں ایک رواج جڑ پکڑ چکا ہے کہ کسی کے انتقال کے بعد اُس کے اہلِ خانہ ایصالِ ثواب کی نیت سے فوراً اگلے دن یا تیجہ وغیرہ کے موقع پر بڑے پیمانے پر کھانے کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں قریبی رشتہ دار اور دیگر متعلقین شریک ہوتے ہیں۔ شرعی نقطۂ نظر سے غم کے موقع پر سوگوار خاندان کی طرف سے اِس طرح کی دعوت کا کیا حکم ہے؟ نیز ایصالِ ثواب کی ایک دوسری رائج صورت یہ بھی ہے کہ مدارس کے طلبہ کو بلا کر اجتماعی قرآن خوانی کروائی جاتی ہے یا مدرسہ میں ہی ختمِ قرآن کروا کر اُن کی طعام و نقود سے تواضع کی جاتی ہے۔ کیا یہ طریقہ درست ہے اور کیا اِس طرح پڑھوانے سے میت کو ثواب پہنچتا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      شریعتِ مطہرہ نے خوشی اور غم، ہر موقع پر انسانی فطرت اور نفسیات کی رعایت رکھتے ہوئے احکام وضع کیے ہیں؛ تاکہ لوگ افراط و تفریط سے بچے رہیں۔      جہاں تک میت کے اہل خانہ کی جانب سے انتقال کے فوراً بعد یا اگلے دن یا تیجہ و چالیسواں کے نام پر برادری اور رشتہ داروں کے لیے کھانے کا اہتمام کرنے کا تعلق ہے، تو فقہائے کرام اور محدثین نے ...

مرحوم بےاولاد چچا کی وراثت کی تقسیم: بیوہ، بہن اور بھائیوں کے ساتھ بھتیجوں کی بھی موجودگی کی صورت میں

(مسئلہ):     ایک صاحب نے دریافت کیا ہے کہ  میرے دادا کا انتقال 1965ء میں ہوا، ان کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ بڑے بیٹے کا انتقال 2010ء میں ہوا جن کے تین بچے ہیں۔ سب سے چھوٹے چچا کا انتقال 2020ء میں ہوا اور ان کی بیوہ کا بھی حال ہی میں انتقال ہو گیا، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم لاولد چچا کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ کیا ان کے باقی ماندہ تین بھائیوں اور فوت شدہ بھائی کے بچوں (بھتیجوں) کے درمیان تقسیم ہوگی یا کوئی اور حکم ہے؟ (( [نوٹ]: یہ سوال واٹس ایپ کے ایک گروپ میں بذریعہ  ٹیکسٹ  موصول ہوا تھا، جسے قارئین کی سہولت کے لیے ضروری نوک پلک سنوارنے کے بعد معمولی لفظی تبدیلیوں کے ساتھ یہاں پیش کیا گیا ہے۔)) (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اللہ سے توفیق مانگتے ہوئے، اِس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ:     پوچھی گئی  صورت میں چوں کہ مرحوم چچا بے اولاد تھے، لہذا قرآنِ مجید کے حکم کے مطابق ان کی بیوہ کا حصہ کل جائیداد میں ایک چوتھائی (1/4) مقرر ہوگا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: " وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُ...