اسلام میں مروجہ انشورنس (بیمہ) کا تصور کیا ہے اور اس کا لین دین شرعاً حلال ہے یا حرام؟ نیز، اس کے عدمِ جواز کی صورت میں اس کے اندر پائے جانے والے ''غرر'' (غیر یقینی صورتحال) اور ''قمار'' (جوا نما عنصر) کی شرعی تشریح کیا ہوگی، اور دورِ حاضر میں اس کے متبادل کے طور پر پیش کیے جانے والے نظام ''تکافل'' کی کیا حقیقت ہے؟ براہِ کرم ان تمام پہلوؤں پر شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں جامع اور تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔
مروجہ تجارتی انشورنس کی بنیادی اور شرعی ماہیت
اسلامی شریعت کا معاشی نظام عدل، شفافیت اور باہمی ہمدردی کے روشن اصولوں پر استوار ہے، جس میں کسی بھی تجارتی معاہدے کی درستگی کے لیے اس کا ہر قسم کے دھوکے، ابہام، استحصال اور جوئے وغیرہ خرابیوں اور برائیوں سے پاک ہونا لازمی شرط ہے۔ مروجہ تجارتی انشورنس، خواہ اس کا تعلق زندگی سے ہو (لائف انشورنس)، صحت سے ہو (ہیلتھ انشورنس) یا دکان و مکان اور مال و اسباب وغیرہ سے (جنرل انشورنس)، اپنے موجودہ اساسی ڈھانچے کے اعتبار سے ''عقودِ معاوضہ'' یعنی دو طرفہ مالی تبادلے کے معاہدات میں شمار ہوتا ہے۔ چونکہ ان مروجہ تجارتی پالیسیوں کی بنیاد خالصتاً نفع خوری پر رکھی گئی ہے اور ان کے اندر غرر (شدید ابہام) اور قمار (جوا) جیسے ممنوعہ امور قطعی طور پر پائے جاتے ہیں، اس لیے یہ عقود فاسد اور باطل ہیں، اور ایک مسلمان کے لیے رضاکارانہ طور پر اپنے مال کو ایسے کسی بھی معاہدے کا حصہ بنانا درست نہیں ہے۔
غرر اور قمار: غیر یقینی صورتحال اور جوا نما عناصر
مروجہ بیمہ پالیسیوں کے درست نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ان میں ''غررِ فاحش'' (انتہائی درجہ کا ابہام) اور ''قمار'' (جوا) کا پایا جانا ہے۔ عقودِ معاوضہ کے لیے شےِ مبیع (فراہم کی جانے والی چیز یا سروس) اور ثمن (ادا کی جانے والی قیمت) دونوں کا قطعی طور پر معلوم و متعین ہونا ضروری ہے۔ انشورنس کے معاہدے میں بیمہ کروانے والا شخص اپنی جمع کردہ اقساط کی صورت میں ایک متعین قیمت تو ادا کر دیتا ہے، لیکن اس کے عوض انشورنس کمپنی سے اسے جو مال ملنا ہے، اس کا وجود ایک انتہائی غیر یقینی اور فرضی حادثے یا بیماری پر موقوف ہوتا ہے۔ معاہدے کے وقت انسان کو قطعی علم نہیں ہوتا کہ اسے کچھ وصول ہوگا بھی یا نہیں، اور اگر ہوگا تو کب اور کس مقدار میں ہوگا۔ حصولِ مال کی یہ شدید غیر یقینی صورتحال صریح غرر ہے۔ اسی طرح، تھوڑی سی رقم قسطوں میں دے کر کسی ناگہانی حادثے کی صورت میں کئی گنا زیادہ مال حاصل کر لینا، یا حادثہ پیش نہ آنے کی صورت میں اپنی جمع شدہ تمام رقم سے ہاتھ دھو بیٹھنا، شریعت کی اصطلاح میں خالص قمار اور جوا ہے جسے قرآنِ مجید نے ''میسِر'' کہہ کر سختی سے ممنوع قرار دیا ہے۔
عصری معاشی چیلنجز اور مجبوری کی شرعی حدود
موجودہ دور میں علاج معالجے کے ہوش رُبا اخراجات اور عالمی و ملکی سطح پر معاشی ابتری کے پیشِ نظر بعض حضرات ہمدردانہ جذبے کے تحت ہیلتھ انشورنس وغیرہ کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ بلاشبہ یہ معاشی حالات انتہائی تشویش ناک ہیں، لیکن شرعی ضوابط جذبات کے بجائے اصولوں کے تابع ہوتے ہیں۔ شریعت میں ''ضرورت'' (جس سے جان جانے کا یقینی خطرہ ہو) اور ''حاجت'' (جس سے محض وقتی مشقت پیش آئے) میں واضح فرق ہے۔ انشورنس کرواتے وقت انسان عموماً کسی مہلک بیماری کا شکار نہیں ہوتا، بلکہ مستقبل کے موہوم اندیشوں اور مفروضہ خطرات سے بچنے کے لیے یہ قدم اٹھاتا ہے۔ محض مستقبل کی مالی تنگی کے خوف سے شریعت کے ان قطعی اصولوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو پورے معاشی نظام کو جوئے اور غرر کی ہلاکت خیزیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ ایک برائی یعنی بیماری کے اخراجات سے بچنے کے لیے معاشرے کو دوسری بڑی برائی یعنی حرام اور استحصالی معاشی نظام کے حوالے کرنا مقاصدِ شریعت کے قطعی خلاف ہے۔
قانونی استثناء اور مالکانہ و ریاستی مراعات
ان تمام خرابیوں کے باوجود، دینِ اسلام چونکہ دینِ فطرت ہے، اس لیے اس نے انسان کی حقیقی مجبوریوں کی رعایت بھی رکھی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی ریاستی قانون کے تحت انشورنس کروانے پر مجبور ہو، جیسے گاڑی کی تھرڈ پارٹی انشورنس یا ویزے کے حصول کے لیے لازمی ہیلتھ انشورنس، تو اسے ''مضطر'' (مجبور) سمجھا جائے گا اور قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے بقدرِ ضرورت اس کی گنجائش نکل آتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی سرکاری یا نجی ادارہ اپنے ملازم کی تنخواہ سے کسی قسم کی کٹوتی کیے بغیر، محض اپنے خرچے پر اسے میڈیکل یا لائف انشورنس کی سہولت فراہم کرتا ہے، تو یہ ملازم کے حق میں ادارے کی طرف سے ایک ''تبرع'' یعنی احسان و انعام ہے۔ چونکہ ملازم نے خود کوئی فاسد معاہدہ نہیں کیا اور نہ ہی اپنی جیب سے کوئی رقم دی ہے، اس لیے اس سہولت سے فائدہ اٹھانا اس کے لیے درست ہے۔ مزید یہ کہ، حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے لازمی پنشن اور سوشل سیکیورٹی فنڈز بھی چونکہ تجارتی انشورنس کے بجائے ریاستی سرپرستی اور فلاحی نظام کا حصہ ہوتے ہیں، اس لیے ان سے مستفید ہونے کی بھی اجازت ہے۔
تکافل: باہمی تعاون کا حقیقی اور پاکیزہ متبادل
حالات کی خرابی شریعت کے احکام کو بدلنے کی نہیں، بلکہ پاکیزہ اور حلال متبادل تلاش کرنے کی متقاضی ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر اسلامی ماہرینِ معاشیات نے ''تکافل'' کا ایک متبادل نظام پیش کیا ہے، جس کی بنیاد تجارتی منافع خوری کے بجائے شریعت کے عظیم اصول ''تعاون علی البر'' یعنی نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے پر رکھی گئی ہے۔ تکافل کے نظام میں شرکا اپنی رقوم کسی کمپنی کو خرید و فروخت کے معاہدے کے تحت نہیں دیتے، بلکہ ایک مشترکہ فنڈ میں بطیبِ خاطر عطیہ یعنی تبرع کرتے ہیں؛ تاکہ کسی بھی شریک پر مشکل وقت آنے کی صورت میں اس فنڈ سے اس کی مالی اعانت کی جا سکے۔ چونکہ یہ نظام عقودِ معاوضہ کے بجائے عقودِ تبرع پر مبنی ہے، اس لیے اس پر غرر اور قمار کی حرمت کا اطلاق نہیں ہوتا۔ البتہ کسی بھی تکافل نظام کی شرعی حیثیت اور اس کے جواز کا مکمل دارومدار اس بات پر ہے کہ اس کا تمام تر مالیاتی ڈھانچہ اور سرمایہ کاری مستند اہلِ علم اور معتبر شریعہ بورڈ کی کڑی نگرانی میں انجام پا رہی ہو۔
حرفِ آخر: توکل اور شریعت کی پاسداری
ایک صاحبِ ایمان کے لیے دنیاوی مال و اسباب کی تدبیر کرنا یقیناً شریعت کا حصہ ہے، لیکن یہ تدبیر ہر حال میں حلال اور پاکیزہ دائرے کے اندر ہونی چاہیے۔ معاشی پریشانیوں اور بیماریوں کے خوف سے مرعوب ہوکر انشورنس کمپنیوں کے استحصالی جال میں پھنسنے کے بجائے، معاشرے کے اہلِ ثروت افراد اور رفاہی اداروں کو چاہیے کہ وہ مل کر مشترکہ ہیلتھ فنڈز اور اوقاف کا نظام قائم کریں؛ تاکہ عوام کو حقیقی اور حلال ریلیف مل سکے۔ اور ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ رب العزت کی ذات پر کامل توکل رکھے، جائز متبادل یعنی تکافل کا انتخاب کرے، اور اپنے مال، جان اور آخرت کو حرام کی آمیزش سے محفوظ رکھے۔

0 تبصرے