قومی گیت "وندے ماترم" کے عدمِ جواز پر تو اتفاق معلوم ہے، لیکن قومی ترانہ "جن گن من" (National Anthem) کے سلسلے میں فقہاء اور علمائے کرام کی کیا رائے ہے، اور کیا کسی اسلامی یا مسلم اسکول و ادارے میں اسے اسمبلی یا پروگرام کا حصہ بنا کر پڑھنا یا بچوں سے پڑھوانا شرعاً جائز ہے؟ نیز اس کے الفاظ اور معانی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
![]() |
| ایک مسلم اسکول کی اسمبلی کا منظر جہاں طلبہ قومی پرچم کے احترام اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ قومی ترانے کے احترام میں صف بستہ کھڑے ہیں۔ |
آپ نے موجودہ دور کے ایک انتہائی اہم اور حساس موضوع پر رہنمائی طلب کی ہے، جس کا تعلق بیک وقت ہمارے ایمانی عقائد، اسلامی احکامات، ملکی قوانین اور ایک تکثیری معاشرے میں مسلمانوں کے طرزِ عمل سے ہے۔
ایک سچے مسلمان کے لیے اس کا عقیدۂ توحید اس کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے، جس پر وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ "وندے ماترم" جیسے گیت، جن میں مادرِ وطن کو معبود کا درجہ دے کر اس کی پوجا اور وندنا (عبادت) کا تذکرہ ہے، نادرست اور شرک پر مبنی قرار دیے گئے ہیں۔
تاہم، قومی ترانہ "جن گن من" کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اسلامی نظامِ حیات کی اعتدال پسندانہ اور گہری بصیرت کا تقاضا یہ ہے کہ اس معاملے کو محض جذبات کے بجائے علم، تحقیق اور حکمت کی عینک سے بھی دیکھا جائے۔ اس حوالے سے ذیل میں تفصیلی اور ایک متوازن رہنمائی پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
عقیدۂ توحید اور قومی ترانے کے الفاظ و معانی کا ایک جائزہ
کسی بھی کلام یا ترانے کی حیثیت کا مدار اس کے الفاظ، معانی اور اس کے ناظم و شاعر کے بنیادی نظریے پر ہوتا ہے۔
"جن گن من" کے ناظم و شاعر رابندر ناتھ ٹیگور تھے، اور اس ترانے کے بولوں پر اگر لسانی اور معنوی اعتبار سے غور کیا جائے، تو اس میں کہیں بھی شرک یا کفر کی کوئی آمیزش نہیں پائی جاتی۔ اس ترانے کا مرکزی خیال اس کے ابتدائی الفاظ "بھارت بھاگیہ ودھاتا" (یعنی ہندوستان کی تقدیر بنانے والا) پر استوار ہے۔
ایک مسلمان کا یہ غیر متزلزل عقیدہ ہے کہ افراد ہوں یا اقوام، ان سب کی تقدیر کا مالک اور کائنات کا واحد نظام چلانے والا صرف اور صرف اللہ رب العزت ہے۔ جب ایک مسلمان اِس صحیح شعور کے ساتھ یہ ترانہ پڑھے، تو اس کے ذہن اور قلب میں "بھاگیہ ودھاتا" (مقدر بنانے والے) کا تصور براہِ راست اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس کی طرف ہی جاسکتا ہے، جو پوری کائنات کا رب ہے۔
خود رابندر ناتھ ٹیگور نے بھی ایک خط میں وضاحت کی تھی کہ ان کا اشارہ کسی دنیاوی بادشاہ (جیسے جارج پنجم وغیرہ) کی طرف نہیں ہے، بلکہ اس ابدی اور حقیقی طاقت کی طرف ہے جو قوموں کی تقدیروں کی رہنمائی کرتی ہے۔ چنانچہ انٹرنیٹ پر وہ خط اور اس کی مکمل تفصیلات ہندوستان کے نہایت معتبر قومی اخبارات اور ویب سائٹس پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ نیز اِن لنکس پر جا کر اس خط کا مکمل حوالہ اور متعلقہ آرٹیکلز پڑھے جاسکتے ہیں:
1. دی ہندو (The Hindu) - مشہور قومی اخبار کا آرٹیکل:
اس مضمون کا عنوان "Tagore and that song" ہے جس میں ٹیگور کے اس خط کو مکمل طور پر نقل کیا گیا ہے تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔
لنک: https://www.thehindu.com/opinion/open-page/tagore-and-that-song/article10886480.ece
2. سکرول ڈاٹ ان (Scroll.in) - معروف نیوز پورٹل:
اس پورٹل پر بھی "What explains the return of the 104-year-old controversy about Tagore and the national anthem?"
ان حوالوں سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ٹیگور کے ذہن میں "بھاگیہ ودھاتا" کا تصور کائنات کے حقیقی رب اور پروردگار کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ انٹرنیٹ پر ہی دستیاب معلومات کے مطابق رابندر ناتھ ٹیگور نے یہ خط 10 نومبر 1937 کو اپنے ایک دوست اور صحافی پلن بہاری سین (Pulin Behari Sen) کو لکھا تھا۔
نیز چونکہ اس ترانے میں ملک کی زمین، دریاؤں، پہاڑوں (جیسے وندھیا، ہمالیہ، گنگا، جمنا) کی محض خوبصورتی کا تذکرہ اور ان خطوں کی سلامتی کی دعا ہے، اور کسی بھی مقام پر ان طبعی چیزوں کے سامنے سجدہ ریز ہونے یا انہیں خدا ماننے کا کوئی شائبہ تک موجود نہیں، اس لیے خالص توحید کے نقطۂ نظر سے اس کے الفاظ اسلامی حدود و تعلیمات سے متصادم نہیں ہیں۔
قومی ترانے کی نوعیت و حیثیت اور اُس کے لیے کھڑا ہونا
قومی ترانے کے معانی اور مفاہیم کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ "جن گن من" پڑھنا یا گانا ممنوع نہیں ہے؛ کیونکہ جب تک کسی عمل یا کلام میں صریح کفر یا شرک ثابت نہ ہوجائے، اسے قطعی کفریہ یا مشرکانہ کہہ کر ممنوع نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ چونکہ یہ ترانہ ملک کی تعریف، اس کے جغرافیائی حسن کے بیان اور ایک پروردگار کے حضور ملک کی سلامتی و ترقی کی دعا پر مشتمل ہے، اس لیے یہ مباح ہے۔
جہاں تک قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہونے کا تعلق ہے، تو یہ بھی عبادت کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ یہ ایک تمدنی اور ملکی رسم ہے جو محض احترام کے اظہار کے لیے ادا کی جاتی ہے۔ اسلام میں غیر اللہ کی عبادت کے لیے کھڑا ہونا حرام ہے، لیکن کسی جائز دنیاوی اور ملکی اصول کے تحت نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھڑے ہونے میں کوئی قباحت نہیں ہے، بشرطیکہ دل میں تعظیمِ الوہیت کا کوئی عقیدہ نہ ہو۔
مسلم تعلیمی اداروں اور اسکولوں میں ترانہ پڑھنا
مذکورہ بالا باتوں کے بعد یہ واضح ہے کہ کسی بھی اسلامی اسکول، مسلم تعلیمی ادارے یا مدرسے میں اسمبلی یا کسی تقریب کے دوران بچوں سے یہ قومی ترانہ پڑھوانا یا اسے پروگرام کا حصہ بنانا، نا درست اور ممنوع نہیں ہے۔ ہاں، بچوں کو یہ ضرور سکھانا اور شعور دینا چاہیے کہ جب وہ "بھارت بھاگیہ ودھاتا" کہیں تو ان کا دھیان اللہ تعالیٰ کی طرف ہو جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے۔
اسلام اپنے ماننے والوں کو اس مٹی سے محبت کرنے سے نہیں روکتا جہاں وہ بستے ہیں، حب الوطنی ایک فطری اور محمود جذبہ ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بھی اپنے وطن مکۂ مکرمہ اور اُس کے بعد مدینۂ منورہ سے بڑے تعلق اور محبت کا اظہار فرمایا ہے۔
مسلم تعلیمی اداروں میں قومی ترانے کے پڑھ لیے جانے سے بچوں میں ایک صحت مند شہری شعور (Civic Sense) بھی بیدار ہوسکتا ہے، اور ان کے اندر ملک کے ساتھ اپنے تعلق کا ایک جذباتی احساس اور اپناپن (Belongingness) بھی پروان چڑھ سکتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ ایک اچھی ہی بات ہے۔ نیز یہ عمل سب کے لیے اس بات کا بھی غماز ہے کہ مسلمان اپنے ملک کے قانون، آئین اور قومی علامات کا احترام کرتے ہیں، اور وہ اس ملک کے برابر کے اور وفادار شہری ہیں۔
دعوت و حکمت اور ملکی قوانین کی پاسداری کا تقاضا
ہم ایک ایسے جمہوری اور کثیر مذہبی معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں مسلمانوں کے طرزِ عمل کو بہت قریب سے دیکھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں مسلمانوں کو حکمت اور موعظتِ حسنہ کے ساتھ کام لینے کا حکم دیا ہے اور عہد (معاہدوں) کی پاسداری کو مومن کی نشانی قرار دیا ہے۔
ہندوستانی آئین اور ملکی قوانین ہمارے اور ریاست کے درمیان ایک عمرانی معاہدہ (Social Contract) کی حیثیت رکھتے ہیں، اور قومی ترانے کا احترام اسی معاہدے کا ایک حصہ ہے۔ جب کوئی شرعی ممانعت موجود نہ ہو تو ایسے مواقع پر بلاضرورت خلیج پیدا کرنا، شکوک و شبہات کو جنم دینا اور خود کو قومی دھارے سے الگ تھلگ کرلینا دین کی خدمت نہیں ہے، بلکہ شاید یہ حکمتِ دعوت کے بھی خلاف ہے۔
قومی گیت (وندے ماترم) پر ہمارا موقف واضح ہے کیونکہ وہ ہمارے بنیادی عقیدے سے ٹکراتا ہے، لیکن قومی ترانہ (جن گن من) چونکہ عقیدۂ توحید سے متصادم نہیں ہے، اس لیے اسے اپنانا اور پڑھنا مسلم کمیونٹی کے لیے موجودہ حالات میں امن، بقائے باہمی اور ملکی ہم آہنگی کے فروغ کا ایک کارآمد ذریعہ ہے۔ لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ أَمْرًا.
مجموعی لحاظ سے یہی طرزِ عمل ایک سچے اور باشعور مسلمان کی پہچان ہے جو اپنے رب کا فرمانبردار ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے وطن کا ایک بہترین اور ذمے دار شہری بھی ہوتا ہے۔
(نوٹ):- یہ جو کچھ میں نے عرض کیا ہے، اپنے طالبِ علمانہ علم و فہم کی روشنی میں عرض کیا ہے۔ باقاعدہ شرعی فتوے کے لیے کسی دار الاِفتاء سے رجوع کرنا چاہیے۔
دینی خدمت میں ہمارا ساتھ دیں!
دینی بیداری اور بہترین اسلامی رہنمائی کے اس سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے QR Code اسکین کرکے ہماری مالی اعانت فرمائیں۔ حق کا یہ پیغام دوسروں تک پہنچانا بھی ایک عظیم دینی خدمت ہے، لہٰذا اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں!

0 تبصرے