(مسئلہ):
(رہنمائی):
مذکورہ صورتِ حال کا اگر فقہی اصولوں اور دیانت کے تقاضوں کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو بنیادی بات یہ سامنے آتی ہے کہ کمپنی مالک اور ملازم کے درمیان طے پانے والا یہ معاملہ شرعی طور پر قرض کا تھا۔ مالک کی طرف سے یہ پیشکش کہ کورس کی فیس فی الحال وہ ادا کرے گا، جسے بعد میں ملازم دوبارہ ملازمت جوائن کرنے پر اپنی تنخواہ سے قسطوں میں ادا کرتا رہے گا اور ملازم کی طرف سے اِس پیشکش پر ہامی بھرلینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ رقم نہ تو ہدیہ تھی اور نہ ہی کمپنی کا کوئی دفتری خرچہ، بلکہ یہ ایک قرضِ حسنہ تھا جو ملازم کے ذمہ واجب الادا تھا۔ اور یہ اصول مسلم ہے کہ مقروض (قرض لینے والا) جب رقم وصول کر لیتا ہے یا اس کے ایماء پر رقم خرچ کر دی جاتی ہے تو وہ رقم اس کی ملکیت اور ضمان میں آ جاتی ہے، چاہے اس سے اسے نفع ہو یا نقصان۔ لہٰذا اصولی طور پر ضائع ہونے والی رقم کا بوجھ ملازم ہی کے کندھوں پر آئے گا اور اس پر قرض کی واپسی لازم ہوگی۔
اس حکم کی فقہی وجہ یہ ہے کہ اس معاملے میں نقصان کا براہِ راست سبب ملازم کا اپنا عمل یعنی داخلہ لینا ہے۔ فقہ کا قاعدہ ہے کہ جب کسی کام میں مباشر (براہِ راست کرنے والا) اور متسبب (سبب بننے والا) جمع ہو جائیں تو ذمہ داری مباشر (براہِ راست کرنے والے) پر عائد ہوتی ہے۔ مالک نے محض مشورہ دیا اور مالی معاونت کی، لیکن کالج جا کر فارم بھرنا، قواعد و ضوابط پڑھنا اور فیس جمع کروانا ملازم کا اپنا فعل تھا۔ ایک عاقل اور بالغ انسان سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی معاہدے یا داخلے سے قبل اس کی بنیادی شرائط (جیسے کورس کا دورانیہ وغیرہ) کی تحقیق کرے۔ ملازم کی جانب سے تحقیق نہ کرنا بجا طور پر کوتاہی شمار ہوگا، اور اپنی کوتاہی کا تاوان انسان کو خود بھرنا پڑتا ہے۔ چونکہ مالک یہاں کورس بیچنے والا فریق نہیں تھا اور نہ ہی اس نے جان بوجھ کر دھوکہ دیا، اس لیے اس کی غلط فہمی اسے نقصان کا ضامن نہیں بناتی۔
اس مسئلے کے اگر باطنی اور حکیمانہ پہلو پر نظر ڈالی جائے تو شریعت انسان کو بیدار مغز اور ذمہ دار دیکھنا چاہتی ہے۔ اگر انسان اپنے فیصلوں اور غفلتوں کا بوجھ دوسروں پر ڈالنے لگے تو معاشرے میں سے احساسِ ذمہ داری ختم ہو جائے گا۔ اس واقعے میں قدرت کی طرف سے ایک تربیت کا بھی پہلو پوشیدہ ہے کہ انسان مالی معاملات اور معاہدوں میں تحقیق کی عادت ڈالے۔ نیز، مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے عہد کو ہر حال میں پورا کرتا ہے۔ جب ملازم نے مالک کی پیشکش پر ہامی بھرکر گویا رقم واپسی کا وعدہ کیا تھا، تو اب ناموافق حالات میں بھی اس وعدے کی پاسداری اس کے کردار کی بلندی کی ضامن ہوگی۔
البتہ، چونکہ اسلام عدل کے ساتھ ساتھ احسان کا بھی درس دیتا ہے اور فریقین میں دوستی کا رشتہ بھی ہے، اس لیے اخلاقی طور پر بہترین راستہ باہمی رضامندی سے صلح کا ہے، مالک کو چاہیے کہ اپنی لاعلمی اور دوست کی پریشانی کا لحاظ رکھتے ہوئے کچھ رقم معاف کر دے یا واپسی کی شرطوں میں انتہائی نرمی برتے، اور ملازم کو چاہیے کہ اپنی کوتاہی تسلیم کرتے ہوئے ادائیگی کی نیت رکھے۔ لیکن اگر بات صرف مسئلے کی حد تک رہے گی تو ذمہ داری ملازم پر عائد ہوگی۔
اور صلح کی ایک عمدہ شکل یہ ہوسکتی ہے کہ دونوں فریق بیٹھ کر کل ضائع شدہ رقم کا حساب لگائیں۔ پھر مالک اپنی دوستی اور غلط مشورے کی بنیاد پر کچھ رقم (مثلاً 25 یا 50 فیصد) معاف کرنے پر غور کرے اور ملازم اپنی تحقیق نہ کرنے کی ذمہ داری تسلیم کرتے ہوئے باقی رقم واپس کرنے کے لیے نئی اور آسان قسطیں طے کرے۔ پھر ایک تحریری معاہدہ (صلح نامہ) بنا لیں جس میں معاف شدہ رقم اور باقی ادائیگی کی شرائط درج ہوں۔ اور اگر بات نہ بن رہی ہو، تو دونوں کے لیے قابل احترام، دین دار اور فقہ سے واقف کسی تیسرے شخص کو ثالث بنا لیں جو ان کے درمیان صلح کروائے۔
ملازم کے لیے یہ سوچنا فائدہ مند ہوگا کہ اگرچہ حالات ناموافق ہوئے، لیکن اصل میں اس نے مالک سے قرض لیا تھا۔ اس قرض کو ادا کرنے کی نیت سے آگے بڑھنا اس کے اپنے ایمان اور کردار کے لیے بہتر ہے اور دوسری طرف مالک کے لیے بھی احسان اور درگزر کا مظاہرہ کرنا بہتر ہے۔ (واللہ اعلم)
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں