روح علیین و سجین میں، جسم زمین میں؛ تو جزا و سزا کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟

    مرنے کے بعد انسان کی روح یا تو علیین میں چلی جاتی ہے یاسجین میں جاتی ہے تو پھر عذاب وثواب کس کو ہوتا ہے؟ اگر جسم کو عذاب ثواب ہوتو وہ توصرف ڈھانچا ہے اور اگر روح کو عذاب وثواب ہو تو وہ تو علیین یا سجین میں ہے!


عالمِ برزخ میں روح اور جسم کے ماورائی تعلق اور علیین و سجین کی ایک بصری تمثیل


    یہ سوال انتہائی فکر انگیز اور انسانی عقل کی ان گہرائیوں سے تعلق رکھتا ہے جہاں مادی دنیا کے پیمانے غیب کی دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس بظاہر پیچیدہ عقدے کو نہایت شائستگی اور علمی گہرائی کے ساتھ سلجھایا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں ذیل کے کچھ بنیادی حقائق پر غور کرنا ضروری ہے:

عالمِ برزخ کی نوعیت اور انسانی ادراک کی محدودیت

    اس سوال یا شبہے کے پیدا ہونے کی سب سے بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اس مادی دنیا (عالمِ شہادت) کے طبعی قوانین اور زمان و مکان (Time and Space) کی پابندیوں کو موت کے بعد کی دنیا (عالمِ برزخ) پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ موت انسان کے مکمل خاتمے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ محض ایک حالت سے دوسری حالت، اور ایک جہان سے دوسرے جہان میں منتقلی کا عمل ہے۔ عالمِ برزخ کے قوانین اس دنیا کے قوانین سے یکسر مختلف اور ماوراء ہیں۔ ہماری انسانی عقل، جو صرف تین اَبعاد (Three Dimensions) اور مادے کو سمجھنے کی عادی ہے، روح کی لطافتوں اور برزخ کی وسعتوں کا کامل ادراک نہیں کرسکتی۔ عالمِ برزخ میں دوری، فاصلے، زمان اور مکان کے وہ تصورات سرے سے وجود ہی نہیں رکھتے جن کے ہم اس دنیا میں پابند ہیں۔ اس لیے مادی دنیا کی منطق سے عالمِ برزخ کے حقائق کو ناپنا، اور یہ سوچنا کہ جو چیز آسمانوں میں ہے وہ زمین پر موجود جسم سے کیسے جڑسکتی ہے، اپنے اندر ایک فکری خامی رکھتا ہے۔

روح اور جسم کا ماورائی اور لطیف ارتباط

    موت کے بعد روح کا جسم سے تعلق مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ اس تعلق کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ یہ بات بالکل برحق ہے کہ نیک اور صالح ارواح کو ''علیین'' میں اور نافرمان ارواح کو ''سجین'' میں رکھا جاتا ہے، لیکن ان مقامات پر ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ روح کا اپنے دنیاوی جسم سے ہر قسم کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ اس ماورائی تعلق کو سمجھنے کے لیے سورج کی ایک نہایت خوبصورت اور حکیمانہ تمثیل کو پیشِ نظر رکھا جاسکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سورج ہم سے کروڑوں میل دور آسمان کی بلندیوں پر موجود ہے، لیکن اس کی روشنی، اس کی تمازت اور اس کے اثرات زمین پر موجود ہر ذرے تک پہنچ رہے ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح، روح اگرچہ اپنے مقام یعنی علیین یا سجین میں مقیم ہوتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ایک خاص روحانی اور لطیف نظام کے تحت اس کا اپنے جسم کے ساتھ ایک نہایت تیز رفتار اور پراسرار تعلق قائم رہتا ہے، جس کی بدولت وہ اپنے جسم کے احوال سے باخبر بھی رہتی ہے اور اس پر گزرنے والی کیفیات میں شریک بھی ہوتی ہے۔

خواب کی تمثیل اور عذاب و ثواب میں دونوں کی شرکت

    اس حقیقت کو مزید قریب الفہم بنانے کے لیے انسان کے روزمرہ کے تجربے یعنی ''خواب'' (جسے موت کی بہن کہا گیا ہے) پر غور کرنا بھی بہت مفید ہے۔ جب ایک انسان گہری نیند سو رہا ہوتا ہے، تو اس کا مادی اور ظاہری جسم بستر پر بالکل بے حس و حرکت اور ایک ڈھانچے کی طرح پڑا ہوتا ہے۔ لیکن اسی دوران اس کی روح خواب کی دنیا میں بسا اوقات نہایت حسین باغات کی سیر کر رہی ہوتی ہے، لذت محسوس کر رہی ہوتی ہے، یا پھر کسی خوفناک درندے سے بھاگ رہی ہوتی ہے اور شدید تکلیف و اذیت کا شکار ہوتی ہے۔ سونے والے شخص کو وہ لذت یا وہ تکلیف بالکل حقیقی محسوس ہوتی ہے، حالانکہ اس کا جسم بستر پر موجود ہوتا ہے۔ عالمِ برزخ میں عذاب و ثواب کا معاملہ بھی اسی سے ملتا جلتا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ حقیقی ہے۔ اللہ رب العزت جسم کے ان اجزاء میں (چاہے وہ قبر میں ڈھانچے کی شکل میں ہوں، راکھ بن کر اڑ چکے ہوں، یا سمندر کی تہہ میں ہوں) ایک خاص قسم کی برزخی زندگی پیدا فرما دیتے ہیں جس سے وہ روح کے ساتھ عذاب یا ثواب کو محسوس کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ یہ تکلیف یا راحت بیک وقت روح اور جسم دونوں کو ہو رہی ہوتی ہے، لیکن مادی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ ناممکن ہے۔

علیین و سجین کے مقامات اور ربانی قدرت کا کامل یقین

    حاصلِ کلام یہ ہے کہ روح کے علیین یا سجین میں ہونے اور قبر میں موجود جسم کو ثواب یا عذاب ہونے میں کوئی باہمی تضاد نہیں ہے۔ عذاب و ثواب کا اصل مرکز تو روح ہی ہے کیونکہ دنیا میں شعور، ارادہ اور نیت اسی کے پاس تھی، مگر چونکہ جسم اس کے ہر اچھے اور برے عمل میں اس کا شریکِ کار اور سواری رہا ہے، اس لیے عدلِ الٰہی کا تقاضا ہے کہ وہ بھی اس جزا و سزا میں شامل رہے۔ جو ڈھانچا ہمیں بے جان نظر آتا ہے، وہ ہماری دنیاوی اور محدود نگاہ کا دھوکہ ہے۔ برزخ کی حقیقت میں وہ جسم اللہ کی عطا کردہ ایک نئی اور لطیف حس کے ساتھ روح کے تجربات میں مکمل طور پر جڑا ہوا ہے۔ بحیثیتِ مسلمان ہماری فکری پختگی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم خالقِ کائنات کی لامحدود قدرت کو اپنی محدود عقل کے پیمانوں میں قید کرنے کے بجائے، اس بات پر کامل یقین رکھیں کہ جو رب ایک بے جان قطرے سے اس پیچیدہ انسان کو تخلیق کر سکتا ہے، وہ اس بات پر بھی پوری طرح قادر ہے کہ روح کو ساتویں آسمان پر رکھ کر زمین کی پاتال میں بکھرے ہوئے جسمانی ذرات کے ساتھ اس کا ایسا زندہ تعلق قائم کردے کہ دونوں مل کر اپنے اعمال کا نتیجہ بھگت سکیں یا اس کے انعامات سے لطف اندوز ہو سکیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے