کیا شاہ ولی اللہ دہلوی (رحمہ اللہ) کی نظر میں، فقہ حنفی دلائل کے اعتبار سے واقعتاً مرجوح ہے؟
(کتاب "فیوض الحرمین" کی ایک اہم عبارت کی درست تفہیم اور علمی اشکال کا ازالہ)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کی تصنیف "فیوض الحرمین" (چھیالیسواں مشاہدہ) کے مطالعے کے دوران ایک علمی اشکال پیدا ہوا ہے، جس کے تسلی بخش حل کے لیے آپ کی رہنمائی درکار ہے۔
شاہ صاحب رحمہ اللہ نے مذکورہ کتاب میں کسی بھی مذہبِ فقہ یا ملت کے "حق" ہونے کے دو پہلو یا معانی بیان فرمائے ہیں:
معنیٰ جلی: جس کا تعلق احکام کی ظاہری صورت، نصوص (قرآن و حدیث)، استنباط کے قواعد اور ظاہری دلائل سے ہے۔
معنیٰ دقیق: جس کا تعلق احکام کی باطنی حقیقت، ملاءِ اعلیٰ کے فیضان اور نورِ نبوت کے اسرار سے ہے۔
ان دو قسموں کی مفصل تشریح کے بعد، کتاب (صفحہ 336) میں شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ دقیق پہلو کے اعتبار سے تو فقہ حنفی کو باقی تمام مذاہب پر ترجیح حاصل ہے، لیکن جلی پہلو کے اعتبار سے بعض دیگر مذاہبِ فقہ کو فقہ حنفی پر ترجیح حاصل ہے۔
بنیادی اشکال:
چونکہ شاہ صاحبؒ نے 'معنیٰ جلی' کی تشریح ظاہری دلائل، نصوص اور استنباطِ احکام سے کی ہے، تو کیا جلی پہلو میں دیگر مذاہب کو فقہ حنفی پر ترجیح دینے سے یہ لازم آتا ہے کہ فقہ حنفی دلائل و براہین (قرآن و سنت کی نصوص اور استنباط) کے اعتبار سے دیگر مذاہب کے مقابلے میں 'مرجوح' ہے؟
![]() |
| کتاب "فیوض الحرمین" کی وہ متعلقہ عبارت جس پر یہ علمی اشکال مبنی ہے۔ |
براہِ کرم اس عبارت کا صحیح علمی محمل اور شاہ صاحب رحمہ اللہ کی اصل مراد واضح فرما کر اس اشکال کا ازالہ فرمائیں۔
حضرت الاِمام شاہ ولی اللہ دہلوی (رحمہ اللہ) کی فکر، ان کے ذوقِ تطبیق اور اسرارِ شریعت کے حوالے سے ان کے منفرد مقام کو سامنے رکھتے ہوئے، آپ کے اشکال کا یہ تفصیلی اور اصولی جواب پیشِ خدمت ہے، امید ہے کہ اِس سے آپ کی علمی تشفی ہوسکے گی۔
![]() |
| مدرسے کے صحن میں استاد اور طلباء کا علمی مکالمہ |
امام شاہ ولی اللہ (رحمہ اللہ) کا مزاجِ تطبیق اور فہمِ شریعت
حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کا امتیازی وصف یہ ہے کہ وہ شریعت کے ظاہری احکام اور باطنی اسرار کے درمیان ایک حسین ربط اور تطبیق پیدا کرتے ہیں۔ ان کی نگاہِ بصیرت محض فقہی جزئیات یا نصوص کے ظاہری الفاظ تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ ان احکام کے پیچھے کارفرما الٰہی حکمتوں، مقاصد و مصالحِ شریعت اور ''ملاءِ اعلیٰ'' (عالمِ ملائکہ) کے فیضان تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔
کتاب "فیوض الحرمین" ان کے مکاشفات اور روحانی مشاہدات کا مجموعہ ہے، جس میں وہ فقہی مذاہب کو محض دلائل کی خشک بحث کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ ان کو عالمِ غیب اور انوارِ نبوت کے ساتھ ان کے تعلق کی بنیاد پر پرکھتے ہیں۔ جب وہ کسی مذہب کو حق فرماتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ مذہب شریعت کی اصل منشا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لائے ہوئے نور کا مظہر ہے۔ حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کے ہاں چاروں ائمہ برحق ہیں، لیکن ہر ایک کے ہاں حق کے ظہور کا رنگ اور پہلو مختلف ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے حق کی دو قسمیں یعنی ''جلی'' اور ''دقیق'' بیان فرمائی ہیں، جنہیں سمجھے بغیر ان کی عبارت سے کوئی بھی نتیجہ اخذ کرنا فکری ٹھوکر کا باعث بن سکتا ہے۔
معنیٰ جلی کی مراد اور ظاہری استنباط کا منہج
عبارت میں بیان کردہ ''معنیٰ جلی'' سے حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کی مراد احکام کی وہ ظاہری صورت ہے جو براہِ راست نصوص (قرآن و حدیث کے الفاظ) اور ان کے ظاہری روابط سے مستنبط ہوتی ہے۔
بعض فقہی مذاہب، جیسے فقہ شافعی یا اہلِ حدیث کا مسلک، اپنی بنیاد زیادہ تر احادیثِ آحاد کے ظاہری الفاظ، ان کی ظاہری دلالت اور سند کی صحت پر رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں استنباط کا طریقہ بظاہر سیدھا اور الفاظِ نص کے بالکل قریب ہوتا ہے۔ جب ایک عام قاری یا ظاہری علوم کا طالب علم ان مذاہب کے دلائل کو دیکھتا ہے، تو اسے حدیث کے الفاظ اور فقہی حکم کے درمیان ایک واضح، صریح اور ''جلی'' ربط نظر آتا ہے۔
حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کا یہ فرمانا کہ "جلی پہلو کے اعتبار سے بعض دیگر مذاہب کو فقہ حنفی پر ترجیح ہے"، دراصل اسی استنباطی منہج کی طرف اشارہ ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ فقہ حنفی کے پاس نصوص نہیں ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دیگر مذاہب کا نصوصِ ظاہریہ کے ساتھ ربط عوام اور ظاہر بیں علماء کو زیادہ آسانی سے اور جلدی سمجھ آجاتا ہے؛ کیونکہ وہ براہِ راست لفظی دلالت پر کھڑا ہوتا ہے۔
معنیٰ دقیق کی عظمت اور فقہ حنفی کی باطنی و مقاصدی قوت
اس کے برعکس ''معنیٰ دقیق'' سے حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کی مراد احکام کی وہ باطنی حقیقت ہے جو مقاصد و مصالحِ شریعت، علل، حکمتوں اور شریعت کے مزاجِ کلی سے ہم آہنگ ہو۔
یہ وہ پہلو ہے جہاں شریعت کے ظاہری احکام کا تعلق انسانی قلوب کی طہارت، ملاءِ اعلیٰ کے فیضان اور انوارِ نبوت کے ان گہرے اسرار سے جڑتا ہے جو عام نگاہوں سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رحمہ اللہ) کا منہجِ استنباط انتہائی گہرا اور دقیق ہے۔ وہ محض ایک ظاہری حدیثِ آحاد پر فتویٰ دینے کے بجائے، اس حدیث کو قرآنِ کریم کے عمومی اصولوں (کلیات)، دیگر احادیث کے مجموعی مزاج، اور تعاملِ امت کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ بسا اوقات ایک ظاہری نص کے مقابلے میں وہ شریعت کے کسی بڑے اصول یا قیاسِ جلی و استحسان کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ نص سے دور ہو گئے ہیں، لیکن درحقیقت وہ شریعت کی روح اور شارع (علیہ السلام) کی اصل منشا کے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کا یہ فرمانا کہ "دقیق پہلو کے اعتبار سے فقہ حنفی کو باقی فقہوں پر ترجیح ہے"، فقہ حنفی کے لیے ایک بہت بڑی اور عظیم الشان گواہی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب شریعت کے احکام کے باطنی اثرات، نورانیت اور اللہ کی رضا کے حصول کی بات آتی ہے، تو فقہ حنفی کے وضع کردہ اصول اور جزئیات عالمِ غیب کی حقیقتوں اور نورِ نبوت کے ساتھ سب سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں۔
اشکال کا ازالہ: فقہ حنفی کے دلائل کا مرجوح نہ ہونا
اب اس اشکال کی طرف آتے ہیں کہ کیا جلی میں ترجیح نہ ہونے کی وجہ سے فقہ حنفی دلائل کے اعتبار سے ''مرجوح'' ثابت ہوتی ہے؟ تو اس کا واضح جواب یہ ہے کہ یہ نتیجہ اخذ کرنا اصولِ فقہ اور حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کی مراد، دونوں کے خلاف ہے۔ ''دلائل کا مرجوح ہونا'' ایک الگ اصطلاح ہے جس کا مطلب دلیل کا کمزور یا باطل ہونا ہے، جبکہ حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) یہاں دلائل کے قوی یا ضعیف ہونے پر نہیں، بلکہ دلائل کے "جلی" (ظاہر) یا "دقیق" (باطن/اصولی) ہونے پر بحث کر رہے ہیں۔ فقہ حنفی کے دلائل قطعی طور پر راجح اور قوی ہیں، لیکن ان کی قوت کا راز الفاظ کی ظاہری سطح سے زیادہ اصولوں کی گہرائی، معانی کی وسعت اور مقاصد و مصالحِ شریعت کی پاسداری میں پنہاں ہے۔ اگر ایک فقہ کا حکم شریعت کی روح، ملاءِ اعلیٰ کی پسند اور نورِ نبوت کے دقیق اسرار کے بالکل مطابق ہے (جیسا کہ حضرت الاِمام رحمہ اللہ نے فقہ حنفی کے لیے تسلیم کیا ہے)، تو وہ دلائل کے اعتبار سے مرجوح کیسے ہو سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ فقہ حنفی کی ترجیحِ دقیق ہی اس کے دلائل کی اصل اور حتمی قوت کی دلیل ہے، کیونکہ جو استنباط بارگاہِ الٰہی اور حقیقتِ نفسِ الامر میں درست اور مقبول ہو، وہی درحقیقت راجح اور محکم ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ سوچ کہ فقہ حنفی مرجوح ہے، نصوص کی ظاہری سطح تک محدود رہنے کا نتیجہ ہے، جبکہ حضرت الاِمام (رحمہ اللہ) کی نگاہِ ولایت نے اس فہم کی تہہ میں اتر کر فقہ حنفی کی حقانیت اور اس کے بے پناہ روحانی و اصولی وزن پر مہرِ تصدیق ثبت کی ہے۔
صدقۂ جاریہ: علمی و دینی خدمات میں ہمارا ساتھ دیں!
اگر آپ کو ہماری یہ علمی و فکری تحریریں مفید محسوس ہوتی ہیں، تو اِن خدمات کے دائمی تسلسل اور بہتری کے لیے نیچے (یا سائیڈ میں، اگر آپ پی سی پر پڑھ رہے ہوں) دیے گئے QR Code یا UPI ID کے ذریعہ اپنی استطاعت کے مطابق ہمارا مالی تعاون فرمائیں۔ اس کے ساتھ ہی اِس پوسٹ کو اپنے احباب اور متعلقین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ شیئر کرکے اشاعتِ علم میں ہمارا دست و بازو بنیں، تاکہ یہ ہم سب کے لیے صدقۂ جاریہ اور نجات کا ذریعہ بن سکے۔


0 تبصرے