نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تلاوتِ قرآن میں اچانک دشواری اور زبان کا رکنے کا معاملہ اور رہنمائی

(سوال):       ہماری والدہ ایک مسئلہ کو لیکر نہایت پریشان ہیں۔ وہ یہ کہ وہ بحمد اللہ قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں اور روزانہ تلاوت کا معمول بھی ہے، مگر اس رمضان میں یہ محسوس کررہی ہیں کہ وہ قرآن پڑھتی ہیں، مگر ایک ایک لفظ کئی کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کے باوجود زبان پر نہیں چڑھ پارہا ہے اور پہلے، پون گھنٹے میں یا ایک گھنٹے میں ایک پارہ پڑھ لیتی تھیں، مگر اب دو ڈھائی گھنٹے میں بھی نہیں پڑھا جارہا ہے۔ نیز پہلے جو معمولات تھے ان کے پڑھنے میں بھی زبان نہیں پلٹ پارہی ہے۔ تو اس کا کیا ریزن ہوسکتا ہے؟ اس کا کوئی حل یا دعا ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔ اور ایک چیز یہ بھی ہے کہ عام گفتگو میں الحمد للّٰہ کوئی دشواری نہیں ہے۔   (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک نقشین رحل پر کُھلا ہوا قرآنِ مجید، جو کھڑکی سے آتی سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا ہے۔ پاس رکھی تسبیح اور عینک تلاوت اور ذکر کے پرسکون ماحول کی عکاسی کر رہے ہیں۔      یہ پڑھ کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی؛ ایک طرف ایک اللہ والی بندی کا کلامِ الہی سے عشق ہے کہ معمول چھوٹنے پر تڑپ رہی ہیں، اور دوسری طرف عمر ک...

بینکوں اور فنانس کمپنیوں میں آئی ٹی (IT) اور تکنیکی ملازمتوں کا مسئلہ اور رہنمائی


(مسئلہ):

     میں ایک طالب علم ہوں اور ان دنوں اپنے کیریئر کے حوالے سے مختلف مواقع تلاش کر رہا ہوں۔ میری دلی خواہش ہے کہ میری مستقبل کی ملازمت اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہو، اس لیے میں بینکوں اور مالیاتی کمپنیوں میں کام کرنے کی شرعی حیثیت کے بارے میں چند پہلوؤں سے وضاحت چاہتا ہوں۔
​     اس سلسلے میں پہلا سوال غیر ملکی روایتی بینکوں، جیسے جے پی مورگن یا ایچ ایس بی سی وغیرہ میں ملازمت سے متعلق ہے جو کہ سودی نظام پر مبنی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا ان بینکوں کے بیک اینڈ یا تکنیکی شعبوں، مثلاً ڈیٹا اینالسٹ، سافٹ ویئر ڈیولپر یا آئی ٹی سپورٹ میں کام کرنا جائز ہے، جبکہ اس کام میں گاہکوں سے کوئی واسطہ نہ ہو اور نہ ہی سودی لین دین، قرض کی منظوری یا مالیاتی مصنوعات کے حوالے سے کوئی براہِ راست شمولیت یا فیصلہ سازی ہو۔ اسی طرح بھارتی بینکوں، خواہ وہ سرکاری ہوں یا نجی، ان کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ یا بیک اینڈ آپریشنز میں بطور ٹیکنیکل اینالسٹ کام کرنے کا کیا حکم ہے، بشرطیکہ وہاں بھی لون (قرض) کے معاملات اور سود سے متعلقہ دیگر سرگرمیوں میں کوئی براہِ راست کردار نہ ہو؟
​     اِس کے علاوہ، میں شیئر مارکیٹ اور سرمایہ کاری سے متعلق کمپنیوں میں ایسی تکنیکی ملازمتوں کی شرعی حیثیت بھی معلوم کرنا چاہتا ہوں جہاں کام کی نوعیت غیر مالیاتی ہو، جیسے ڈیٹا پروسیسنگ، سافٹ ویئر سپورٹ یا اینالیٹکس، اور اس میں سٹہ بازی یا گاہکوں کو مشورے دینے میں کوئی براہِ راست مداخلت نہ ہو۔
     آپ سے درخواست ہے کہ ان تمام معاملات پر قیمتی شرعی رہنمائی فرمائیں تاکہ میں اطمینانِ قلب کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کر سکوں۔

(رہنمائی):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
     آپ کا اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے آغاز پر حلال و حرام کی فکر کرنا اور اپنے مستقبل کو شرعی حدود میں رکھنے کی تڑپ رکھنا بلاشبہ ایک مبارک جذبہ ہے، جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نہایت پسندیدہ ہے۔ شریعتِ مطہرہ میں طلبِ حلال کو فرائض کے بعد ایک فریضہ قرار دیا گیا ہے، اور موجودہ پیچیدہ معاشی دور میں ایک نوجوان کا اپنے معاشی سفر کو تقویٰ کی بنیاد پر شروع کرنا اس کے رزق اور زندگی میں برکت کا ضامن بنتا ہے۔ بینکوں اور مالیاتی اداروں میں تکنیکی ملازمتوں کے حوالے سے جو سوالات آپ نے اٹھائے ہیں، ان کا جواب سمجھنے کے لیے گناہ کے کام میں تعاون اور براہِ راست سودی عمل کے درمیان فرق کو واضح طور پر سمجھنا ضروری ہے۔
​     جے پی مورگن، ایچ ایس بی سی یا اسٹیٹ بینک آف انڈیا جیسے روایتی بینکوں کے حوالے سے اصولی بات یہ ہے کہ ان کا بنیادی کاروبار سودی لین دین پر مبنی ہوتا ہے، جو کہ قرآن و سنت کی رو سے قطعی حرام ہے۔ اگرچہ آپ کی ذمہ داریاں سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ڈیٹا اینالیٹکس یا آئی ٹی سپورٹ جیسے تکنیکی شعبوں میں ہوں اور آپ کا سودی معاہدے لکھنے یا براہِ راست سود وصول کرنے سے کوئی تعلق نہ ہو، لیکن یہ پہلو نہایت اہم ہے کہ آپ کی مہارت ان بینکوں کے اس پورے نظام کو مضبوط بنانے اور اسے رواں دواں رکھنے میں صرف ہوگی جو سود پر کھڑا ہے۔ اگر آپ کا کام خالصتاً تکنیکی ہو، مثلاً ملازمین کی حاضری کا سسٹم بنانا یا بینک کے عام ڈیٹا کی حفاظت کرنا، تو اس کی گنجائش کسی درجہ میں نکل سکتی ہے، لیکن اگر آپ کا تیار کردہ سافٹ ویئر یا ڈیٹا اینالیٹکس براہِ راست سودی مصنوعات (Interest-based products) کو فروغ دینے یا ان کے حساب کتاب کو سہل بنانے میں استعمال ہو، تو یہ بالواسطہ طور پر گناہ میں تعاون شمار ہوگا جو کہ کراہت سے خالی نہیں۔ لہٰذا، مثالی تقویٰ کا تقاضا یہی ہے کہ ایسی جگہوں سے بچا جائے جہاں آمدنی کا بڑا حصہ حرام ذرائع سے آتا ہو، تاہم شدید ضرورت کی حالت میں جب تک کوئی متبادل حلال ملازمت میسر نہ ہو، ان تکنیکی شعبوں میں کام کرنے کو مطلقاً حرام نہیں کہا جائے گا، بشرطیکہ آپ کا کام براہِ راست سودی حساب کتاب سے متعلق نہ ہو۔
​     جہاں تک شیئر مارکیٹ سے متعلقہ کمپنیوں میں آئی ٹی یا ڈیٹا پروسیسنگ کے کردار کا تعلق ہے، تو اس میں حکم نسبتاً نرم ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ کمپنی بذاتِ خود کسی ناجائز کاروبار (جیسے شراب، جوا، یا خالص سودی اداروں) کی تشہیر یا اس کے تکنیکی انتظام میں شامل نہ ہو۔ اگر کمپنی کا کام عام کمپنیوں کے حصص (Shares) کا ڈیٹا فراہم کرنا یا مارکیٹ کے رجحانات کا تجزیہ کرنا ہو، اور آپ وہاں صرف سافٹ ویئر سپورٹ یا ڈیٹا اینالیٹکس فراہم کرنے کا کام کریں، تو یہ فی نفسہ ایک مباح (جائز) ہنر ہے جس کا استعمال جائز ہے۔ چونکہ شیئر مارکیٹ میں حلال اور حرام دونوں طرح کی کمپنیوں کے حصص ہوتے ہیں، اس لیے ایسی کمپنی میں کام کرنا جو صرف ڈیٹا اور ٹیکنالوجی فراہم کرتی ہے، ممنوع قرار نہیں دیا جائے گا، بشرطیکہ آپ کا کام کسی خاص حرام عمل (جیسے سٹہ بازی یا ناجائز شارٹ سیلنگ) کو تکنیکی طور پر سہارا دینا نہ ہو۔
​     مجموعی طور پر آپ جیسے باصلاحیت نوجوان کے لیے مشورہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو آئی ٹی اور ڈیٹا اینالیٹکس جیسی جو جدید مہارتیں عطا کی ہیں، انہیں ترجیحی طور پر ایسے شعبوں میں صرف کریں جہاں آمدنی اور کام کی نوعیت دونوں مکمل طور پر پاکیزہ ہوں۔ آج کل بہت سے سافٹ ویئر ہاؤسز، ای کامرس کمپنیاں، ہیلتھ ٹیک (Health-Tech)، ایجو ٹیک (Edu-Tech) اور اسلامی مالیاتی ادارے (Islamic Banks) موجود ہیں، جنہیں آپ جیسے ماہرین کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کسی روایتی بینک میں ملازمت شروع کر بھی دیں، تو اسے اپنی منزل نہ بنائیں بلکہ اسے ایک عارضی ضرورت سمجھیں اور مسلسل دعا اور کوشش جاری رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کسی ایسے مقام پر پہنچا دے جہاں آپ کا ہنر دین اور دنیا دونوں کے لیے خیر کا باعث بنے۔ یاد رکھیں کہ جو شخص اللہ کی رضا کے لیے کسی مشتبہ چیز کو چھوڑ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر اور طیب رزق عطا فرماتا ہے۔
(​واللہ اعلم بالصواب)

============================================= =============================================
(کچھ ضروری باتیں)
  • یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
  • اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
  • آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
  • اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غسلِ احرام کے بعد اگر سِلے ہوئے کپڑے پہن لیے تو کیا غسل دوبارہ کرنا ہوگا؟

  (مسئلہ):      مجھے عمرے کے لیے احرام باندھنا تھا، اس کے لیے میں نے غسل بھی کر لیا تھا، لیکن چونکہ مغرب کی نماز کا وقت ہو چکا تھا، تو میں نے جلدی میں نارمل (سِلے ہوئے) کپڑے ہی پہن کر مغرب کی نماز ادا کر لی (کیوں کہ احرام کو اچھی طرح سیٹ کر کے باندھنے میں مجھے تھوڑا وقت لگتا ہے)۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا احرام باندھنے کے لیے مجھے دوبارہ غسل کرنا ہوگا یا وہی پہلے والا غسل کافی ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      اس معاملے میں آپ مکمل اطمینان رکھیں کہ مغرب سے پہلے کیا گیا آپ کا غسل شرعی طور پر بدستور کارآمد ہے اور احرام کی نیت کے لیے آپ پر دوبارہ غسل کرنا ہرگز لازم نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ احرام سے قبل غسل کرنا ایک مسنون عمل ہے جس کی حیثیت "شرط" کی نہیں بلکہ ایک مستحب تیاری کی ہے، جس کا منشاء جسمانی میل کچیل دور کرنا اور تازگی حاصل کرنا ہے، جسے فقہی اصطلاح میں "للنظافۃ" (صفائی کے لیے) کہا جاتا ہے نہ کہ "للطہارۃ" (پاکی حاصل کرنے کے لیے)۔ چونکہ آپ نے ابھی کچھ دیر قبل ہی غسل کیا تھا اور درمیان میں صرف مغرب کی نماز کا وقفہ آیا ہے جس میں آپ نے س...

انتقال کے بعد کھانے کی دعوت اور رسمی قرآن خوانی: ایک متوازن رہنمائی

(مسئلہ):      معاشرے میں ایک رواج جڑ پکڑ چکا ہے کہ کسی کے انتقال کے بعد اُس کے اہلِ خانہ ایصالِ ثواب کی نیت سے فوراً اگلے دن یا تیجہ وغیرہ کے موقع پر بڑے پیمانے پر کھانے کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں قریبی رشتہ دار اور دیگر متعلقین شریک ہوتے ہیں۔ شرعی نقطۂ نظر سے غم کے موقع پر سوگوار خاندان کی طرف سے اِس طرح کی دعوت کا کیا حکم ہے؟ نیز ایصالِ ثواب کی ایک دوسری رائج صورت یہ بھی ہے کہ مدارس کے طلبہ کو بلا کر اجتماعی قرآن خوانی کروائی جاتی ہے یا مدرسہ میں ہی ختمِ قرآن کروا کر اُن کی طعام و نقود سے تواضع کی جاتی ہے۔ کیا یہ طریقہ درست ہے اور کیا اِس طرح پڑھوانے سے میت کو ثواب پہنچتا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      شریعتِ مطہرہ نے خوشی اور غم، ہر موقع پر انسانی فطرت اور نفسیات کی رعایت رکھتے ہوئے احکام وضع کیے ہیں؛ تاکہ لوگ افراط و تفریط سے بچے رہیں۔      جہاں تک میت کے اہل خانہ کی جانب سے انتقال کے فوراً بعد یا اگلے دن یا تیجہ و چالیسواں کے نام پر برادری اور رشتہ داروں کے لیے کھانے کا اہتمام کرنے کا تعلق ہے، تو فقہائے کرام اور محدثین نے ...

مرحوم بےاولاد چچا کی وراثت کی تقسیم: بیوہ، بہن اور بھائیوں کے ساتھ بھتیجوں کی بھی موجودگی کی صورت میں

(مسئلہ):     ایک صاحب نے دریافت کیا ہے کہ  میرے دادا کا انتقال 1965ء میں ہوا، ان کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ بڑے بیٹے کا انتقال 2010ء میں ہوا جن کے تین بچے ہیں۔ سب سے چھوٹے چچا کا انتقال 2020ء میں ہوا اور ان کی بیوہ کا بھی حال ہی میں انتقال ہو گیا، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم لاولد چچا کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ کیا ان کے باقی ماندہ تین بھائیوں اور فوت شدہ بھائی کے بچوں (بھتیجوں) کے درمیان تقسیم ہوگی یا کوئی اور حکم ہے؟ (( [نوٹ]: یہ سوال واٹس ایپ کے ایک گروپ میں بذریعہ  ٹیکسٹ  موصول ہوا تھا، جسے قارئین کی سہولت کے لیے ضروری نوک پلک سنوارنے کے بعد معمولی لفظی تبدیلیوں کے ساتھ یہاں پیش کیا گیا ہے۔)) (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اللہ سے توفیق مانگتے ہوئے، اِس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ:     پوچھی گئی  صورت میں چوں کہ مرحوم چچا بے اولاد تھے، لہذا قرآنِ مجید کے حکم کے مطابق ان کی بیوہ کا حصہ کل جائیداد میں ایک چوتھائی (1/4) مقرر ہوگا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: " وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُ...