(سوال): ہماری والدہ ایک مسئلہ کو لیکر نہایت پریشان ہیں۔ وہ یہ کہ وہ بحمد اللہ قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں اور روزانہ تلاوت کا معمول بھی ہے، مگر اس رمضان میں یہ محسوس کررہی ہیں کہ وہ قرآن پڑھتی ہیں، مگر ایک ایک لفظ کئی کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کے باوجود زبان پر نہیں چڑھ پارہا ہے اور پہلے، پون گھنٹے میں یا ایک گھنٹے میں ایک پارہ پڑھ لیتی تھیں، مگر اب دو ڈھائی گھنٹے میں بھی نہیں پڑھا جارہا ہے۔ نیز پہلے جو معمولات تھے ان کے پڑھنے میں بھی زبان نہیں پلٹ پارہی ہے۔ تو اس کا کیا ریزن ہوسکتا ہے؟ اس کا کوئی حل یا دعا ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔ اور ایک چیز یہ بھی ہے کہ عام گفتگو میں الحمد للّٰہ کوئی دشواری نہیں ہے۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک نقشین رحل پر کُھلا ہوا قرآنِ مجید، جو کھڑکی سے آتی سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا ہے۔ پاس رکھی تسبیح اور عینک تلاوت اور ذکر کے پرسکون ماحول کی عکاسی کر رہے ہیں۔ یہ پڑھ کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی؛ ایک طرف ایک اللہ والی بندی کا کلامِ الہی سے عشق ہے کہ معمول چھوٹنے پر تڑپ رہی ہیں، اور دوسری طرف عمر ک...
(سوال):
ہماری والدہ ایک مسئلہ کو لیکر نہایت پریشان ہیں۔ وہ یہ کہ وہ بحمد اللہ قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں اور روزانہ تلاوت کا معمول بھی ہے، مگر اس رمضان میں یہ محسوس کررہی ہیں کہ وہ قرآن پڑھتی ہیں، مگر ایک ایک لفظ کئی کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کے باوجود زبان پر نہیں چڑھ پارہا ہے اور پہلے، پون گھنٹے میں یا ایک گھنٹے میں ایک پارہ پڑھ لیتی تھیں، مگر اب دو ڈھائی گھنٹے میں بھی نہیں پڑھا جارہا ہے۔ نیز پہلے جو معمولات تھے ان کے پڑھنے میں بھی زبان نہیں پلٹ پارہی ہے۔ تو اس کا کیا ریزن ہوسکتا ہے؟ اس کا کوئی حل یا دعا ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔ اور ایک چیز یہ بھی ہے کہ عام گفتگو میں الحمد للّٰہ کوئی دشواری نہیں ہے۔
(رہنمائی):
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
![]() |
| ایک نقشین رحل پر کُھلا ہوا قرآنِ مجید، جو کھڑکی سے آتی سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا ہے۔ پاس رکھی تسبیح اور عینک تلاوت اور ذکر کے پرسکون ماحول کی عکاسی کر رہے ہیں۔ |
یہ پڑھ کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی؛ ایک طرف ایک اللہ والی بندی کا کلامِ الہی سے عشق ہے کہ معمول چھوٹنے پر تڑپ رہی ہیں، اور دوسری طرف عمر کے اس حصے میں پیدا ہونے والی طبعی مجبوری۔ والدہ صاحبہ سے کہیے کہ وہ بالکل پریشان نہ ہوں، بلکہ یہ وقت تو ان کے لیے اللہ کی طرف سے اضافی اجر سمیٹنے کا ہے۔
جہاں تک بات پڑھنے میں دشواری پیش آنے کی ہے تو یہ محض بڑھاپا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ دیکھیے، اگر تلاوت کی روانی میں اچانک اس قدر فرق آ گیا ہے کہ زبان پلٹ نہیں رہی اور ایک لفظ کو بار بار دہرانا پڑرہا ہے، تو اسے صرف بڑھاپے کا نام دے کر نظر انداز نہ کریں۔ طبی نقطۂ نظر سے اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ بعض اوقات عمر کے اس حصے میں دماغ کے ان حصوں میں دورانِ خون متاثر ہوتا ہے جو زبان اور بولنے کی صلاحیت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اسے میڈیکل کی زبان میں افیزیا (Aphasia) یا بولنے میں دشواری کی ایک ابتدائی علامت کہا جا سکتا ہے۔ اور دوسری بڑی وجہ نفسیاتی دباؤ ہوسکتی ہے۔ یعنی جب ایک مرتبہ پڑھنے میں رکاوٹ آتی ہے، تو انسان پر ایک خوف طاری ہو جاتا ہے کہ مجھ سے پڑھا نہیں جارہا۔ یہ تناؤ زبان کی لکنت کو مزید بڑھادیتا ہے۔ میری مخلصانہ رائے ہے کہ والدہ صاحبہ کو کسی اچھے ماہرِ امراضِ اعصاب (Neurologist) کو دکھائیں؛ تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ کہیں یہ خدا نخواستہ کسی چھوٹے اسٹروک (TIA) کی علامت تو نہیں یا محض اعصابی تھکن ہے۔
والدہ صاحبہ کو یہ خوشخبری سنائیے کہ حدیث میں حضرت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے: "جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور اس میں مہارت رکھتا ہے، وہ معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو شخص قرآن اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور اسے پڑھنے میں مشقت ہوتی ہے، اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔" [سننِ دارمی: ۳۴۰۰] انہیں بتائیے کہ اب تک وہ ایک پارہ پڑھ کر ایک اجر لیتی تھیں، اب اللہ انہیں ان کی جدوجہد اور اسی اٹکنے پر دو گنا ثواب دے رہا ہے۔ اللہ کو ان کی رفتار سے زیادہ ان کی تڑپ عزیز ہے۔
والدہ صاحبہ کو ان تدابیر پر بھی عمل کرنے کا مشورہ دیں کہ وہ تلاوت شروع کرنے سے پہلے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا کثرت سے پڑھیں: "رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي." [سورۂ طٰہٰ: ۲۵ - ۲۸] (ترجمہ: اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے، میرا کام آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں)۔ اور اگر زبان تھک جائے یا نہ چلے، تو وہ قرآن کریم کی تلاوت سن لیا کریں؛ سننے کا بھی بڑا اجر ہے۔ وہ تلاوت لگاکر سامنے قرآن کھول کر بیٹھ جائیں اور نظروں سے لفظوں کا پیچھا کریں۔ نیز اب وہ ایک پارہ ختم کرنے کا ہدف نہ رکھیں، بلکہ جتنا سہولت سے پڑھا جائے، چاہے دو صفحے ہی کیوں نہ ہوں، اسے کافی سمجھیں۔
الغرَض والدہ صاحبہ سے عرض کیجیے کہ اللہ کریم شَکور ہے، وہ آپ کی برسوں کی خدمت اور تلاوت کو بھولنے والا نہیں ہے۔ آپ اس رمضان میں اپنی اس معذوری کو اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کر لیں اور زبان پر بوجھ ڈالنے کے بجائے دل کی تلاوت پر توجہ دیں۔ ساتھ ہی کسی ماہر ڈاکٹر سے معائنہ ضرور کروائیں؛ تاکہ اگر کوئی طبی پیچیدگی ہو تو اس کا بروقت علاج ہو سکے۔
یہ نکتہ کہ والدہ صاحبہ کو عام گفتگو میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی، مسئلے کی نوعیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ اس صورتِ حال کی ایک اہم وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ عام گفتگو ایک خودکار عمل ہے، جس کے لیے دماغ کو بہت زیادہ شعوری محنت نہیں کرنی پڑتی۔ اس کے برعکس قرآن کریم کی تلاوت ایک پیچیدہ عمل ہے، اس میں دیکھنا، حروف کی پہچان، مخارج کی ادائیگی، تجوید کے قواعد کا لحاظ اور سانس کی ترتیب وغیرہ، یہ سب چیزیں ایک ساتھ کام کرتی ہیں۔ بعض اوقات عمر کے اس حصے میں دماغ روزمرہ کی ضرورت کے لیے تو ٹھیک کام کرتا ہے، لیکن ایسی سرگرمی جس میں بہت زیادہ باریکی اور توجہ کی ضرورت ہو، وہاں اعصاب تھکاوٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔
ایک دوسری اہم وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ چونکہ والدہ صاحبہ قرآن کریم سے بے پناہ محبت رکھتی ہیں اور برسوں سے ایک خاص روانی (مثلاً ایک گھنٹے میں پارہ) کے ساتھ پڑھنے کی عادی ہیں، اس لیے اب ذرا سی رکاوٹ آنے پر ان کے اعصاب پر ایک غیر شعوری بوجھ سوار ہوجاتا ہے۔ وہ تلاوت کے دوران اپنی روانی کو مونیٹر کرنے لگتی ہیں، جس کی وجہ سے زبان میں لکنت یا تکرار پیدا ہوتی ہے۔ جو عام گفتگو میں اس لیے نہیں ہوتی کیونکہ وہاں کوئی خاص معیار یا رفتار برقرار رکھنے کا دباؤ نہیں ہوتا۔
ایک اور اہم وجہ اس کی یہ بھی ہوسکتی ہے کہ عام گفتگو میں انسان کو کسی عبارت کو دیکھنا نہیں پڑتا، جبکہ تلاوت میں نظر اور زبان کا تال میل ضروری ہے۔ ممکن ہے کہ ان کی بصارت اور دماغ کے درمیان معلومات کی ترسیل کی رفتار میں تھوڑی کمی آئی ہو، جس کی وجہ سے زبان لفظوں کو ادا کرنے میں وہ رفتار نہیں پا رہی جو پہلے تھی۔
لہٰذا اُن کے لیے مشورہ یہ ہے کہ وہ تلاوت کے دوران اپنی سابقہ روانی کا موازنہ آج کی کیفیت سے ہرگز نہ کریں۔ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ کے ہاں ان کی محنت قبول ہو رہی ہے، رفتار نہیں۔ اور وہ تلاوت کے دوران بہت زیادہ ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل کے ساتھ) پڑھیں، چاہے ایک لفظ کے بعد تھوڑا وقفہ ہی کیوں نہ لینا پڑے۔ نیز پڑھتے وقت انگلی کا استعمال کریں؛ تاکہ نظر اور دماغ کی توجہ ایک ہی لفظ پر مرکوز رہے، اس سے تکرار (لفظ کو دہرانے) کی عادت کم ہوگی۔ ذہنی دباؤ ختم کرنے کے لیے تلاوت سے پہلے چند منٹ گہرے سانس لیں اور اس احساس کے ساتھ شروع کریں کہ چاہے ایک ہی رکوع ہو، میں اطمینان سے پڑھوں گی۔
باقی جو دعا اور ڈاکٹر (نیورولوجسٹ) کے معائنے کی بات پہلے عرض کی تھی، وہ اپنی جگہ اہم ہے؛ کیونکہ عام گفتگو کا درست ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ اعصابی نظام میں کوئی باریک تبدیلی نہیں آرہی۔ اللہ تعالیٰ والدہ صاحبہ کو شفائے کاملہ عطا فرمائے اور ان کی تلاوت کو شرفِ قبولیت بخشے۔
(واللہ اعلم بالصواب)
=============================================
=============================================
(کچھ ضروری باتیں)
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کرلیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "سوال پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں