(مسئلہ):
ایک صاحب کا کہنا ہے کہ وہ تحصیل سے زمینی کاغذات نکلواتے ہیں جس پر انہیں ۲۲۰۰ روپے خرچ کرنا پڑتا ہے، ساتھ میں وقت اور محنت بھی صرف ہوتی ہے۔ پھر وہ ان کاغذات کی کاپی کرکے اپنے دو دوستوں کو دیتے ہیں جن کو اس کی ضرورت ہوتی ہے، اور ہر ایک سے ۲۰۰۰ روپے لیتے ہیں۔ وہ انہیں یہ نہیں بتاتے کہ اصل میں انہوں نے ۲۲۰۰ روپے ادا کیے ہیں، کیونکہ اگر وہ بتا دیں تو دونوں آدھی آدھی رقم دے کر کام نکلوا لیں گے اور ان کی محنت اور تیل خرچ کا کوئی معاوضہ نہیں دیں گے۔ حالانکہ اگر یہ دونوں خود جاکر کاغذات نکلوائیں تو ہر ایک کو ۲۲۰۰ روپے ہی دینے پڑیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا معاملہ شرعی اعتبار سے درست ہے؟
(رہنمائی):
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا ہے: "یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ" [سورۃ النساء: ۲۹] (ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ، سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارت ہو۔) اس آیت کریمہ سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ جب دونوں فریق راضی ہوں تو معاملہ جائز ہے۔ اور یہ بھی مسلم اصول ہے کہ جس نے کام کیا ہوتا ہے وہ اس کے بدلے میں ملنے والے معاوضے کا مستحق ہوتا ہے۔ آپ نے جو محنت، وقت، اور سفر کیا ہے، اس کا معاوضہ لینا بالکل جائز ہے۔ اسلامی فقہ میں "اجارہ" کا باب اسی اصول پر قائم ہے کہ جو شخص خدمت فراہم کرے، وہ اس کی اجرت کا مستحق ہے۔ تاہم یہاں ایک اہم شرط یہ ہے کہ آپ کو دھوکے سے بچنا ہوگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا" [مسلم شریف: ۱۴۶] (جس نے ہمیں دھوکا دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔) اگر آپ کے دوست یہ سمجھتے ہیں کہ ۲۰۰۰ روپے سرکاری فیس ہے، تو یہ غلط فہمی درست نہیں۔
اسلام میں صرف حلال و حرام کا فیصلہ ہی کافی نہیں بلکہ "احسن" یعنی بہترین طریقہ اختیار کرنا بھی مطلوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "وَقُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ" [سورۃ الاِسراء: ۵۳] (میرے بندوں سے کہہ دیں کہ وہ بہترین بات کہیں۔) لہٰذا آپ کے لیے بہتر یہ ہوگا کہ آپ پہلے سے واضح کر دیں کہ یہ آپ کی خدمات کی فیس ہے۔ مثلاً یوں کہیں کہ میں آپ کے لیے یہ کاغذات مہیا کرنے کی سروس فراہم کرتا ہوں، جس میں سرکاری فیس، کاپی، وقت، محنت اور سفر کا خرچہ شامل ہے، اس کی مجموعی فیس ۲۰۰۰ روپے ہے۔ اس طرح آپ کا معاملہ مکمل طور پر شفاف اور صاف ہوگا۔ اور جب آپ کا معاملہ صاف اور شفاف ہوگا تو اللہ تعالیٰ آپ کے رزق میں برکت عطا فرمائے گا۔ چھپ کر یا گول مول بات کرکے کمانے سے رزق میں برکت کم ہو جاتی ہے، چاہے وہ حلال ہی کیوں نہ ہو۔ اگر آپ کے دوست آپ سے پوچھیں کہ اصل لاگت کتنی ہے، تو آپ سچ بتانے کے پابند ہیں، جھوٹ بولنا یا چھپانا اس صورت میں ناجائز ہوگا۔ بہتر یہ ہے کہ آپ پہلے سے ہی بتا دیں کہ یہ آپ کی مکمل سروس کی فیس ہے، نہ کہ صرف سرکاری فیس۔ آپ اُنھیں اچھے انداز میں آسانی کے ساتھ یہ سمجھاسکتے ہیں کہ آپ کی یہ خدمت اُن کے لیے واقعی کتنی فائدہ مند ہے؛ کیونکہ اگر وہ خود جائیں تو انہیں فرداً فرداً۲۲۰۰ روپے دینے پڑیں گے، اِس کے علاوہ ان کا وقت اور محنت بھی لگے گی۔ آپ انہیں کم قیمت میں یہ سہولت فراہم کر رہے ہیں اور ساتھ میں اپنی محنت کا معاوضہ بھی لے رہے ہیں، جو بالکل منطقی اور جائز ہے۔
اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور آپ کا یہ کام ایک قسم کی خدماتی تجارت ہے۔ بس اس بات کا خیال رکھیں کہ معاملہ میں کوئی دھوکا نہ ہو اور سب کچھ کھلے اور واضح انداز میں ہو۔ اس طرح آپ کا رزق حلال اور پاک ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا فرمائے گا۔ (واللہ اعلم)
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں