کیا خواتین اور مرد حضرات بریسلٹ پہن سکتے ہیں؟


(سوال):

     کیا لڑکیاں اور خواتین اپنے ہاتھوں میں بریسلٹ پہن سکتی ہیں؟ اگر پہن سکتی ہیں تو کیا پلاسٹک کی موتیوں وغیرہ سے تیار کیا ہوا بریسلٹ پہن سکتی ہیں؟ نیز کیا وہ اپنے نام وغیرہ کا بریسلٹ پہن سکتی ہیں؟ اور کیا لڑکے اور مرد حضرات اپنے ہاتھوں میں بریسلٹ پہن سکتے ہیں؟ 

(رہنمائی):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ایک تعلیمی انفوگرافک جس کا عنوان 'بریسلٹ پہننے کا شرعی حکم' ہے۔ تصویر کے بائیں جانب ایک خاتون کو باوقار انداز میں بریسلٹ پہنے دکھایا گیا ہے، جبکہ دائیں جانب ایک مرد اسے پہننے سے پرہیز کا اشارہ کر رہا ہے۔ درمیان میں چار نکات درج ہیں: خواتین کے لیے (محرموں سے چھپا کر) اجازت، پلاسٹک موتیوں کا جواز، نام والے بریسلٹ کی درستی، اور مردوں کے لیے اس کی ممانعت۔
بریسلٹ پہننے سے متعلق اہم شرعی احکامات کی جامع وضاحت، جس میں خواتین کے لیے شرائط اور مردوں کے لیے ممانعت کو واضح کیا گیا ہے۔

بریسلٹ پہننے کی شرعی حیثیت

     اسلام میں زینت اور آرائش اختیار کرنے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن اس کے لیے شرعی حدود اور آداب کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ بریسلٹ (بازوبند) بھی زینت کا ایک ذریعہ ہے۔ شرعی نقطۂ نظر سے، خواتین کے لیے زینت کے سامان استعمال کرنے کی اجازت ہے، بشرطیکہ وہ غیر محرموں کے سامنے اپنی اُس زینت کو ظاہر نہ کریں۔ چنانچہ قرآنِ مجید کی سورۂ نور کی آیت نمبر ٣١ کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ خواتین اپنی زینت کو غیر محرموں سے چھپائیں، ہاں وہ اپنے شوہروں، محرموں، یا دیگر خواتین کے سامنے زینت کو ظاہر کرسکتی ہیں۔ لہٰذا، اگر بریسلٹ محرموں یا خواتین کے سامنے پہن کر رہا جائے تو اس میں کوئی شرعی حرج نہیں ہے۔

پلاسٹک کی موتیوں سے تیار کردہ بریسلٹ پہننے کی اجازت

     اسلام میں زینت کے سامان کی اجازت ہے، چاہے وہ سونے، چاندی، موتی، یا کسی اور مواد سے بنا ہو۔ پلاسٹک کی موتیوں سے تیار کردہ بریسلٹ بھی زینت کا ایک ذریعہ ہے۔ شرعی نقطۂ نظر سے، اگر یہ بریسلٹ غیر محرموں کے سامنے نہ پہنا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اگر پلاسٹک کی موتیوں میں کوئی ایسا عنصر ہو جو شرعاً ناپسندیدہ ہو (مثلاً، اگر وہ کسی غیر اسلامی علامت یا تصاویر پر مبنی ہو)، تو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔

اپنے نام یا کسی اور لفظ کا بریسلٹ پہننے کی اجازت

     خواتین کے لیے اپنے نام یا کسی بھی مثبت لفظ کا بریسلٹ پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ وہ لفظ یا نام شرعاً جائز ہو۔ مثلاً، اگر کوئی خاتون اپنے نام، کسی قرآنی آیت، یا کسی نیک لفظ (مثلاً "رحمت"، "برکت") کا بریسلٹ پہنتی ہے تو یہ جائز ہے۔ لیکن اگر کوئی ایسا لفظ یا نام ہو جو شرعاً ناپسندیدہ ہو (مثلاً، کسی دیوی/دیوتا کا نام یا کوئی شرکیہ کفریہ علامت وغیرہ)، تو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔

حکمتِ شرعیہ اور اجتماعی فائدہ

     اسلام نے زینت کو جائز رکھا ہے، لیکن اس کے لیے حدود مقرر کی ہیں تاکہ اجتماعی اخلاق اور فطرتِ سلیمہ کی حفاظت ہو۔ زینت کا مقصد خواتین کی شخصیت کو اجاگر کرنا نہیں، بلکہ ان کی شان کو محفوظ رکھنا ہے۔ لہٰذا، اگر بریسلٹ یا کوئی اور زینت کا سامان شرعی حدود کے اندر رہ کر استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ فطرتِ انسانی کے مطابق بھی ہے۔

مردوں کے لیے زیورات کے استعمال کا عمومی شرعی ضابطہ

     اسلامی شریعت نے مرد اور عورت کی فطرت، مزاج اور سماجی کردار کے فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے دونوں کے لیے زینت اور لباس کے الگ الگ اصول مقرر کیے ہیں۔ مردوں کے لیے اصل یہ ہے کہ وہ اپنی مردانگی اور وقار کو برقرار رکھیں اور ایسی چیزوں سے بچیں جو ان کی فطرت کے مناسب نہ ہوں۔ مردوں کے لیے سونے کا استعمال قطعی طور پر حرام ہے، جبکہ چاندی کا استعمال صرف ایک انگوٹھی کی حد تک جائز ہے جو ساڑھے چار ماشہ (تقریباً 4.37 گرام) سے کم وزن کی ہو۔ انگوٹھی کے علاوہ مردوں کے لیے کسی بھی قسم کے زیورات، جیسے کہ زنجیر، بریسلٹ، کڑا یا ہار پہننا، خواہ وہ چاندی کا ہو یا کسی اور دھات کا، شرعاً ناپسندیدہ اور ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

صنفِ نازک کے ساتھ مشابہت اور اس کے اثرات

     مردوں کے لیے بریسلٹ پہننے کی ممانعت کی ایک بڑی وجہ "تشبہ بالنساء" یعنی عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا ہے۔ بریسلٹ، چوڑیاں اور کڑے تاریخی اور عرفی طور پر خواتین کی زینت کا خاصہ رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں [صحیح بخاری، حدیث نمبر: ٥٨٨٥]۔ اسلام چاہتا ہے کہ مرد کی شخصیت میں رعب، متانت اور وقار ہو، جبکہ نزاکت اور زیورات کا زیادہ استعمال عورت کی فطرت سے میل کھاتا ہے۔ لہٰذا، مردوں کا بریسلٹ پہننا ان کی اپنی فطری شان کے خلاف ہے اور یہ ایک ایسی مشابہت ہے جس سے شریعت نے سختی سے منع کیا ہے۔

غیروں کی نقالی اور اسلامی تشخص کی حفاظت

     ہم مسلمان ہیں، ہمیں اپنی ایک منفرد پہچان اور تشخص برقرار رکھنا چاہیے۔ موجودہ دور میں لڑکوں اور مردوں کا اپنے ہاتھ میں بریسلٹ پہننے کا عمل اکثر مغربی ثقافت یا ایسے طبقات کی نقالی میں کیا جاتا ہے جن کا اسلامی اقدار سے تعلق نہیں ہوتا۔ شریعت نے غیروں کی نقالی (تشبہ بالغیر) سے بھی روکا ہے، خاص طور پر ایسی چیزوں میں جو ان کا خاص شعار یا فیشن بن چکی ہوں۔ مرد جب ایسی چیزیں پہنتا ہے تو اس کا اسلامی تشخص دھندلا جاتا ہے اور وہ اپنی تہذیب کے بجائے دوسری تہذیبوں کا رنگ اپنانے لگتا ہے، جو کہ ایک باوقار مسلمان کے لیے موزوں نہیں ہے۔

دھات، چمڑے یا دھاگے کے بریسلٹ کا حکم

     بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مردوں کے لیے شاید صرف سونے یا چاندی کا بریسلٹ منع ہے اور چمڑے، دھاگے یا اسٹیل کا بریسلٹ پہنا جاسکتا ہے۔ جبکہ ممانعت کی وجہ صرف دھات نہیں بلکہ وہ "زینت" ہے جو مردوں کے لیے موزوں نہیں قرار دی گئی ہے اور جس میں عورتوں کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا فیشن کے طور پر پہنے جانے والے کسی بھی قسم کے بریسلٹ سے مردوں کو بچنا چاہیے، کیونکہ یہ فساق و فجار (نافرمانوں) کا طریقہ بھی ہے اور عورتوں کی مشابہت کا ذریعہ بھی۔

طبی ضرورت اور استثنائی صورت

     ہاں اگر کوئی شخص طبی ضرورت کے تحت کوئی مخصوص کڑا یا بریسلٹ پہنتا ہے، مثلاً بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے یا کسی اور بیماری کے علاج کی غرض سے ڈاکٹر نے مشورہ دیا ہو، تو ایسی صورت میں اسے پہننا جائز ہے کیونکہ یہ زینت کے لیے نہیں بلکہ "تداوی" (علاج) کے لیے ہے۔ ضرورت اور علاج کی حالت میں شریعت احکام میں وسعت پیدا کرتی ہے، لیکن جیسے ہی وہ ضرورت ختم ہو جائے، اسے اتار دینا ہی تقاضائے احتیاط ہے۔

خلاصہ

     خلاصہ یہ کہ خواتین بریسلٹ پہن سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ غیر محرموں کے سامنے نہ پہنا جائے۔ پلاسٹک کی موتیوں سے تیار کردہ بریسلٹ پہننے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ وہ شرعی حدود کے اندر ہو۔ اور اپنے نام وغیرہ کا بریسلٹ پہننا جائز ہے، بشرطیکہ وہ لفظ یا نام شرعاً جائز ہو۔
     مردوں اور لڑکوں کے لیے فیشن کے طور پر ہاتھوں میں کسی بھی قسم کا بریسلٹ پہننا شرعاً جائز نہیں ہے۔ یہ عورتوں کے ساتھ مشابہت اور مردانہ وقار کے منافی عمل بھی ہے۔ ایک مسلمان مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی زینت کو ان حدود میں رکھے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مقرر فرمائی ہیں تاکہ اس کی شخصیت میں وہ ایمانی حلاوت اور اسلامی شان نظر آئے جو ایک حقیقی مسلمان مرد کا خاصہ ہونی چاہیے۔
(واللہ اعلم بالصواب.)
============================================= =============================================
(کچھ ضروری باتیں)
  • یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
  • اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
  • آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "سوال پوچھیں" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
  • اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے