اللہ سے معافی کافی ہے یا بندے سے بھی؟

     کیا اللہ تعالیٰ کی مطلق قدرت میں یہ شامل ہے کہ وہ حقوق العباد کی معافی کے لیے مظلوم کے دل کو معاف کرنے پر آمادہ فرمادے؟ اور اگر ایسا ہے تو پھر صاحبِ حق (بندے) سے معافی مانگنے کے بجاے براہِ راست اللہ تعالیٰ ہی سے معافی مانگنا کیوں کافی نہیں ہوتا؟ نیز، اس معاملے میں بندے کی معافی کے لزوم سے کیا اللہ تعالیٰ کی صفتِ قدرت پر کوئی اشکال وارد ہوتا ہے؟


حقوق العباد صرف اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کا معاملہ نہیں؛ جہاں کسی بندے کا حق پامال ہوا ہو، وہاں حق کی ادائیگی، تلافی اور مناسب طور پر صاحبِ حق سے معافی بھی توبہ کا اہم تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کامل ہے، مگر اس کی حکمت، عدل اور شریعت کا نظام بھی کامل ہے۔


یہ سوال بظاہر قدرتِ الٰہی، حقوق العباد اور توبہ کے باہمی تعلق سے متعلق ہے، لیکن اس کے اندر ایک نہایت لطیف کلامی نکتہ پوشیدہ ہے: کسی کام کا اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دائرۂ امکان میں ہونا اور کسی خاص طریقے کو اللہ تعالیٰ کا شرعاً و حکمتاً اختیار فرمانا، یہ دو الگ امور ہیں۔ اس فرق کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو بظاہر ایک اشکال پیدا ہوتا ہے، حالاں کہ حقیقت میں اشکال باقی نہیں رہتا۔ مناسب بات یہ ہے کہ معاملے کو قدرت، حکمت، عدل اور شریعت ..... ان چاروں پہلوؤں سے یکجا کرکے دیکھا جائے۔

قدرتِ الٰہی کا مفہوم

     اللہ تعالیٰ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِير ہے؛ اس کی قدرت کامل، مطلق اور غیر محدود ہے۔ کائنات میں جو کچھ حقیقتاً ممکن ہے، اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے۔ اسی قدرت میں یہ بھی داخل ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی مظلوم کے دل میں ایسی کیفیت پیدا فرمادے کہ وہ اپنے حق سے خوش دلی کے ساتھ دست بردار ہوجائے، ظالم کو معاف کردے، بلکہ اس کے لیے خیر اور مغفرت کی دعا بھی کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ دلوں کا مالک ہے، دلوں کے احوال کو بدلنے پر قادر ہے، اور کسی بندے کے اندر عفو و درگزر کی رغبت پیدا فرمانا بھی اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے۔

     لیکن یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: "اللہ تعالیٰ کسی کام پر قادر ہے" اور "اللہ تعالیٰ ہر ممکن کام کو ہر حال میں ضرور کرے گا"، یہ دونوں ایک بات نہیں ہے۔ قدرت کا تعلق امکان سے ہے، جب کہ کسی فعل کا وقوع اللہ تعالیٰ کی حکمت، مشیت، عدل اور اس کے مقرر کردہ شرعی نظام کے مطابق ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ کسی شخص کو بغیر امتحان کے دنیا ہی میں ہر نعمت عطا فرمادے، مگر اس نے دنیا کو دارالامتحان بنایا ہے۔ اسی طرح وہ قادر ہے کہ کسی گناہ گار کو کسی واسطے کے بغیر بخش دے، لیکن اس نے بعض گناہوں کے معاملے میں مخصوص شرائط اور اسباب مقرر فرمائے ہیں۔ لہٰذا کسی شرعی حکم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے برخلاف کرنے سے عاجز ہے؛ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی حکمت اور شریعت کے مطابق اس معاملے کے لیے ایک خاص نظام مقرر فرمایا ہے۔

حقوق اللہ اور حقوق العباد میں بنیادی فرق

     حقوق العباد کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں معاملہ صرف بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان نہیں رہتا، بلکہ ایک مخلوق کے حق سے متعلق ہوجاتا ہے۔ اگر کسی شخص نے دوسرے کا مال چھین لیا، کسی کی عزت مجروح کی، کسی پر ظلم کیا، کسی کو جسمانی یا مالی نقصان پہنچایا یا کسی دوسرے کا کوئی شرعی حق دبایا، تو اس گناہ میں صرف اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا پہلو نہیں ہے، بلکہ ایک مظلوم انسان کے حق کی پامالی بھی شامل ہے۔

     اسی لیے توبہ کے باب میں حقوق العباد کے لیے محض زبان سے "یا اللہ! مجھے معاف فرما۔" کہنا ہر صورت میں کافی نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ، معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کی مغفرت محدود ہے یا اس کی قدرت میں کمی ہے، بلکہ وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود بندوں کے حقوق کو معتبر قرار دیا ہے۔ جس حق کو شریعت نے کسی بندے کا حق قرار دیا ہے، اسے محض اس وجہ سے ساقط نہیں کیا جاسکتا کہ مجرم نے اللہ تعالیٰ سے تنہائی میں معافی مانگ لی ہے۔

     یہ بات ایک مثال سے واضح ہوسکتی ہے۔ اگر ایک شخص دوسرے کا مال ناحق لے لے اور پھر سجدے میں جاکر اللہ تعالیٰ سے کہے: "اے اللہ! مجھے معاف فرما۔"، تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگنا یقیناً ضروری ہے؛ لیکن اس کے ساتھ ساتھ، جس شخص کا مال لیا گیا ہے، اس کا مال واپس کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر مال واپس نہ کیا جائے تو صرف استغفار سے مظلوم کا حق ختم نہیں ہوجاتا۔ اسی طرح اگر کسی کی عزت پامال کی گئی ہے تو جہاں شرعی و اخلاقی طور پر مناسب ہو وہاں تلافی اور معافی کا معاملہ بھی ضروری ہوگا۔ یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نفی نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظامِ حقوق کی پاسداری ہے۔

اگر اللہ تعالیٰ مظلوم کے دل کو خود معاف کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے تو پھر معافی مانگنے کی ضرورت کیوں؟

     یہاں سوال کا اصل نکتہ سامنے آتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ مظلوم کے دل کو معافی کی طرف مائل کرسکتا ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ ایسا کرسکتا ہے، اس لیے مجرم کو براہِ راست اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنا ہی کافی ہونا چاہیے، درست استدلال نہیں ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض نتیجے تک پہنچنے کا نہیں، بلکہ شرعی اسباب اختیار کرنے کا بھی مکلف بنایا ہے۔

     مثلاً اللہ تعالیٰ چاہے تو بیمار کو دوا کے بغیر بھی شفا دے سکتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بیمار کو دوا اختیار کرنے کا حکم ختم ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو بھوکے انسان کو بغیر کھانا کھائے سیر کردے، مگر اس سے کھانے کی ضرورت کا شرعی و عرفی نظام باطل نہیں ہوتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ چاہے تو کسی مظلوم کے دل میں معافی پیدا کردے، لیکن اس سے ظالم کے ذمے توبہ، حق کی ادائیگی اور حسبِ موقع صاحبِ حق سے معافی طلب کرنے کی ذمہ داری ساقط نہیں ہوتی۔

     درحقیقت یہاں ایک نہایت خوبصورت حکمت کارفرما ہے: جس شخص نے انسان کے حق کو پامال کیا ہے، اسی کو اپنے نفس کا بوجھ اٹھا کر اس انسان کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔ اگر ہر ظالم صرف اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ کر یہ سمجھ لے کہ مظلوم کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے، تو حقوق العباد کا پورا اخلاقی نظام بے معنی ہوجائے گا۔ شریعت ظالم کو صرف مغفرت کا امیدوار نہیں بناتی، بلکہ اسے اپنے ظلم کی تلافی کی طرف بھی لے جاتی ہے۔ اس میں مظلوم کے حق کی حفاظت بھی ہے اور ظالم کی اخلاقی تربیت بھی۔

کیا اللہ تعالیٰ خود مظلوم کو معاف کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا؟

     اللہ تعالیٰ یقیناً دلوں کے احوال بدلنے پر قادر ہے، لیکن یہاں "مجبور کردینا" اور "دل میں حقیقی عفو و رضا پیدا فرمادینا" کے درمیان فرق بھی ملحوظ رہنا چاہیے۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی مظلوم کے دل میں واقعی رضامندی اور عفو پیدا فرمادے تو یہ خود اسی کی قدرت کا مظہر ہوگا۔ مگر اس امکان سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر مظلوم کو لازماً معاف کرنے پر مجبور کیا جائے گا یا شریعت نے ظالم کو اس بنیاد پر صاحبِ حق سے معافی مانگنے سے مستثنیٰ کردیا ہے۔

     مزید یہ کہ، آخرت کا معاملہ صرف "حق ختم کردینے" کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ عدل کے قیام کا بھی معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اگر کسی مظلوم کے دل میں معافی ڈال دے تو اس میں بھی اس کی حکمت ہوسکتی ہے، اور اگر وہ مظلوم کو اس کا پورا حق عطا فرمائے اور ظالم سے اس کے ظلم کا حساب لے تو اس میں بھی اس کا کامل عدل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت دونوں صورتوں پر حاوی ہے، لیکن کون سی صورت کس شخص کے حق میں اور کس حکمت کے تحت واقع ہوگی، یہ اللہ تعالیٰ کے علم و عدل کے تابع ہے۔

     اسی لیے یہ سوال کہ "جب اللہ تعالیٰ مظلوم کو معاف کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے تو پھر بندے سے معافی کیوں مانگی جائے؟" دراصل قدرت اور حکم کو خلط ملط کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ قدرت یہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کیا کرسکتا ہے، جبکہ شریعت یہ بتاتی ہے کہ بندے کو کیا کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی چیز کا ممکن ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ بندے کو اس کے شرعی طریقۂ کار سے بے نیاز کردیا گیا ہے۔

کیا صاحبِ حق کی معافی اللہ تعالیٰ کی قدرت کو محدود کرتی ہے؟

     ہرگز نہیں۔ یہ اس معاملے کا سب سے اہم جواب ہے۔ اگر شریعت یہ کہتی ہے کہ بعض حقوق العباد کے معاملے میں صاحبِ حق کی رضامندی یا معافی ضروری ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ مجبور ہوگیا ہے کہ وہ کسی بندے کے فیصلے کا محتاج ہو۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس حق کو معتبر قرار دینے والا بھی خود اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

     فرض کریں، ایک بادشاہ خود یہ قانون مقرر کرے کہ فلاں معاملے میں کسی شخص کا حق اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک کہ وہ خود اسے معاف نہ کرے۔ اب اگر بادشاہ اپنے ہی مقرر کردہ قانون کی رعایت کرے تو کوئی عقل مند یہ نہیں کہے گا کہ بادشاہ اس شخص کا محتاج ہوگیا ہے یا اس کی قدرت محدود ہوگئی ہے۔ بلکہ یہ اس کے اختیار اور حکمت کی علامت ہوگی کہ اس نے خود ایک نظام قائم کیا اور پھر اسی نظام کے مطابق فیصلہ فرمایا۔

     اللہ تعالیٰ کے معاملے میں تو یہ مثال بھی محض تقریبِ فہم کے لیے ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی خارجی قانون کا پابند نہیں ہے؛ بلکہ قانون اور شریعت کا واضع بھی وہی ہے۔ لہٰذا جب وہ بندوں کے حقوق کو معتبر قرار دیتا ہے اور بندوں کو ایک دوسرے کے حقوق کا ذمہ دار بناتا ہے تو اس کا احترام کرنا اُس کی قدرت کی کمزوری نہیں ہے، بلکہ اُس کی حکمت، عدل اور تشریع کا تقاضا ہے۔

آخرت میں حقوق العباد کا معاملہ

     نبئ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حقوق العباد کی سنگینی کو نہایت مؤثر انداز میں واضح فرمایا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں "مفلس" شخص کا ذکر ہے: وہ قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکاۃ وغیرہ لے کر آئے گا، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی پر ظلم کیا ہوگا؛ چنانچہ اس کی نیکیاں مظلوموں کو دی جائیں گی، اور اگر نیکیاں ختم ہوگئیں تو مظلوموں کے گناہ اس پر ڈالے جائیں گے۔ [صحيح مسلم، حدیث نمبر: ٢٥٨١] 

     اس حدیث سے یہ حقیقت نہایت واضح ہوجاتی ہے کہ حقوق العباد محض ایک رسمی یا قانونی معاملہ نہیں ہے، بلکہ آخرت کی جواب دہی کا حقیقی معاملہ ہے۔ اسی لیے دنیا میں ہی حقوق کی ادائیگی یا صاحبِ حق سے معافی حاصل کرلینا انسان کے لیے نہایت اہم ہے۔ قیامت کے دن انسان کے پاس نہ مال واپس کرنے کا موقع ہوگا، نہ دنیا کی طرح تعلقات درست کرنے کا؛ وہاں معاملہ عدل کے ساتھ ہوگا۔

اگر صاحبِ حق معاف ہی نہ کرے تو؟

     یہاں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور قدرت کا دائرہ محدود نہیں ہوجاتا۔ ایک شخص اپنی استطاعت کے مطابق سچی توبہ کرے، حق واپس کرنے کی کوشش کرے، صاحبِ حق سے معافی طلب کرے، اگر مالی حق ہے تو اسے ادا کرے، اور جس صورت میں حق دار تک پہنچنا ممکن نہ ہو وہاں اہلِ علم کی بیان کردہ مناسب تدبیر اختیار کرے؛ پھر اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ، ندامت، کوشش اور حقیقی اصلاح کو خوب جانتا ہے۔

     بالخصوص اگر صاحبِ حق کو معافی کے لیے تلاش کرنا خود مزید فساد، فتنہ یا نقصان کا سبب بنے، یا کسی حق دار تک پہنچنا حقیقتاً ممکن نہ ہو، تو ہر معاملے میں یکساں طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ جزئیات میں صورتِ حال کے اعتبار سے تفصیل ہے۔ لیکن بنیادی اصول یہی ہے کہ انسان حق کو اپنے ذمے باقی رکھتے ہوئے محض زبانی استغفار کو کافی نہ سمجھے۔

     اور اگر بالآخر معاملہ آخرت تک پہنچ جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کے عدل و فضل کا میدان ہے۔ وہ مظلوم کے ساتھ بھی ظلم نہیں کرے گا اور تائب ظالم کی حقیقی توبہ اور اس کی کوشش کو بھی ضائع نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلے میں نہ کسی مظلوم کا حق ضائع ہوگا اور نہ کسی پر ذرہ برابر ظلم ہوگا: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ﴾ [سورۂ نساء، آیت نمبر: ٤٠]۔

اصل اشکال کا جامع جواب

     لہٰذا سوال کا جامع جواب یہ ہے کہ ہاں، اللہ تعالیٰ کی مطلق قدرت میں یہ شامل ہے کہ وہ مظلوم کے دل میں ایسی حقیقی رضامندی اور عفو پیدا فرما دے جس سے وہ صاحبِ حق کی حیثیت سے ظالم کو معاف کردے۔ لیکن اس امکان سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ظالم کو صاحبِ حق سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حقوق العباد کو ایک مستقل حق قرار دیا ہے اور بندے کو حکم دیا ہے کہ جہاں ممکن ہو حق ادا کرے، نقصان کی تلافی کرے اور صاحبِ حق سے معافی حاصل کرے۔ یہ شرعی حکم اللہ تعالیٰ کی قدرت پر کوئی قید نہیں ہے، بلکہ اسی کی قدرت و حکمت سے قائم کردہ نظام کا حصہ ہے۔

     اسی طرح صاحبِ حق کی معافی کو معتبر قرار دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کے اختیار کا پابند ہوگیا ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو مظلوم کے دل کو بدل سکتا ہے، اگر چاہے تو مظلوم کو اس کے حق کا پورا بدلہ عطا کرسکتا ہے، اور اگر چاہے تو اپنی حکمت و فضل سے تائب ظالم کے معاملے میں ایسا فیصلہ فرمائے جو اس کے کامل عدل اور وسیع رحمت کے عین مطابق ہو۔ قدرت کا کامل ہونا اس بات کا تقاضا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ممکن صورت کو اختیار کرے؛ بلکہ قدرت کا کمال یہ ہے کہ کوئی چیز اسے عاجز نہ کرسکے، جبکہ اس کے تمام افعال اس کے کامل علم، حکمت، عدل اور مشیت کے مطابق ہوں۔

خلاصہ

     اس پورے معاملے کو ایک جملے میں یوں سمجھا جاسکتا ہے: اللہ تعالیٰ مظلوم کے دل کو بدلنے پر قادر ہے، مگر اس نے ظالم کو اپنے ظلم کی تلافی سے مستثنیٰ نہیں کیا ہے؛ کیونکہ حقوق العباد کی ادائیگی خود اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظامِ عدل کا حصہ ہے۔ اگر وہ مظلوم کے دل میں معافی پیدا کردے تو یہ اس کا فضل ہے، اور اگر مظلوم اپنا حق طلب کرے تو یہ بھی اس کا عدل ہے۔ دونوں صورتیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دائرے میں ہیں؛ کسی ایک کو اختیار فرمانا اور دوسرے کو نہ اختیار فرمانا قدرت کی کمی نہیں ہے، بلکہ حکمت و مشیت کا معاملہ ہے۔

     بلکہ شاید اس معاملے کا سب سے حکیمانہ پہلو یہی ہے کہ اسلام انسان کو صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے رونے اور معافی مانگنے والا نہیں بناتا، بلکہ اسے انسانوں کے حقوق ادا کرنے والا، اپنے ظلم کی تلافی کرنے والا اور اپنے کیے ہوئے نقصان کی ذمہ داری قبول کرنے والا انسان بناتا ہے۔ یہی حقوق العباد کی روح ہے، یہی توبۂ نصوح کا تقاضا ہے، اور یہی اللہ تعالیٰ کے کامل عدل و رحمت کے نظام کی خوب صورتی ہے۔


علم کی اشاعت میں آپ بھی شریک ہوں! 

     اگر یہ تحریر آپ کے لیے مفید اور فکر انگیز ثابت ہوئی ہو تو اسے دوسروں تک ضرور پہنچائیں؛ ممکن ہے آپ کی ایک شیئر کسی کے ذہن میں پیدا ہونے والے ایک اہم سوال کا جواب بن جائے۔

     "اسلامی رہنمائی" کے علمی و اصلاحی کام کو جاری رکھنے میں اپنے حسبِ استطاعت مالی تعاون کے ذریعے بھی حصہ لیجیے۔ آپ کا تعاون علم کی اشاعت اور خیر کی ترویج میں ایک صدقۂ جاریہ بن سکتا ہے۔ نیچے/ سائیڈ میں QR CODE بھی ہے اور UPI ID کی سہولت بھی۔ جزاکم اللہ خیراً. 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے