میدانِ عمل کے سلسلے میں اداروں کی توقعات اور فارغین کی آزادئ انتخاب میں توازن کہاں ہے؟

      کیا کسی تعلیمی ادارے کے بانی یا ذمہ دار کے لیے یہ ٹھیک ہے کہ وہ طلبہ سے یہ بہ اصرار مطالبہ کرے کہ وہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد اپنے عملی میدان کا انتخاب لازماً اسی ادارے کے متعین کردہ مقاصد کے مطابق کریں، اور اگر کوئی طالب علم اپنی ذاتی صلاحیتوں، رجحان، حالات اور دیگر معتمد اساتذہ و والدین کے مشورے سے کوئی دوسرا جائز میدانِ عمل اختیار کرے، تو اسے شرعی یا اخلاقی اعتبار سے ''بغاوت'' قرار دیا جائے؟


ایک روایتی مدرسے کے دروازے پر سفید داڑھی والا عالم کھڑا ہے اور مختلف راستوں پر جاتے ہوئے طلبہ کو رہنمائی دے رہا ہے، جہاں ایک طرف دینی تعلیم، دوسری طرف تحقیق، خدمتِ خلق اور عصری شعبے دکھائے گئے ہیں۔
رہنمائی کے ساتھ آزادئ انتخاب کی علامت


اداروں کا مقصد اور طلبہ و فارغین کی وابستگی

     تعلیمی اور خاص طور پر دینی تعلیمی اداروں کا قیام، عموماً بلند مقاصد اور اعلیٰ ویژن کے تحت ہوتا ہے۔ پھر بانیان یا ذمہ دار افراد اُن مقاصد کو، اپنے حساب سے، زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کے یہاں زیرِ تربیت رہ کر تعلیم پانے اور فارغ التحصیل ہونے والے افراد بھی اسی اعلیٰ ویژن کی راہ پر چلیں؛ تاکہ اداروں کی جدوجہد، اُن کے گمان اور اندازے کے مطابق، ضائع نہ ہو۔

     بانیان یا ذمہ دار افراد کی یہ تمنا اور چاہت بذاتِ خود بہت قابلِ احترام ہے؛ کیونکہ ادارے جب اپنی منصوبہ بندی، عملی کوششوں اور توفیق و نصرت الٰہی سے اپنے کو میسر آنے والے افرادی و مالی وسائل، وقت اور محنت و توانائی کو طلبہ پر صرف کرتے ہیں تو وہ بجا طور پر کچھ توقعات بھی ضرور رکھتے ہیں۔ تاہم یہ توقعات اتنی مطلق اور جبری نہیں ہوسکتیں کہ طلبہ کی پوری زندگی کا راستہ اداروں کے بانیان یا ذمہ دار افراد کی مرضی کے ہی تابع کردیا جائے (اور شاید حقائق و واقعات کی دنیا میں بانیان اور ذمہ داروں کی جانب سے ایسا عام طور پر کیا بھی نہیں جاتا)۔ طلبہ اداروں میں علم حاصل کرنے آتے ہیں، کسی سیاسی جماعت یا فوجی تنظیم میں شامل نہیں ہوتے، کہ جہاں مکمل خود سپردگی و حوالگی جبراً لازمی ہو۔

     اس لیے اصولی اعتبار سے، اداروں کے بلند اور اعلیٰ اہداف و مقاصد اور اُن کا وسیع تر ویژن اور مشن، یہ سب اُن کے فارغین کے لیے بجا طور پر بہترین رہنما اصول تو ہوسکتے ہیں، مگر ہر فرد کے لیے جبراً لازمی اور حتمی فیصلہ نہیں بن سکتے۔

ذاتی صلاحیت، رجحان اور حالات کی حقیقت

     انسانوں کی جبلت میں تنوع رکھا گیا ہے۔ قرآن و حدیث میں بارہا یہ مضمون آیا ہے کہ اللہ نے لوگوں کو مختلف صلاحیتوں، رجحانات اور حالات کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ چنانچہ عملی میدانوں کے اعتبار سے فارغینِ مدارس میں سے کوئی شخص تدریس میں کامیاب ہوتا ہے، کوئی امامت و خطابت میں، کوئی دعوت و تبلیغ اور عوامی اصلاح میں، کوئی تحقیق و تصنیف میں، کوئی خدمتِ خلق میں، کوئی تجارت و ملازمت، سیاست و صحافت یا دنیا چلانے کسی شعبے وغیرہ میں۔

     اب اگر کسی فارغ التحصیل شخص کی صلاحیت اور دلچسپی اپنے ادارے کے مخصوص اہداف و مقاصد سے مطابقت نہیں رکھتی تو اسے زبردستی اسی راستے پر لگانا نہ صرف اس کے ساتھ ناانصافی ہے، بلکہ یہ اداروں کے مقصد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے؛ کیونکہ جب کوئی شخص اپنی صلاحیت اور دلچسپی کے خلاف کام کرتا ہے تو وہ نہ تو اندرونی سکون پاتا ہے اور نہ ہی بہترین کارکردگی دکھا پاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اداروں کا نام بھی متاثر ہوتا ہے؛ اس لیے کہ ان کے فارغین پھر ناکام یا غیر مطمئن نظر آتے ہیں!

     نیز، والدین اور اساتذہ کے مشورے کو بھی نظر انداز کرنا عقلمندی نہیں ہے؛ کیونکہ وہ طالبِ علم کی شخصیت، خاندانی حالات اور عملی زندگی کی حقیقتوں سے یقیناً زیادہ واقف ہوتے ہیں۔

     تاہم، یہ چیز بھی ضرور ہے کہ طلبہ و فارغین اور اُن کے والدین و سرپرستوں کو بھی اِس بات کی اہمیت کو سمجھنا اور اِس کی ضرورت و افادیت کو محسوس کرنا چاہیے اور اِس اہم ترین پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ فارغینِ مدارس کا اور امت و انسانیت کا علمی و عملی، مادی و روحانی اور دنیوی و اُخروی ہر لحاظ سے حقیقی فائدہ اور واقعی کامیابی کس میں ہے؟ کیا اِس بات میں ہے کہ عمر کے انتہائی قیمتی دس - بارہ سال فارغ کرکے دین کی گہری سمجھ حاصل کرنے کی اپنے اندر صلاحیت پیدا کرنے کے بعد، اب وہ پوری طرح اپنی لائن اور اپنی ترجیحات بدل لیں اور ایک عام آدمی کی طرح وہ بھی صرف اپنی اچھی تنخواہ والی جاب اور زیادہ پیسوں والے کیرئیر کے بارے میں ہی سوچیں، بس!؟!

     یا پھر حقیقی فائدہ اور واقعی کامیابی اِس میں ہے کہ وہ چاہے اپنے روزگار اور گھریلو معاشی ضروریات کی خاطر کسی بھی پیشے اور شعبے میں کام کریں، لیکن دینی خدمات کی روایتی مروجہ شکلوں (امامت و خطابت، مسجد و مکتب، مدرسہ اور درس و تدریس، علمی تحقیق و تصنیف اور عوامی درسِ قرآن و حدیث وغیرہ) سے مضبوطی کے ساتھ ترجیحی طور پر ضرور وابستہ رہیں!؟! خصوصاً اِس مادہ پرستی و دنیا طلبی اور غفلت و انحطاط کے دور میں تو یہ حد درجہ لازم اور ضروری ہے۔ اِس کے بغیر "خادمِ دین" بن کر رہنا تو بڑی بات ہے، "دیندار" باقی رہنا بھی مشکل ہے! 

"بغاوت" کا الزام 

     کسی طالبِ علم کے ذاتی انتخاب کو "بغاوت" قرار دینا منصفانہ اور دانشمندانہ رویہ نہیں ہے۔ ہماری گفتگو کے موضوع کے تناظر میں، بغاوت کا مفہوم تو بنیادی طور پر یہ بنتا ہے کہ کوئی شخص جان بوجھ کر اداروں کے بنیادی اصولوں یا نظم و ضبط کے خلاف کھڑا ہوجائے، اس کی توہین کرے یا اس کے مقصدِ قیام کو نقصان پہنچائے۔ لیکن محض یہ کہنا کہ میں نے اپنی صلاحیت کے مطابق دوسرا میدان اختیار کیا ہے، بغاوت نہیں ہے، بلکہ ایک بالغ اور ذمہ دار انسان کا حق ہے۔

     ہر فرد کو اپنی ذمہ داری خود اٹھانی پڑتی ہے اور کسی دوسرے انسان کی مرضی پر اپنی پوری زندگی قربان کردینے کا کہیں کوئی مطالبہ نہیں ہے۔ ایسے رویوں اور باتوں سے نہ صرف طلبہ و فارغین کے دل میں تلخی پیدا ہوتی ہے، بلکہ اداروں کے ماحول میں بھی خوف اور منافقت پھیل جاتی ہے۔ لوگ ظاہری طور پر ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں، مگر اندر سے اداروں سے دور ہو جاتے ہیں (اور میرا بالکل نہیں خیال کہ کسی بھی مؤقر ادارے کے بانی یا ذمے دار افراد کی طرف سے، طالبِ علم کے ذاتی انتخاب کو اِس طرح "بغاوت" قرار دیا جاتا ہوگا۔) 

تربیت، رہنمائی اور آزادی کا توازن

     اچھے ادارے وہ ہوتے ہیں جو اپنے پڑھنے والوں سے صرف ایک مخصوص راستے پر چلنے اور متعین طور پر صرف ایک ہی لائن اختیار کرنے کا محض بہ اصرار مطالبہ نہ کریں، بلکہ انہیں سوچنے، فیصلہ کرنے اور اپنی ذمہ داری اٹھانے کی صلاحیت بھی عطا کریں۔

     رہنمائی اور مشورہ دینا بالکل بجا اور درست ہے، حتیٰ کہ زور دے کر بھی کہا جاسکتا ہے کہ ادارے کا مقصد بہترین راستہ ہے، اُسے نہ چھوڑا جائے۔ خاص طور پر اُس صورت میں جبکہ بانیان یا ذمہ دار افراد وژنری، اصحابِ بصیرت و فراست، اہلِ نظر، باخبر اور اہلِ دانش و بینش ہوں۔ جن کا علم و فہم مسلَّم، فکر انتہائی پختہ اور جامع و معتدل، نگاہیں حقیقت بیں، شخصیات جہاں دیدہ اور کردار قائدانہ ہو؛ کیونکہ ایسے لوگ جب اداروں کے مقاصد طے کرتے ہیں تو وہ سطحی قسم کی عام چیزیں اور ذاتی اغراض تک محدود نہیں ہوتے ہیں، بلکہ اُن کے طے کردہ اہداف و مقاصد بہت ہی بلند، گہرے، وسیع، مفادِ عامہ والے، طویل منصوبہ بندی والے، دور رَس نتائج و اثرات کے حامل اور انقلاب آفریں ہوتے ہیں۔

     مگر آخری فیصلہ بہرحال طالبِ علم پر چھوڑ دینا چاہیے۔ اگر ادارے واقعی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں تو ان کے فارغین جہاں بھی جائیں گے وہاں ان کے اثرات لے کر جائیں گے۔ زبردستی سے پیدا ہونے والی وابستگی عارضی ہوتی ہے، جبکہ دل سے اختیار کی گئی وابستگی دیرپا۔ ماہرینِ نفسیات بھی یہی کہتے ہیں کہ انسان اس کام میں سب سے زیادہ کامیاب اور مطمئن رہتا ہے جو اس کی اندرونی رغبت اور صلاحیت سے میل کھاتا ہو۔

حکیمانہ رویہ اور اداروں کی حقیقی کامیابی

     بانیان یا ذمہ دار حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنے فارغین کو اپنے مقصد سے جوڑنے کی کوشش تو ضرور کریں، مگر انہیں بے سوچے سمجھے بالکل اپنی آنکھیں بند کر کے اطاعت کرنے پر مجبور نہ کریں (اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ واقعات کی دنیا میں عموماً ایسا کیا بھی نہیں جاتا ہے)۔ وہ انہیں یہ تو ضرور احساس دلائیں کہ اداروں اور اُن کے عظیم مقاصد سے وابستگی بجا طور پر ایک بہت بڑا اعزاز ہے، مگر زندگی کا ہر فیصلہ اداروں کے تابع ہی نہیں ہے۔ جو طلبہ و فارغین دوسرے میدان میں جا کر بھی اداروں کے اخلاقی اور فکری ورثے کو زندہ رکھیں، وہ درحقیقت اداروں کی کامیابی کی علامت ہے۔ اس کے برعکس جو زبردستی ایک ہی راستے پر چلایا جائے اور بعد میں وہ ناکام یا ناراض ہوجائے، وہ اداروں کے لیے بوجھ بن جاتے ہیں۔

     سچی تربیت یہ ہے کہ طلبہ و فارغین کو اختیار دیا جائے؛ تاکہ وہ خود سوچ کر فیصلہ کریں اور پھر اس فیصلے کی ذمہ داری بھی خود اٹھائیں۔ اسی طریقے سے اداروں کا مقصد بھی محفوظ رہتا ہے اور افراد کی صلاحیتیں بھی ضائع نہیں ہوتیں۔


اس علمی کاوش میں آپ کا تعاون

     اگر یہ جواب آپ کے لیے مفید ثابت ہوا ہے تو اس علمی و تربیتی خدمت کو جاری رکھنے میں اپنا مالی تعاون ضرور کیجیے۔ نیچے (اگر آپ موبائل یا ٹیب میں پڑھ رہے ہوں) یا سائیڈ میں (اگر آپ پی سی پر پڑھ رہے ہوں) QR CODE بھی ہے اور UPI ID بھی۔

     نیز اس پوسٹ کو شیئر کر کے دوسروں تک بھی یہ فائدہ پہنچائیے۔ آپ کا ہر چھوٹا بڑا تعاون اس کام کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے