روزگار کی غرض سے بیوی بچوں سے ایک سال تک دور رہنا کیسا ہے؟

    ایک صاحب، جن کی عمر تقریباً 47 سال ہے، گزشتہ 10 سے 12 سالوں سے اپنے علاقے میں ہی مقیم ہیں اور اپنا کاروبار کررہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ تقریباً 13 سال تک ایک بیرونی ملک میں ملازمت کرچکے ہیں۔ موجودہ حالات میں کاروباروں میں شدید مندی ہے، جس کی وجہ سے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

    اِسی دوران، اُنھیں اُسی بیرونی ملک کی اسی پرانی کمپنی کی جانب سے دوبارہ ملازمت (Job Offer) کی پیشکش موصول ہوئی ہے۔ البتہ کمپنی کے قواعد کے مطابق، ملازم کو سال میں صرف ایک مرتبہ ہی وطن آنے کے سفری اخراجات دیے جاتے ہیں۔ اس شرط کی بناء پر، اگر وہ صاحب یہ ملازمت اختیار کرتے ہیں تو اُنھیں کم از کم ایک سال تک مسلسل اپنی بیوی اور بچوں سے دور رہنا پڑے گا۔

    دریافت طلب بات یہ ہے کہ: موجودہ معاشی تنگی اور جائز روزگار کے حصول کی مجبوری کے پیشِ نظر، کیا اُن صاحب کے لیے ایک سال تک مسلسل اپنی بیوی سے دور رہنے کی گنجائش ہے؟ نیز، اس سلسلے میں بیوی کی رضامندی یا عدم رضامندی کی کیا حیثیت ہوگی؟


ایک مسلمان شوہر اور بیوی، بیرون ملک ملازمت کے دوران ایک سال کی جدائی کے مسئلے پر شرعی رہنمائی طلب کر رہے ہیں۔
روزگار کی غرض سے بیرونِ ملک قیام کے لیے بیوی کی رضامندی اور گنجائش


کسبِ حلال کی اہمیت اور خاندانی کفالت کی ذمہ داری

     محنت و مشقت کے ذریعے رزقِ حلال کمانا اور اپنے اہل و عیال کی معاشی کفالت کرنا، ایک انتہائی پسندیدہ اور عظیم فریضہ ہے۔ اور جب کسی شخص پر خاندانی ذمہ داریاں عائد ہوں، تو اُسے چاہیے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کی بنیادی ضروریات اچھے طریقے سے پوری کرے۔

     موجودہ دور کے معاشی حالات اور کاروبار میں شدید مندی کے باعث اگر کسی شخص کے لیے اپنے علاقے میں رہ کر اخراجات پورے کرنا ناممکن یا انتہائی مشکل ہوجائے، تو اس کے لیے روزگار کی تلاش میں کسی دوسرے شہر یا بیرونی ملک کا سفر کرنا نہ صرف درست، بلکہ بعض اوقات ضرورت بن جاتا ہے۔

     سوال میں ذکر کردہ صورتِ حال میں بھی مذکورہ صاحب کا اپنے اہلِ خانہ کے معاشی تحفظ اور بہتر مستقبل کے لیے بیرونِ ملک ملازمت اختیار کرنے کا ارادہ ایک مستحسن قدم ہے، بشرطیکہ اس میں دیگر حدود اور حقوق العباد کی رعایت رکھی جائے۔

​بیوی کے حقوق اور مدتِ مفارقت

     جہاں شوہر پر بیوی کا نفقہ لازم ہے، وہیں بیوی کے دیگر جذباتی اور جسمانی حقوق (حقِ زوجیت) کی بھی بھرپور پاسداری اہم اور ضروری ہے۔

     شوہر کے لیے بلا شرعی عذر اپنی بیوی سے طویل عرصے تک دور رہنا منع ہے۔ اور اس باب میں خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کا وہ مشہور فیصلہ ایک بنیادی نظیر کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں انہوں نے امہات المومنین اور صحابیات سے مشورے کے بعد مجاہدین کے لیے گھر سے دور رہنے کی زیادہ سے زیادہ مدت چار ماہ مقرر فرمائی تھی۔ اسی بنیاد پر عام حالات میں کسی بھی شوہر کے لیے اپنی بیوی کی صریح اجازت اور رضامندی کے بغیر چار ماہ (یا بعض روایات کے مطابق چھ ماہ) سے زیادہ مدت تک گھر سے غائب رہنا درست نہیں ہے۔

     طویل دوری عورت کے لیے فتنہ اور نفسیاتی و جذباتی اذیت کا سبب بن سکتی ہے، اور اسلام کسی بھی حال میں ضرر (نقصان) پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔

​بیوی کی رضامندی کی حیثیت اور موجودہ معاملے کا حل

     مذکورہ بالا مدت کی پابندی اس صورت میں ہے جب بیوی شوہر کی دوری پر راضی نہ ہو۔ چونکہ حقِ زوجیت اور شوہر کا ساتھ بیوی کا اپنا ذاتی حق (حق العبد) ہے، اس لیے اسے یہ اختیار ہے کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے اس حق سے عارضی طور پر دستبردار ہو جائے۔

     لہٰذا، دریافت کی گئی صورت میں اگر مذکورہ صاحب کی بیوی اپنے شوہر کی مجبوری، خاندانی مفاد اور معاشی تنگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے خوش دلی اور سچے دل سے اس بات کی اجازت دے دے کہ وہ ایک سال تک بیرونِ ملک رہ کر ملازمت کرسکتے ہیں، تو اُن صاحب کے لیے ایک سال تک مسلسل اپنی بیوی سے دور رہنے کی گنجائش ہے اور اس میں، امید ہے کہ، گناہ نہیں ہوگا۔ البتہ یہ رضامندی جبر، دباؤ یا محض شرم و لحاظ کے بجائے مکمل دلی طمانیت پر مبنی ہونی چاہیے۔

     لیکن اگر بیوی دوری کے اس دکھ کو برداشت کرنے پر کسی صورت راضی نہ ہو اور اس کے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو، تو پھر شوہر کے لیے بیوی کو چھوڑ کر جانا درست نہیں ہوگا، الا یہ کہ وہ اسے بھی اپنے ہمراہ لے جانے کا انتظام کرے یا پھر اپنے ہی علاقے میں اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے کسی دوسرے حلال روزگار کی جدوجہد کرے۔

​حکمت اور باہمی افہام و تفہیم پر مبنی لائحۂ عمل

     ایک صاحبِ بصیرت اور دین دار مسلمان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اس نوعیت کے خاندانی فیصلوں میں یک طرفہ حکم چلانے کے بجائے باہمی مشورے کے انتہائی قیمتی اور مفید اصول پر عمل کرے۔ مذکورہ صاحب کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو اعتماد میں لیں، اسے موجودہ معاشی حقائق، بچوں کے مستقبل اور پرانی کمپنی کی شرائط سے پوری طرح آگاہ کریں، اور محبت و حکمت کے ساتھ اس کی رضامندی حاصل کریں۔

     موجودہ دور میں ذرائع ابلاغ (آڈیو، ویڈیو کالز وغیرہ) کی کارآمد سہولیات نے طویل مسافتوں کو سمیٹ دیا ہے، جس سے جسمانی دوری کے باوجود جذباتی اور ذہنی قربت برقرار رکھنا کافی حد تک ممکن ہو گیا ہے۔ اُن صاحب کو چاہیے کہ وہ اس بات کی یقین دہانی کرائیں کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں رہیں گے اور مقررہ ایک سال مکمل ہوتے ہی چھٹی پر اپنے گھر آئیں گے۔

     اس باہمی افہام و تفہیم، حسنِ سلوک اور بیوی کی دلی رضامندی کے ساتھ کیا جانے والا یہ سفر، اِن شاء اللہ، باعثِ برکت ہوگا اور اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہوگی۔


​🤝 خیر کے اِس سفر میں ہمارے دست و بازو بنیں!

     "اسلامی رہنمائی" کی ان علمی کاوشوں کو بلا تعطل جاری رکھنے اور مزید لوگوں تک پہنچانے کے لیے آپ کا مالی تعاون ہمارے لیے بےحد قیمتی ہے۔ آپ نیچے/ یا سائیڈ میں موجود QR Code یا UPI ID پر اپنا ہدیہ / عطیہ ارسال کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، اس پوسٹ کو اپنے حلقۂ احباب میں ضرور شیئر کریں تاکہ سب کا فائدہ ہو۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے