کیا منگنی کے بعد گناہ سے بچنے کے لیے موبائل فون پر خفیہ نکاح کرلینا ٹھیک ہے؟

     ہمارے علاقے میں ایک عام رواج ہے کہ لڑکے اور لڑکی کی کم عمری (تقریباً 16 یا 17 سال کی عمر) میں ہی منگنی کر دی جاتی ہے، جبکہ ان کی باقاعدہ شادی اور رخصتی ایک خاصے طویل عرصے کے بعد (جب وہ شادی کی قانونی عمر کو پہنچتے ہیں) طے پاتی ہے۔ اس طویل درمیانی عرصے میں اب شہر کے نوجوانوں میں ایک عام رواج بن چکا ہے کہ وہ عید اور دیگر تہواروں کے موقع پر، بلکہ عام دنوں میں بھی، واٹس ایپ (WhatsApp) پر آپس میں چیٹنگ اور بات چیت کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں۔ شرعی اعتبار سے چونکہ وہ ابھی تک نکاح کے حلال دائرے میں شامل نہیں ہوئے ہوتے، اس لیے ان کا یہ طرزِ عمل شرعاً ممنوع اور حرام ہے۔

     اس گناہ اور نافرمانی سے بچنے کے لیے اب بعض لوگوں نے یہ ترکیب اختیار کی ہے کہ وہ خفیہ نکاح کر لیتے ہیں۔ چونکہ 17 یا 18 سال کی عمر میں لڑکی یا لڑکے والوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ باقاعدہ طور پر مسجد میں بڑے پیمانے پر نکاح، برادری کی دعوت اور رخصتی وغیرہ کرسکیں، اس لیے یہ طریقہ اپنایا جاتا ہے کہ صرف لڑکے کے ماں باپ اور لڑکی کے ماں باپ کو اس کی اطلاع ہوتی ہے اور ان کی رضامندی سے کوئی بھی شخص ان کا نکاح پڑھا دیتا ہے۔

     اب صورتحال یہ ہے کہ میرے ایک بہت قریبی اور بچپن کے دوست کو بھی یہی مسئلہ درپیش ہے اور وہ بھی اسی طریقے سے خفیہ نکاح کرنا چاہتا ہے۔ چونکہ میرا اس کے ساتھ بہت گہرا اور قریبی تعلق ہے، تو میرے دوست کا کہنا ہے کہ میں ہی ان کا یہ نکاح پڑھا دوں۔ اس نکاح کی ترتیب یہ طے کی گئی ہے کہ کسی تیسرے کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی، بس صرف لڑکا، اس کے والد صاحب اور لڑکی والے ہوں گے۔ لڑکی والے اپنے ہی گھر پر موجود ہوں گے اور یہ نکاح موبائل فون (کال) کے ذریعے پڑھایا جائے گا، یعنی لڑکی والے اپنے گھر سے فون پر لائن پر ہوں گے اور اس طرح جو طریقۂ کار ہوتا ہے، اس کے مطابق نکاح پڑھایا جائے گا۔

آپ سے درج ذیل امور پر رہنمائی درکار ہے:-

 1. کیا نوجوانوں کو گناہ سے بچانے کی غرض سے، والدین کی اطلاع اور رضامندی کے ساتھ اس طرح کا ''خفیہ نکاح'' کرنا درست ہے؟

 2. کیا ایک دوست کی حیثیت سے میرے لیے ایسا نکاح پڑھانا مناسب ہوگا؟

 3. سب سے اہم بات یہ کہ لڑکی والوں کے اپنے گھر پر دور ہونے کی صورت میں، موبائل فون کے ذریعے نکاح پڑھانے کی حیثیت کیا ہے؟ کیا اس طرح نکاح منعقد ہو جائے گا؟ اگر یہ طریقۂ کار درست نہیں ہے، تو اس کی صحیح اور متبادل شکل کیا بن سکتی ہے؟


لکڑی کی میز پر کھلا ہوا نکاح کا رجسٹر، قلم، موبائل فون، مہر، تسبیح اور پس منظر میں دینی کتب، جو فون پر نکاح اور شرعی رہنمائی کے موضوع کو ظاہر کر رہے ہیں۔
موبائل فون پر نکاح کے معاملہ، وکالت اور نکاح نامے کی عکاسی کرتا ایک پروقار منظر


     آپ کے علاقہ کے معاشرتی تناظر اور نوجوان نسل کو گناہ سے بچانے کے جذبے کے تحت جو صورتحال آپ نے بیان کی ہے، وہ یقیناً بڑی توجہ کی متقاضی ہے۔ اس پورے معاملے کا ایک گہرا حکیمانہ جائزہ لینا ضروری ہے؛ تاکہ نوجوانوں کی رہنمائی بھی ہو اور حدود کی پامالی بھی نہ ہو۔

منگنی کی حیثیت اور خفیہ نکاح کا معاملہ 

     جہاں تک منگنی کے بعد لڑکے اور لڑکی کے درمیان عام بات چیت، ملاقات یا سوشل میڈیا پر رابطوں کا تعلق ہے، تو یاد رکھنا چاہیے کہ منگنی محض ایک وعدۂ نکاح ہوتی ہے، اس سے دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال نہیں ہو جاتے۔ جب تک باقاعدہ شرعی نکاح منعقد نہ ہوجائے، وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی (ناجائز) ہی رہتے ہیں، اور ان کا آپس میں بلا ضرورت بات چیت کرنا یا تنہائی اختیار کرنا گناہ اور فتنہ کا باعث ہے۔ اس فتنہ سے بچنے کے لیے بعض لوگوں کا "خفیہ نکاح" کا راستہ اختیار کرنا، اگرچہ گناہ سے بچنے کی ایک کوشش معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کی حیثیت کو سمجھنا لازم ہے۔ نکاح کی صحت کے لیے کم از کم دو مسلمان عاقل و بالغ مردوں (یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی اور ان کا ایک ہی مجلس میں ایجاب و قبول کو بذاتِ خود سننا شرطِ لازم ہے۔ اگر لڑکے اور لڑکی کے والدین کی رضامندی ہو اور ان کی موجودگی میں کم از کم دو شرعی گواہ بھی اس مجلسِ نکاح میں موجود ہوں، تو ایسا نکاح منعقد ہو جاتا ہے، خواہ عام لوگوں کو اس کی اطلاع نہ ہو۔ تاہم، اسلام میں نکاح کے اعلان پر بہت زور دیا گیا ہے؛ تاکہ معاشرے میں کسی بھی قسم کی تہمت، بدگمانی یا بعد میں پیدا ہونے والے حقوق کے تنازعات (جیسے نسب کا ثبوت یا وراثت کے پیچیدہ مسائل وغیرہ) سے بچا جاسکے۔ اس لیے، اگرچہ گواہوں کی موجودگی میں ایسا نکاح درست ہوجاتا ہے، لیکن اسے مکمل طور پر خفیہ رکھنا اور معاشرے کو لا علم رکھنا کچھ خاص پسندیدہ نہیں ہے، اور اس سے بچنا ہی بہتر ہے۔

موبائل فون پر نکاح اور اتحادِ مجلس کی شرط

     اب اِس معاملے کے دوسرے اور سب سے اہم تکنیکی پہلو کی طرف آتے ہیں، جو کہ موبائل فون یا کال کے ذریعے نکاح پڑھانے کا طریقہ ہے۔ نکاح کے انعقاد کے لیے یہ شرط ہے کہ ایجاب (پیشکش) کرنے والا اور قبول کرنے والا دونوں ایک ہی فزیکل مجلس (جگہ) میں موجود ہوں، اور گواہان بھی اسی مجلس میں بیٹھ کر ان دونوں کے الفاظ کو بیک وقت سنیں۔ موبائل فون، ویڈیو کال یا انٹرنیٹ کے ذریعے جب دو لوگ الگ الگ مقامات پر موجود ہوں، تو ان کی مجلس ایک نہیں ہوتی؛ کیونکہ الیکٹرانک لہریں یا آواز کا منتقل ہونا دو دور دراز مقامات کو حقیقی مجلس میں تبدیل نہیں کرسکتا۔ چنانچہ، اگر آپ فون کال پر ایک طرف سے خطبہ پڑھیں اور لڑکا اپنے گھر بیٹھ کر فون پر "قبول کیا" کہے، جبکہ لڑکی اور اس کے گواہ دوسرے گھر میں ہوں، تو ایسا نکاح غیر معتبر ہوگا، اور اس کے بعد بھی وہ لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہی رہیں گے۔ لہٰذا، براہِ راست موبائل فون پر نکاح پڑھانے کی یہ شکل ٹھیک نہیں ہے اور آپ کو ایک دوست اور ذمہ دار مسلمان ہونے کے ناطے اس طریقے سے نکاح پڑھانے سے صاف انکار کر دینا چاہیے۔

بہتر متبادل: وکالت کے ذریعے نکاح کا صحیح طریقہ

     اگر وہ نوجوان واقعی گناہ سے بچنا چاہتے ہیں اور باقاعدہ رخصتی سے پہلے نکاح کے بندھن میں بندھنا ہی مقصود ہے، تو اس کا ایک بالکل صحیح اور آسان طریقۂ کار موجود ہے جسے "وکالت" کہا جاتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ لڑکا (جو دوسری جگہ موجود ہے) نکاح کی مجلس قائم ہونے سے پہلے فون پر آپ کو یا لڑکی کے گھر موجود کسی بھی قابلِ اعتماد شخص کو اپنا "وکیلِ نکاح" مقرر کر دے، اور یہ کہہ دے کہ "میں نے آپ کو فلاں لڑکی سے اتنے مہر کے عوض میرا نکاح کرنے کا وکیل بنایا۔" اس کے بعد آپ (یا وہ مقرر کردہ وکیل) لڑکی کے گھر جائیں، جہاں لڑکی کا والد (ولی) اور کم از کم دو عاقل و بالغ مسلمان مرد بطور گواہ موجود ہوں۔ اب اس مجلس میں، آپ لڑکے کے وکیل کی حیثیت سے گواہوں کے سامنے کہیں گے کہ "میں نے اپنے مؤکل (لڑکے کا نام) کا نکاح، جس نے مجھے اپنا وکیل بنایا ہے، لڑکی (لڑکی کا نام) سے اتنے مہر کے عوض کر دیا،" اور لڑکی کے والد یا لڑکی خود اسے قبول کرلے۔ اس صورت میں چونکہ لڑکے کا قائم مقام (وکیل) اور لڑکی کا فریق ایک ہی مجلس میں موجود ہوں گے اور گواہان بھی وہاں سن رہے ہوں گے، اس لیے "اتحادِ مجلس" کی شرط پوری ہو جائے گی اور یہ نکاح سو فیصد درست اور نافذ العمل ہو جائے گا۔ اِس طریقے پر عمل کر کے وہ کسی بھی قسم کے ناجائز معاملے یا باطل نکاح کے گناہ سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے