اسلامی شریعت میں مرد کے لیے تعددِ ازدواج (ایک سے زائد نکاح) کی اجازت موجود ہے، اور فقہی اعتبار سے اس کے لیے پہلی بیوی کی رضامندی یا اجازت شرط نہیں ہے۔ تاہم، اس قانون کے عملی اطلاق سے دو بنیادی اور حساس نوعیت کے اشکالات جنم لیتے ہیں جن کا تعلق اسلام کے ''عادلانہ نظام'' اور ''دینِ فطرت'' ہونے سے ہے:-
۱۔ عدلِ الٰہی اور عورت کی جذباتی اذیت کا تضاد:
جب ایک مرد پہلی بیوی کی مرضی کے خلاف یا اس کی ناراضگی کے باوجود دوسری شادی کرتا ہے، تو یہ عمل پہلی بیوی کے لیے شدید ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی اذیت کا باعث بنتا ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس قانون میں عورت کے مجروح ہونے والے جذبات اور اس پر گزرنے والی قیامت خیز تکلیف کو نظر انداز کر کے اس پر جبر کیا جا رہا ہے۔ چونکہ اسلام سراپا عدل، انصاف اور رحمت کا دین ہے، تو پھر ایک منصفانہ الہامی نظام کے اس حکم سے عورت کو اس قدر شدید تکلیف کیوں پہنچتی ہے؟
۲۔ ''دینِ فطرت'' اور عورت کی نفسیات کا ٹکراؤ:
اسلام ایک ''دینِ فطرت'' ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے احکامات انسانی ساخت اور بشری فطرت سے مکمل ہم آہنگ ہیں۔ اگر مرد کا ایک سے زائد شادیاں کرنا واقعی ایک فطری اور مبنی بر انصاف قانون ہے، تو پھر عورت کی فطرت اسے تسلیم کرنے سے انکاری کیوں ہوتی ہے؟ اگر یہ حکم عینِ فطرت ہے، تو عورت کو قدرتی طور پر اسے بخوشی قبول کرلینا چاہیے، مگر عملی طور پر اس عمل سے عورت کی فطرت کو اس قدر شدید ٹھیس کیوں پہنچتی ہے کہ وہ اسے اپنی پوری زندگی کا سب سے بڑا صدمہ تصور کرتی ہے؟
خلاصۂ سوال:
مختصراً یہ کہ تعددِ ازدواج کے معاملے میں عورت کے جذبات (پہلی بیوی کی اجازت) کو قانوناً شرط قرار نہ دینا، اور اس کے نتیجے میں عورت کا شدید جذباتی اذیت سے گزرنا، اسلام کے ''مطلق عادل'' اور ''دینِ فطرت'' ہونے کے بنیادی مقدمات کے ساتھ کس طرح مطابقت رکھتا ہے؟
![]() |
| خاندانی عدل اور برابری پر عالمِ دین سے مشورہ |
اس انتہائی حساس، نازک اور پیچیدہ سوال کا جواب ایک ہی وقت میں انسانی نفسیات کی گہرائی، فقہِ اسلامی کی وسعت اور شریعت کے کائناتی و آفاقی مقاصد کو سامنے رکھے بغیر نہیں دیا جاسکتا۔ اس معاملے کو محض چند قانونی شقوں تک محدود کرنے کے بجائے اس کے جذباتی، معاشرتی اور الہامی پہلوؤں کو درج ذیل پہلوؤں کے تحت سمجھنے کی ضرورت ہے۔
دینِ فطرت کا وسیع تر مفہوم اور انسانی نفسیات کا توازن
اسلام کے ''دینِ فطرت'' ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اس کا ہر حکم ہر فرد کی انفرادی جذباتی تسکین کے عین مطابق ہوگا۔ دینِ فطرت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ اس کے احکامات انسانیت کی مجموعی بقا، معاشرے کے اجتماعی مفاد اور مرد و زن کی تخلیقی ساخت کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہیں۔ شریعت کا قانون کسی ایک فرد کی نفسیات کو سامنے رکھ کر نہیں بلکہ پوری نوعِ انسانی کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتا ہے۔
عورت کی یہ نفسیات اور فطرت بالکل برحق ہے کہ وہ اپنے شوہر کی محبت میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہتی۔ اسلام اس جذبے کو نہ تو غیر فطری کہتا ہے، نہ اسے کچلنے کا حکم دیتا ہے اور نہ ہی اس پر عورت کو گنہگار ٹھہراتا ہے۔ عربی زبان میں اسے ''غیْرۃ'' (عورت کی فطری رقابت) کہا جاتا ہے، اور یہ جذبہ امہات المومنین (رضی اللہ عنہن) جیسی کامل و اکمل ہستیوں میں بھی پوری شدت کے ساتھ موجود تھا۔
تو عورت کا سوکن کے تصور سے تکلیف محسوس کرنا عین اس کی فطرت ہے، لیکن شریعت کی نظر میں ایک فرد کی جذباتی تکلیف کے مقابلے میں پورے معاشرے کو اخلاقی بگاڑ، بے راہ روی، اور بے شمار بے سہارا خواتین کو در در کی ٹھوکروں سے بچانا زیادہ بڑی اور اہم فطری ضرورت ہے۔ اگر ایک قانون سے کسی فرد کو جذباتی ٹھیس پہنچ رہی ہو، لیکن وہ قانون لاکھوں انسانوں کی عفت، عزت اور بقا کا ضامن ہو، تو عدل کا تقاضا یہی ہے کہ اجتماعی مفاد پر مبنی اس قانون کو نافذ کیا جائے۔
قضاء اور دیانت کا فرق اور رضامندی کی شرط نہ ہونے کی حکمت
شریعت قضاء (قانون) اور دیانت (اخلاقیات) کے درمیان ایک انتہائی متوازن لکیر کھینچتی ہے۔ شرعی اعتبار سے نکاح ایک معاہدہ (عقد) ہے جو مرد اور اس عورت کے درمیان طے پاتا ہے جس سے وہ نکاح کر رہا ہے۔ قانونی طور پر پہلی بیوی اس نئے معاہدے کا فریق نہیں ہے، اس لیے اس نئے عقد کے درست ہونے کے لیے اس کی قانونی اجازت شرط نہیں رکھی گئی۔ اگر شریعت پہلی بیوی کی اجازت کو شرطِ لازم قرار دے دیتی، تو تعددِ ازدواج کا قانون عملاً معطل ہوکر رہ جاتا، کیونکہ دنیا کی کوئی بھی عورت اپنی فطری رقابت کی وجہ سے خوش دلی سے اس کی اجازت نہ دیتی۔ یوں شریعت کا وہ اعلیٰ مقصد جو بیواؤں، یتیموں اور مطلقہ خواتین کو معاشرتی تحفظ فراہم کرنے اور مرد کی کثیر جہتی ضروریات کو حلال دائرے میں رکھنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا، ایک فرد کے جذبات کی بھینٹ چڑھ جاتا۔
تاہم، شریعت نے مرد کو بے لگام نہیں چھوڑا، بلکہ اس پر ''عدل'' (برابری) کی ایسی کڑی اور سخت شرط عائد کی ہے کہ اگر کوئی شخص اس کا حق ادا نہ کرسکے تو قیامت کے دن اسے مفلوج (فالج زدہ) حالت میں اٹھایا جائے گا۔ فتاویٰ کی رو سے اگر مرد کو یقین ہو کہ وہ دو بیویوں کے درمیان نفقہ، رہائش اور وقت میں برابری نہیں کرسکے گا، تو اس کے لیے دوسرا نکاح کرنا ممنوع اور گناہ ہے۔
لہٰذا قانون نے پہلی بیوی کی اجازت کو شرط نہیں بنایا تاکہ معاشرے کا راستہ بند نہ ہو، لیکن مرد کے لیے احتساب کا ایسا کڑا پہلو بھی رکھا ہے کہ کوئی بھی صاحبِ ایمان اور خدا ترس مرد اس حق کو محض اپنی ہوس رانی کے لیے استعمال کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔
عدلِ الٰہی، دنیاوی ابتلاء اور جذبات کی تکریم
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ اسلام سراپا عدل ہے تو عورت کو اس سے تکلیف کیوں ہوتی ہے، تو ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیاوی زندگی راحت گاہ نہیں ہے، بلکہ ایک امتحان گاہ (دارالابتلاء) ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت دونوں کو مختلف نوعیت کے امتحانات میں ڈالا ہے۔
مرد کا امتحان یہ ہے کہ اسے تعددِ ازدواج کی اجازت دے کر عدلِ کامل کا وہ بوجھ اس کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے جس کے بارے میں قرآن خود گواہی دیتا ہے کہ تم ہرگز اس کی مکمل طاقت نہیں رکھتے۔ دوسری طرف عورت کا امتحان اس کی فطری غیرت اور جذبات کی قربانی میں رکھا گیا ہے۔
جس طرح ایک مجاہد میدانِ جنگ میں زخم کھا کر تکلیف سہتا ہے لیکن یہ تکلیف اللہ کے ہاں اس کے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے، بالکل اسی طرح ایک مسلمان عورت جب اپنے شوہر کے دوسرے نکاح پر فطری تکلیف محسوس کرنے کے باوجود شریعت کے اس حق کو تسلیم کرتی ہے، صبر سے کام لیتی ہے اور خاندانی نظام کو بکھرنے نہیں دیتی، تو اس کی یہ جذباتی اذیت رائیگاں نہیں جاتی، بلکہ بارگاہِ الٰہی میں اس کے لیے عظیم الشان اجر اور درجات کی بلندی کا باعث بنتی ہے۔
اسلام نے عورت کی اس تکلیف کو ظلم نہیں، بلکہ اسے ایک ایسی قربانی تسلیم کیا ہے جس کے بدلے جنت کے دروازے اس کے لیے کھول دیے جاتے ہیں۔ عدل کا مطلب تکلیف کا نہ ہونا نہیں ہے، بلکہ عدل یہ ہے کہ جس تکلیف کو برداشت کرنے کا حکم دیا گیا ہو، اس کا بہترین اور ابدی صلہ بھی عطا کیا جائے۔
شریعت کا منشا اور ہماری معاشرتی کوتاہیاں
ہمیں اس تلخ حقیقت کا بھی اعتراف کرنا چاہیے کہ آج کے دور میں عورت کو جو شدید تکلیف محسوس ہوتی ہے، اس کا زیادہ تر سبب شریعت کا قانون نہیں، بلکہ مردوں کا وہ ظالمانہ رویہ ہے جو وہ دوسری شادی کے بعد اختیار کرتے ہیں۔ اسلام نے دوسری شادی کی صورت میں پہلی بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک، محبت اور اس کے حقوق کی مکمل ادائیگی کا جو مثالی تصور دیا تھا، ہمارے معاشرے کے مردوں نے اسے فراموش کر دیا ہے۔
جب دوسری شادی کا مطلب پہلی بیوی کو نظر انداز کرنا، اس کی توہین کرنا یا اسے معاشی و جذباتی طور پر تنہا چھوڑ دینا بن جائے، تو عورت کی چیخ نکلنا بالکل بجا ہے۔ شریعت کسی عورت پر جبر نہیں کرتی، بلکہ اس نے عورت کو ''خلع'' کی صورت میں یہ حق دیا ہے کہ اگر وہ محسوس کرے کہ سوکن کے آنے سے اس کے جذبات اس قدر مجروح ہوئے ہیں کہ وہ شرعی حدود میں رہ کر اس شخص کے ساتھ نباہ نہیں کر سکتی اور گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے، تو وہ باعزت طریقے سے اس رشتے سے الگ ہو سکتی ہے۔
اسلام کا تصورِ عدل اور دینِ فطرت کا تقاضا یہی ہے کہ نہ تو جذبات کے سیلاب میں بہہ کر معاشرتی ضرورتوں کے دروازے بند کیے جائیں اور نہ ہی قانون کی آڑ میں کسی کے جذبات کو بے دردی سے کچلا جائے۔ اسلام نے مرد کو عدل کا پابند بنا کر اور عورت کو صبر و استقامت پر بے پناہ اجر کی نوید سنا کر اور ضرورت پڑنے پر علیحدگی کا حق دے کر، فرد اور معاشرے دونوں کے حقوق کے درمیان ایک ایسا حسین اور فطری توازن قائم کیا ہے جس کی مثال دنیا کا کوئی اور نظامِ حیات پیش نہیں کر سکتا۔

0 تبصرے