کیا اکابرِ علمائے دیوبند (حضرت مولانا قاسم نانوتوی، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، حضرت علامہ خلیل احمد سہارنپوری اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمھم اللہ وغیرہ) سے ماہِ ربیع الاول میں خصوصیت کے ساتھ سیرت کے جلسے، جلوس اور محافلِ میلاد کا انعقاد ثابت ہے، اور موجودہ دور میں خاص طور پر ربیع الاول کے ابتدائی بارہ ایام کے دوران ان جلسوں کا اہتمام کرنا درست ہے یا اہلِ بدعت سے مشابہت کی بنا پر یہ ممنوع قرار پائے گا؟
![]() |
| شرعی اصولوں کے عین مطابق اور مروجہ خرافات سے پاک، ایک سادہ اور پروقار مجلسِ سیرت کا خاکہ |
اکابرِ علمائے دیوبند کا اساسی منہج اور ذکرِ ولادت کی حیثیت
مسلکِ دیوبند کی بنیاد درحقیقت اتباعِ سنت، صحابۂ کِرام (رضی اللہ عنہم) کے نقشِ قدم کی پیروی اور دین میں ہر قسم کی بدعات و مُحْدَثات سے مکمل اجتناب پر استوار ہے۔
جہاں تک نبئ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ولادتِ باسعادت، آپ کی سیرتِ طیبہ اور فضائل و شمائل کے ذکر کا تعلق ہے، تو اکابرِ دیوبند جیسے حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی، فقیہ النفس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، محدثِ جلیل حضرت علامہ خلیل احمد سہارنپوری اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی (رحمھم اللہ) وغیرہ، کے نزدیک یہ اعمال نہ صرف باعثِ اجر و ثواب ہیں، بلکہ ایمان کی جان اور مسلمانوں کی روحانی غذا ہیں۔ ان جلیل القدر ہستیوں کا اپنا یہ حال تھا کہ ان کی پوری زندگی، ان کے دروس، ان کے مواعظ اور ان کی تصنیفات ہمہ وقت ذکرِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے عبارت تھیں۔
تاہم، جب ہم تاریخ اور ان اکابر کی سوانح کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات بالکل واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ ان حضرات سے ماہِ ربیع الاول میں خصوصیت کے ساتھ مروجہ طرز پر میلاد کے جلسوں، جلوسوں اور باقاعدہ کانفرنسوں کا انعقاد ہرگز ثابت نہیں ہے۔ ان کے نزدیک آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سیرت کا تذکرہ کسی ایک مہینے یا چند مخصوص دنوں کا محتاج نہیں تھا، بلکہ وہ اسے سال کے بارہ مہینوں اور زندگی کے ہر لمحے کا لازمی جزو سمجھتے تھے اور اسی کی تلقین فرماتے تھے۔
ماہِ ربیع الاول کی تخصیص اور التزامِ ما لا یلزم کی قباحت
شریعت نے جن عبادات یا نیک اعمال کے لیے کوئی خاص وقت، دن یا مہینہ مقرر نہیں کیا، ان کے لیے اپنی طرف سے کسی خاص وقت کی تخصیص کرلینا اور پھر اس تخصیص پر اس قدر سختی سے عمل کرنا کہ وہ عوام الناس کی نظر میں دین کا ایک ضروری حصہ معلوم ہونے لگے، "اِلتِزامِ ما لا یَلْزَم" اور بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔
خاص طور پر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی مجالسِ میلاد پر کی جانے والی تنقید اور ممانعت کا بنیادی سبب یہی اصول رہا ہے۔ ان حضرات کے دور میں محافلِ میلاد میں کئی طرح کی خرافات در آئی تھیں، جن میں ربیع الاول کے مخصوص دنوں کی پابندی، قیامِ تعظیمی کو فرض یا واجب کا درجہ دینا، موضوع اور من گھڑت روایات کا بیان، اور یہ عقیدہ رکھنا کہ نبئ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) محفل میں بنفسِ نفیس تشریف لاتے ہیں، شامل تھا۔ چونکہ یہ تمام امور شریعت کے مزاج کے خلاف تھے اور ان کے ذریعے عوام کے عقائد خراب ہورہے تھے، اس لیے ان فقہائے کِرام نے سدِ ذرائع کے اصول کے تحت ان مروجہ مجالس کو ممنوع قرار دیا۔ ان کا یہ رُخ اور رویہ دراصل شریعت کے خالص پن کی حفاظت اور امت کو بدعات کے اندھیروں سے بچانے کا ایک عظیم کارنامہ تھا۔
دورِ حاضر کے تقاضے اور مجالسِ سیرت کی دعوتی و اصلاحی بنیادیں
موجودہ دور میں حالات، معاشرتی تقاضے اور عوام الناس کی نفسیات ماضی کے مقابلے میں کافی حد تک تبدیل ہوچکی ہیں۔ آج کا عام مسلمان دین کے بنیادی عقائد، سیرتِ طیبہ اور اسلامی احکامات سے خطرناک حد تک دور ہوتا جارہا ہے۔ تاہم، ماہِ ربیع الاول کی آمد پر مسلمانوں کے دلوں میں کسی نہ کسی درجے میں ایک فطری جوش، ایمانی حرارت اور نبئ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے تذکرے کو سننے کی ایک خاص طلب پیدا ہوتی ہے۔ اس دعوتی موقع کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اب اس بات کو محسوس کیا جاتا ہے کہ اگر اس موقع پر صحیح العقیدہ علماء میدان میں آکر عوام کو خالص سیرتِ طیبہ نہیں سنائیں گے، تو عوام الناس بدعات اور خرافات میں مبتلا کرنے والوں کے ہتھے چڑھ جائیں گے۔
چنانچہ، خالص اصلاحی اور دعوتی جذبے کے تحت، شرعی حدود و قیود کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے سیرت کے جلسوں کا انعقاد کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت کی تکمیل ہونے کی حیثیت سے درست معلوم ہوتا ہے۔ ان جلسوں کا مقصد مروجہ میلاد منانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس مبارک مہینے کی مناسبت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امت کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عملی زندگی، آپ کے اخلاق، آپ کی تعلیمات اور سنتوں سے روشناس کرانا ہونا چاہیے؛ تاکہ دلوں میں اتباعِ سنت کا جذبہ بیدار ہو اور عملی زندگیوں میں انقلاب برپا ہو۔
اہلِ بدعت کی مشابہت سے گریز اور ربیع الاول کے ابتدائی ایام کا محتاط لائحۂ عمل
جہاں تک سوال کے اس مخصوص حصے کا تعلق ہے کہ کیا ربیع الاول کے ابتدائی دنوں میں سیرت کے جلسے کرنا اہلِ بدعت کی مشابہت کی وجہ سے ممنوع قرار پائے گا، تو اس کا مدار مکمل طور پر ان جلسوں کی نوعیت، شکل و صورت اور منتظمین کے عقائد و مقاصد پر ہے۔
مشابہت اس وقت لازم آتی ہے جب جلسے کا پورا ڈھانچہ، اس کا ظاہری تام جھام اور اس میں انجام دیے جانے والے افعال بعینہٖ وہی ہوں جو اہلِ بدعت اختیار کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ربیع الاول کے ابتدائی بارہ دنوں میں اس عقیدے کے ساتھ جلسہ کرتا ہے کہ ان ہی دنوں میں جلسہ کرنا شرعاً ضروری ہے، یا اس محفل میں مروجہ رسومات، بے جا چراغاں، اِسراف، قیام و سلام کی غیر شرعی پابندی اور اختلاطِ مرد و زن جیسے مفاسد پائے جائیں، تو ایسا جلسہ یقیناً ممنوع ہوگا۔ اس کے برعکس، اگر منتظمین کا عقیدہ بالکل صاف ہو کہ سیرت کا بیان کسی خاص دن کا محتاج نہیں ہے، لیکن چونکہ ان ایام میں عوام کی توجہ اور رغبت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے محض انتظامی سہولت اور دعوتی مصلحت کے پیشِ نظر ربیع الاول کے کسی بھی دن (بشمول ابتدائی بارہ ایام) میں جلسے کا انعقاد کیا جائے، جس میں خالص قرآن و سنت کی روشنی میں سیرتِ طیبہ بیان ہو، عقائد کی اصلاح ہو، اور سنتوں پر عمل کی ترغیب دی جائے، تو یہ ممنوع مشابہت کے دائرے میں نہیں آئے گا۔
البتہ، احتیاط کا تقاضا اور پسندیدہ طریقہ یہی ہے کہ ان جلسوں کو صرف ابتدائی بارہ دنوں تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ پورے مہینے اور سال کے دیگر ایام میں بھی سیرتِ طیبہ کے عنوان سے اجتماعات منعقد کیے جاتے رہیں، تاکہ کسی بھی قسم کی تخصیص کا شائبہ پیدا نہ ہو اور سنتِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ترویج کا عظیم الشان مقصد اپنے کمال تک پہنچ سکے۔
پلیٹ فارم ''اسلامی رہنمائی'' کی جانب سے ایک مخلصانہ گزارش
''اسلامی رہنمائی'' کی اس دعوتی و تحقیقی کاوش کو جاری رکھنے اور اسے مزید وسیع کرنے کے لیے، براہِ کرم دیے گئے کیو آر کوڈ (QR Code) یا UPI کے ذریعے اپنا مالی تعاون ضرور پیش کریں؛ تاکہ حق کی اشاعت کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہے۔ نیز، دین کے اس صحیح فہم کو عام کرنے اور صدقۂ جاریہ کے ثواب کے لیے، اس پوسٹ کو اپنے حلقۂ احباب میں زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ جزاکم اللہ خیراً!

0 تبصرے