بغیر وصیت کے مرحومہ کی طرف سے حجِ بدل، اور نیابت کے معاملے میں نماز و حج کا فرق | ایک اہم فقہی مسئلہ
(مسئلہ):
اس تناظر میں میرے دو سوالات ہیں:
سوال نمبر ۱: کیا مذکورہ صورت میں ورثاء پر لازم ہے کہ وہ مرحومہ کی طرف سے حجِ بدل کروائیں؟ اور اگر ورثاء اپنی خوشی سے بغیر وصیت کے حجِ بدل کروا دیں، تو کیا مرحومہ کے ذمہ سے حج کی فرضیت ساقط ہو جائے گی؟
سوال نمبر ۲: شریعت کا یہ اصول سمجھا دیجیے کہ "نماز" کا کوئی بدل (فدیہ یا قضا کے علاوہ نیابت) نہیں ہے، یعنی کوئی دوسرا شخص کسی کی طرف سے نماز نہیں پڑھ سکتا، تو پھر "حج" میں نیابت (حجِ بدل) کی گنجائش کیوں رکھی گئی ہے؟ ان دونوں عبادات کے احکام میں اس فرق کی کیا حکمت ہے؟
(رہنمائی):
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اگر مرحومہ پر حج فرض ہو چکا تھا اور وہ اسے ادا کیے بغیر انتقال کر گئیں، اور انہوں نے اس بابت کوئی وصیت بھی نہیں چھوڑی تھی، تو اب ورثاء پر یہ لازم نہیں کہ وہ مرحومہ کے ترکے (چھوڑے ہوئے مال) سے حجِ بدل کروائیں۔ چونکہ وصیت موجود نہیں، اس لیے ورثاء کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ، اخلاقی اور جذباتی طور پر یہ ایک بہترین عمل ہے کہ اگر ورثاء اپنی خوشی اور رضامندی سے (بطورِ احسان) ان کی طرف سے حج کروا دیں یا خود کر لیں، تو امید کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما کر مرحومہ کو اس فرض سے بری الذمہ کر دیں گے۔ خاص طور پر چونکہ ان کی موت اچانک حادثے میں ہوئی، اس لیے ورثاء کی طرف سے یہ عمل ان کے لیے بہت بڑے ایصالِ ثواب اور رحمت کا باعث بنے گا۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ نماز کا بدل کیوں نہیں اور حج کا کیوں ہے، تو اس کی بنیاد شریعت میں عبادت کی اقسام پر ہے۔ دراصل نماز ایک "خالص بدنی عبادت" ہے جس کا مقصد بندے کا اپنے رب کے سامنے ذاتی طور پر جسم کو جھکانا اور نفس کو تابع کرنا ہے، اس لیے ایک انسان کا جسم دوسرے انسان کے جسم کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ نماز میں نیابت یا کسی اور سے پڑھوانے کا تصور نہیں ہے۔ اس کے برعکس حج ایک "مرکب عبادت" ہے، یعنی اس میں جسمانی مشقت کے ساتھ ساتھ "مال" کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے۔ چونکہ اس میں مالی پہلو شامل ہے (جیسے سفر اور اخراجات)، اس لیے شریعت نے مجبوری، معذوری یا موت کی حالت میں اس کے مالی حصے کو مدنظر رکھتے ہوئے نیابت (حجِ بدل) کی اجازت دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی احادیث میں اس بات کی توثیق فرمائی ہے کہ جو لوگ خود حج کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں یا دنیا سے جا چکے ہوں، ان کی طرف سے حج ادا کیا جا سکتا ہے۔ (واللہ اعلم)
============================================= =============================================
(کچھ ضروری باتیں)
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں