دینی مدارس کی انجمنوں کو مزید مؤثر اور مفید کیسے بنایا جاسکتا ہے؟

     مدارس اسلامیہ میں طلبہ کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے جو مختلف بزمیں چلتی ہیں (یعنی بزم کتابت، بزم خطابت، بزم صحافت، وغیرہ ۔۔۔)، ان مختلف بزموں کے کیا کیا مقاصد ہوتے ہیں یا کیا ہونے چاہئیں؟ اور موجودہ زمانہ میں ان بزموں کے انداز میں کیا تبدیلیاں کی جانی چاہئیں؟ مختلف درجات کے طلبہ کا کس طرح لحاظ رکھا جانا چاہیے؟ اور طلبہ کے اندر ان بزموں سے متعلق شوق کیسے پیدا کیا جائے کہ وہ ان بزموں میں عملاً شرکت مجبوری میں نہ کریں، بلکہ شوق و جذبے کے ساتھ کریں؛ کیوں کہ تینوں بزموں سے متعلق دیکھنے میں آتا ہے کہ اکثر طلبہ کے اندر شوق نہیں پایا جاتا۔


ایک بڑے ہال میں، جہاں 'مدارس اسلامیہ: جدید تعلیمی و تربیتی بزمیں' کا بینر لگا ہے، طلبہ سفید ٹوپیوں میں ملبوس مختلف میزوں پر خطابت، صحافت اور کتابت کے لیے بیٹھے ہیں۔ بزمِ خطابت کے پاس ایک شخص پوڈیم پر کھڑا ہے، بزمِ صحافت کے لیے ایک ڈیجیٹل ٹچ اسکرین میز استعمال ہو رہی ہے، اور بزمِ کتابت میں طلبہ خوشخطی اور گرافک ڈیزائن پر کام کر رہے ہیں۔
مدارس اسلامیہ میں طلبہ کی جدید تعلیمی و تربیتی بزمیں


     مدارس اسلامیہ کے تعلیمی و تربیتی ڈھانچے میں ہم نصابی سرگرمیوں، بالخصوص بزمِ خطابت، بزمِ صحافت اور بزمِ کتابت کی اہمیت مسلم ہے۔ آپ کے دریافت کردہ سوالات دراصل مدارس کے موجودہ نظامِ تربیت کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کے مترادف ہیں، جن کا اگر حکیمانہ، نفسیاتی اور عصری تقاضوں کے مطابق حل نہ نکالا جائے، تو یہ بزمیں محض ایک بے روح رسم بن کر رہ جاتی ہیں۔ ایک طالب علم کی شخصیت سازی میں ان بزموں کا کردار محض وقت گزاری نہیں، بلکہ ان صلاحیتوں کو جلا بخشنا ہے جن کے ذریعے وہ معاشرے میں دین کا موثر ترجمان بن سکتا ہے۔ ذیل میں ان تمام پہلوؤں کا ایک جائزہ پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

تعلیمی و تربیتی بزموں کے حقیقی اور ہمہ گیر مقاصد

     ان مختلف بزموں کا بنیادی مقصد طلبہ کو محض چند مخصوص فنون سکھانا نہیں ہے، بلکہ ان کی مجموعی شخصیت کی تعمیر، خود اعتمادی کی بحالی اور افکار کی ترسیل کے مؤثر ذرائع سے لیس کرنا ہے۔ بزمِ خطابت کا مقصد طالب علم کو صرف بلند آواز سے بولنا یا رٹے ہوئے جملے دہرانا سکھانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا اصل ہدف یہ ہے کہ وہ مجمع کے سامنے اپنے مافی الضمیر کو پورے اعتماد، منطقی تسلسل اور دلائل کے ساتھ پیش کر سکے۔ اسی طرح بزمِ صحافت کا نصب العین طلبہ میں تنقیدی شعور بیدار کرنا، حالاتِ حاضرہ کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا اور معاشرتی مسائل کو ایک مؤثر اور شائستہ تحریر کے سانچے میں ڈھالنے کا ہنر سکھانا ہے۔ جہاں تک بزمِ کتابت کا تعلق ہے، تو اگرچہ اس کا روایتی مقصد خوش خطی اور حروف کی جمالیات سے آشنا کرنا تھا، لیکن اس کا گہرا نفسیاتی مقصد طلبہ میں ارتکازِ توجہ، ٹھہراؤ، نفاست پسندی اور نظم و ضبط پیدا کرنا ہے۔ یہ تمام بزمیں دراصل طالب علم کے اندر چھپے ہوئے تخلیقی جوہر کو تلاش کرنے اور اسے ایک بامقصد سمت دینے کی تجربہ گاہیں ہیں۔

عصری تقاضوں کی روشنی میں بزموں کے انداز میں ناگزیر تبدیلیاں

    موجودہ دور ڈیجیٹل اور ابلاغی انقلاب کا دور ہے، اس لیے ان بزموں کو اپنی چلی آرہی روش سے آگے بڑھ کر جدید اسلوب سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ بزمِ خطابت کو اب محض یک طرفہ تقریروں تک محدود رکھنے کے بجائے، مکالمے (Dialogue)، مباحثے (Debate)، پینل ڈسکشن اور کیمرے کے سامنے بولنے کی مشقوں (جیسے پوڈکاسٹ یا وی لاگنگ) سے روشناس کرایا جانا چاہیے۔ طلبہ کو سکھایا جائے کہ جدید ذہن کو اپیل کرنے کے لیے خطابت میں جذباتیت سے زیادہ معقولیت اور شائستگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح بزمِ صحافت کو دیواری مجلوں سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل بلاگنگ، ویب سائٹس کے لیے مضمون نگاری، اور سوشل میڈیا پر مؤثر اور مختصر پیغام رسانی (Micro Blogging) کی تربیت گاہ بنانا چاہیے۔ بزمِ کتابت کے دائرۂ کار کو بھی وسیع کرکے اس میں روایتی خطاطی کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ٹائپنگ، گرافک ڈیزائننگ کے بنیادی اصول اور ان پیج یا ایم ایس ورڈ جیسی عصری مہارتوں کو شامل کرنا چاہیے، تاکہ طالب علم کی جمالیاتی حس جدید ٹیکنالوجی کے کینوس پر بھی اپنا لوہا منوا سکے۔

درجات اور عمر کے لحاظ سے طلبہ کی نفسیاتی رعایت اور درجہ بندی

    تمام درجات کے طلبہ کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا ٹھیک نہیں ہے۔ ابتدائی درجات کے طلبہ کا ذہن خام اور حساس ہوتا ہے، اس لیے ان کے لیے بزموں کا ماحول انتہائی دوستانہ اور غیر تنقیدی ہونا چاہیے۔ انہیں اسٹیج پر صرف کھڑا ہونا، دیکھ کر عبارت پڑھنا، اور چھوٹی کہانیاں یا واقعات سنانے کی مشق کرائی جائے، تاکہ ان کی جھجھک دور ہو۔ متوسط درجات کے طلبہ چونکہ شعوری پختگی کی طرف قدم رکھ رہے ہوتے ہیں، اس لیے انہیں استدلالی گفتگو، حالات حاضرہ پر مضامین لکھنے اور مختلف موضوعات پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مباحثہ کرنے کا موقع دیا جائے۔ ان کے لیے تنقید تعمیری ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنی خامیوں کو سمجھ سکیں۔ درجاتِ علیا اور فضیلت کے طلبہ کے لیے معیار بالکل پیشہ ورانہ ہونا چاہیے۔ انہیں جدید فکری چیلنجز، تقابلِ ادیان، اور عصری مسائل پر تحقیقی مقالے لکھنے، پریس کانفرنس کے انداز میں سوالات کے جوابات دینے اور مختلف مکاتبِ فکر کے لوگوں کے ساتھ علمی مکالمہ کرنے کی عملی تربیت دی جانی چاہیے۔

طلبہ میں طبعی شوق اور اندرونی تحریک بیدار کرنے کے نفسیاتی محرکات

    ان بزموں میں طلبہ کی عدم دلچسپی اور مجبوری کی شرکت کی سب سے بڑی وجہ ان سرگرمیوں کا ان کی عملی زندگی اور فطری رجحانات سے غیر مربوط ہونا ہے۔ جب طالب علم محسوس کرتا ہے کہ یہ محض ایک رسمی کارروائی ہے جس کا اس کے مستقبل سے کوئی تعلق نہیں، تو وہ بیزار ہوجاتا ہے۔ شوق پیدا کرنے کا سب سے بڑا نفسیاتی اصول "اختیار اور آزادی" (Autonomy) کی فراہمی ہے۔ طلبہ پر موضوعات مسلط کرنے کے بجائے، انہیں اپنی پسند کے موضوعات اور اظہار کے ذرائع منتخب کرنے کی آزادی دی جائے۔ دوسری اہم چیز "اعتراف اور حوصلہ افزائی" (Recognition) ہے۔ جب کسی طالب علم کا لکھا ہوا مضمون کسی معیاری بلاگ یا اخبار میں شائع ہوگا، یا اس کی بہترین تقریر یا مباحثے کی ویڈیو کسی پلیٹ فارم پر اس کے نام کے ساتھ نشر کی جائے گی، تو یہ چیز اس کے اندر اور دیگر طلبہ میں ایک زبردست ولولہ پیدا کرے گی۔ منتظمین کو چاہیے کہ وہ ڈنڈے اور حاضری کے جبر کے بجائے، صحت مند مقابلے کی فضا قائم کریں، بہترین کارکردگی پر انعامات اور اسناد دیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اساتذہ خود ان بزموں میں ایک رہنما اور سرپرست کے طور پر نہیں، بلکہ ایک سیکھنے والے دوست کی حیثیت سے شریک ہوں، تو طلبہ کا یہ مجبوری کا احساس ایک جنون اور جذبے میں بدل جائے گا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے