شریعتِ اسلامیہ میں طیب اور حرام کے درمیان کیا بنیادی فرق ہے؟


(سوال):

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میں مدرسے میں زیرِ تعلیم ایک طالبِ علم ہوں اور مجھے ایک علمی و فقہی اصطلاح کے حوالے سے رہنمائی درکار ہے۔ براہِ کرم یہ واضح فرما دیں کہ شریعتِ اسلامیہ میں "طیب" اور "حرام" کی جامع و مانع تعریفات کیا ہیں اور ان دونوں کے درمیان بنیادی و اصولی فرق کیا ہے؟

(رہنمائی):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
طیب اور حرام کے درمیان تمییز اور شعورِ بندگی کی ایک پُراثر عکاسی، جو ایک طالبِ علم کے علمی اور روحانی سفر کو ظاہر کرتی ہے۔

    عزیزم! آپ نے ایک طالبِ علم کی حیثیت سے بہت ہی عمدہ اور اصولی سوال کیا ہے۔ فقہ اور اصولِ فقہ کی کتابوں میں حلت و حرمت کے ابواب کو سمجھنے کے لیے ان اصطلاحات کا واضح تصور ذہن میں ہونا نہایت ضروری ہے۔ اس حوالے سے تفصیلی اور اصولی جواب درج ذیل ہے:

لفظ "حرام" کا لغوی و شرعی مفہوم

    شرعی اصطلاح میں حرام کا لفظ حلت کی ضد ہے اور لغت میں اس کا معنی کسی شے کی ممانعت، بندش یا پابندی کے ہیں۔ علمِ اصولِ فقہ کی روشنی میں حرام وہ فعل یا شے ہے جس سے شارع (اللہ اور رسول) نے رک جانے کا حکم دیا ہو اور وہ حکم حتمی اور قطعی دلیل سے ثابت ہو۔ قطعی دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جو ثبوت اور دلالت دونوں اعتبار سے قطعی ہو، جیسے قرآنِ کریم کی صریح آیات یا احادیثِ متواترہ۔ حرام کا ارتکاب کرنے والا شرعاً فاسق اور مستحقِ عذاب ہوتا ہے، جبکہ اس سے بچنا باعثِ ثواب ہے۔ نیز، چونکہ حرام کا ثبوت دلیلِ قطعی سے ہوتا ہے، اس لیے اس کی حرمت کا انکار کرنے والا دائرۂ اسلام سے خارج تصور کیا جاتا ہے۔ شریعت میں کسی شے کے حرام ہونے کی بنیادی وجہ اس میں موجود وہ ضرر یا نقصان ہوتا ہے جو انسان کی جان، مال، عقل، دین یا نسل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

لفظ "طیب" کا لغوی و قرآنی مفہوم

    لفظ طیب کا لغوی معنی پاکیزہ، عمدہ، خوشگوار اور وہ شے ہے جسے سلیم الفطرت انسان پسند کرے اور اس سے گھن نہ کھائے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں طیب کا لفظ عام طور پر "خبیث" کی ضد کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ شرعی نقطۂ نظر سے طیب صرف اس چیز کو نہیں کہتے جو محض ظاہری طور پر حلال ہو، بلکہ طیب وہ ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے پاک ہو، شریعت نے اس کے استعمال کی اجازت دی ہو، اور اسے حاصل کرنے کا طریقہ بھی شریعت کے اصولوں کے عین مطابق ہو۔ گویا طیب میں دو چیزیں جمع ہوتی ہیں؛ ایک اس کا شرعاً حلال ہونا اور دوسرا طبعاً، ظاہراً اور باطناً پاکیزہ اور انسانی صحت و اخلاق کے لیے مفید ہونا۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام اور اہلِ ایمان کو بالخصوص طیبات کھانے کا حکم دیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیب رزق روحانیت کی جلا اور اعمالِ صالحہ کی قبولیت کی بنیادی شرط ہے۔

طیب اور حرام کے درمیان بنیادی اور اصولی فرق

    طیب اور حرام کے درمیان فرق کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اصولی طور پر حرام کے مقابلے میں "حلال" کا لفظ آتا ہے، جبکہ طیب کے مقابلے میں "خبیث" کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ تاہم، چونکہ شریعت نے تمام خبیث اشیاء کو حرام قرار دیا ہے، اس لیے طیب اور حرام کا تقابل اور فرق بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ حرام کا تعلق براہِ راست شرعی حکم (حکمِ تکلیفی) سے ہے جس میں کسی فعل یا شے کی قطعی ممانعت بیان کی جاتی ہے، جبکہ طیب کا تعلق اس شے کی صفت، کیفیت اور طہارت سے ہے۔ ہر طیب چیز لازمی طور پر حلال ہوتی ہے اور حرام کے بالکل برعکس ہوتی ہے، لیکن طیب کا دائرہ محض حلال ہونے سے قدرے وسیع اور لطیف ہے۔ ایک شے شرعاً حلال ہو سکتی ہے لیکن اگر وہ طبعی طور پر غلیظ، بدبودار یا سلیم الفطرت انسان کے لیے مکروہ ہو تو اسے طیب کے اعلیٰ درجے میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ اس کے برعکس، حرام شے اپنی ذات کے اعتبار سے (لعینہٖ) یا اپنے حصول کے طریقے کے اعتبار سے (لغیرہٖ) خبیث ہوتی ہے اور اس کا استعمال شریعت میں قطعی طور پر ممنوع ہوتا ہے۔

انسانی زندگی اور عبادات پر ان کے اثرات کا تقابلی جائزہ

    انسانی زندگی، اخلاق اور عبادات پر طیب اور حرام کے اثرات بالکل متضاد ہیں۔ طیب رزق اور پاکیزہ اشیاء کے استعمال سے انسان کا قلب منور ہوتا ہے، اعضاء میں نیکی اور طاعت کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے اور اللہ کے حضور دعائیں شرفِ قبولیت پاتی ہیں۔ حدیثِ پاک کے مطابق اللہ تعالیٰ خود طیب ہے اور صرف طیب کو ہی قبول فرماتا ہے۔ اس کے برعکس حرام غذا، مال یا عمل کا اثر اس قدر تباہ کن ہے کہ اس سے قلب سیاہ ہو جاتا ہے، انسان کی فطرت مسخ ہونے لگتی ہے اور دعائیں آسمان تک نہیں پہنچ پاتیں۔ حرام کا نوالہ پیٹ میں جانے سے انسان کے اندر سرکشی، غفلت اور نافرمانی کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ اسی لیے شریعتِ اسلامیہ نے جہاں ایک طرف حرام کے ہر دروازے کو سختی سے بند کیا ہے، وہیں دوسری طرف طیب رزق کی تلاش اور استعمال کو شریعت کا ایک نہایت اہم اور لازمی تقاضا قرار دیا ہے۔

(واللہ اعلم بالصواب.)
============================================= =============================================
(کچھ ضروری باتیں)
  • یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
  • اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
  • آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "سوال پوچھیں" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
  • اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے