غیر یتیم مگر مستحق طلبہ اور زکات کا استعمال: مدرسے کے ہاسٹل کے لیے شرعی رہنمائی


(مسئلہ):

     مدرسے کے ہاسٹل میں جہاں 125 یتیم بچے زیرِ تعلیم اور مقیم ہیں، وہیں کچھ ایسے بچے بھی موجود ہیں جو اگرچہ یتیم نہیں ہیں (یعنی ان کے والدین حیات ہیں) لیکن ان کے والدین انتہائی غریب، نادار اور شرعی طور پر مستحقِ زکات ہیں۔ یہ بچے بھی اسی ہاسٹل میں دیگر یتیم بچوں کے ساتھ رہتے ہیں اور وہیں سے ان کی خوراک اور تعلیم کا انتظام ہوتا ہے۔
​     دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ان بچوں کے لیے بھی زکات کی رقم سے چاول، راشن اور دیگر خورد و نوش کا سامان خرید کر مدرسے میں دینا شرعاً درست ہے؟ کیا ان بچوں کی کفالت میں زکات کی رقم اسی طرح استعمال کی جاسکتی ہے جیسے یتیم بچوں کے معاملے میں دی جاتی ہے، جبکہ ان کے والدین صاحبِ نصاب نہیں بلکہ خود زکات کے حقدار ہیں؟ 
     چونکہ میں رمضان المبارک کی ان مبارک گھڑیوں میں جلد از جلد یہ امداد پہنچانا چاہتی ہوں، اس لیے اس مسئلے کی شرعی حیثیت واضح فرمادیں؛ تاکہ نیکی کا یہ عمل کسی بھی قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہو کر انجام دیا جا سکے۔

(رہنمائی):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
     زکات کی ادائیگی کا اصل مدار فقر و احتیاج (غریب اور ضرورت مند ہونا) ہے، نہ کہ محض یتیمی۔ اگرچہ یتیم بچوں کی کفالت کے فضائل بے شمار ہیں، لیکن زکات کے مصارف کے حوالے سے بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ مال کسی ایسے مسلمان کو دیا جائے جو صاحبِ نصاب نہ ہو۔ اس تناظر میں مدرسے کے ہاسٹل میں مقیم وہ طلبہ جن کے والدین حیات ہیں مگر وہ غریب، نادار اور مالی طور پر اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ اپنے بچوں کی تعلیمی اور خوراک کی ضروریات پوری کرسکیں، وہ بھی شرعی طور پر زکات کے مکمل حقدار ہیں۔ ایسے طلبہ کو زکات کی رقم سے کھانا فراہم کرنا یا ان کے لیے راشن خرید کر مدرسے میں دینا بالکل اسی طرح جائز اور درست ہے جیسے کہ یتیم بچوں کے لیے دینا؛ کیونکہ دونوں صورتوں میں استحقاقِ زکات کی اصل وجہ یعنی ان کی مالی کمزوری اور حاجت مندی موجود ہے۔
​     آپ کے اس سوال میں ایک گہری حکمت پوشیدہ ہے کہ کیا یتیم اور غیر یتیم مستحق بچوں کے درمیان زکات کی تقسیم میں کوئی فرق ہے۔ جب یہ بچے مدرسے کے دسترخوان پر کھانا کھاتے ہیں، تو وہ کھانا ان کی ملکیت میں چلا جاتا ہے اور اس سے علمِ فقہ کی روشنی میں تملیکِ شرعی کی شرط پوری ہو جاتی ہے۔ والدین کی موجودگی کسی بچے کو زکات سے محروم نہیں کرتی، بشرطیکہ وہ والدین خود صاحبِ نصاب نہ ہوں۔ بلکہ دین کے طالب علموں کی خدمت کرنا تو دوہرے اجر کا باعث ہے؛ ایک صدقہ کا ثواب اور دوسرا علمِ دین کی نشر و اشاعت میں تعاون کا اجر۔ یہ بچے جو اپنے گھر بار چھوڑ کر اللہ کے دین کی خاطر ہاسٹل میں قیام پذیر ہیں، ان کی راحت رسانی کا انتظام کرنا آپ کے لیے اور آپ کے مرحوم شوہر کے لیے بہترین ایصالِ ثواب ثابت ہوگا۔
​     حکمتِ دین کا تقاضا یہ ہے کہ نیکی کے ان کاموں میں جذبات کے ساتھ ساتھ شرعی حدود کا بھی خیال رکھا جائے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ پورے اطمینان کے ساتھ ان تمام بچوں کے لیے راشن کا انتظام کریں جو مدرسے میں مقیم ہیں اور مستحق ہیں۔ مدرسے کی انتظامیہ ان بچوں کی معاشی حالت سے بخوبی واقف ہوتی ہے، اس لیے ان کے ذریعے پہنچایا گیا سامان صحیح مصرف پر ہی خرچ ہوگا۔ رمضان المبارک کی ان مبارک ساعتوں میں مستحقین کی خبر گیری کرنا اور خاص طور پر ان طلبہ کا خیال رکھنا جو کل کو امت کی رہنمائی کریں گے، ایک ایسی تجارت ہے جس میں کبھی خسارہ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اس مخلصانہ کوشش کو قبول فرمائے اور آپ کے مرحوم شوہر کے لیے اسے رفعِ درجات کا ذریعہ بنائے۔
​(واللہ اعلم بالصواب)

============================================= =============================================
(کچھ ضروری باتیں)
  • یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
  • اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
  • آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
  • اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے