نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

قرآنِ کریم کے بوسیدہ اوراق کو جلانے کے سلسلے میں رہنمائی

(سوال): کیا قرآنِ کریم کے بوسیدہ اوراق کو جلایا جاسکتا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم احترام اور تقدس کی علامت: قرآنِ کریم کا ایک قدیم اور پرنور نسخہ، جو کلامِ الہی کی عظمت کی یاد دلاتا ہے۔      قرآنِ کریم اللہ رب العزت کا کلام ہے اور اس کا احترام و تقدس شعائرِ اسلام میں سے ہے، جس کی پاسداری ہر صاحبِ ایمان پر لازم ہے۔ جب قرآنِ کریم کے اوراق قدیم ہونے کی وجہ سے بوسیدہ ہو جائیں یا تلاوت کے قابل نہ رہیں، تو ان کی بے ادبی سے بچنا اور انہیں اپنے پاس سے کسی موزوں اور محفوظ طریقے سے نکالنا ایک دینی ضرورت بن جاتا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پسندیدہ اور محتاط طریقہ یہ ہے کہ ان اوراق کو کسی پاک کپڑے یا تھیلی میں لپیٹ کر ایسی جگہ دفن کردیا جائے جہاں لوگوں کی آمد و رفت نہ ہو اور پامالی کا اندیشہ نہ رہے، بالکل اسی طرح جیسے ایک مومن کے جسدِ خاکی کو وفات کے بعد عزت و احترام کے ساتھ پیوندِ خاک کیا جاتا ہے تاکہ وہ مٹی میں مل کر مٹی ہو جائے اور اس کی حرمت برقرار رہے۔      جہاں تک بوسیدہ اوراق کو جلانے کا تعلق ہے، تو عام حالات میں تو اوراقِ قرآنی کو جلانا ناپسندیدہ ہے کی...

دوستوں سے اپنی ایک خدمت کا معاوضہ لینے کا مسئلہ اور رہنمائی


(مسئلہ):

    ایک صاحب کا کہنا ہے کہ وہ تحصیل سے زمینی کاغذات نکلواتے ہیں جس پر انہیں ۲۲۰۰ روپے خرچ کرنا پڑتا ہے، ساتھ میں وقت اور محنت بھی صرف ہوتی ہے۔ پھر وہ ان کاغذات کی کاپی کرکے اپنے دو دوستوں کو دیتے ہیں جن کو اس کی ضرورت ہوتی ہے، اور ہر ایک سے ۲۰۰۰ روپے لیتے ہیں۔ وہ انہیں یہ نہیں بتاتے کہ اصل میں انہوں نے ۲۲۰۰ روپے ادا کیے ہیں، کیونکہ اگر وہ بتا دیں تو دونوں آدھی آدھی رقم دے کر کام نکلوا لیں گے اور ان کی محنت اور تیل خرچ کا کوئی معاوضہ نہیں دیں گے۔ حالانکہ اگر یہ دونوں خود جاکر کاغذات نکلوائیں تو ہر ایک کو ۲۲۰۰ روپے ہی دینے پڑیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا معاملہ شرعی اعتبار سے درست ہے؟

(رہنمائی):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا ہے: "یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ" [سورۃ النساء: ۲۹] (ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ، سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارت ہو۔) اس آیت کریمہ سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ جب دونوں فریق راضی ہوں تو معاملہ جائز ہے۔ اور یہ بھی مسلم اصول ہے کہ جس نے کام کیا ہوتا ہے وہ اس کے بدلے میں ملنے والے معاوضے کا مستحق ہوتا ہے۔ آپ نے جو محنت، وقت، اور سفر کیا ہے، اس کا معاوضہ لینا بالکل جائز ہے۔ اسلامی فقہ میں "اجارہ" کا باب اسی اصول پر قائم ہے کہ جو شخص خدمت فراہم کرے، وہ اس کی اجرت کا مستحق ہے۔ تاہم یہاں ایک اہم شرط یہ ہے کہ آپ کو دھوکے سے بچنا ہوگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا" [مسلم شریف: ۱۴۶] (جس نے ہمیں دھوکا دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔) اگر آپ کے دوست یہ سمجھتے ہیں کہ ۲۰۰۰ روپے سرکاری فیس ہے، تو یہ غلط فہمی درست نہیں۔

    اسلام میں صرف حلال و حرام کا فیصلہ ہی کافی نہیں بلکہ "احسن" یعنی بہترین طریقہ اختیار کرنا بھی مطلوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "وَقُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ" [سورۃ الاِسراء: ۵۳] (میرے بندوں سے کہہ دیں کہ وہ بہترین بات کہیں۔) لہٰذا آپ کے لیے بہتر یہ ہوگا کہ آپ پہلے سے واضح کر دیں کہ یہ آپ کی خدمات کی فیس ہے۔ مثلاً یوں کہیں کہ میں آپ کے لیے یہ کاغذات مہیا کرنے کی سروس فراہم کرتا ہوں، جس میں سرکاری فیس، کاپی، وقت، محنت اور سفر کا خرچہ شامل ہے، اس کی مجموعی فیس ۲۰۰۰ روپے ہے۔ اس طرح آپ کا معاملہ مکمل طور پر شفاف اور صاف ہوگا۔ اور جب آپ کا معاملہ صاف اور شفاف ہوگا تو اللہ تعالیٰ آپ کے رزق میں برکت عطا فرمائے گا۔ چھپ کر یا گول مول بات کرکے کمانے سے رزق میں برکت کم ہو جاتی ہے، چاہے وہ حلال ہی کیوں نہ ہو۔ اگر آپ کے دوست آپ سے پوچھیں کہ اصل لاگت کتنی ہے، تو آپ سچ بتانے کے پابند ہیں، جھوٹ بولنا یا چھپانا اس صورت میں ناجائز ہوگا۔ بہتر یہ ہے کہ آپ پہلے سے ہی بتا دیں کہ یہ آپ کی مکمل سروس کی فیس ہے، نہ کہ صرف سرکاری فیس۔ آپ اُنھیں اچھے انداز میں آسانی کے ساتھ یہ سمجھاسکتے ہیں کہ آپ کی یہ خدمت اُن کے لیے واقعی کتنی فائدہ مند ہے؛ کیونکہ اگر وہ خود جائیں تو انہیں فرداً فرداً۲۲۰۰ روپے دینے پڑیں گے، اِس کے علاوہ ان کا وقت اور محنت بھی لگے گی۔ آپ انہیں کم قیمت میں یہ سہولت فراہم کر رہے ہیں اور ساتھ میں اپنی محنت کا معاوضہ بھی لے رہے ہیں، جو بالکل منطقی اور جائز ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور آپ کا یہ کام ایک قسم کی خدماتی تجارت ہے۔ بس اس بات کا خیال رکھیں کہ معاملہ میں کوئی دھوکا نہ ہو اور سب کچھ کھلے اور واضح انداز میں ہو۔ اس طرح آپ کا رزق حلال اور پاک ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا فرمائے گا۔ (واللہ اعلم)

============================================= =============================================
کچھ ضروری باتیں
  • یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
  • اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
  • آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
  • اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غسلِ احرام کے بعد اگر سِلے ہوئے کپڑے پہن لیے تو کیا غسل دوبارہ کرنا ہوگا؟

  (مسئلہ):      مجھے عمرے کے لیے احرام باندھنا تھا، اس کے لیے میں نے غسل بھی کر لیا تھا، لیکن چونکہ مغرب کی نماز کا وقت ہو چکا تھا، تو میں نے جلدی میں نارمل (سِلے ہوئے) کپڑے ہی پہن کر مغرب کی نماز ادا کر لی (کیوں کہ احرام کو اچھی طرح سیٹ کر کے باندھنے میں مجھے تھوڑا وقت لگتا ہے)۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا احرام باندھنے کے لیے مجھے دوبارہ غسل کرنا ہوگا یا وہی پہلے والا غسل کافی ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      اس معاملے میں آپ مکمل اطمینان رکھیں کہ مغرب سے پہلے کیا گیا آپ کا غسل شرعی طور پر بدستور کارآمد ہے اور احرام کی نیت کے لیے آپ پر دوبارہ غسل کرنا ہرگز لازم نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ احرام سے قبل غسل کرنا ایک مسنون عمل ہے جس کی حیثیت "شرط" کی نہیں بلکہ ایک مستحب تیاری کی ہے، جس کا منشاء جسمانی میل کچیل دور کرنا اور تازگی حاصل کرنا ہے، جسے فقہی اصطلاح میں "للنظافۃ" (صفائی کے لیے) کہا جاتا ہے نہ کہ "للطہارۃ" (پاکی حاصل کرنے کے لیے)۔ چونکہ آپ نے ابھی کچھ دیر قبل ہی غسل کیا تھا اور درمیان میں صرف مغرب کی نماز کا وقفہ آیا ہے جس میں آپ نے س...

انتقال کے بعد کھانے کی دعوت اور رسمی قرآن خوانی: ایک متوازن رہنمائی

(مسئلہ):      معاشرے میں ایک رواج جڑ پکڑ چکا ہے کہ کسی کے انتقال کے بعد اُس کے اہلِ خانہ ایصالِ ثواب کی نیت سے فوراً اگلے دن یا تیجہ وغیرہ کے موقع پر بڑے پیمانے پر کھانے کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں قریبی رشتہ دار اور دیگر متعلقین شریک ہوتے ہیں۔ شرعی نقطۂ نظر سے غم کے موقع پر سوگوار خاندان کی طرف سے اِس طرح کی دعوت کا کیا حکم ہے؟ نیز ایصالِ ثواب کی ایک دوسری رائج صورت یہ بھی ہے کہ مدارس کے طلبہ کو بلا کر اجتماعی قرآن خوانی کروائی جاتی ہے یا مدرسہ میں ہی ختمِ قرآن کروا کر اُن کی طعام و نقود سے تواضع کی جاتی ہے۔ کیا یہ طریقہ درست ہے اور کیا اِس طرح پڑھوانے سے میت کو ثواب پہنچتا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      شریعتِ مطہرہ نے خوشی اور غم، ہر موقع پر انسانی فطرت اور نفسیات کی رعایت رکھتے ہوئے احکام وضع کیے ہیں؛ تاکہ لوگ افراط و تفریط سے بچے رہیں۔      جہاں تک میت کے اہل خانہ کی جانب سے انتقال کے فوراً بعد یا اگلے دن یا تیجہ و چالیسواں کے نام پر برادری اور رشتہ داروں کے لیے کھانے کا اہتمام کرنے کا تعلق ہے، تو فقہائے کرام اور محدثین نے ...

مرحوم بےاولاد چچا کی وراثت کی تقسیم: بیوہ، بہن اور بھائیوں کے ساتھ بھتیجوں کی بھی موجودگی کی صورت میں

(مسئلہ):     ایک صاحب نے دریافت کیا ہے کہ  میرے دادا کا انتقال 1965ء میں ہوا، ان کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ بڑے بیٹے کا انتقال 2010ء میں ہوا جن کے تین بچے ہیں۔ سب سے چھوٹے چچا کا انتقال 2020ء میں ہوا اور ان کی بیوہ کا بھی حال ہی میں انتقال ہو گیا، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم لاولد چچا کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ کیا ان کے باقی ماندہ تین بھائیوں اور فوت شدہ بھائی کے بچوں (بھتیجوں) کے درمیان تقسیم ہوگی یا کوئی اور حکم ہے؟ (( [نوٹ]: یہ سوال واٹس ایپ کے ایک گروپ میں بذریعہ  ٹیکسٹ  موصول ہوا تھا، جسے قارئین کی سہولت کے لیے ضروری نوک پلک سنوارنے کے بعد معمولی لفظی تبدیلیوں کے ساتھ یہاں پیش کیا گیا ہے۔)) (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اللہ سے توفیق مانگتے ہوئے، اِس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ:     پوچھی گئی  صورت میں چوں کہ مرحوم چچا بے اولاد تھے، لہذا قرآنِ مجید کے حکم کے مطابق ان کی بیوہ کا حصہ کل جائیداد میں ایک چوتھائی (1/4) مقرر ہوگا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: " وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُ...