(سوال):
(رہنمائی):
![]() |
| احترام اور تقدس کی علامت: قرآنِ کریم کا ایک قدیم اور پرنور نسخہ، جو کلامِ الہی کی عظمت کی یاد دلاتا ہے۔ |
قرآنِ کریم اللہ رب العزت کا کلام ہے اور اس کا احترام و تقدس شعائرِ اسلام میں سے ہے، جس کی پاسداری ہر صاحبِ ایمان پر لازم ہے۔ جب قرآنِ کریم کے اوراق قدیم ہونے کی وجہ سے بوسیدہ ہو جائیں یا تلاوت کے قابل نہ رہیں، تو ان کی بے ادبی سے بچنا اور انہیں اپنے پاس سے کسی موزوں اور محفوظ طریقے سے نکالنا ایک دینی ضرورت بن جاتا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پسندیدہ اور محتاط طریقہ یہ ہے کہ ان اوراق کو کسی پاک کپڑے یا تھیلی میں لپیٹ کر ایسی جگہ دفن کردیا جائے جہاں لوگوں کی آمد و رفت نہ ہو اور پامالی کا اندیشہ نہ رہے، بالکل اسی طرح جیسے ایک مومن کے جسدِ خاکی کو وفات کے بعد عزت و احترام کے ساتھ پیوندِ خاک کیا جاتا ہے تاکہ وہ مٹی میں مل کر مٹی ہو جائے اور اس کی حرمت برقرار رہے۔
جہاں تک بوسیدہ اوراق کو جلانے کا تعلق ہے، تو عام حالات میں تو اوراقِ قرآنی کو جلانا ناپسندیدہ ہے کیونکہ آگ کا استعمال عموماً عذاب یا توہین کے لیے ہوتا ہے، لہٰذا شعائرِ اللہ کے ساتھ اس عمل کو اختیار کرنا ظاہری ادب کے خلاف محسوس ہوتا ہے۔ تاہم، اگر کسی جگہ دفن کرنے کی گنجائش نہ ہو یا اوراق اس حد تک منتشر اور زیادہ ہوں کہ ان کے پامال ہونے کا شدید خطرہ ہو، تو حفاظت کی نیت سے انہیں جلانے کی گنجائش نکلتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل سیدنا عثمان غنی (رضی اللہ عنہ) کا وہ تاریخی عمل ہے جب آپ نے قرآنِ کریم کی ترتیبِ عثمانی پر امت کو جمع کیا اور اختلافِ قرات سے بچنے کے لیے دیگر نسخوں کو نذرِ آتش کرنے کا حکم دیا تاکہ کلامِ الہی کی وحدت اور تقدس محفوظ رہے۔ چنانچہ حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب (دامت برکاتھم) نے اپنی کتاب "علوم القرآن" میں لکھا ہے: "قرآنِ کریم کے یہ متعدد معیاری نسخے تیار فرمانے کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ تمام انفرادی نسخے نذرِ آتش کردیے جو مختلف صحابہ کے پاس موجود تھے تاکہ رسم الخط، مسلمہ قرائتوں کے اجتماع اور سورتوں کی ترتیب کے اعتبار سے تمام مصاحف یکساں ہوجائیں، اور ان میں کوئی اختلاف باقی نہ رہے۔" [علوم القرآن، ص: ۱۹۲]
اصل مقصود حفاظتِ حرمت ہے۔ اگر اوراق کو جلانے کا مقصد ان کی توہین نہیں بلکہ انہیں گندگی یا بے ادبی سے بچانا ہو، تو یہ فعل ناجائز نہیں رہتا، لیکن اس صورت میں بھی یہ ضروری ہے کہ جلے ہوئے اوراق کی راکھ کو کسی پاک جگہ یا بہتے ہوئے پانی میں بہا دیا جائے یا اسے بھی کسی محفوظ مقام پر دفن کر دیا جائے تاکہ راکھ کے ذرات بھی بے حرمتی سے بچے رہیں۔ موجودہ دور میں اگر اوراق کو مشین کے ذریعے باریک کتر کر زمین میں دبا دیا جائے یا سمندر برد کر دیا جائے، تو یہ بھی ایک مستحسن طریقہ ہو سکتا ہے۔
اولیت ہمیشہ دفن کرنے کے عمل کو دی جائے کیونکہ اس میں کلامِ الہی کی نسبت سے مٹی کی آغوش میں خاموشی اور وقار پایا جاتا ہے۔ جلانے کی صورت صرف اس وقت اختیار کرنی چاہیے جب کوئی دوسرا راستہ ممکن نہ ہو یا مصلحتِ عامہ اس کی متقاضی ہو۔ ایک سچے مومن کا دل ہمیشہ اس بات پر دھڑکنا چاہیے کہ وہ رب کے کلام کو ہر حال میں اپنی جان اور مال سے بڑھ کر عزت دے، خواہ وہ اوراق کی صورت میں ہو یا عمل کی صورت میں۔
(واللہ اعلم بالصواب)
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "سوال پوچھیں" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں