نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تلاوتِ قرآن میں اچانک دشواری اور زبان کا رکنے کا معاملہ اور رہنمائی

(سوال):       ہماری والدہ ایک مسئلہ کو لیکر نہایت پریشان ہیں۔ وہ یہ کہ وہ بحمد اللہ قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں اور روزانہ تلاوت کا معمول بھی ہے، مگر اس رمضان میں یہ محسوس کررہی ہیں کہ وہ قرآن پڑھتی ہیں، مگر ایک ایک لفظ کئی کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کے باوجود زبان پر نہیں چڑھ پارہا ہے اور پہلے، پون گھنٹے میں یا ایک گھنٹے میں ایک پارہ پڑھ لیتی تھیں، مگر اب دو ڈھائی گھنٹے میں بھی نہیں پڑھا جارہا ہے۔ نیز پہلے جو معمولات تھے ان کے پڑھنے میں بھی زبان نہیں پلٹ پارہی ہے۔ تو اس کا کیا ریزن ہوسکتا ہے؟ اس کا کوئی حل یا دعا ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔ اور ایک چیز یہ بھی ہے کہ عام گفتگو میں الحمد للّٰہ کوئی دشواری نہیں ہے۔   (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک نقشین رحل پر کُھلا ہوا قرآنِ مجید، جو کھڑکی سے آتی سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا ہے۔ پاس رکھی تسبیح اور عینک تلاوت اور ذکر کے پرسکون ماحول کی عکاسی کر رہے ہیں۔      یہ پڑھ کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی؛ ایک طرف ایک اللہ والی بندی کا کلامِ الہی سے عشق ہے کہ معمول چھوٹنے پر تڑپ رہی ہیں، اور دوسری طرف عمر ک...

بچوں کی شرارت کی بنا پر ابتدائی حمل کی صورت میں اسقاطِ حمل کا مسئلہ اور رہنمائی


(مسئلہ):

     ایک خاتون جن کے پہلے سے تین بچے (ایک لڑکا اور دو لڑکیاں) موجود ہیں، جو اپنی فطرت میں کافی ضدی اور شرارتی ہیں، جس کی وجہ سے والدہ شدید ذہنی دباؤ اور تھکن کا شکار رہتی ہیں۔ حال ہی میں طبی رپورٹ (Pregnancy Test) کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ وہ دوبارہ حاملہ ہو گئی ہیں اور رپورٹ کے مطابق یہ حمل بالکل ابتدائی مراحل (Early Stage) میں ہے، حتیٰ کہ طبی گنتی کے لحاظ سے ابھی ایک ہفتہ بھی مکمل نہیں معلوم ہوتا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا بچوں کی تربیت میں دشواری، ان کی شرارتوں سے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ اور حمل کے بالکل ابتدائی مرحلے میں ہونے کی بنیاد پر اسے گرانا شرعاً جائز ہے؟ نیز، طبی رپورٹ میں "ایک ہفتہ" دکھائے جانے کی شرعی و طبی حقیقت کیا ہے؟

(رہنمائی):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
     اسلامی شریعت میں انسانی جان کا احترام اور اس کا تحفظ بنیادی مقاصد میں سے ہے، اور یہ تحفظ اسی لمحے سے شروع ہو جاتا ہے جب استقرارِ حمل ہو جائے۔ جہاں تک حمل گرانے کا تعلق ہے، تو یہ ایک انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے اور عام حالات میں اسے قتلِ نفس کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ حمل کے مختلف مراحل (مثلاً روح پھونکے جانے سے پہلے یعنی 120 دن سے قبل) کے حوالے سے فقہی ابحاث موجود ہیں، لیکن کسی بھی مرحلے پر حمل کو ضائع کرنا صرف اسی صورت میں جائز ہو سکتا ہے جب کوئی عذرِ شرعی موجود ہو۔ عذرِ شرعی سے مراد ایسی صورتحال ہے جہاں ماں کی جان کو قطعی خطرہ ہو، یا وہ کسی ایسی شدید بیماری میں مبتلا ہو کہ حمل کی وجہ سے اس کی صحت ناقابلِ تلافی حد تک بگڑنے کا اندیشہ ہو۔
​     آپ کے سوال میں مذکور وجہ، یعنی بچوں کا ضدی یا شرارتی ہونا، اگرچہ والدین کے لیے ایک بڑی آزمائش اور تھکن کا سبب ہے، لیکن شرعی نقطہ نظر سے اسے حمل ضائع کرنے کے لیے عذر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ قرآنِ کریم نے اولاد کو اللہ کی نعمت اور آزمائش دونوں قرار دیا ہے، اور ان کی تربیت پر صبر کرنا عظیم اجر کا باعث ہے۔ محض تربیت کی سختی یا بچوں کی شرارتوں کے خوف سے ایک بننے والی جان کو ختم کرنا توکل کے خلاف اور رزق و رحمتِ الٰہی سے مایوسی کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں جان پیدا کی ہے، وہاں اس کی پرورش کے اسباب بھی رکھے ہیں۔ لہٰذا، اس بنیاد پر حمل گرانا شرعاً ناجائز اور گناہ کا باعث ہوگا۔
Human developmental stages (week by week)
جنین کی تخلیق میں اُس کے ہفتہ وار نشو و نما کے مراحل


Stages of human embryo development from week 1 to week 12 medical illustration, for educational blog
تخلیقِ انسانی کے ابتدائی مراحل: ایک خلیے سے مکمل جنین تک کا ہفتہ وار طبی مشاہدہ

     طبی نقطۂ نظر سے ایک اہم وضاحت یہ ہے کہ حمل کی رپورٹ میں جو "ہفتے" (Weeks) بتائے جاتے ہیں، وہ عام طور پر آخری ایامِ ماہواری (LMP) سے گنے جاتے ہیں۔ طبی طور پر جب ٹیسٹ میں حمل ظاہر ہو جائے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ استقرارِ حمل کو کم از کم دو سے تین ہفتے ہو چکے ہیں؛ کیونکہ بیضہ بننے اور اس کے استقرار میں وقت لگتا ہے۔ "ایک ہفتہ" یا "Early" کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہاں کوئی زندگی موجود نہیں ہے، بلکہ تخلیق کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ایسی صورت میں محض ذہنی بوجھ کی وجہ سے اس عمل کو روکنا فطرتِ انسانی اور شرعی ضوابط کے منافی ہے۔ خاتون کو چاہیے کہ وہ اللہ پر بھروسہ کریں، اپنی صحت کا خیال رکھیں اور بچوں کی تربیت کے لیے عملی تدابیر (مثلاً گھر والوں سے مدد لینا یا تربیت کے طریقے بدلنا) اختیار کریں، بجائے اس کے کہ وہ ایک ایسی نیکی (اولاد) سے محروم ہونے کا سوچیں جو مستقبل میں ان کے لیے سہارا اور صدقۂ جاریہ بن سکتی ہے۔
​(واللہ اعلم بالصواب)

============================================= =============================================
(کچھ ضروری باتیں)
  • یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
  • اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
  • آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
  • اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غسلِ احرام کے بعد اگر سِلے ہوئے کپڑے پہن لیے تو کیا غسل دوبارہ کرنا ہوگا؟

  (مسئلہ):      مجھے عمرے کے لیے احرام باندھنا تھا، اس کے لیے میں نے غسل بھی کر لیا تھا، لیکن چونکہ مغرب کی نماز کا وقت ہو چکا تھا، تو میں نے جلدی میں نارمل (سِلے ہوئے) کپڑے ہی پہن کر مغرب کی نماز ادا کر لی (کیوں کہ احرام کو اچھی طرح سیٹ کر کے باندھنے میں مجھے تھوڑا وقت لگتا ہے)۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا احرام باندھنے کے لیے مجھے دوبارہ غسل کرنا ہوگا یا وہی پہلے والا غسل کافی ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      اس معاملے میں آپ مکمل اطمینان رکھیں کہ مغرب سے پہلے کیا گیا آپ کا غسل شرعی طور پر بدستور کارآمد ہے اور احرام کی نیت کے لیے آپ پر دوبارہ غسل کرنا ہرگز لازم نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ احرام سے قبل غسل کرنا ایک مسنون عمل ہے جس کی حیثیت "شرط" کی نہیں بلکہ ایک مستحب تیاری کی ہے، جس کا منشاء جسمانی میل کچیل دور کرنا اور تازگی حاصل کرنا ہے، جسے فقہی اصطلاح میں "للنظافۃ" (صفائی کے لیے) کہا جاتا ہے نہ کہ "للطہارۃ" (پاکی حاصل کرنے کے لیے)۔ چونکہ آپ نے ابھی کچھ دیر قبل ہی غسل کیا تھا اور درمیان میں صرف مغرب کی نماز کا وقفہ آیا ہے جس میں آپ نے س...

انتقال کے بعد کھانے کی دعوت اور رسمی قرآن خوانی: ایک متوازن رہنمائی

(مسئلہ):      معاشرے میں ایک رواج جڑ پکڑ چکا ہے کہ کسی کے انتقال کے بعد اُس کے اہلِ خانہ ایصالِ ثواب کی نیت سے فوراً اگلے دن یا تیجہ وغیرہ کے موقع پر بڑے پیمانے پر کھانے کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں قریبی رشتہ دار اور دیگر متعلقین شریک ہوتے ہیں۔ شرعی نقطۂ نظر سے غم کے موقع پر سوگوار خاندان کی طرف سے اِس طرح کی دعوت کا کیا حکم ہے؟ نیز ایصالِ ثواب کی ایک دوسری رائج صورت یہ بھی ہے کہ مدارس کے طلبہ کو بلا کر اجتماعی قرآن خوانی کروائی جاتی ہے یا مدرسہ میں ہی ختمِ قرآن کروا کر اُن کی طعام و نقود سے تواضع کی جاتی ہے۔ کیا یہ طریقہ درست ہے اور کیا اِس طرح پڑھوانے سے میت کو ثواب پہنچتا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      شریعتِ مطہرہ نے خوشی اور غم، ہر موقع پر انسانی فطرت اور نفسیات کی رعایت رکھتے ہوئے احکام وضع کیے ہیں؛ تاکہ لوگ افراط و تفریط سے بچے رہیں۔      جہاں تک میت کے اہل خانہ کی جانب سے انتقال کے فوراً بعد یا اگلے دن یا تیجہ و چالیسواں کے نام پر برادری اور رشتہ داروں کے لیے کھانے کا اہتمام کرنے کا تعلق ہے، تو فقہائے کرام اور محدثین نے ...

مرحوم بےاولاد چچا کی وراثت کی تقسیم: بیوہ، بہن اور بھائیوں کے ساتھ بھتیجوں کی بھی موجودگی کی صورت میں

(مسئلہ):     ایک صاحب نے دریافت کیا ہے کہ  میرے دادا کا انتقال 1965ء میں ہوا، ان کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ بڑے بیٹے کا انتقال 2010ء میں ہوا جن کے تین بچے ہیں۔ سب سے چھوٹے چچا کا انتقال 2020ء میں ہوا اور ان کی بیوہ کا بھی حال ہی میں انتقال ہو گیا، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم لاولد چچا کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ کیا ان کے باقی ماندہ تین بھائیوں اور فوت شدہ بھائی کے بچوں (بھتیجوں) کے درمیان تقسیم ہوگی یا کوئی اور حکم ہے؟ (( [نوٹ]: یہ سوال واٹس ایپ کے ایک گروپ میں بذریعہ  ٹیکسٹ  موصول ہوا تھا، جسے قارئین کی سہولت کے لیے ضروری نوک پلک سنوارنے کے بعد معمولی لفظی تبدیلیوں کے ساتھ یہاں پیش کیا گیا ہے۔)) (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اللہ سے توفیق مانگتے ہوئے، اِس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ:     پوچھی گئی  صورت میں چوں کہ مرحوم چچا بے اولاد تھے، لہذا قرآنِ مجید کے حکم کے مطابق ان کی بیوہ کا حصہ کل جائیداد میں ایک چوتھائی (1/4) مقرر ہوگا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: " وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُ...