صاحبِ شرح الوقایۃ کے مطابق، ماتن نے فعل لَبِسَ کی جگہ اسم مَلبُوسَان کا انتخاب کیوں کیا؟

     کتاب ''شرح الوقایۃ'' کے ''باب المسح علی الخفین'' کی اُس عبارت کا جامع فقہی و لغوی حل کیا ہے جس میں وضوءِ مرتب اور غیر مرتب کی صورتوں میں موزوں پر مسح کے جواز کو بیان کرتے ہوئے، مصنف نے طہارتِ کاملہ کی شرط کے لیے سابقہ فقہاء کی تعبیر ''إذ لبسهما'' (فعل) کو ترک کرکے ''ملبوسان/ملبوسین'' (اسم) کا انتخاب کیا ہے، اور اس مخصوص لفظی تبدیلی کے ذریعے مصنف نے کس طرح اس فقہی مسئلے کو واقعاتی حقیقت اور تشریعی حسن کے زیادہ قریب تر ثابت کیا ہے؟


شرح الوقایہ کے صفحے کی تصویر جس میں موزوں پر مسح کے دوران طہارتِ کاملہ اور فعل و اسم کے فرق (ألبس بمقابلہ ملبوسان) کو واضح کیا گیا ہے۔
شرح الوقایہ کے باب المسح علی الخفین سے موزوں پر مسح کی شرط اور "ملبوسان" کی لغوی و فقہی بحث کا ایک اہم علمی صفحہ


عبارت کا تفہیمی اور فقہی حل

​     اس عبارت کا بنیادی پسِ منظر طہارت کے تسلسل اور مسح کے جواز کی شرائط سے متعلق ہے۔

     مسئلہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ موزوں پر مسح اسی وقت جائز ہے جب انہیں کامل طہارت (مکمل وضو) کے بعد پہنا گیا ہو۔ صاحبِ شرح الوقایہ نے یہاں دو ایسی عملی صورتیں بیان کی ہیں جن میں بظاہر موزے پہنتے وقت طہارت کاملہ موجود نہیں ہوتی۔ پہلی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص وضو کے معمول کے تسلسل کو توڑے اور پاؤں دھو کر فوراً موزے پہن لے، اور پھر وضو کے باقی اعضاء دھوئے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ وضو تو ترتیب سے کرے، لیکن دایاں پاؤں دھونے کے بعد فوراً دایاں موزہ پہن لے، اور پھر بایاں پاؤں دھو کر بایاں موزہ پہنے۔ ان دونوں صورتوں میں موزے پاؤں میں داخل کرتے وقت وضو مکمل نہیں تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان پر مسح جائز ہے؟

     یہاں شارح نے ایک انتہائی باریک اور حکیمانہ نکتہ بیان کیا ہے کہ شریعت کی شرط "پہنتے وقت" مکمل طہارت نہیں ہے، بلکہ مدار اس بات پر ہے کہ جب وضو ٹوٹے (یعنی حدث لاحق ہو)، تو اس وقت انسان طہارتِ کاملہ کے ساتھ موزے پہنے ہوئے ہو۔ چونکہ ان دونوں صورتوں میں حدث لاحق ہونے سے بہت پہلے وضو مکمل ہوچکا تھا اور موزے پاؤں میں موجود تھے، اس لیے ان پر مسح کرنا بالکل جائز ہے۔

     بہ الفاظِ دیگر: خفین پر مسح کرنے کے لیے پہلی مرتبہ حدث پیش آنے کے وقت طہارتِ کاملہ کا ہونا شرط ہے، خفین پہنتے وقت شرط نہیں؛ لہٰذا اگر کسی نے پہلے پاؤں دھوئے پھر خفین پہن لیے، پھر ہاتھ منہ دھوئے اور سر پر مسح کیا، پھر حدث لاحق ہوا تو اُس کے لیے مسح کرنا جائز ہے۔ جبکہ اگر کسی نے پاؤں دھوکر خفین پہن لیے پھر چہرہ اور ہاتھ دھوئے اور سر پر مسح کرنے سے پہلے حدث پیش آگیا تو مسح کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ جب حدث لاحق ہوا اُس وقت طہارتِ کاملہ حاصل نہیں ہے۔

     اس فقہی گتھی کو سلجھانے کے لیے مصنف نے سابقہ فقہاء کے استعمال کردہ فعل "لبس" (اس نے پہنا) کو ترک کر کے اسم "ملبوسان" (وہ پہنے ہوئے ہیں) کا انتخاب کیا، کیونکہ فعل ایک عارضی اور وقتی عمل کو ظاہر کرتا ہے، جب کہ اسم ایک مسلسل حالت اور دوام کی عکاسی کرتا ہے۔

​فقہ حنفی کا تشریعی حسن اور قانونی مسودہ سازی کا کمال

​     جب ہم جدید قانونی نظام اور قانون کی تشریح (Statutory Interpretation) کے زاویے سے اس فقہی بحث کا گہرا مطالعہ کرتے ہیں، تو فقہِ حنفی کا ایک بے مثال تشریعی حسن اور قانونی مسودہ سازی (Legal Drafting) کا کمال نکھر کر سامنے آتا ہے۔

    قانون کا اصول ہے کہ اس کی زبان میں کوئی ایسا سقم یا ابہام نہیں ہونا چاہیے جو عملی زندگی میں تضاد پیدا کرے۔ اگر سابقہ فقہاء کی تعبیر کے مطابق فعل "لبس" (یعنی حدث کے وقت اس نے موزے پہنے) کو ہی قانون کا حتمی درجہ دے دیا جاتا، تو یہ ایک ایسی شرط بن جاتی جس پر عمل کرنا انسانی استطاعت سے باہر تھا۔ کیونکہ جب انسان کا وضو ٹوٹتا ہے، وہ اس وقت موزے پہننے کا عمل نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ موزے تو وہ بہت پہلے پہن چکا ہوتا ہے۔ 

    ایک محتاط قانون دان اور فقیہ کی حیثیت سے مصنف نے اس واقعاتی حقیقت کو محسوس کیا اور قانون کی عبارت سے فعل کو نکال کر اسے اسم "ملبوسان" سے تبدیل کردیا۔ اس ایک لفظ کی تبدیلی نے قانون کو انسانی عقل، منطق اور زمینی حقائق کے عین مطابق کردیا کہ وضو ٹوٹنے کے وقت موزے طہارتِ کاملہ پر "پہنی ہوئی حالت" میں ہونے چاہئیں۔

    یہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ ہمارے فقہاء محض ظاہری الفاظ کے قیدی نہیں تھے، بلکہ وہ قانون کے مقاصد اور انسانی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے الفاظ کا ایسا نپا تلا اور جامع انتخاب کرتے تھے جو ہر قسم کے منطقی اور قانونی اعتراضات سے بالاتر ہو۔

​دورِ حاضر میں اِس فقہی بصیرت کی اہمیت، ضرورت اور افادیت

    ​موجودہ دور میں، جہاں ہم مختلف علمی، تدریسی اور تحقیقی میدانوں میں رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں، اس فقہی مسئلے کی افادیت محض سردیوں میں مسح کے احکام بتانے تک محدود نہیں رہتی۔ آج کے دور میں جب عوام الناس کو نت نئے مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور وہ دین کے باب میں فقہی رہنمائی کے متلاشی ہوتے ہیں، تو یہ مسئلہ ہمیں سکھاتا ہے کہ شریعت کا مزاج تنگی کا نہیں بلکہ وسعت اور تیسیر (آسانی) کا ہے۔ اگر فقہاء اس شرط پر سختی برتتے کہ موزے پہنتے وقت ہی وضو کا مکمل ہونا شرط ہے، تو عوام کے لیے ایک بڑی مشکل کھڑی ہو جاتی۔

    اس کے ساتھ ساتھ، یہ علمی بحث ان تمام افراد کے لیے ایک مینارۂ نور ہے جو قانون کے طالب علم ہیں یا کسی بھی سطح پر جامع تحریری کام اور تصنیف و تالیف سے وابستہ ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ ایک ماہر قانون دان اور مصنف کس طرح اپنے جملوں کی بنت کرتا ہے اور کس طرح گرامر کا ایک چھوٹا سا قاعدہ پورے قانونی اور شرعی حکم کے دائرۂ کار کو متعین کرتا ہے۔

    درس و تدریس کے دوران جب طلبہ کے سامنے ایسی گہری اور فکری بحثیں پیش کی جاتی ہیں، تو ان میں قانون سازی کو سمجھنے، نصوص کی تشریح کرنے اور فقہی استنباط کا وہ تنقیدی شعور بیدار ہوتا ہے جو انہیں مستقبل کا ایک بہترین اور صاحبِ بصیرت قانون دان اور محقق بناتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے