کیا سنار کی یہ مخصوص کمیٹی درست ہے؟

     ہمارے علاقے میں ایک سنار کے پاس کمیٹی کا ایک مخصوص طریقہ چل رہا ہے جس کے بارے میں دریافت کرنا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ 20 افراد مل کر ایک کمیٹی شروع کرتے ہیں جس میں ماہانہ قرعہ اندازی کے ذریعے جس ممبر کا نام نکل آتا ہے، سنار اسے 20 ہزار روپے مالیت کا زیور بنا کر دے دیتا ہے، لیکن اس کمیٹی کی منفرد شرط یہ ہے کہ انعام نکلنے کے بعد وہ ممبر مزید قسطیں ادا نہیں کرتا اور اس کا نام کمیٹی سے خارج کر دیا جاتا ہے۔
     مثال کے طور پر اگر کسی کا نام تیسرے مہینے نکل آیا تو اس نے کل 3 ہزار جمع کروائے اور بدلے میں اسے 20 ہزار کا زیور مل گیا اور باقی قسطیں معاف ہو گئیں، جبکہ جس کا نام آخر میں نکلا اسے پوری رقم جمع کروانی پڑتی ہے۔
     اگرچہ بظاہر اس میں سنار اپنی جیب سے رقم ملا کر نقصان برداشت کرتا ہے، لیکن پوچھنا یہ ہے کہ ایسی کمیٹی ڈالنا جس میں کم پیسے دے کر زیادہ مال ملنے کا دارومدار محض قسمت اور قرعہ اندازی پر ہو اور جس میں انعام نکلنے کے بعد باقی قسطیں معاف ہو جاتی ہوں، درست ہے یا نہیں؟

یہ تصویر ایک سنار کی دکان کا اندرونی منظر دکھاتی ہے۔ بائیں طرف ایک فریم شدہ بورڈ ہے جس پر نیلے رنگ کے پس منظر میں سفید جمیل نوری نستعلیق فونٹ میں یہ اردو عبارت لکھی ہے: 'ایسی اسکیمیں معاشرے میں شارٹ کٹ اور لالچ کی نفسیات پیدا کرتی ہیں۔' دکان میں پیچھے ایک سنار اپنی میز پر ہتھوڑے سے زیور بنا رہا ہے۔ اس کا چہرہ واضح نہیں ہے۔ دکان کے کاؤنٹر میں زیورات کے ڈبے رکھے ہوئے ہیں، اور کاؤنٹر پر ایک روایتی ترازو بھی ہے۔ ایک اور شخص، جس نے پگڑی پہنی ہے، کاؤنٹر کے دوسری طرف سے سنار کو دیکھ رہا ہے۔ دکان کی دیوار پر بھی کچھ زیورات فریم میں لگے ہوئے ہیں۔ منظر پرسکون اور روایتی ہے۔
ایک سنار کی دکان، جہاں سامنے اردو خطاطی کا بورڈ لالچ اور شارٹ کٹ کی نفسیات کے خلاف ایک اخلاقی سبق دے رہا ہے۔ ایک گاہک دکان دار سے بات کر رہا ہے۔

سنار کی کمیٹی کی حیثیت 

    آپ نے سنار کے پاس چلنے والی جس "کمیٹی" کی صورتِ حال بیان کی ہے، وہ درست نہیں ہے، اور اس معاملے کو "کمیٹی" کا نام دینے کے باوجود اس کی حقیقت جوئے کی ہے۔

مروجہ کمیٹی اور اس اسکیم میں بنیادی فرق

مروجہ کمیٹی کی اجازت دراصل اس بنیاد پر ہوتی ہے کہ وہ "باہمی تعاون" اور "قرض" کا ایک نظام ہوتا ہے، جس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر ممبر آخر تک برابر رقم جمع کرواتا ہے اور سب کو برابر رقم واپس ملتی ہے، یعنی سب کا لینا اور دینا برابر رہتا ہے۔ لیکن سوال میں ذکر کردہ صورت میں یہ شرط لگانا کہ "جس کا نام نکل آئے گا اس کی باقی قسطیں معاف ہو جائیں گی اور وہ مزید رقم نہیں دے گا"، اس پورے معاملے کو قرض اور تعاون کے دائرے سے نکال کر خالص جوئے میں داخل کر دیتا ہے۔

ممانعت کی وجہ جوا اور دھوکہ

    اس کی ممانعت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس میں شدید دھوکہ اور غیر یقینی کیفیت پائی جارہی ہے۔ اس اسکیم میں شامل ہونے والا کوئی بھی ممبر یہ نہیں جانتا کہ جو زیور اسے ملے گا، اس کے لیے اسے کتنی قیمت ادا کرنی پڑے گی؟ آیا وہ صرف پہلی قسط دے کر ہی زیور کا مالک بن جائے گا یا اسے آخر تک پوری رقم بھرنی پڑے گی؟ جب کسی معاملے میں نفع یا نقصان کا دار و مدار کسی غیر یقینی واقعے (جیسے قرعہ اندازی) اور محض قسمت پر ہو، اور آدمی تھوڑے پیسے دے کر زیادہ مال حاصل کرنے کی لالچ میں اس امید پر شامل ہو کہ شاید اس کی باری جلدی آجائے، تو یہی وہ کیفیت ہے جسے قرآنِ کریم نے "میسر" اور "قمار" کہہ کر حرام قرار دیا ہے۔ یہاں ایک شخص کم پیسے دے کر زیادہ مال لے رہا ہے اور دوسرا پوری رقم ادا کر رہا ہے، اور اس تفریق کی بنیاد صرف "اتفاق" ہے۔

باہمی رضامندی اور سنار کے نقصان کی حقیقت

    جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ سنار اپنی خوشی سے نقصان برداشت کرنے کو تیار ہے، تو یاد رکھیے کہ فریقین کی باہمی رضامندی کسی ایسے معاملے کو حلال نہیں کر سکتی جو اپنی ذات میں حرام ہو۔ جس طرح سود لینے اور دینے والے کی رضامندی سود کو حلال نہیں کرتی، اسی طرح جوئے کی شرط پر رضامندی بھی اسے جائز نہیں بناتی۔ یہ معاملہ دراصل گناہ اور ناجائز کام پر تعاون کے زمرے میں آتا ہے۔

ممانعت کا حکیمانہ اور اخلاقی پہلو

    اس ممانعت کا حکیمانہ پہلو یہ ہے کہ اسلام معیشت میں شفافیت اور محنت کو فروغ دیتا ہے اور ایسی امیدوں اور آرزوؤں پر مبنی کمائی سے روکتا ہے جو محنت کے بجائے محض "چانس" یا قسمت پر مبنی ہوں۔ ایسی اسکیمیں معاشرے میں شارٹ کٹ اور لالچ کی نفسیات پیدا کرتی ہیں، جہاں انسان یقینی محنت اور شفاف لین دین کے بجائے اس تاک میں رہتا ہے کہ کب قسمت کی دیوی مہربان ہو اور اسے کم لاگت میں زیادہ مال مل جائے۔ یہ سوچ انسان کی خودداری اور محنت کی عظمت کے خلاف ہے۔

رہنمائی اور متبادل 

اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایسی مشکوک اور قمار پر مبنی اسکیموں سے مکمل اجتناب برتیں اور صرف وہی کمیٹی اختیار کریں جو قرض کے اصول پر مبنی ہو، جس میں سب کا نفع نقصان اور لین دین برابری کی سطح پر ہو؛ تاکہ کسی کا حق نہ مارا جائے اور معاملہ سود یا جوئے سے پاک رہے۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے