(مسئلہ):
(رہنمائی):
شریعتِ مطہرہ نے خوشی اور غم، ہر موقع پر انسانی فطرت اور نفسیات کی رعایت رکھتے ہوئے احکام وضع کیے ہیں؛ تاکہ لوگ افراط و تفریط سے بچے رہیں۔
جہاں تک میت کے اہل خانہ کی جانب سے انتقال کے فوراً بعد یا اگلے دن یا تیجہ و چالیسواں کے نام پر برادری اور رشتہ داروں کے لیے کھانے کا اہتمام کرنے کا تعلق ہے، تو فقہائے کرام اور محدثین نے اِسے مکروہ اور بدعت قرار دیا ہے۔ اس ممانعت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دعوت اور ضیافت درحقیقت خوشی اور مسرت کے مواقع کا خاصہ ہے، جبکہ موت غم اور انقباض کا موقع ہے۔ جب غم زدہ خاندان پر میت کی جدائی کا پہاڑ ٹوٹا ہو، اُس وقت اُن پر مہمانوں کی آؤ بھگت اور دیگیں پکانے کا بوجھ ڈال دینا نہ صرف اُن کی نفسیاتی کیفیت کے خلاف ہے بل کہ شریعت کے مزاجِ رحمت کے بھی منافی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ و سلم) کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ پڑوسی اور رشتہ دار میت کے گھر کھانا بھیجیں، جیسا کہ حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی شہادت کے موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) نے حکم دیا تھا [ترمذی: 998]؛ کیونکہ غم زدہ خاندان اپنی مصیبت میں مشغول ہوتا ہے۔ حضرت مفتی سعید احمد پالنپوری صاحب (رحمہ اللہ) نے [تحفۃ الاَلمعی، ج: 3، ص: 402 - 403] پر اِس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ:
"اِس حدیث کی بنا پر مستحب یہ ہے کہ جس گھر میں موت واقع ہو، اُس کے اقارب یا پڑوسی وہاں اِتنا کھانا پکاکر بھیجیں جو ایک رات دن کے لیے کافی ہو؛ تاکہ وہ اپنی مصیبت کے وقت کھانے کی فکر میں مبتلا نہ ہوں۔ ..... (پھر چند سطروں کے بعد لکھا ہے کہ:) اور لوگوں میں جو یہ رواج ہے کہ میت کے گھر والے اِس موقع پر رشتہ داروں اور تعزیت کے لیے آنے والوں کے لیے کھانے کا انتظام کرتے ہیں، یہ طعام المیت ہے جو ممنوع ہے۔ اِسی طرح چالیسویں اور بیسویں دن کا کھانا بھی طعام المیت ہے، جس کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں؛ اس لیے کہ دعوت خوشی کے موقع پر ہوتی ہے، غم کے موقع پر کوئی دعوت نہیں ہوتی۔ اور جو اقارب دوردراز سے آئے ہوں، اُن کو خود اپنے کھانے کا انتظام کرنا چاہیے، لیکن اگر مجبوری ہو اور اہلِ میت کے یہاں جو کھانا آیا ہے اُس میں گنجائش ہو تو اُس کو کھانے میں کوئی حرج نہیں۔"
اور ایک اور مقام [تحفۃ الاَلمعی، ج: 1، ص: 187] پر ایک دوسری حدیث پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
"دور سے آئے ہوئے مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنا طعام المیت نہیں۔ طعام المیت: یہ ہے کہ میت کی وجہ سے اہلِ محلہ اور برادری کی دعوت کی جائے۔ خواہ پہلے دن کی جائے یا تیسرے دن یا بیسویں چالیسویں دن۔ یہ ہندوانہ رسم ہے، شرعاً اِس کی اجازت نہیں۔ رہی یہ بات کہ دور سے آئے ہوئے مہمانوں کے لیے گھر والے یا اہلِ محلہ یا رشتہ دار کھانے کا انتظام کریں تو اِس کی گنجائش ہے۔ ..... (پھر ایک سطر کے بعد لکھا ہے کہ:) ہمارے ملکوں میں تو اس کی نوبت نہیں آتی اور اگر کسی بڑے آدمی کے جنازے میں لوگ دور دور سے آتے ہیں تو اِتنی بھیڑ جمع ہوجاتی ہے کہ اُن کے لیے کھانے کا انتظام کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ مگر یورپ میں چوں کہ میت فوراً دفن نہیں ہوتی؛ اس لیے رشتہ دار وغیرہ دور دور سے جنازہ میں شرکت کے لیے آتے ہیں اور وہاں ہوٹلوں کا اور حلال کھانوں کا بھی کوئی خاص نظم نہیں؛ اس لیے ایسی ضرورت کے وقت آنے والوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔"
صحابیِ رسول حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا واضح بیان ہے کہ عہدِ رسالت میں میت کے گھر مجمع لگانے اور وہاں کھانے تیار کرنے کو نوحہ کے مترادف سمجھا جاتا تھا [ابن ماجہ: 1612]، جو کہ شرعاً ممنوع ہے۔ نیز اگر ورثاء میں یتیم اور نابالغ بچے بھی شامل ہوں تو اُن کے مشترکہ مال سے یہ خیرات کرنا حرام ہے اور ایسا کھانا کھانے والے بھی گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔
اسی طرح ایصالِ ثواب کے لیے مدارس کے بچوں کو بلا کر یا مدرسے میں ختمِ قرآن کروا کر کھانے کا اہتمام کرنا، اگرچہ بظاہر نیک عمل معلوم ہوتا ہے، مگر فقہی اور اصولی اعتبار سے یہ عمل بھی محلِ نظر ہے۔ عبادات کا دار و مدار خلوص پر ہے اور عباداتِ محضہ (جیسے تلاوتِ قرآن) پر اجرت لینا یا دینا جائز نہیں ہے۔ ہمارے عرف میں اگرچہ کئی مرتبہ زبان سے اجرت طے نہیں کی جاتی، لیکن یہ بات معروف ہے کہ اگر کھانا یا نذرانہ نہ دیا جائے تو شاید یہ طلبہ یا قراء نہ آئیں یا آئندہ پڑھنے سے گریز کریں۔ فقہی قاعدہ ہے کہ "المعروف کالمشروط" یعنی جو چیز رواج میں طے شدہ ہو وہ شرط ہی کی طرح ہوتی ہے۔ لہٰذا جب تلاوت کھانے یا پیسوں کی لالچ میں یا رواج کے دباؤ میں کی گئی تو اس میں سے اخلاص کی روح نکل گئی، اور جب عمل میں اخلاص نہ ہو تو اُس پر ثواب مرتب نہیں ہوتا، اور جب پڑھنے والے کو ہی ثواب نہ ملا تو میت کو کیا ایصال کیا جائے گا؟ پھر یہ کہ مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب تو دراصل اُن تک پہنچایا جانے والا ایک تحفہ ہوتا ہے، اور تحفہ وہ دیا جاتا ہے جو انسان کے پاس موجود ہو، جو عمل دنیاوی غرض (کھانے وغیرہ) کے بدلے میں ضائع ہو گیا، وہ مرحومین کے لیے بھلا تحفہ کیسے بن سکتا ہے؟!
حکمت و دانشمندی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان رسموں کے خول سے نکل کر حقیقت کی طرف آئے۔ میت کو سب سے زیادہ فائدہ اُس دعا اور عمل سے پہنچتا ہے جو دردِ دل سے کیا جائے۔ مدرسے کے بچے یا اجنبی افراد محض الفاظ ادا کرتے ہیں، اُن کا میت سے قلبی تعلق نہیں ہوتا، جبکہ میت کی اپنی اولاد، بیوہ یا بھائی بہن، والدین اگر مثلاً وضو کر کے تنہائی میں دو رکعت نماز پڑھ کر یا سورہ یسین وغیرہ پڑھ کر دعا کریں گے تو اُس میں جو تڑپ اور آہ وزاری ہوگی، وہ عرش تک رسائی رکھتی ہے۔ ہمیں مقدار کے بجائے کیفیت پر توجہ دینی چاہیے!
لہٰذا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کھانے اور دعوتوں کے نام پر رقم ضائع کرنے کے بجائے وہ رقم خاموشی سے کسی بیوہ، یتیم یا کسی دینی مدرسے کے غریب طلبہ کو تعاون کی نیت سے دے دی جائے (اجرت کی نیت سے نہیں)، یہ صدقہ جاریہ بھی ہوگا اور اس کا ثواب یقینی طور پر میت کو پہنچے گا۔ پس، دکھاوے اور رسم و رواج کو ترک کر کے سادگی اور اخلاص والا راستہ اختیار کرنا ہی میت کے حق میں بہتر اور شریعت کا منشا ہے۔ (واللہ اعلم)
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!
ماشاء اللہ بہت خوشی ہوئی آپ کی تحریر سے ۔
جواب دیںحذف کریںمیں نے قرآن خوانی کے لیے بچوں کو منع کر دیا بہت پیار سمجھایا تب بھی کچھ لوگ ناراض ہو گئے مفتی صاحب ۔
لوگ رسم و رواج میں بہت زیادہ جکڑ گئے ہیں -
ابھی ایک ہفتہ پہلے میرے ایک پڑوسی دوست کے والد کا انتقال ہوا اگلے دن ہی انھوں نے والد صاحب نام پر قرآن خوانی کرائی اور دیگ کے دیگ بریانی بنائی گئی جس میں رشتہ داروں اور متعلقین نے سیر ہو کر کھایا ۔
اپنے دوست کو بہت سمجھایا کہ یہ سب مت کیجیے لیکن وہ سمجھنے کے بعد بھی معاشرے کی رسمی دباؤ میں اتنا جکڑ گئے تھے کہ وہ اس رسم کے خلاف نہ جا سکے.
جزاک اللہ۔
حذف کریںمعاشرے میں بہت کام کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع اور عملِ صالح کی توفیق عطا فرمائے۔