تبلیغی جماعت کے ساتھیوں میں فکری خامیوں کے باوجود علماء کو کام سے جڑا رہنا چاہیے یا کنارہ کشی اختیار کرلینی چاہیے؟

    میرے ذہن میں ایک سوال ہے، اس سلسلے میں آپ کی رہنمائی درکار ہے اور وہ سوال تبلیغی جماعت کے سلسلے میں ہے۔ اب تک تو میں اس میں جاتا رہا ہوں یہ سوچ کر کہ کمیاں خامیاں تو ہر جگہ ہوتی ہیں، ہمیں خوبیوں کو سامنے رکھنا چاہیے، اور یہ سوچ کر بھی کہ یونیورسٹی کی زندگی میں دین کی خدمت کا یہی راستہ میرے سامنے ہے۔ لیکن ایک طرف یہ سوال بھی پریشان رکھتا ہے کہ اس کام میں لگنے کے بعد زیادہ تر لوگ فکری طور پر بہت ہی محدود ہوجاتے ہیں، اور دین کی وہ تشریح پیش کرتے ہیں جو قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح معلوم نہیں ہوتی، تو اس صورتِ حال میں اس میں جڑنا کیسا ہے؟ چلیں ہم نے چار الفاظ پڑھے ہیں تو ہم تھوڑی بہت تمییز کرلیتے ہیں۔ لیکن ان ساتھیوں کا کیا جن کی تشکیل کر کے  ہم جماعت میں لے جاتے ہیں، وہ تو اسی system کا حصہ بن جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے افراد کے فہمِ دین پر مجھے اعتراض ہوتا ہے، بلکہ کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے کہ اس طرح کے فہمِ دین کی وجہ سے دین کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ تو ایسے میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ جماعت میں جانا چاہیے یا نہیں جانا چاہیے؟


ایک وسیع اسلامی لائبریری میں میز پر کھلی کتابوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک بزرگ عالمِ دین اور نوجوان طالبِ علم، جن کے چہرے دھندلے (بلر) ہیں۔
ایک عالمِ دین اور ایک نوجوان کے درمیان فکری و تربیتی گفتگو کا ایک دردمندانہ منظر


    ایک طالبِ علم جب اپنے اردگرد کے حالات اور مروجہ دینی کاموں کا تنقیدی مگر مخلصانہ جائزہ لینا شروع کردے، تو یہ اس کے بیدار مغز ہونے اور فکری ارتقاء کی ایک روشن دلیل ہوتی ہے۔

    آپ کے اس تفصیلی پیغام اور آپ کے ذہن میں پیدا ہونے والی اس کشمکش میں مجھے امت کے تئیں آپ کا وہ گہرا دردمندانہ جذبہ محسوس ہورہا ہے جو ایک حقیقی عالمِ دین اور داعی کا طرۂ امتیاز ہونا چاہیے۔ آپ نے جس دردمندی اور حقیقت پسندی کے ساتھ تبلیغی جماعت کے موجودہ طریقۂ کار، اس سے وابستہ بعض افراد کے فکری جمود، اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات کی نشاندہی کی ہے، وہ ایک ایسی تلخ زمینی حقیقت ہے جسے محسوس کرنے والے اہلِ علم و نظر ہر دور میں موجود رہے ہیں۔

    تاہم، ایک مصلح اور صاحبِ بصیرت رہنما کا کام محض خامیوں کو دیکھ کر میدان سے کنارہ کش ہوجانا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ ان خامیوں اور تاریکیوں کے بیچ رہتے ہوئے حکمت، اعتدال اور جرات کے ساتھ اصلاح کی شمع کیسے روشن کرتا ہے۔

دعوتی کاموں کی افادیت اور موجودہ دور کے چیلنجز

    اس حقیقت سے کسی طور پر انکار ممکن نہیں کہ موجودہ پرفتن دور میں، بالخصوص یونیورسٹیوں اور کالجوں کے آزادانہ اور مادی ماحول میں، نوجوانوں کے ایمان کو محفوظ رکھنے اور انہیں دین کی بنیادی باتوں سے جوڑے رکھنے میں اس جماعت کا کردار انتہائی نمایاں اور قابلِ قدر رہا ہے۔ بے شمار نوجوان جو الحاد، بے راہ روی اور دین سے دوری کے دہانے پر کھڑے تھے، اس محنت کی برکت سے نہ صرف مساجد تک پہنچے بلکہ ان کی زندگیوں میں ایک واضح اور مثبت انقلاب برپا ہوا۔ ایک ایسے وقت میں جب دین کی طرف بلانے والے راستے اور ادارے محدود ہیں، یہ ایک ایسا چلتا ہوا اور منظم نظام ہے جو عامۃ المسلمین کو دین کی الف با سکھانے کا ایک نہایت مؤثر ذریعہ بنا ہوا ہے۔

    اس لیے، اس کام کی مجموعی افادیت اور اس کے ذریعے ہونے والے بے پناہ خیر کو یکسر نظر انداز کردینا کسی بھی صاحبِ بصیرت اور منصف مزاج انسان کے لیے ممکن نہیں ہے، اور یقیناً یہی وہ مثبت پہلو ہے جس نے آپ جیسے باشعور افراد کو بھی اب تک اس نظام سے جوڑے رکھا ہے۔

فکری محدودیت کا المیہ اور اہلِ علم کا کردار

    آپ کا یہ احساس بالکل بجا ہے کہ اس مخصوص دعوتی نظام کا حصہ بننے کے بعد بہت سے لوگ فکری طور پر ایک خاص دائرے میں قید ہوجاتے ہیں اور بسا اوقات دین کی ایک ایسی محدود تشریح پیش کرنے لگتے ہیں جو قرآن و سنت کی وسعت اور جامعیت سے ہم آہنگ نہیں ہوتی۔ جب دین کے نام پر صرف چند مخصوص اعمال کو کل دین سمجھ لیا جائے اور زندگی کے دیگر اہم شعبوں، اخلاقیات، معاملات اور عصری تقاضوں کو پسِ پشت ڈال دیا جائے، تو اس سے دین کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہونے کا اندیشہ واقعتاً پیدا ہوجاتا ہے۔

    لیکن، یہاں اس بات پر گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس فکری جمود کا اصل سبب کیا ہے؟ اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اس کام میں بڑی تعداد ان عوام کی ہے جو دین کا گہرا علم نہیں رکھتے، اور بدقسمتی سے راسخ العلم علماء اور متوازن فکر رکھنے والے اہلِ علم نے اس خلا کو پر کرنے کے بجائے عموماً اس کام سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے۔ اگر آپ جیسے صاحبِ فہم، یونیورسٹی کے تقاضوں کو سمجھنے والے اور دین کی صحیح روح سے واقف علماء بھی ان خامیوں کو بنیاد بناکر اس میدان کو چھوڑ دیں گے، تو یہ عوام مزید گمراہی، شدت پسندی اور محدودیت کا شکار ہوجائیں گے۔ آپ اس نظام میں ایک عام فرد کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک طبیب کی حیثیت سے موجود ہیں۔ ایک دردمند معالج مریضوں کی حالتِ زار دیکھ کر ہسپتال نہیں چھوڑتا، بلکہ ان کے علاج کے لیے مزید مستعد اور فکرمند ہوجاتا ہے۔

نئے جڑنے والے ساتھیوں کی متوازن فکری تربیت

    آپ کا یہ شکوہ کہ جن ساتھیوں کی آپ تشکیل کرتے ہیں وہ بھی اسی مخصوص فہم کا حصہ بن کر رہ جاتے ہیں، واقعی ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے جس کا حکیمانہ حل نکالنا ناگزیر ہے۔

    اس کا حل ہرگز یہ نہیں ہے کہ آپ تشکیل کرنا یا لوگوں کو دین کی طرف لانا چھوڑ دیں، بلکہ اس کا حقیقی حل یہ ہے کہ آپ اپنی دعوت اور تربیت کے منہج میں ایک خاموش مگر مؤثر تبدیلی لائیں۔ جب آپ کسی نوجوان کو مسجد تک لائیں یا اسے کسی دینی محنت کے لیے آمادہ کریں، تو اسے مکمل طور پر اس روایتی ماحول کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں، بلکہ اس کی فکری، علمی اور روحانی رہنمائی کی ڈور اپنے ہاتھ میں رکھیں۔

    آپ انہیں جماعت کے بنیادی اور مفید کاموں تک ضرور محدود رکھیں جیسے نماز کی پابندی اور ذکر و اذکار، لیکن ان کے فہمِ دین کو وسیع کرنے کے لیے ان کے ساتھ انفرادی اور نجی نشستیں کریں۔ انہیں قرآنِ کریم کے بامقصد مطالعے، سیرتِ طیبہ کے ان جامع پہلوؤں سے، جو زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہیں، اور متوازن اہلِ علم کی کتابوں سے روشناس کرائیں۔ انہیں کمالِ حکمت کے ساتھ یہ سمجھائیں کہ یہ محنت دین کا ایک اہم حصہ ضرور ہے، لیکن یہ کل دین نہیں ہے۔ اس طرح آپ انہیں اس دعوتی نظام کی خوبیوں سے تو مستفید کریں گے، لیکن انہیں اس کی فکری محدودیت کا شکار ہونے سے بچالیں گے۔

حکمتِ عملی، اعتدال اور آئندہ کا لائحہ عمل

    ان تمام گزارشات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کو اس دعوتی کام سے مکمل طور پر کنارہ کش ہونے کے بجائے اپنے کردار اور اپنی حیثیت کو ازسرِنو متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ اس کام میں ضرور جائیں اور یونیورسٹی کے نوجوانوں کو جوڑنے کی محنت بھی جاری رکھیں، لیکن اب ایک اندھے مقلد یا محض ایک کارکن کے طور پر نہیں، بلکہ ایک باشعور، باخبر اور دردمند رہنما کے طور پر اس کا حصہ بنیں۔ ان محفلوں میں جہاں آپ کو دین کی غلط تشریح یا فکری تنگی محسوس ہو، وہاں تصادم اور بے جا بحث و مباحثے سے گریز کرتے ہوئے، حکمت، نرمی اور دلیل کے ساتھ صحیح بات پیش کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے عمل، اپنے اعلیٰ اخلاق اور اپنی وسعتِ ظرفی سے لوگوں کو متاثر کریں۔ یونیورسٹی کے مادی ماحول میں نوجوانوں کو دین پر قائم رکھنے کے لیے آپ کے پاس یہ ایک بہترین اور تیار شدہ پلیٹ فارم موجود ہے، اسے تنقید کی بھینٹ چڑھا کر چھوڑنے کے بجائے اس کی اندرونی اصلاح کی فکر کریں اور اپنے حلقۂ احباب میں ایک ایسی متوازن کھیپ تیار کریں جو دین کی جامعیت پر کامل یقین رکھتی ہو اور امت کو فکری جمود سے نکال کر ایک وسیع تر اسلامی بصیرت کی طرف لے جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہو۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے