(سوال):
مجھ سے ایک جدید تعلیم یافتہ اور عصری علوم کی ماہر رشتہ دار خاتون نے چند حساس سوالات کیے ہیں، جن کے حوالے سے آپ سے رہنمائی مطلوب ہے۔
خاتون کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں مردوں کے لیے تو جنت میں خوبصورت حوروں کا صریح وعدہ اور ترغیب موجود ہے، لیکن عورتوں کے لیے اس نوعیت کے کسی انعام کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟ ان کے خیال میں اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اسلام بظاہر ایک مردانہ بالادستی پر مبنی (Male-Oriented) مذہب ہے، جس میں عورتوں کے طبعی جذبات اور خواہشات کو نظر انداز کر کے صرف مردوں کو ترجیح دی گئی ہے۔
چونکہ وہ خاتون یوٹیوب پر موجود روایتی بیانات سن چکی ہیں اور ان سے بالکل مطمئن نہیں ہیں، اس لیے آپ سے درخواست ہے کہ آپ مجھے کوئی ایسا ٹھوس، عقلی اور حکمت پر مبنی جواب مرتب کر کے دیں جو اس جدید ذہنیت کی حامل خاتون کے لیے پوری طرح اپیل کرنے والا اور اطمینان بخش ہو۔
مزید برآں، اس موضوع پر اپنی علمی استعداد بڑھانے اور درست رہنمائی فراہم کرنے کے لیے کچھ مفید کتابوں کے نام بھی بتادیں۔
(رہنمائی):
![]() |
| جنت کے حسین اور پُرسکون مناظر کے ساتھ عورت کے بلند مرتبے کی ایک پُروقار اور روحانی تمثیل |
اس جدید ذہنیت کی حامل خاتون کے سوالات یقیناً غور طلب ہیں اور آج کے دور میں ایسے سوالات کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ جدید تعلیم یافتہ اذہان روایتی جوابات سے اس لیے مطمئن نہیں ہوتے کیونکہ وہ احکام کے پیچھے چھپی حکمت اور نفسیاتی پہلوؤں کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ اس سوال کا عقلی، نفسیاتی اور قرآنی حکمت پر مبنی تفصیلی جواب ذیل میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے درست بات کی توفیق عطا فرمائے۔
سوال کی نوعیت اور جدید ذہن کا تجسس
سب سے پہلے تو اس بات کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اسلام میں سوال پوچھنے یا کسی معاملے کی حکمت جاننے کی جستجو کو کبھی معیوب نہیں سمجھا گیا۔ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ ذہن کا دین و شریعت کی تعلیمات و احکام کی معقولیت کو سمجھنے کی کوشش کرنا اور اُن میں چھپی حکمتوں کو تلاش کرنا ایک مثبت عمل ہے۔ اس لیے اس سوال کو کسی بغاوت یا دین سے دوری کے بجائے حق کی تلاش کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اسلام کسی بھی مرحلے پر عورت کے جذبات کو نظر انداز نہیں کرتا، بلکہ اس کے احکام انسانی نفسیات اور مرد و عورت کی فطری ساخت کے عین مطابق ہیں۔ جنت کے انعامات کا تذکرہ بھی اسی نفسیاتی اور فطری اصول کے تحت کیا گیا ہے۔
جنت کا بنیادی اصول اور خواہشات کی یقینی تکمیل
جنت کے انعامات کے حوالے سے قرآن مجید کا سب سے بنیادی اور حتمی اصول یہ ہے کہ وہاں ہر انسان کو وہ سب کچھ ملے گا جو اس کا دل چاہے گا اور جس سے اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہوگی۔ قرآن میں واضح طور پر ارشاد ہے کہ وہاں تمہارے لیے ہر وہ چیز موجود ہے جس کی تمہارا دل خواہش کرے گا اور جو تم مانگو گے [ملاحظہ ہو: سورۂ فصلیت، آیت نمبر: ۳۱ اور سورۂ زخرف، آیت نمبر: ۷۱]۔ اس اصول کے تحت جنت میں عورت کو کبھی کسی محرومی کا احساس نہیں ہوگا۔ اگر ایک عورت کے دل میں اپنے شریکِ حیات کے حوالے سے کوئی بھی رومانوی خواہش، جذبہ یا تمنا ہوگی، تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے عین منشا کے مطابق پورا فرمائیں گے۔ جنت میں کوئی بھی شخص، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، ادھوری خواہشات کے ساتھ نہیں رہے گا۔ اس لیے یہ سوچنا کہ وہاں عورتوں کے جذبات کی تسکین کا کوئی سامان نہیں، قرآنی اصولوں کی وسعت سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔
مرد و زن کی نفسیاتی اور جذباتی ساخت کا فطری فرق
قرآن مجید چونکہ انسان کے خالق کا کلام ہے، اس لیے وہ انسانی نفسیات کو سب سے بہتر جانتا ہے۔ جدید علمِ نفسیات اور حیاتیات بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مرد اور عورت کی جذباتی اور جنسی ساخت میں بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔ مرد فطرتاً بصری (Visual) طور پر زیادہ متاثر ہوتا ہے اور اس کی کششِ حسن کی طلب تنوع پسند (Variety-seeking) ہوتی ہے۔ اسی لیے دنیا میں مرد کے لیے سب سے بڑا فتنہ اور آزمائش صنفِ مخالف کی کشش کو قرار دیا گیا ہے۔ قرآن نے مردوں کو دنیا میں اپنی نگاہیں نیچی رکھنے اور ناجائز تعلقات سے بچنے کی ترغیب دینے کے لیے حوروں کا تذکرہ ایک نفسیاتی انعام کے طور پر کیا ہے۔ اس کے برعکس، عورت کی نفسیات میں تنوع کے بجائے انفرادیت (Exclusivity)، تحفظ، اور گہری جذباتی وابستگی کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ ایک سلیم الفطرت عورت کے لیے بیک وقت کئی مردوں کی رفاقت کا تصور کشش کے بجائے کراہت کا باعث ہوتا ہے۔ عورت کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ایک ہی شریکِ حیات کی واحد محبت اور توجہ کا مرکز بن کر رہے۔ چونکہ جنت انسان کی خالص اور پاکیزہ ترین فطرت کی تکمیل کی جگہ ہے، اس لیے وہاں عورت کے دل میں ایک سے زائد مردوں کی خواہش سرے سے پیدا ہی نہیں ہوگی، بلکہ وہ اپنے ایک ہی کامل اور حسین ترین شوہر کی رفاقت میں مکمل تسکین پائے گی۔
قرآنی اسلوب کا وقار اور عورت کی حیا کا احترام
قرآن مجید کا اسلوب نہایت باوقار ہے اور وہ عورت کی فطری حیا اور تکریم کا بے حد لحاظ رکھتا ہے۔ قرآن مجید نے مردوں کے لیے تو ان کی رفیقِ حیات کے حسن و جمال کا کھل کر تذکرہ کیا، لیکن عورتوں کے لیے ان کے مستقبل کے خاوندوں کی جسمانی خوبصورتی، مردانہ وجاہت یا قربت کے معاملات کا صریح الفاظ میں ذکر نہیں کیا۔ اس قرآنی خاموشی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ عورت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے، بلکہ یہ اس کی نزاکت اور شرم و حیا کا اعلیٰ ترین احترام ہے۔ عورت کی فطری شرم و حیا اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس کے شریکِ حیات اور اس کے جذباتی تعلقات کی تفصیلات کو سرِ عام موضوعِ بحث نہ بنایا جائے۔ اسی لیے قرآن نے عورت کی تمام نفسیاتی ضروریات کی تکمیل کا وعدہ تو کر لیا، لیکن ان کی وہ صریح تفصیل بیان نہیں کی جو ایک باحیا خاتون کے لیے خجالت کا باعث بن سکتی تھی۔ اسے اس کی پسند اور منشا کے مطابق ایک ہی ایسا کامل، وجیہہ اور محبت کرنے والا شریکِ حیات عطا کیا جائے گا جس سے اس کی تمام جمالیاتی اور قلبی تسکین پوری ہو جائے گی۔
دنیاوی عورت کا مقام اور ملکۂ جنت کی حیثیت
اسلام نے جنت میں دنیاوی عورت کو جو مقام عطا کیا ہے، وہ حوروں سے، کئی گنا بلند اور ارفع ہے۔ احادیث کے مطابق دنیا کی نیک عورت اپنے روزوں، نمازوں اور دنیاوی عبادات کی بدولت جنت کی حوروں پر اس طرح فضیلت رکھے گی جیسے کسی ملکہ کو اپنی خادماؤں پر حاصل ہوتی ہے [مستفاد از آپ کے مسائل اور اُن کا حل، ج: ۲، ص: ۴۸۹، ط: مکتبۂ لدھیانوی - کراچی]۔ وہ اپنے شوہر کے لیے سب سے زیادہ پرکشش اور حسین ترین وجود بنا دی جائے گی۔ جنت میں چونکہ انسانی صلاحیتوں اور جذباتی وسعتوں کو بے پناہ بڑھا دیا جائے گا، اس لیے شوہر اللہ کی دی گئی دیگر نعمتوں (بشمول حوروں) سے بھی لطف اندوز ہوگا، لیکن اس کا سب سے گہرا روحانی تعلق، مشترکہ یادوں کی رفاقت اور محبت کی معراج صرف اور صرف اس کی دنیاوی بیوی کے ساتھ مخصوص ہوگی۔ دنیاوی بیوی کے دل سے ہر قسم کا حسد اور رشک نکال دیا جائے گا، اور وہ اس بات پر مکمل طور پر مطمئن اور خوش ہوگی کہ اتنی نعمتوں کے باوجود وہ اپنے شوہر کی محبوب ترین ہستی اور اس کی پوری جنتی سلطنت کی واحد ملکہ ہے۔ حوریں جنت کے شاہانہ حسن کا مظہر ہوں گی، لیکن وہ بیوی کے اس اعلیٰ ترین اور مرکزی مقام کو کبھی نہیں پہنچ سکیں گی۔
صنفی مساوات کے بجائے صنفی توازن کا الٰہی نظام
یہ اعتراض کہ اسلام ایک مردانہ بالادستی والا (Male-Oriented) مذہب ہے، دراصل مغربی مساوات (Equality) کے اس تصور کی دین ہے جو ہر چیز میں مرد اور عورت کو بالکل ایک جیسا دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسلام مساوات کے بجائے عدل اور صنفی توازن (Equity) پر یقین رکھتا ہے۔ اسلام کے نزدیک اعمال کے اجر، روحانی ترقی اور اللہ کے قرب میں مرد اور عورت کے درمیان رتی برابر بھی فرق نہیں ہے۔ تاہم، چونکہ دونوں کی نفسیاتی اور جذباتی ضروریات مختلف ہیں، اس لیے ان کے انعامات کی تفصیلات میں ان کی ساخت کے لحاظ سے فرق رکھا گیا ہے۔ مرد کی نفسیات کو جو چیز اپیل کرتی ہے، اسے وہ انعام بتایا گیا، اور عورت کی پاکیزہ فطرت کا جو تقاضا تھا، اس کے لیے ویسا ہی اہتمام کیا گیا۔ یہ فرق کسی کی حق تلفی نہیں، بلکہ عین انصاف اور انسانی فطرت کا کمال درجے کا ادراک ہے۔
مطالعے کے لیے چند مفید اور تجویز کردہ کتب
عورت کے اسلام کے موضوع پر اپنی علمی استعداد بڑھانے اور جدید ذہن کی تشفی کے لیے چند انتہائی شاندار کتب کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً:
- اسلام اور جدید ذہن کے شبہات (مفتی محمد تقی عثمانی صاحب): اِس کا مطالعہ بھی نہایت مفید رہے گا کیونکہ اس میں عقلی دلائل سے جدید سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں۔
- پردہ (سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب): یہ کتاب اسلام کے معاشرتی نظام، مرد و عورت کے فطری فرق اور جدید اعتراضات کا ایک جامع جواب ہے۔
- عورت اسلامی معاشرے میں (مولانا سید جلال الدین انصر عمری صاحب): یہ ایک بہترین انتخاب ہے جس میں عورت کے حقوق، نفسیات اور جدید اعتراضات کا بھرپور جائزہ لیا گیا ہے۔
- خاتونِ اسلام (مولانا وحید الدین خان صاحب): اس کتاب میں مستشرقین کے عورت کے متعلق نظریات و خیالات کا جائزہ لیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اسلام نے ہی عورت کو ذلت سے نکال کر عزت وشرف کامقام بخشا ہے۔
یہ اور اِس قسم کی مزید کتابوں کی مدد سے آپ جدید تعلیم یافتہ طبقے کو انہی کی زبان اور عقلی استدلال کے ساتھ مطمئن کر سکتے ہیں۔
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "سوال پوچھیں" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

0 تبصرے