برِصغیر کے دینی مدارس کے نصاب میں آج بھی فارسی کیوں پڑھائی جاتی ہے؟

     برِصغیر کے بہت سے دینی مدارس میں آج بھی، خاص طور پر عالمیت کے ابتدائی چند سالوں میں، فارسی زبان پڑھائی جارہی ہے، ایسا کیوں ہے؟ یہ تو طلبہ کے وقت کو ضائع کرنا ہے؛ کیونکہ دورِ حاضر میں فارسی کی بہت سی کتابوں کا اردو وغیرہ میں ترجمہ ہوچکا ہے اور جن کا نہیں ہوا ہے ان کا بھی کچھ لوگ ترجمہ کر ہی لیں گے۔ آج خصوصاً برِصغیر میں فارسی زبان کون بولتا اور استعمال کرتا ہے؟!


ایک قدیم عمارت کے صحن میں سفید لباس پہنے طلبہ زمین پر بیٹھے رحل پر رکھی کتابیں پڑھ رہے ہیں۔
ایک مدرسی عمارت کے صحن میں نوجوان طلبہ کا مطالعہ


     یہ سوال بظاہر بہت سادہ اور موجودہ دور کے مادی اور عملی تقاضوں کے عین مطابق محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے حضرات کی طرف سے جن کا دینی علوم کی گہرائی اور اس کے تاریخی تسلسل سے براہِ راست تعلق نہ ہو۔ دورِ حاضر میں جب ہر چیز کی افادیت کو عام طور پر فوری استعمال اور معاشی یا سماجی ضرورت کے ترازو میں ہی تولا جاتا ہے، تو یہ سوال پیدا ہونا انتہائی فطری ہے کہ ایک ایسی زبان جو اب برِصغیر کے گلی کوچوں میں نہیں بولی جاتی، اسے یہاں کے مدارس کے طلبہ کیوں پڑھیں؟

     تاہم، ایک عالمِ دین کی تیاری کا مقصد محض روزمرہ کی بول چال یا فوری معاشی ضروریات کو پورا کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا بنیادی ہدف ایک ایسے محقق اور وارثِ علومِ انبیاء کو تیار کرنا ہوتا ہے جو اسلامی روایات، تاریخ، فقہ اور روحانیت کے خزانوں تک براہِ راست اور مستند رسائی رکھتا ہو۔

     مدارس کی تعلیم میں فارسی زبان کی شمولیت محض ایک قدیم روایت کی اندھی تقلید نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے انتہائی ٹھوس علمی، تاریخی اور لسانی مقاصد کارفرما ہیں جنہیں سمجھنا اس سوال کے اطمینان بخش جواب کے لیے ضروری ہے۔

برِصغیر کے عظیم الشان علمی اور تاریخی ورثے کا تحفظ

     برِصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں نے تقریباً آٹھ سو سال تک حکومت کی ہے اور اس طویل عرصے میں ریاست، عدالت، علم و ادب، اور تصنیف و تالیف وغیرہ کی واحد سرکاری اور علمی زبان فارسی ہی رہی ہے۔ اس خطے میں اسلام کی نشر و اشاعت، فقہی فتاویٰ کی تدوین، تفاسیرِ قرآن، احادیث کی شروحات اور تصوف کے عظیم ترین خزانے ..... خاصی تعداد میں فارسی زبان ہی میں تحریر کیے گئے ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، حضرت مجدد الف ثانیؒ، اور ان جیسے بے شمار عبقری علماء کی بہت سی تصانیف، خطوط اور فتاویٰ فارسی میں ہیں۔

     ایک عالمِ دین، جو اس خطے کے مسلمانوں کی مذہبی اور فکری رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کے لیے تیار ہو رہا ہو، اگر وہ اپنے ہی اسلاف کے اس عظیم علمی ورثے سے کٹ جائے گا تو اس کی علمی بنیاد انتہائی کمزور رہ جائے گی۔ مدارس میں فارسی پڑھانے کا مقصد طلبہ کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ برِصغیر کی اسلامی تاریخ اور اپنے اکابرین کے اصل افکار کو کسی واسطے کے بغیر براہِ راست پڑھ اور سمجھ سکیں؛ تاکہ ان کا رشتہ اپنے شاندار ماضی کی جاندار روایات سے بھی اچھی طرح استوار رہے۔

ترجمے کی محدودیت اور اصل مفہوم و چاشنی کا ضیاع

     سوال میں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ بہت سی کتابوں کے تراجم ہوچکے ہیں اور باقی کے بھی ہوجائیں گے، اس لیے اصل زبان سیکھنے کی کیا ضرورت ہے؟

     علمی دنیا میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ترجمہ کبھی بھی اصل متن کا مکمل نعم البدل نہیں ہوسکتا۔ ہر زبان کا اپنا ایک مزاج، ثقافتی پس منظر اور مخصوص اصطلاحات ہوتی ہیں جنہیں دوسری زبان میں بعینہٖ منتقل کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ خاص طور پر دینی علوم، تصوف اور روحانیات میں پائے جانے والے الفاظ کے جو باریک اَظلال و اَلوان اور فروق (shades) اور پھر اُن کے متنوع معانی کی جو گہرائی فارسی زبان میں موجود و ملحوظ ہے، وہ ترجمے میں اکثر ضائع ہو جاتی ہے۔ مولانا رومؒ کی مثنوی، شیخ سعدیؒ کی گلستان و بوستان، یا علامہ اقبالؒ کے فارسی کلام کو اردو یا کسی اور زبان کے ترجمے میں پڑھ کر وہ فکری اور روحانی کیفیت ہرگز حاصل نہیں کی جاسکتی جو اصل زبان میں پڑھنے سے ہوتی ہے۔

     ایک عام قاری کے لیے ترجمہ کافی ہوسکتا ہے، لیکن ایک ''عالم'' اور ''محقق'' کے لیے دوسروں کے تراجم پر انحصار کرنا علمی سطح پر ایک بہت بڑا نقص شمار ہوتا ہے؛ کیونکہ مترجم بعض اوقات اپنے فہم اور رجحانات کے مطابق ترجمہ کرتا ہے جس سے اصل مصنف کا مدعا بدل جانے کا اندیشہ رہتا ہے۔

اردو زبان اور عربی کی تفہیم میں فارسی کا کلیدی کردار

     برِصغیر کے دینی مدارس میں تعلیم کا بنیادی ذریعہ اور ذریعۂ اظہار اردو زبان ہے۔ اردو زبان اپنی ساخت، ذخیرۂ الفاظ، محاورات اور ادبی چاشنی کے اعتبار سے فارسی کی بے حد مرہونِ منت ہے۔ جس شخص کو فارسی زبان کی بنیادی گرامر، اس کے مصادر، سابقوں اور لاحقوں کا علم نہ ہو، وہ کبھی بھی اعلیٰ درجے کی معیاری اور علمی اردو نہ تو لکھ سکتا ہے اور نہ ہی سمجھ سکتا ہے۔

     مدارس کے طلبہ کو مستقبل میں خطابت، تصنیف و تالیف اور تدریس کے فرائض انجام دینے ہوتے ہیں، اور فارسی پڑھے بغیر ان کی اردو دانی ہمیشہ تشنہ رہتی ہے۔ مزید یہ کہ، برِصغیر میں عربی زبان، گرامر (صرف و نحو) اور منطق و فلسفے کی جو بنیادی کتابیں صدیوں سے رائج ہیں، ان میں سے بہت سی کتابوں کی شروحات اور حواشی فارسی زبان میں لکھے گئے ہیں۔ فارسی سیکھے بغیر طالبِ علم کے لیے ان عربی علوم کی گہرائیوں میں اترنا اور پرانی کتابوں کی اصطلاحات کو سمجھنا انتہائی دشوار ہوجاتا ہے۔ گویا فارسی زبان ان کے لیے عربی کے اعلیٰ علوم تک پہنچنے کا ایک اہم زینہ بھی ہے۔

فارسی زبان کے حوالے سے مدارس کی تعلیمی پالیسی میں ناگزیر تبدیلیوں کے لیے کچھ مفید تجاویز

     اگرچہ مدارس میں فارسی پڑھانے کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے، جیسا کہ ابھی اوپر واضح کیا گیا، لیکن اِسی کے ساتھ ساتھ موجودہ دور کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے فارسی زبان کے حوالے سے مدارس کی تعلیمی پالیسی اور تدریسی طریقوں میں چند اہم اور بنیادی تبدیلیاں لانا بھی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

     سب سے پہلی ضرورت اس بات کی ہے کہ فارسی کو ایک ''زندہ زبان'' (Living Language) کے طور پر جدید لسانی اصولوں کے مطابق پڑھایا جائے، نہ کہ محض رٹے اور قدیم طرز کی گردانوں تک محدود رکھا جائے۔ روایتی طور پر مدارس میں گلستان، بوستان یا پندنامہ جیسی قدیم ادبی کتابوں کے طویل اور مشکل اسباق پڑھانے پر بہت زیادہ وقت اور توانائیاں صرف کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے طلبہ سالوں تک فارسی پڑھنے کے باوجود عبارت فہمی میں کمزور رہتے ہیں۔ اس کی بجائے جدید اور آسان نصاب مرتب کیا جانا چاہیے جو طلبہ کو کم وقت میں اس قابل بنا دے کہ وہ فارسی عبارت کو روانی سے پڑھ سکیں اور اس کا مفہوم سمجھ سکیں۔

     دوسری اہم تجویز یہ ہے کہ فارسی کی تعلیم کو صرف ان مقاصد کے تابع کیا جائے جن کی ایک عالمِ دین کو واقعی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی، ہدف یہ ہونا چاہیے کہ طالبِ علم دینی اور تاریخی کتابوں کو پڑھ کر سمجھ سکے (Reading Comprehension)، اس پر زور دینے کی ضرورت نہیں کہ وہ فارسی میں شاعری کرے یا فصیح و بلیغ مقالے لکھے۔ اس مقصد کے لیے نصاب میں قدیم مشکل ضرب الامثال اور نامانوس لغات کے بجائے، شاہ ولی اللہؒ اور دیگر اکابر کی ان فارسی تحریروں کے اقتباسات وغیرہ شامل کیے جائیں جن کا تعلق براہِ راست دینی علوم سے ہو۔

     اس کے علاوہ، جدید تدریسی ٹیکنالوجی، سمعی و بصری وسائل (Audio Visual Aids)، اور زبان سکھانے کے جدید کورسز (جیسے کہ مختلف جامعات میں رائج ہیں) وغیرہ کی بھی مدد لی جاسکتی ہے؛ تاکہ جو کورس پہلے عالمیت کے ابتدائی کئی سالوں میں مکمل ہوتا تھا، وہ اب جدید طریقوں سے چھ مہینے، ایک سال یا زیادہ سے زیادہ دو سال کے کم عرصے میں کہیں بہتر اور مؤثر انداز میں مکمل ہوسکے۔ اس طرح طلبہ کا قیمتی وقت بھی بچے گا اور وہ فارسی سیکھ کر اپنے علمی ورثے سے جڑنے کا اصل اور عظیم مقصد بھی احسن طریقے سے حاصل کر سکیں گے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے