مدارس کی بزمِ تقریر میں کیسی تبدیلیاں وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں؟

     فنِ خطابت کے سلسلے میں چند باتیں دریافت طلب ہیں: دورِ حاضر کے تناظر میں مدارسِ اسلامیہ میں فنِ خطابت کی تمرین و مشق کا صحیح طریقۂ کار اور کارآمد اسلوب کیا ہونا چاہئے؟ کیا اس وقت بھی، جب کہ عوام کی اردو زبان کی سمجھ بہت سطحی ہوتی جارہی ہے، پرانی کتبِ تقاریر سے استفادہ ہونا چاہیے، جو مشکل الفاظ سے بھری ہوئی ہیں، اور طلباء کو انھیں روایتی تقاریر کو اہمیت کے ساتھ رٹانا چاہیے، یا اس طریقۂ کار میں کوئی مناسب تبدیلی کی جاسکتی ہے؟ موجودہ دور میں لوگوں کی نفسیات کے پیشِ نظر پرکشش اندازِ پیشکش کے لیے کیا ابتدائی مرحلے سے ہی دورانِ تقریر مناسب انگریزی الفاظ کے استعمال کے لیے طلباء کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے یا نہیں؟ نیز ایک بہترین اور مؤثر مقرر و خطیب بننے کے لیے مزید کون سے لوازمات کی رعایت ضروری ہے؟ مختلف درجات کے لحاظ سے تمرینِ خطابت کے لیے کون سے طریقے اختیار کیے جانے چاہئیں؟


ایک کلاس روم نما ہال کا منظر، جہاں درمیان میں ایک خوبصورت لکڑی کا منبر رکھا ہے۔ منبر پر دو مائیکروفون اور ایک جدید ٹیبلٹ موجود ہے۔ ٹیبلٹ کی اسکرین پر اردو میں لکھا ہے: 'ابلاغ کا سفر: جدید خطابت اور مدارس اسلامیہ'۔ منبر کے سامنے ایک ڈائری کھلی ہے جس پر کچھ نکات لکھے ہیں۔ دائیں اور بائیں دیوار پر لکڑی کی الماریاں کتابوں سے بھری ہیں۔ پس منظر میں طلباء ٹوپیاں پہنے فرش پر بیٹھے ہیں، جن کے چہرے دھندلے ہیں۔ ہال کی دیوار پر جلی اردو حروف میں ایک تحریر لکھی ہے جو جدید نفسیات اور جمع قرآن کے واقعے کا حوالہ دے رہی ہے۔
ایک ہال میں ٹیبلٹ اور کھلی ڈائری کے ساتھ تقریر کے ڈائس اور مائک کا منظر، جہاں ڈائس کے آگے سامعین موجود ہیں۔

     آپ کا یہ سوال نہایت وقیع، عصری تقاضوں کا عکاس اور وقت کی اہم ترین ضرورت کی نشان دہی کرتا ہے۔ مدارسِ اسلامیہ میں فنِ خطابت کی مشق طلباء کی ذہنی و فکری تربیت کا ایک لازمی حصہ ہے، لیکن بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر اس کے چلے آرہے اسلوب میں مناسب تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ذیل میں تفصیلی لائحۂ عمل اور گزارشات پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

فنِ خطابت کی مشق کا عصری اور نفسیاتی اسلوب

     دورِ حاضر کے تناظر میں فنِ خطابت کی مشق کا بنیادی مقصد محض الفاظ کی ادائیگی یا جوشِ خطابت کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ابلاغ اور ترسیل کو مرکزیت حاصل ہونی چاہیے۔ آج کے انسان کا مزاج تیز رفتار اور منطقی ہوچکا ہے، اس لیے خطابت کے طریقۂ کار کو جذباتیت کے بجائے استدلال، افہام و تفہیم اور دلائل کی بنیاد پر استوار کرنا ضروری ہے۔ طلباء کو یہ ذہن نشین کرانا چاہیے کہ ممبر پر بیٹھ کر مخاطب پر رعب جھاڑنے کے بجائے، ایک ہمدرد اور خیر خواہ کے طور پر گفتگو کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ مشق کے دوران طلباء کی خصوصاً اِس بات پر حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر، بغیر کسی تمہیدی طوالت کے، براہِ راست موضوع پر گفتگو کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔

پرانی کتبِ تقاریر اور زبان و بیان کا انتخاب

     زبان ابلاغ کا ذریعہ ہے، کوئی مقصودِ بالذات شے نہیں ہے۔ آج جبکہ اکثر عوام کی سطحِ تفہیم محدود ہوچکی ہے اور وہ ثقیل اور مشکل اردو الفاظ سے ناآشنا ہیں، تو پرانی اور مشکل کتبِ تقاریر کو من و عن رٹانا دعوت کے بنیادی مقصد کو فوت کرنے کے مترادف ہے۔ پرانی کتبِ تقاریر سے صرف مواد، دلائل، قرآنی آیات اور احادیث کے حوالے اخذ کیے جانے چاہئیں، لیکن ان کی زبان اور اسلوب کو اپنانے کی زیادہ ضرورت نہیں ہے۔ طلباء کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ موضوع کا مطالعہ کرنے کے بعد اسے اپنے الفاظ میں، نہایت سلیس، عام فہم اور دل نشیں انداز میں پیش کریں۔ مشکل اور نامانوس تراکیب کے استعمال پر داد دینے کے بجائے، آسان اور ابلاغ سے بھرپور زبان استعمال کرنے والے طلباء کی تحسین کی جانی چاہیے؛ تاکہ اِس معاملہ میں رٹے کی عادت کم ہو اور خود اعتمادی اور فکری پختگی پروان چڑھے۔

انگریزی الفاظ کا برمحل استعمال اور جدید تقاضے

     آج کے دور میں زبانیں تیزی سے ایک دوسرے میں مدغم ہو رہی ہیں اور بہت سے انگریزی الفاظ ہماری روزمرہ گفتگو کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ لہٰذا، پرکشش اور مؤثر اندازِ پیشکش کے لیے ابتدائی مرحلے سے ہی طلباء کو مناسب اور مروجہ انگریزی الفاظ کے استعمال کی اجازت، بلکہ حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ جب ایک عالمِ دین ممبر سے مثلاً ''معاشرہ'' کے ساتھ ''سوسائٹی''، ''ذہنی دباؤ'' کے ساتھ ''ٹینشن'' یا ''ڈپریشن''، اور ''نوجوان نسل'' کے ساتھ ''یوتھ'' جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے، تو جدید تعلیم یافتہ طبقہ اور نوجوان خود کو اس قسم کی گفتگو سے بڑی تیزی سے جوڑ لیتے ہیں۔ انھیں یہ احساس ہوتا ہے کہ مقرر ہمارے حالات اور ہماری نفسیات سے اچھی طرح واقف ہے۔ البتہ اس بات کی بھی نگرانی ضروری ہے کہ انگریزی کا استعمال مرعوبیت کی بنیاد پر یا محض نمائش کے لیے نہ ہو، بلکہ فطری انداز میں گفتگو کی روانی کا حصہ محسوس ہو۔

ایک مؤثر خطیب بننے کے لازمی لوازمات

     ایک بہترین اور مؤثر خطیب بننے کے لیے محض زبان کی فصاحت بھی کافی نہیں ہے، بلکہ مطالعے کی وسعت، گہرائی اور حالاتِ حاضرہ پر حقیقت مندانہ اور بصیرت مندانہ نظر ہونا بھی سب سے پہلا اور بنیادی لازمہ ہے۔ مقرر کو اپنے مخاطبین کی نفسیات، ان کے تعلیمی معیار اور ان کے سماجی مسائل کا درست ادراک ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ بوڈی لینگویج (جسمانی حرکات و سکنات) اور وائس ماڈولیشن (آواز کے نشیب و فراز) کی مشق بھی انتہائی ضروری ہے؛ تاکہ گفتگو یکسانیت کا شکار ہوکر سامعین و حاضرین کے لیے بوجھل نہ ہوجائے۔ مصنوعیت اور بناوٹ سے گریز کرتے ہوئے، دل سے نکلی ہوئی سچی اور دردمندانہ بات ہمیشہ اپنا اثر چھوڑتی ہے۔ مزید یہ کہ موقع محل کی مناسبت سے بات کہنے کا ہنر، دورانیہ کا خیال رکھنا اور اختصار کے ساتھ جامعیت پیدا کرنا بھی ایک کامیاب خطیب کی پہچان ہے۔

مختلف درجات کے لحاظ سے تمرینِ خطابت کا ایک مفید طریقۂ کار

    مدارس کے مختلف درجات میں طلباء کی ذہنی سطح کے اعتبار سے مشق کے الگ الگ طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں۔ مثلاً ابتدائی درجات کے طلباء کے اندر سے جھجھک اور خوف ختم کرنا سب سے پہلا ہدف ہونا چاہیے۔ ان سے کسی بھی عام اور آسان موضوع پر، یا محض کسی واقعے کو ان کے اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی مشق کروائی جائے؛ تاکہ ان میں مجمع کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا ہو۔ اس مرحلے پر ان کی زبان اور تلفظ کی بنیادی اغلاط کی نرمی سے اصلاح کی جائے۔

    متوسط درجات میں پہنچنے کے بعد طلباء کو مثلاً موضوعات دے کر انھیں خود مواد اکٹھا کرنے اور خاکہ بنانے کا پابند کیا جائے۔ اس مرحلے پر انھیں سکھایا جائے کہ تقریر کا آغاز کیسے کرنا ہے، دلائل کو کس ترتیب سے پیش کرنا ہے اور بات کو ایک منطقی انجام تک کیسے پہنچانا ہے۔ یہاں صوتی نشیب و فراز اور آئی کانٹیکٹ (مخاطبین سے نظریں ملا کر بات کرنے) کی مشق پر زور دیا جائے۔

    اعلیٰ درجات یعنی دورۂ حدیث اور اس سے متصل درجات کے طلباء کو مثلاً فی البدیہہ (بغیر تیاری کے) بولنے کی مشق کروائی جائے۔ انھیں اچانک کوئی عصری یا فقہی وغیرہ موضوع دے کر چند منٹ کے لیے اپنے خیالات کے منظم اظہار کا موقع دیا جائے۔ اس سطح پر انھیں مناظرانہ اور جارحانہ اسلوب سے نکال کر داعیانہ، مشفقانہ اور استدلالی اسلوب کا عادی بنایا جائے؛ تاکہ جب وہ عملی زندگی اور میدانِ عمل میں قدم رکھیں، تو ہر طبقۂ فکر اور ہر ذہنی سطح کے لوگوں کو حکمت و بصیرت کے ساتھ اللہ کے دین کی طرف بلا سکیں۔

اخیر میں ایک اہم مشورہ

    ایسا ممکن ہے کہ بسا اوقات اداروں کی انتظامیہ، نیز دیگر کچھ اساتذہ کو بھی، تمرینِ خطابت کے سلسلے میں انجمنوں کی چلی آرہی موجودہ روش پر ہی اصرار ہو اور وہ مذکورہ بالا انداز کی تبدیلیوں کے لیے آمادہ نہ ہوں۔ ایسے میں نہ بد دل ہونا چاہیے، نہ مایوس اور نہ ہی انتظامیہ وغیرہ سے بد گمان ہوکر بد زبان اور بد اخلاق بننا اور لڑنا جھگڑنا چاہیے! نہیں، بلکہ صبر و انتظار اور دعاؤں کے اہتمام کے ساتھ، اخلاص اور خیر خواہی کے جذبہ سے، مناسب موقعوں پر اچھے شائستہ اور احترام والے انداز میں باتیں اور افادیت سمجھاتے رہنا چاہیے۔ اگر کچھ بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے تو صرف اِسی طریقہ سے، ورنہ بلا اقتدار و اختیار مقابل، مخالف اور حریف بن کر کچھ خاص حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ نیز اجتماعی کاموں میں اجتماعیت بھی اِس تحمل کے بغیر بر قرار نہیں رہ سکتی۔

     وفاتِ نبوی (صلی اللہ علیہ و سلم) کے بعد دورِ صدیقی میں، مسیلمۂ کذاب کے ساتھ پیش آنے والی جنگِ یمامہ میں، متعدد حفاظِ قرآن کی شہادت کے بعد، حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کی پیش کردہ جمعِ قرآن کی تجویز پر، کہ اب قرآنِ مجید کو سرکاری ریکارڈ میں لے لیا جائے، حضرت ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کو شروع میں شرحِ صدر نہیں تھا اور اس کی وجہ یہی تھی کہ میں وہ کام کیسے کروں جو حضور (صلی اللہ علیہ و سلم) نے نہیں کیا؟! حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) حضرت ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کو سمجھاتے رہے کہ بخدا یہ کام بہتر ہے؛ تاکہ قرآن کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہ رہے! دونوں بزرگوں کے درمیان کچھ وقت تک تبادلۂ خیال ہوتا رہا یہاں تک کہ حضرت ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کو بھی شرحِ صدر ہوگیا۔

    تو یہی مناسب طریقہ ہے، اِسی کو اپنانا چاہیے۔ اگر تبدیلی آگئی تو کیا کہنے!! ورنہ درست طریقہ سے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کا اجر کبھی ضائع نہیں ہوتا اور اُن کے مفید اثرات کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی شکل میں ضرور ظاہر ہوکر رہتے ہیں اور من جانب اللہ بندوں میں قبولیت حاصل ہوکر رہتی ہے!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے