(سوال):
ایک ادارہ اجتماعی قربانی کا انتظام کرتا ہے اور لوگوں سے کہتا ہے کہ ایک حصہ 3000 روپے میں ہوگا، جس میں جانور کی قیمت کے ساتھ قربانی کے دوسرے اخراجات بھی شامل ہیں۔ لوگوں کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اگر آخر میں کچھ رقم بچ جائے تو وہ چاہیں تو واپس لے سکتے ہیں اور چاہیں تو ادارے کو دے سکتے ہیں۔ اس طرح لوگ اپنی قربانی کے حصے کے لیے ادارے کو رقم دے دیتے ہیں۔
پھر ادارہ خود جانور خریدنے کے بجائے ایک شخص خالد کو یہ کام سونپ دیتا ہے اور اس کے بدلے اسے فی جانور کچھ رقم دینے کا طے کرتا ہے۔ خالد آگے ایک اور شخص جابر سے جانوروں کا انتظام کرواتا ہے۔ جابر اس پر راضی ہوتا ہے کہ وہ خالد کو بھی ہر جانور پر کچھ رقم دے گا، لیکن اس اضافی کمیشن کی پوری تفصیل ادارے والوں کو معلوم نہیں ہوتی، اگرچہ انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ خالد نے کام آگے کسی اور کے سپرد کیا ہے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اجتماعی قربانی کا یہ طریقہ درست ہے؟ یہ معاملہ اصل میں خدمت لینے کا ہے یا وکالت کا؟ اور خالد کا ادارے کو بتائے بغیر جابر سے الگ کمیشن لینا جائز ہے یا نہیں؟
(رہنمائی):
![]() |
| اجتماعی قربانی کے عمل میں دیانت داری اور مالی شفافیت ہی اصل روحِ عبادت ہے۔ |
اجتماعی قربانی ایک اہم ذمہ داری ہے جو امانت، دیانت اور شرعی حدود کی پاسداری کی متقاضی ہے۔ آپ نے جو صورتِ حال ذکر کی ہے، اس میں کئی شرعی پہلو پنہاں ہیں جن کی وضاحت ذیل میں پیش کی جارہی ہے:
وکالت اور امانت کا تصور
اجتماعی قربانی کا انتظام کرنے والا ادارہ درحقیقت قربانی کرنے والوں کا "وکیل" ہوتا ہے۔ وکیل ایک امانت دار کی حیثیت رکھتا ہے جس کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ موکل (قربانی کرنے والے) کے فائدے کو مدِنظر رکھے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَھلِھَا" [سورۂ نساء، آیت نمبر: ۵۸] (یعنی: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ۔) ادارے کا لوگوں سے یہ کہنا کہ زائد رقم واپس لی جا سکتی ہے یا ادارے کو دی جاسکتی ہے، اسی قرآنی حکم کی تعمیل، شفافیت کی علامت اور مستحسن عمل ہے؛ کیونکہ وکیل کے پاس بچ جانے والی رقم موکل کی ملکیت ہوتی ہے اور اسے بتائے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں۔ نیز اس اعلان سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ادارہ وکالت کے فرائض انجام دے رہا ہے، نہ کہ جانوروں کی خرید و فروخت کا کاروبار کر رہا ہے۔
خدمت لینے اور وکالت کی نوعیت
ادارے کا خالد کو جانور خریدنے کے لیے مقرر کرنا اور اس کے بدلے اسے طے شدہ رقم دینا "اجارہ" (خدمت کے عوض اجرت) کے زمرے میں آتا ہے۔ یہاں خالد ادارے کا "اجیر" (ملازم) ہے، جسے ایک خاص کام کی اجرت دی جا رہی ہے۔ اسلام محنت کی قدر کرتا ہے اور صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "میں قیامت کے دن تین قسم کے لوگوں کا مدِ مقابل ہوں گا، جن میں سے ایک وہ ہے جس نے کسی کو مزدوری پر رکھا، اس سے پورا کام لیا لیکن اسے اس کی اجرت نہیں دی"۔ [صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۲۲۷۰] لہٰذا، خالد کے لیے ادارے سے اپنی طے شدہ اجرت لینا بالکل جائز ہے؛ کیونکہ وہ اپنی صلاحیت اور وقت صرف کر رہا ہے۔
تاہم چونکہ وہ ادارے کی طرف سے خریداری کا اختیار بھی رکھتا ہے، اس لیے اس پر "وکیل" کے احکام بھی لاگو ہوں گے۔ وکالت اور اجرت کا یہ امتزاج اس وقت تک درست ہے جب تک تمام معاملات طے شدہ ہوں اور کسی قسم کا ابہام یا دھوکہ دہی موجود نہ ہو۔
خفیہ کمیشن اور دیانت کا تقاضا
خالد کا جابر سے ادارے کی اطلاع کے بغیر الگ سے کمیشن لینا دیانت اور وکالت کے اصولوں کے صریح خلاف ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے صاف ارشاد فرمایا ہے: "مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا" [صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۱۰۱] (یعنی: جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔) وکیل کو اپنے موکل کے مفاد کے خلاف کام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ جب خالد ادارے کا وکیل ہے، تو جانور کی خریداری میں جابر جو رقم خالد کو کمیشن کے طور پر دے رہا ہے، وہ حقیقت میں جانور کی قیمت میں کمی ہے، اور وکیل کو ملنے والی ہر قسم کی رعایت یا کمی کا حق دار اصل میں موکل (ادارہ یا قربانی کرنے والے) ہوتا ہے، خالد اسے اپنا "حقِ محنت" قرار دے کر نہیں رکھ سکتا؛ کیونکہ وکیل کو جو بھی رعایت ملتی ہے، وہ موکل کے حق میں ہوتی ہے۔ اس لیے یہ خفیہ کمیشن خالد کے لیے "خیانت" اور "مالِ حرام" کے زمرے میں آئے گا، کیونکہ وہ اپنی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسا نفع حاصل کر رہا ہے جس کی اسے اجازت نہیں دی گئی اور اُس نے موکل کو اس نفع سے محروم رکھا جو اسے مل سکتا تھا۔
اجتماعی قربانی کی درستی اور حل
جہاں تک قربانی کے درست ہونے کا تعلق ہے، تو اگر جانور شرعی معیار کے مطابق خریدا گیا (یعنی عیوب سے پاک اور مطلوبہ عمر والا تھا) اور وقت پر ذبح کر دیا گیا، تو لوگوں کی قربانی ادا ہو جائے گی؛ کیونکہ قربانی کی صحت کا تعلق جانور اور ذبح کے عمل سے ہے۔ تاہم، انتظامی امور و معاملات میں خیانت کی خرابی کے باعث اس کارِ خیر کی برکت اور اجر میں کمی واقع ہو سکتی ہے اور قربانی کی روح متاثر ہو سکتی ہے، لیکن قربانی کا فریضہ ساقط ہو جائے گا۔
اس پورے معاملے کو درست کرنے کا طریقہ اور حکیمانہ حل یہ ہے کہ خالد اس کمیشن کے بارے میں ادارے کو مطلع کرے اور اس معاملے کو صاف کرتے ہوئے جابر سے لی گئی رقم ادارے کے حوالے کرے۔ یہ رقم چونکہ قربانی کرنے والوں کی امانت ہے، اس لیے اسے قربانی کے فنڈ میں شامل ہونا چاہیے؛ تاکہ عوام کو واپس کی جا سکے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں "تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى" [سورۂ مائدہ، آیت نمبر: ۲] (یعنی: نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو) کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا اجتماعی قربانی جیسے مقدس فریضے کو ہر قسم کے مالی شبہات اور خفیہ کمیشنوں سے پاک رکھنا ہی تقوے کا تقاضا ہے۔ البتہ اگر ادارہ اپنی جائز انتظامی فیس (جو ادارے کا اپنا حق بن چکی ہو) میں سے خالد کو کچھ انعام کے طور پر دینا چاہے، تو وہ اس کے لیے حلال ہوگا۔ تاہم، شفافیت ہی وہ بنیاد ہے جس پر اِس قسم کی اجتماعی عبادات کا نظام قائم رہنا چاہیے۔
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "سوال پوچھیں" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

0 تبصرے