فقہ حنفی میں حرمت اور نجاست کا معیار کیا ہے؟


(سوال):

میرا یہ استفسار فقہ شافعی اور فقہ حنفی کے مابین حرمت (کسی چیز کے ممنوع ہونے) اور نجاست (اس کے ناپاک ہونے) کے باہمی تعلق اور اس کے شرعی معیار کے گرد گھومتا ہے۔ شافعی نقطۂ نظر میں حرمت اور نجاست عام طور پر لازم و ملزوم ہیں، جس کی بنا پر اپنے اندر نہ بہنے والا خون رکھنے والے چھوٹے جانور حرام ہونے کے ساتھ ساتھ نجس بھی قرار پاتے ہیں۔ اس کے برعکس، احناف کے ہاں حرمت نجاست کو مستلزم نہیں ہے، یعنی ایک چیز شرعاً حرام تو ہو سکتی ہے مگر لازمی نہیں کہ وہ ناپاک بھی ہو۔ لہذا، سائل یہ جاننا چاہتا ہے کہ اگر احناف کے نزدیک حرمت نجاست کا معیار نہیں ہے، تو پھر ان کے ہاں کسی چیز کو شرعاً ناپاک اور نجسِ عین قرار دینے کا حقیقی علمی، فقهی اور تحقیقی معیار کیا ہے؟

(رہنمائی):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ایک علمی اور معلوماتی معلوماتی خاکہ (Infographic) جو روایتی اسلامی کتب خانے کے پس منظر میں فقہ حنفی اور فقہ شافعی کے اصولوں کا موازنہ پیش کرتا ہے۔ بائیں جانب فقہ شافعی کا موقف ایک ترازو کے ذریعے دکھایا گیا ہے جہاں حرمت اور نجاست کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا ہے، اور مثال میں مچھر یا مکھی کو حرام اور نجس لکھا گیا ہے۔ دائیں جانب فقہ حنفی کا موقف دو الگ الگ ترازوؤں سے واضح کیا گیا ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ حرمت نجاست کو مستلزم نہیں ہے؛ یہاں مچھر یا مکھی کو حرام مگر طاہر (پاک) دکھایا گیا ہے جو پانی میں گرنے سے اسے ناپاک نہیں کرتے۔ تمام جلی سرخیاں اور عبارات خوبصورت اردو نستعلیق فونٹ میں لکھی ہوئی ہیں۔
فقہی مباحث: فقہ حنفی اور فقہ شافعی میں حرمت و نجاست کے فرق کا ایک علمی خاکہ۔

تمہیدی اصول: حرمت اور نجاست کا فقہی فرق

    فقہ حنفی کے اصول و ضوابط کی رو سے حرمت (Prohibition) اور نجاست (Impurity) دو بالکل الگ الگ شرعی احکام ہیں، جن کے اسباب اور معیارات ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ احناف کے نزدیک یہ قاعدہ مسلم ہے کہ "ہر نجس چیز حرام ہوتی ہے، لیکن ہر حرام چیز کا نجس ہونا ضروری نہیں"۔ حرمت کا تعلق شارع کی طرف سے کسی چیز کے استعمال اور کھانے یا پینے وغیرہ کی ممانعت سے ہے، جس کے اسباب میں انسانی تکریم، مضرت یا طبی ضرر (جیسے زہر کا نقصان دہ ہونا)، اور استخباث (طبعی کراہت) شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، نجاست ایک مخصوص شرعی وصف ہے جو نماز اور طہارت وغیرہ کے احکام پر اثر انداز ہوتا ہے۔ چنانچہ بہت سی اشیاء ایسی ہیں جو شرعاً حرام ہیں لیکن وہ نجس اور ناپاک نہیں ہیں، جیسے زہر (خود کو یا کسی دوسرے نقصان پہنچانے کے لیے اُس کا استعمال)، افیون (نشہ کی غرض سے اُس کا استعمال) اور مردوں کے لیے سونا و ریشم وغیرہ۔ یہ تمام اشیاء حرام ہونے کے باوجود اپنی ذات میں پاک ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ احناف کے ہاں حرمت کو نجاست کا معیار نہیں بنایا جاسکتا۔

احناف کے نزدیک نجاست کا حقیقی معیار

    احناف کے ہاں کسی بھی چیز کو ناپاک (نجس) قرار دینے کا اصل اور بنیادی معیار "خبثِ شرعی" (Ritual Filthiness) ہے، جس کا ثبوت صرف اور صرف نصوصِ شرعیہ (قرآن و سنت) کے صریح احکام یا ان سے مستنبط عللِ قطعیہ سے ہوتا ہے۔ شارعِ حکیم نے جن اشیاء کو صراحت کے ساتھ "رجس" یا "نجس" کہا ہے، یا جن سے وضو اور غسل کے ٹوٹنے کا حکم لگایا ہے، یا جن کو کپڑے اور بدن سے دھونے کا لازمی حکم دیا ہے، وغیرہ ...... وہی اشیاء احناف کے ہاں نجاست کا معیار بنتی ہیں۔ جب تک کسی چیز کے نجس ہونے پر کوئی صریح شرعی دلیل قائم نہ ہو، اس وقت تک اصل کے اعتبار سے اسے پاک (طاہر) ہی مانا جائے گا، خواہ کسی دوسری علت (جیسے ضرر یا طبعی کراہت وغیرہ) کی وجہ سے اس کا کھانا حرام ہی کیوں نہ ہو۔

حیوانات کی نجاست کا خاص معیار: دمِ سائل (بہتا ہوا خون)

    جہاں تک حیوانات اور ان کے مردار ہونے کا تعلق ہے، تو احناف کے نزدیک کسی جانور کے مرنے کے بعد اس کے نجس ہونے کا حقیقی معیار اس کے اندر "دمِ سائل" یعنی بہتے ہوئے خون کا موجود ہونا اور موت کے بعد اس خون کا رگوں اور گوشت میں منجمد و جذب ہوجانا ہے۔ خون اپنی ذات میں نجسِ عینی ہے، اور جب اپنے اندر بہنے والا خون رکھنے والا جانور ذبح شرعی کے بغیر مرجاتا ہے، تو وہ ناپاک خون اس کے پورے جسم میں سرایت کر جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ مردار نجس ہو جاتا ہے۔

    اس کے برعکس، وہ چھوٹے جانور جن میں بہتا ہوا خون سرے سے ہوتا ہی نہیں (جیسے مکھی، مچھر، بھڑ، چیونٹی یا بچھو وغیرہ)، ان کے مرنے سے ان کے اندر خون کے احتباس اور تعفن کا یہ سبب مفقود ہوتا ہے۔ چونکہ نجاست کی اصل علت (بہتا ہوا خون) ان میں موجود نہیں ہوتی، اس لیے موت کے بعد بھی ان کے اجسام پاک رہتے ہیں اور اگر یہ کسی پانی یا مائع چیز میں گر کر مرجائیں تو اسے ناپاک نہیں کرتے۔

حرمتِ استخباث اور طہارت کا حکیمانہ امتزاج

    اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اپنے اندر نہ بہنے والا خون رکھنے والے جانور پاک ہیں، تو احناف کے ہاں ان کا کھانا کیوں حرام ہے؟ اس کا جواب احناف یہ دیتے ہیں کہ ان حیوانات کی حرمت نجاست کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ قرآنِ کریم کے اس عمومی ضابطے کے تحت ہے جہاں فرمایا گیا کہ "ویحرم علیهم الخبائث" [سورۂ اعراف، آیت نمبر: ۱۵۷] (یعنی: وہ ان پر گندی اور ناپسندیدہ چیزوں کو حرام کرتا ہے)، یہاں "خبائث" سے مراد وہ اشیاء ہیں جن سے سلیم الطبع انسانی فطرت کراہت اور گھن محسوس کرتی ہے۔

    چنانچہ، فقہ حنفی کا حسن یہ ہے کہ وہ انسان کی طبعی نفاست کا پاس رکھتے ہوئے ان حشرات کو کھانے سے تو منع کرتا ہے (حرمت)، لیکن انسانی زندگی میں آسانی اور حرج کو دور کرنے کے لیے ان کے چھو جانے یا پانی میں گر جانے سے طہارت کے احکام کو متاثر نہیں ہونے دیتا (طہارت)۔ یہ وہ جامع اور حکیمانہ معیار ہے جو شریعتِ اسلامیہ کے مزاجِ تیسیر (آسانی) اور علمِ اصولِ فقہ کی گہرائی کے عین مطابق ہے۔

(واللہ اعلم بالصواب.)
============================================= =============================================
(کچھ ضروری باتیں)
  • یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔ 
  • اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
  • آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "سوال پوچھیں" والے سیکشن میں جاکر وہاں دیے گئے جی میل ایڈریس پر بھیج سکتے ہیں۔
  • اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے