وراثت میں ملنے والے مکان اور اس سے حاصل ہونے والی کرائے کی رقم پر زکات کا مسئلہ اور رہنمائی


(مسئلہ):

     ہماری والدہ کے نام پر ایک گھر تھا جو فی الوقت کرائے پر دیا ہوا ہے، اور والدہ کی وفات کے بعد اس مکان کی باقاعدہ شرعی تقسیم ابھی تک ورثاء کے درمیان نہیں ہوسکی ہے۔ اس مکان سے حاصل ہونے والا کرایہ پچھلے چھ ماہ سے زائد عرصے سے ہمارے والد صاحب کے پاس جمع ہو رہا ہے، جبکہ والد صاحب خود اس مکان میں رہائش پذیر نہیں ہیں، بلکہ وہ اپنے بچوں کے پاس دوسرے گھر میں رہتے ہیں۔ ہم یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا اس وراثتی مکان کی مالیت پر بذاتِ خود زکات واجب ہوگی؟ نیز، اس مکان سے حاصل ہونے والی کرائے کی وہ رقم جو ابھی تک تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم نہیں کی گئی ہے، بلکہ والد صاحب کے پاس ہی اکٹھی ہو رہی ہے، اس پر زکات کا کیا حکم ہوگا؟ کیا اس غیر تقسیم شدہ رقم پر زکات کی ادائیگی فی الحال لازم ہے یا یہ تقسیم کے بعد ہر وارث کے انفرادی نصاب کے مطابق دیکھی جائے گی؟

(رہنمائی):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
     وراثت میں ملنے والے مکان اور اس سے حاصل ہونے والی کرائے کی رقم پر زکات کے حوالے سے رہنمائی یہ ہے کہ جو مکان یا جائیداد وراثت میں ملے، اس کی اصل مالیت پر زکات واجب نہیں ہوتی۔ زکات صرف اس مال پر ہوتی ہے جو نامی ہو، یعنی وہ مال جو تجارت کی غرض سے لیا گیا ہو یا سونا، چاندی اور نقدی کی شکل میں ہو۔ چونکہ یہ مکان وراثت میں ملا ہے اور اسے تجارت (بیچ کر نفع کمانے) کی نیت سے نہیں خریدا گیا ہے، اس لیے اس کی قیمت چاہے کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، اس پر زکات ادا کرنا کسی بھی وارث پر لازم نہیں ہے۔ یہ مکان اموالِ باطنہ یا ذاتی استعمال کی اشیاء کے حکم میں ہے، لہٰذا اس کی مالیت کو زکات کے حساب میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
​     جہاں تک اس مکان سے حاصل ہونے والے کرائے کا تعلق ہے، تو کرایہ کی یہ رقم نقدی کے حکم میں ہے اور اس پر زکات کے قواعد لاگو ہوں گے۔ تاہم، جب تک یہ رقم تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم نہیں ہوجاتی، اس وقت تک پوری رقم پر کسی ایک شخص کی طرف سے زکات ادا کرنا لازم نہیں ہے۔ کرائے کی یہ رقم جو فی الوقت والد صاحب کے پاس جمع ہو رہی ہے، درحقیقت تمام ورثاء کی مشترکہ ملکیت ہے۔ زکات کے وجوب کے لیے ضروری ہے کہ ہر وارث کا اپنا حصہ (اس کی دیگر نقدی، سونے یا چاندی کے ساتھ مل کر) نصابِ زکات (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) تک پہنچتا ہو۔ اگر کسی وارث کا حصہ نصاب سے کم ہے، تو اس پر اس حصے کی زکات واجب نہیں ہوگی۔
​     اس معاملے کا عملی حل یہ ہے کہ والد صاحب کے پاس جمع شدہ رقم میں سے ہر وارث کا شرعی حصہ متعین کیا جائے۔ اگر کسی وارث کے پاس پہلے سے اتنا مال یا سونا موجود ہے کہ وہ صاحبِ نصاب ہے، تو وہ کرائے کی اس رقم میں سے اپنے حصے کو بھی اپنی سالانہ زکات کے حساب میں شامل کرے گا، چاہے وہ رقم ابھی اسے وصول نہ ہوئی ہو؛ کیونکہ یہ دینِ قوی کے حکم میں ہے جس کی وصولی یقینی ہے۔ لیکن اگر کوئی وارث صاحبِ نصاب نہیں ہے اور کرائے کی اس رقم میں اس کا حصہ ملانے کے بعد بھی وہ نصاب تک نہیں پہنچتا، تو اس پر زکات لازم نہیں ہوگی۔ والد صاحب کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد اس رقم کو ورثاء میں تقسیم کر دیں تاکہ ہر وارث اپنی مالی حیثیت کے مطابق اپنے فرائض ادا کر سکے۔
​(واللہ اعلم بالصواب) 

============================================= =============================================
(کچھ ضروری باتیں)
  • یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
  • اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
  • آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
  • اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے