غسلِ احرام کے بعد اگر سِلے ہوئے کپڑے پہن لیے تو کیا غسل دوبارہ کرنا ہوگا؟

      مجھے عمرے کے لیے احرام باندھنا تھا، اس کے لیے میں نے غسل بھی کر لیا تھا، لیکن چونکہ مغرب کی نماز کا وقت ہو چکا تھا، تو میں نے جلدی میں نارمل (سِلے ہوئے) کپڑے ہی پہن کر مغرب کی نماز ادا کر لی (کیوں کہ احرام کو اچھی طرح سیٹ کر کے باندھنے میں مجھے تھوڑا وقت لگتا ہے)۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا احرام باندھنے کے لیے مجھے دوبارہ غسل کرنا ہوگا یا وہی پہلے والا غسل کافی ہے؟


ایک پرسکون شام کا منظر جہاں ایک شخص احرام باندھے کھڑا ہے۔ سامنے کعبہ شریف اور مسجد حرام کے مینار نظر آ رہے ہیں۔
غسلِ احرام کے بعد مغرب کی نماز کی ادائیگی اور عمرے کی تیاری۔

غسلِ احرام کی شرعی حیثیت اور موجودہ صورتحال

    اس معاملے میں آپ مکمل اطمینان رکھیں کہ مغرب سے پہلے کیا گیا آپ کا غسل شرعی طور پر بدستور کارآمد ہے اور احرام کی نیت کے لیے آپ پر دوبارہ غسل کرنا ہرگز لازم نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ احرام سے قبل غسل کرنا ایک مسنون عمل ہے جس کی حیثیت "شرط" کی نہیں بلکہ ایک مستحب تیاری کی ہے، جس کا منشاء جسمانی میل کچیل دور کرنا اور تازگی حاصل کرنا ہے، جسے فقہی اصطلاح میں "للنظافۃ" (صفائی کے لیے) کہا جاتا ہے نہ کہ "للطہارۃ" (پاکی حاصل کرنے کے لیے)۔ چونکہ آپ نے ابھی کچھ دیر قبل ہی غسل کیا تھا اور درمیان میں صرف مغرب کی نماز کا وقفہ آیا ہے جس میں آپ نے سِلے ہوئے کپڑے زیبِ تن رکھے، تو اس قلیل وقفے یا لباس کی تبدیلی سے آپ کے جسم کی وہ نظافت اور تازگی ختم نہیں ہوئی جو غسل کا اصل مقصود ہے۔

شریعت کا مزاجِ آسانی اور زائر کے لیے عمل کا طریقہ

    شریعتِ مطہرہ کا مزاج اپنے ماننے والوں کے لیے آسانی اور سہولت پیدا کرنا ہے، تنگی نہیں۔ فقہائے کرام نے احادیث کی روشنی میں یہی اصول اخذ کیا ہے کہ جب تک کوئی ایسا امر لاحق نہ ہو جائے جو جسمانی صفائی کو مکدر کر دے یا وضو توڑ دے، تب تک محض معمولی وقفے یا لباس بدل لینے سے اس غسل کی افادیت کالعدم نہیں ہوتی۔ لہٰذا آپ کسی بھی قسم کے وہم یا شک میں پڑے بغیر اپنے سِلے ہوئے کپڑے اتار کر احرام کی چادریں پہن لیں، اور اگر اس دوران وضو ٹوٹ گیا ہو تو صرف نیا وضو کر کے عمرے کی نیت کر لیں؛ ان شاء اللہ آپ کی غسل کی سنت ادا شدہ ہی شمار ہوگی۔

حکمِ شرعی کا باطنی و حکیمانہ پہلو

    اس مسئلے کے حکیمانہ پہلو پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح دنیاوی بادشاہوں کے دربار میں حاضری سے قبل انسان اپنے ظاہر کو سنوارتا اور صاف ستھرا کرتا ہے، اسی طرح اللہ کے گھر کی حاضری کے لیے غسل کرنا ایک علامتی اور باطنی تیاری کا مظہر ہے۔ یہ عمل بندے کے اس جذبے کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ دنیا کی تمام آلائشوں سے پاک ہو کر اپنے رب کے حضور پیش ہو رہا ہے۔ تاہم دینِ اسلام چونکہ دینِ فطرت ہے، اس لیے وہ ظاہری تکلفات میں ڈال کر بندے کو مشقت میں مبتلا نہیں کرتا۔ چونکہ غسل کے ذریعے صفائی کا اصل مقصد حاصل ہو چکا ہے، لہٰذا محض لباس کی مجبوری کی بنا پر دوبارہ غسل کا حکم نہ دینا اس عظیم اصول "المشقۃ تجلب التیسیر" (مشقت آسانی کو لاتی ہے) کا عملی ثبوت ہے، تاکہ زائرِ حرم سکونِ قلب کے ساتھ اپنی عبادت کی طرف متوجہ ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے سفر کو آسان فرمائے اور آپ کی حاضری کو شرفِ قبولیت بخشے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے

  1. ماشاء اللہ مفتی صاحب
    بہت خوشی ہوئی
    آپ کی تحریروں میں علمی و حکمی نکتے ملتے رہتے ہیں جس سے بڑا فائدہ ہوتا ہے ۔
    اللہ تعالیٰ آپ افادے کو خوب خوب عام فرمائے۔
    آمین.

    جواب دیںحذف کریں