(سوال):
ایک شخص کو پانچ لاکھ روپے کی ضرورت تھی، دوسرے شخص نے اُسے پانچ لاکھ روپے اِس شرط پر دیے کہ وہ اپنا گھر اُس کے پاس بطورِ رہن (Security/Collateral) رکھوائے گا۔ رقم دینے والے شخص نے اُس گھر کو قبضے میں لینے کے بعد، اُسی گھر کے مالک کے بھائی کو دس ہزار روپے ماہانہ کرائے پر دے دیا، اور یہ طے پایا کہ جب تک اصل رقم (پانچ لاکھ روپے) واپس نہیں کی جائے گی، تب تک یہ کرایہ وصول کیا جاتا رہے گا۔ کیا شرعی طور پر اِس طرح کا معاملہ کرنا اور اِس سے حاصل ہونے والا کرایہ وصول کرنا جائز ہے؟
(رہنمائی):
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
![]() |
| اسلامی مالیات میں رہن (گروی) پر سود کی ممانعت اور مشارکہ و اجارہ جیسے جائز متبادلات کی تفصیلی انفوگرافک |
رہن کی شرعی حقیقت اور مقصد
اسلامی شریعت میں "رہن" کا بنیادی مقصد قرض کی واپسی کو یقینی بنانا اور قرض خواہ کے اطمینان کے لیے ایک ضمانت فراہم کرنا ہوتا ہے۔ شئے مرہون (رہن رکھی گئی چیز) کی ملکیت قرض دار ہی کی باقی رہتی ہے، قرض خواہ صرف اس کا محافظ ہوتا ہے۔ رہن ایک وثیقہ ہے، نفع کمانے یا تجارت کا ذریعہ نہیں ہے۔ اور شریعت نے قرض کو ایک ہمدردی اور تعاون کا معاملہ قرار دیا ہے، اسے کاروبار میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی؛ تاکہ معاشرے کے ضرورت مند افراد کا استحصال نہ ہو سکے۔
قرض پر نفع کی ممانعت اور سود کا پہلو
یہ ایک مشہور اور مسلمہ قاعدہ ہے کہ "کُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفعاً فَهُوَ رِبًا" (ہر وہ قرض جو کسی نفع کو کھینچ کر لائے، وہ سود ہے)۔ زیرِ بحث معاملے میں قرض دینے والا شخص پانچ لاکھ روپے کے بدلے نہ صرف اپنی رقم کی واپسی کی ضمانت حاصل کر رہا ہے، بلکہ اس رہن رکھی گئی پراپرٹی سے ماہانہ دس ہزار روپے نفع بھی کما رہا ہے۔ اگرچہ یہ کرایہ قرض دار کے بھائی سے لیا جا رہا ہے، لیکن چونکہ یہ نفع براہِ راست اس قرض کے معاملے کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے اور مرہونہ مکان کی وجہ سے حاصل ہو رہا ہے، اس لیے یہ صریحاً سود کے زمرے میں آتا ہے۔ قرض خواہ کے لیے مرہونہ چیز سے کسی بھی قسم کا فائدہ اٹھانا، چاہے وہ سکونت ہو یا کرایہ، جائز نہیں ہے۔
معاملے کی شرعی حیثیت اور فساد
یہ معاملہ شرعی طور پر ناجائز اور حرام ہے۔ اس میں دو بڑی خرابیاں موجود ہیں۔ اول یہ کہ قرض خواہ ایسی چیز سے نفع اٹھا رہا ہے جو اس کی ملکیت نہیں ہے، اور دوم یہ کہ یہ نفع "قرض" کے عوض حاصل ہو رہا ہے۔ رہا یہ پہلو کہ مکان بھائی کو کرائے پر دیا گیا ہے، تو یہ محض ایک حیلہ ہے تاکہ سود کو کرائے کا نام دیا جا سکے۔ اگر یہ قرض کا معاملہ نہ ہوتا تو قرض خواہ کو اس مکان پر قبضے اور اسے کرائے پر دینے کا مزعومہ حق بھی حاصل نہ ہوتا۔ لہذا، اس مکان سے حاصل ہونے والا تمام کرایہ "ربا" (سود) ہے، جس کا لینا اور دینا دونوں سخت گناہ ہیں۔ اگر مرہونہ چیز سے کوئی نفع حاصل کیا جائے تو وہ قرض دار کا حق ہوتا ہے یا اسے اصل قرض میں سے منہا (Subtract) کرنا ضروری ہوتا ہے، ورنہ وہ سود بن جاتا ہے۔
حکیمانہ مشورہ اور متبادل راہ
اسلامی تعلیمات کا تقاضا یہ ہے کہ ہم مشکل میں گھرے بھائی کی مدد خالص اللہ کی رضا کے لیے کریں۔ اگر کسی شخص کو رقم کی ضرورت ہے تو اسے "قرضِ حسنہ" دیا جائے جس پر کسی دنیاوی نفع کی شرط نہ ہو۔ اگر قرض خواہ کو اپنے سرمائے کے تحفظ کا اندیشہ ہو تو وہ گھر کو بطورِ رہن اپنے قبضے میں تو رکھ سکتا ہے، لیکن اسے استعمال کرنے یا کرائے پر چڑھانے کا اسے کوئی حق نہیں ہے۔
اور اگر نفع ہی کمانا مقصود ہو تو پھر "رہن" کے بجائے "مشارکتِ متناقصہ" (Diminishing Partnership) یا "اجارہ منتھی بالتملیک" (Lease-to-Own) وغیرہ جیسے جائز طریقے اپنائے جا سکتے ہیں۔ لیکن سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال میں قرض خواہ پر لازم ہے کہ وہ اب تک وصول کیا گیا کرایہ یا تو قرض دار کو واپس کرے یا اسے اصل قرض (پانچ لاکھ) کی رقم میں سے کم کر دے، اور آئندہ کے لیے اس سودی معاملے سے توبہ کرے۔
امید ہے کہ یہ مفصل جواب آپ کی تشفی اور صحیح شرعی سمت کی تعیین کے لیے معاون ثابت ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رزقِ حلال کمانے اور سود جیسی لعنت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(واللہ اعلم بالصواب.)
=============================================
=============================================
(کچھ ضروری باتیں)
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "سوال پوچھیں" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!
.png)
0 تبصرے