معقولات کے مطالعے کا درست منہج اور اہم کتب کون سی ہیں؟

     علم کلام، علم منطق اور فلسفہ کے بنیادی مضمون کی طرف رہنمائی فرمائیں؛ تاکہ ان فنون سے بصیرت کے ساتھ استفادہ آسان ہوسکے، نیز مذکورہ فنون سے متعلق مناسب اور مفید کتابوں کی نشاندہی فرمائیں۔


ایک ادھیڑ عمر کے آدمی کی تصویر، جو بھورے رنگ کی پگڑی اور نیلے رنگ کا روایتی لباس پہنے ہوئے ہے، اس کا چہرہ دھندلا (blur) کیا گیا ہے۔ وہ ایک قدیم طرز کی لکڑی کی میز پر بیٹھا ہے اور ایک قلم (quill) سے کاغذ پر لکھ رہا ہے۔ میز پر اور آس پاس کی لکڑی کی الماریوں میں بے شمار چمڑے کی جلدوں والی پرانی کتابیں رکھی ہیں۔ سامنے کی کتابوں پر عربی خطاطی دیکھی جا سکتی ہے۔ ایک پرانا لیمپ میز پر جل رہا ہے۔ پس منظر میں ایک محراب دار کھڑکی سے ایک تاریخی عظیم الشان مسجد کا صحن اور مینار نظر آ رہے ہیں۔
علمی ورثے کے درمیان ایک عالمِ دین کی تصنیفی مشغولیت


     آپ کا یہ استفسار پڑھ کر دلی مسرت اور اطمینان کا احساس ہوا کہ آپ تدریس کے معزز منصب پر فائز ہونے اور ایک مؤقر ادارے سے وابستہ ہونے کے باوجود علم کی مزید گہرائیوں میں اترنے اور معقولات کے میدان میں بصیرت حاصل کرنے کی سچی تڑپ رکھتے ہیں۔ ایک عالم اور استاذ کا جب تک یہ ذوقِ تجسس زندہ اور بیدار رہتا ہے، وہ علم کے آسمان پر درخشندہ ستارے کی مانند چمکتا رہتا ہے اور اس کا فیض طلبہ کے لیے آبِ حیات ثابت ہوتا ہے۔

     آپ نے علم کلام، علم منطق اور فلسفہ کے بنیادی موضوعات اور ان کے مطالعے کے درست منہج کے حوالے سے جو رہنمائی طلب کی ہے، وہ دورِ حاضر کے کسی بھی صاحبِ علم کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے؛ کیونکہ منقولات کی حفاظت، دینِ متین کے دفاع اور عصری تقاضوں کے مطابق اسلامی تعلیمات کی تعبیر کے لیے معقولات کے ہتھیار سے لیس ہونا وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے۔

​علمِ کلام: عقائد کا عقلی دفاع اور ایمانیات کی تفہیم

​     علمِ کلام دراصل وہ عظیم الشان اور جلیل القدر فن ہے جس کا بنیادی موضوع ذات و صفاتِ باری تعالیٰ، رسالت و نبوت کی حقانیت اور احوالِ معاد کا وہ عقلی و نقلی استدلال ہے جو شکوک و شبہات کے مکمل ازالے اور عقائدِ حقہ کے غیر متزلزل دفاع کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ اس علم کی غرض و غایت محض لفظی یا نظری بحثوں میں الجھنا ہرگز نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل اور اعلیٰ ترین مقصد ایک سچے مومن کے دل میں پیوست ایمان کو ان مضبوط اور ناقابلِ تسخیر عقلی بنیادوں پر استوار کرنا ہے جہاں دنیا کا کوئی بھی باطل فلسفہ یا جدید الحادی نظریہ اسے متزلزل نہ کر سکے۔

     متکلمینِ اسلام نے اپنے اپنے ادوار کے فکری چیلنجز اور یلغار کو سامنے رکھتے ہوئے اس علم کو نہایت عرق ریزی سے مدون کیا اور قرآنی استدلال کی روشنی میں ایسے مستحکم اصول مرتب کیے جو وحیِ الٰہی اور عقلِ سلیم کے درمیان ایک نہایت حسین اور فطری ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔

     موجودہ دور میں جب کہ فکری گمراہی اور سائنسی الحاد پوری قوت کے ساتھ حملہ آور ہیں، ایک عالمِ دین کے لیے علمِ کلام کی تجدید، اس کے کلاسیکی و قدیم مباحث کے فہم اور ساتھ ہی جدید کلامی تقاضوں سے مکمل آگاہی از بس ضروری ہے، تاکہ وہ دورِ حاضر کے جدید ذہن کو اسلام کی سچائی اور حقانیت نہایت معقول، منطقی اور پرکشش انداز میں سمجھا سکے۔

​علمِ منطق: فکرِ انسانی کا میزان اور استدلال کا ضابطہ

​     علمِ منطق کو اسلامی علمی روایت میں تمام علومِ عقلیہ کی کلید اور ایک بہترین خادمِ علم کی حیثیت حاصل ہے، جس کا بنیادی موضوع وہ معلوماتِ تصوریہ اور تصدیقیہ ہیں جن کی ترتیب و تنظیم کے ذریعے مجہولات کے ادراک تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ اس فن کو وضع کرنے اور اس قدر اہمیت دینے کا اصل مقصد ذہنِ انسانی کو غور و فکر، استنباط اور استدلال کے دوران ہر قسم کی غلطی، کجی اور مغالطے سے محفوظ رکھنا ہے۔

     یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ یہ علم بذاتِ خود کوئی مقصود بالذات علم نہیں ہے، بلکہ یہ محض ایک ایسا آلہ، کسوٹی اور میزان ہے جو انسان کو صحیح استدلال قائم کرنے، اشیاء کی درست تعریفات متعین کرنے اور مقدمات سے بالکل درست اور قطعی نتائج اخذ کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔

     ہمارے اسلاف نے منطق کو ہمیشہ ایک خادم علم کے طور پر قبول کیا تاکہ کلامِ الٰہی کی تفہیم، احادیثِ مبارکہ کی تشریح اور فقہی احکام کے پیچیدہ استنباط میں عقلی استدلال کو ایک نہایت منظم اور منضبط شکل دی جا سکے۔ منطق کا بغور مطالعہ انسان کے ذہن میں ایک ایسی جِلا اور فکری ترتیب پیدا کرتا ہے کہ وہ انتہائی الجھے ہوئے علمی مسائل میں سے حق اور باطل، اور صواب و خطا کے درمیان بآسانی ایک واضح خطِ امتیاز کھینچنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

​فلسفہ: حقائقِ اشیاء کی جستجو اور کائنات کا عقلی مطالعہ

​     فلسفہ اپنے وسیع تر مفہوم اور اطلاق میں کائنات، وجود، اور حقائقِ اشیاء کی ان کی اصل حالت میں عقلی جستجو اور ادراک کا نام ہے۔ اس کا موضوع وہ تمام موجودات ہیں جو ہماری عقل اور حواس کے دائرے میں کسی بھی درجے میں آتے ہیں، اور اس کا اولین مقصد کائنات کے اسبابِ اولیٰ، عللِ واسطہ اور غایتِ وجود کو خالص عقلی بنیادوں پر دریافت کرنا ہے۔

     ایک اسلامی تناظر میں فلسفے کا مطالعہ اس لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اس کے ذریعے سے ہمیں ان تمام عقلی مفروضات، افکار اور نظریات کو گہرائی سے سمجھنے میں مدد ملتی ہے جو انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں انسانی ذہن پر حاوی رہے ہیں۔ تاہم، ایک مسلمان طالبِ علم اور عالمِ دین کے لیے فلسفے کے مطالعے کا زاویہ اور نقطۂ نظر ہمیشہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ اسے حقِ مطلق اور سچائی تک پہنچنے کا حتمی اور واحد ذریعہ ہرگز نہ سمجھے، کیونکہ ہمارا یہ کامل ایمان ہے کہ جہاں انسانی عقل کی پرواز اپنے انجام کو پہنچتی ہے، بالکل وہیں سے وحیِ ربانی کی دستگیری اور رہنمائی کا بابِ روشن کھلتا ہے۔

     فلسفے کا عمیق مطالعہ انسان کو غیر معمولی وسعتِ نظری اور مختلف متضاد افکار کے غیر جانبدارانہ تنقیدی جائزے کی اعلیٰ صلاحیت بخشتا ہے، جس کی بدولت وہ گمراہ کن نظریات کا علمی اور عقلی سطح پر نہایت متانت، گہرائی اور شائستگی کے ساتھ محاکمہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

​مذکورہ فنون سے بصیرت کے ساتھ استفادہ کا صحیح منہج

​     ان تمام دقیق معقولات کے مطالعے میں حقیقی بصیرت اور رسوخ حاصل کرنے کا بنیادی اور کلیدی اصول یہ ہے کہ ہم ہمیشہ منقولات یعنی قرآنِ حکیم اور سنتِ ثابتہ کو اصل الاصول، منبعِ ہدایت اور حتمی سچائی تسلیم کریں۔ عقل کو وحئ الٰہی کے مقابلے میں قاضی، حَکم یا حاکم بنانے کے بجائے، اسے ہمیشہ وحی کے ایک فرماں بردار خادم اور شارح کے طور پر استعمال کرنا ہی علمائے ربانیین اور جامع المنقولات و المعقولات شخصیات کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ ان فنون سے حقیقی اور نافع استفادہ اس وقت تک ہرگز ممکن نہیں جب تک انسان خود کو خالص تجرید، لاحاصل موشگافیوں اور محض ذہنی عیاشی سے بچا کر ان علوم کو دینِ متین کی تفہیم اور اس کی اعلیٰ خدمت کے لیے خلوصِ نیت کے ساتھ استعمال نہ کرے۔

     اس کا سب سے بہترین اور مجرب طریقہ یہ ہے کہ ان علوم کی مشکل اصطلاحات اور ان کے تاریخی ارتقاء کو خوب اچھی طرح سمجھا جائے، اور پھر ان کے اطلاق کو دورِ حاضر کے پیچیدہ فکری مسائل، نت نئے شکوک و شبہات اور عصری چیلنجز کے حل کے لیے پوری حکمت کے ساتھ بروئے کار لایا جائے۔ آپ چونکہ خود ایک عظیم ادارے میں تدریس سے وابستہ ہیں اور طلبہ کی ذہن سازی کی اہم ذمہ داری آپ کے کاندھوں پر ہے، اس لیے آپ کے لیے یہ بات نہایت مفید اور ضروری ہوگی کہ ان فنون کو محض قدیم اور ثقیل عبارات کے حل تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنے زیرِ تعلیم طلبہ میں ان کی اصل روح، ان کے مقاصد اور ان کے عملی و اطلاقی پہلوؤں کو بھی بیدار کریں تاکہ وہ محض پرانی کتابوں کے قاری بننے کے بجائے زندہ، متحرک اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ مفکر اور مصلح بھی بن سکیں۔

​مناسب اور مفید کتب کے مطالعے کی رہنمائی

​     جہاں تک ان تینوں فنون میں بتدریج مہارت اور اعلیٰ درجے کی بصیرت پیدا کرنے کے لیے مناسب، مستند اور مفید کتب کی نشاندہی کا تعلق ہے، تو اس علمی سفر میں تدریج اور تسلسل کو ملحوظ رکھنا بے حد ضروری اور کامیابی کی شرط ہے۔

     علمِ منطق کے لیے ابتدائی طور پر "تیسیر المنطق" اور "مرقاۃ" جیسی سلیس کتب سے ذہن کو بخوبی مانوس کرنے کے بعد "شرح تہذیب" اور "قطبی" کا بغور مطالعہ کیا جانا چاہیے، جبکہ اعلیٰ درجے کی مہارت اور گہرائی کے لیے "سلم العلوم" اور اس کی شہرۂ آفاق شروحات، خصوصاً ملا حسن، بحر العلوم اور قاضی مبارک کے دقیق حواشی پر غوروخوض انسان کی منطقی استعداد اور فکری صلاحیت کو بامِ عروج تک پہنچا دیتا ہے۔

     اسی طرح علمِ فلسفہ کی قدیم مبادیات اور نظریات کو سمجھنے کے لیے کلاسیکی و قدیم فلسفے کے مروجہ نصاب کے تناظر میں "مبادئ الفلسفۃ" اور پھر اُس کے بعد "ہدایۃ الحکمۃ" کی مشہور شرح "میبذی" اور "صدرا" کا مطالعہ نہایت وقیع اور ناگزیر ہے، تاہم چونکہ جدید فلسفے کے نظریات اور سائنس کی فکری بنیادوں کو سمجھے بغیر عصرِ حاضر کے چیلنجز کا مؤثر مقابلہ ناممکن ہے، اس لیے جدید مغربی فلسفے کی تاریخ، اس کے اصولوں اور ان پر لکھی گئی مستند تنقیدی کتب کا مطالعہ بھی لازمی طور پر کیا جانا چاہیے۔

     علمِ کلام میں کامل رسوخ اور پختگی پیدا کرنے کے لیے "شرح العقائد النسفیہ"، "شرح مسایرہ" اور "شرح المواقف" جیسی امہات الکتب کا مسلسل اور گہرا مطالعہ کلاسیکی کلامی مباحث اور قدیم فکری الجھنوں پر گرفت مضبوط کرتا ہے۔ البتہ دورِ حاضر کے جدید علمِ کلام، سائنسی چیلنجز، اور الحادی نظریات کے مدلل و مسکت جواب کے لیے حجۃ الاسلام امام غزالی رحمہ اللہ کی کتب، علامہ شبلی نعمانی کی "علم الکلام"، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی مایۂ ناز اور عظیم الشان تصنیف "حجۃ اللہ البالغۃ"، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کی "حجۃ الاسلام"، "انتصار الاسلام"، "تقریرِ دلپذیر" اور "تصفیۃ العقائد"، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی "عقلیاتِ اسلام"، "اشرف الجواب"، "احکامِ اسلام عقل کی نظر میں"، حضرت مولانا محمد منظور نعمانی کی "دین و شریعت" اور "معارف الحدیث"، حضرت مولانا بدرِ عالم میرٹھی کی" ترجمان السنۃ"، علامہ اقبال کی شاعری، اور دورِ جدید کے ان مستند مفکرین کی کاوشوں (مثلاً مولانا ڈاکٹر یاسر ندیم الواجدی کی "تھافت الملاحدۃ") کو اپنے مطالعے کا لازمی حصہ بنانا چاہیے جو اسلام کے مضبوط عقلی استدلال کو عصرِ حاضر کی جدید اور قابلِ فہم زبان میں پیش کرتے ہیں۔

     یہ بات بھی ہمیشہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ان تمام دقیق کتب کا مطالعہ اور فہم اگر محض ذاتی کوشش کے بجائے کسی ماہر، مشفق اور صاحبِ بصیرت استاذ کی نگرانی اور براہِ راست رہنمائی میں کیا جائے تو اس کے ثمرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں اور انسان ہر قسم کی فکری لغزشوں، بے راہ روی اور کج فہمی سے مکمل طور پر محفوظ رہتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے