خاندان کے ساتھ سیر و تفریح کا اسلامی طریقہ کیا ہے؟

    آج کل کے مصروف دور میں ذہنی تازگی کے لیے سیر و تفریح اور سیاحت کا رواج بہت بڑھ گیا ہے۔ لوگ اپنے اہل و عیال کے ساتھ مختلف خوبصورت مقامات اور ہل اسٹیشنز (مثلاً کشمیر، منالی، اوٹی وغیرہ) کا رخ کرتے ہیں۔ چونکہ ایک مسلمان کی زندگی کا کوئی بھی عمل شرعی رہنمائی سے خالی نہیں ہونا چاہیے، اس لیے اس سفرِ سیاحت کو بھی شریعت کے مطابق گزارنے کے لیے درج ذیل امور پر آپ سے رہنمائی درکار ہے:

سوالات درج ذیل ہیں:

- شریعتِ مطہرہ میں سیر و تفریح، سیاحت اور قدرتی مناظر کو دیکھنے کے لیے سفر کرنے کی کیا حقیقت اور اصل ہے؟

- جب کوئی مسلمان کسی ہل اسٹیشن یا خوبصورت تفریحی مقام پر جائے، تو اسے اپنے دل میں کیا نیت رکھنی چاہیے تاکہ یہ سفر صرف دنیاوی تفریح نہ رہے، بلکہ اس کے لیے ثواب یا معرفتِ الٰہی کا ذریعہ بن جائے؟

- ایسے اسفار کے دوران ایک مسلمان کو دین کے احکام پر عمل پیرا رہنے کے لیے کن باتوں کا خاص طور پر اہتمام کرنا ضروری ہے؟

- تفریحی مقامات پر عام طور پر پائے جانے والے نامناسب ماحول، غفلت اور شرعی حدود کی پامالی سے بچتے ہوئے اپنے اور اپنے اہل و عیال کے دین و اخلاق کی حفاظت کیسے کی جائے؟


ایک مسلمان خاندان (والدین اور دو بچے) لکڑی کی ریلنگ سے شاندار پہاڑی وادی، نیلے جھیل اور دور کے گاؤں کے منظر کو دیکھ رہے ہیں۔ والد وادی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ پس منظر میں ایک مسجد بھی نظر آ رہی ہے۔
ایک مسلمان فیملی خوبصورت پہاڑی وادی میں قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے


    آپ کے اس پرمغز اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ سوال سے آپ کی دینی حمیت اور شریعت پر عمل پیرا ہونے کی سچی تڑپ کا اندازہ ہوتا ہے۔ دورِ حاضر کی مشینی اور ہنگامہ خیز زندگی میں انسانی ذہن و دماغ کا تھک جانا ایک فطری امر ہے، اور اس تکان کو دور کرنے کے لیے جائز حدود میں تفریح کا اہتمام کرنا نہ صرف مباح بلکہ بعض اعتبارات سے مستحسن ہے۔ دینِ اسلام ایک دینِ فطرت ہے جو انسان کو رہبانیت یا دنیا سے مکمل کٹ جانے کا درس نہیں دیتا، بلکہ دنیا کے ہر عمل کو خدا کی یاد اور اس کے احکام کے تابع کرنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ ایک صاحبِ بصیرت مسلمان کی زندگی کا کوئی بھی لمحہ بے مقصد نہیں ہوتا، لہٰذا سفرِ سیاحت کو بھی محض وقت گزاری کے بجائے ایک بامقصد اور بابرکت عمل بنانے کے لیے کچھ اصولوں کو ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

شریعت میں سیر و سیاحت اور قدرتی مناظر دیکھنے کی اصل

    شریعتِ اسلامیہ میں زمین کی سیر کرنا، اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ کائنات پر غور و خوض کرنا اور مختلف خطوں کے عجائبات دیکھ کر خالق کی عظمت کا استحضار کرنا ایک انتہائی پسندیدہ عمل ہے۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر "قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ" (کہہ دیجیے کہ زمین میں سیر کرو) کے الفاظ کے ساتھ انسانوں کو کائنات کے مشاہدے کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ سیر و سیاحت جب کائنات کے سربستہ رازوں کو سمجھنے، اللہ کی قدرت کی نشانیوں کا مشاہدہ کرنے اور پچھلی قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کے لیے کی جائے تو یہ عینِ عبادت بن جاتی ہے۔ پہاڑوں کی بلندی، وادیوں کا حسن، دریاؤں کی روانی اور جنگلات کی ہریالی دراصل اللہ تعالیٰ کی صفاتِ جمال و جلال کا مظہر ہیں۔ لہٰذا، اسلامی نقطۂ نظر سے سیاحت محض نفسانی لذت یا وقت گزاری کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ قلب و روح کی بالیدگی، تفکر و تدبر کی عادت کو پختہ کرنے اور خالقِ کائنات کی معرفت حاصل کرنے کا ایک عظیم الشان ذریعہ ہے جسے اگر صحیح شعور کے ساتھ اپنایا جائے تو یہ انسان کے ایمان میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

سیاحت کو کارِ ثواب بنانے کے لیے نیت اور قلبی کیفیات

    حدیثِ مبارکہ کا مشہور اصول "إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ" (اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے) اس بات کی رہنمائی کرتا ہے کہ ایک مباح اور دنیاوی عمل بھی نیت کی درستگی سے عبادت کے درجے تک پہنچ سکتا ہے۔ جب ایک مسلمان کسی ہل اسٹیشن یا پرفضا مقام کا ارادہ کرے، تو اسے سب سے پہلے اپنے دل میں یہ نیت کرنی چاہیے کہ وہ اس سفر کے ذریعے اللہ کی عظیم الشان تخلیق کا مشاہدہ کرکے اس کی حمد و ثنا بیان کرے گا اور اپنے خالق کے ساتھ اپنے روحانی تعلق کو مزید مضبوط کرے گا۔ دوسری نیت یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے اہلِ خانہ، بیوی بچوں کو روزمرہ کی تھکن اور ذہنی دباؤ سے نکال کر انہیں ایک فرحت بخش ماحول فراہم کرے گا تاکہ وہ واپس آکر دینی اور دنیاوی فرائض کو زیادہ ہشاش بشاش اور مستعدی کے ساتھ ادا کر سکیں۔ اہلِ خانہ کے جائز حقوق ادا کرنا، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اور انہیں خوشی فراہم کرنا بذاتِ خود ایک عظیم نیکی اور سنتِ رسول (علیٰ صاحبھا الصلاۃ والسلام) ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ان دلفریب مناظر کو دیکھ کر دل میں آخرت اور جنت کے دائمی حسن کا استحضار کیا جائے کہ جب اس فانی دنیا کی خوبصورتی کا یہ عالم ہے تو اس رب نے اپنے نیک بندوں کے لیے جنت میں کیسی کیسی نعمتیں اور حور و قصور تیار کر رکھے ہوں گے۔ اس طرح یہ سفر محض ایک تفریح کے بجائے شکر گزاری اور معرفتِ الٰہی کا ایک حسین سفر بن جائے گا۔

دورانِ سفر احکامِ دین کی پاسداری اور فرائض کا اہتمام

    سفر کے دوران، چاہے وہ کیسی ہی تفریح کا کیوں نہ ہو، ایک مسلمان پر عائد شرعی فرائض ساقط نہیں ہوتے، البتہ شریعت نے مسافر کے لیے سہولتیں اور رخصتیں ضرور رکھی ہیں۔ سیاحتی مقامات پر سب سے زیادہ غفلت نماز کے معاملے میں برتی جاتی ہے، حالانکہ شریعت نے سفر کی حالت میں نمازِ قصر کی سہولت عطا فرمائی ہے تاکہ بندہ اپنے رب کی یاد سے غافل نہ ہو۔ بحیثیتِ ایک حنفی، جب کوئی شخص اپنے شہر یا بستی کی حدود سے شرعی سفر (تقریباً 78 کلومیٹر یا اس سے زائد) کے ارادے سے نکلتا ہے اور پندرہ دن سے کم قیام کی نیت رکھتا ہے، تو اس پر چار رکعت والی فرض نمازوں میں قصر کرنا (یعنی دو رکعت پڑھنا) واجب ہو جاتا ہے۔ دورانِ سفر طہارت کے احکام کو سمجھنا، راستے میں نمازوں کی پابندی کرنا اور تفریحی مقامات پر بھی اذان کی آواز سن کر مسجد کا رخ کرنا ایک سچے مسلمان کی پہچان ہے۔ اس کے علاوہ، رزقِ حلال اور طیب غذا کا اہتمام انتہائی ضروری ہے۔ سیاحتی مقامات پر اکثر غیر مسلموں کے ہوٹلز اور ریسٹورنٹس ہوتے ہیں، اس لیے کھانے پینے کی اشیاء خصوصاً گوشت کے حلال ہونے کی مکمل تحقیق کرنی چاہیے، کیونکہ حرام غذا کا ایک لقمہ بھی انسان کی عبادت اور دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ ایک مسلمان کو حالتِ سفر میں بھی اسلامی اخلاق کا مجسمہ ہونا چاہیے، راستے میں دوسروں کی مدد کرنا، حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرنا اور دورانِ سفر اللہ کے ذکر اور درود شریف کو اپنا معمول بنانا چاہیے۔

نامناسب ماحول میں دین و اخلاق اور اہلِ خانہ کی حفاظت

    موجودہ دور کے تفریحی مقامات اور ہل اسٹیشنز اکثر و بیشتر بے راہ روی، فحاشی، مخلوط محافل اور لہو و لعب کا گڑھ بن چکے ہیں، جو کہ ایک غیرت مند مسلمان کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ بحیثیتِ سربراہ، آپ ایک نگران ہیں اور آپ سے آپ کی رعایا (اہلِ خانہ) کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اس کا حل یہ نہیں ہے کہ انسان ان مقامات کا بالکل رخ ہی نہ کرے، بلکہ حکمت اور بصیرت کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے لیے ایسے مقامات، اوقات اور رہائش کا انتخاب کیا جائے جہاں شر اور فتنہ کم سے کم ہو۔ تفریح کے لیے ایسی جگہیں منتخب کریں جو زیادہ پرہجوم نہ ہوں اور جہاں قدرتی مناظر غالب ہوں۔ خرافات، موسیقی کی محافل اور عریانیت کے مناظر سے خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کو بچانے کے لیے حتیٰ الامکان غضِ بصر (نگاہیں نیچی رکھنے) کا اہتمام کیا جائے۔ اپنی مستورات کو پردے اور حیا کے اسلامی احکام کی تاکید کے ساتھ پابندی کروائی جائے اور انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ اسلامی لباس اور حیا ان کی راہ کی رکاوٹ نہیں بلکہ ان کی عزت و تکریم کی محافظ ہے۔ بچوں کی تربیت کے لیے یہ بہترین موقع ہوتا ہے کہ ان خوبصورت مناظر کے درمیان بیٹھ کر انہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی باتیں بتائی جائیں، انبیاء کے قصے سنائے جائیں اور ان کے دلوں میں حیا اور پاکدامنی کی اہمیت اجاگر کی جائے۔ اگر کسی مقام پر مُنکَرات (شرعی خلاف ورزیوں) کا غلبہ ہو اور وہاں دین پر قائم رہنا یا نگاہوں کی حفاظت کرنا ناممکن ہو جائے، تو اللہ کی رضا کے لیے اس مخصوص جگہ کو چھوڑ دینا ہی تقویٰ اور کامل ایمان کی علامت ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے