اگر لے پالک بچہ یا بچی کے سرکاری یا غیر سرکاری کاغذات (مثلاً برتھ سرٹیفیکیٹ، اسکول وغیرہ کا داخلہ فارم اور پاسپورٹ وغیرہ) میں ماں باپ یا اُن میں سے کسی ایک کا نام لکھنا ہو تو جنم دینے والوں کا نام لکھنا چاہیے یا پالنے والوں کا؟ اور کیا وہ بچہ یا بچی پالنے والوں کو "امی" اور "ابو" کہہ کر اور اُن کے بچوں کو "بھائی" اور "بہن" کہہ کر اور ایسے ہی دوسرے متعلقین کو اُن کے رشتوں کے ناموں کے ساتھ (مثلاً: چچا، پھوپھی، خالہ، ماموں وغیرہ) پکار سکتا/ سکتی ہے؟ اِسی طرح، اُس کے بالغ ہونے کے بعد اُس کا اپنے پالنے والوں اور اُن کے متعلقین سے پردہ رہے گا یا نہیں؟ نیز نکاح، محرم و نامحرم اور وراثت وغیرہ امور و معاملات کی تفصیلات پر بھی روشنی ڈالیں۔
![]() |
| پرورش کرنے والوں کی موجودگی میں، اُن کی لے پالک بچی کے کاغذات کے اندراج کی عکاسی |
یتیموں، بے سہاروں اور
غریب بچوں کی کفالت اور پرورش کرنا ایک بڑا کارِ خیر ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی اِس معاملہ میں خاندانی نظام، وراثت، پردے اور نسب وغیرہ کے
حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرنا بھی بہت ہی اہم اور ضروری ہے؛ تاکہ معاشرے میں کسی قسم
کا اختلاطِ نسب یا حقوق کے معاملہ میں کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ اس
معاملہ کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی اور اصولی جواب ذیل میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
سرکاری اور غیر سرکاری کاغذات میں ولدیت کا اندراج
کسی بھی بچے کا حقیقی نسب اور اُس کی خاندانی پہچان اس کے اپنے سگے والدین یعنی جنم دینے والوں سے ہی ثابت ہوتی ہے اور اسے کسی بھی صورت میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ قرآنِ کریم کے سورۂ احزاب میں اللہ تعالیٰ کا واضح حکم موجود ہے کہ لے پالک بچوں کو ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارا کرو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔ [سورۂ اَحزاب، آیت نمبر: ۵]
اس کی روشنی میں یہ بات بالکل طے شدہ ہے کہ بچے کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری کاغذات، خواہ وہ برتھ سرٹیفیکیٹ ہو، اسکول کا داخلہ فارم ہو، پاسپورٹ ہو یا شناختی کارڈ وغیرہ، ان سب میں ولدیت کے خانے میں بچے کے حقیقی والدین (جنم دینے والوں) کا نام ہی لکھا جانا لازم ہے۔ اگر کوئی شخص محض محبت میں یا قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے اپنا نام بطورِ باپ درج کرواتا ہے تو یہ درست نہیں ہے؛ کیونکہ اس سے اختلاطِ نسب (خاندانوں اور نسلوں کا خلط ملط ہوجانا) لازم آتا ہے، جو کہ سختی سے منع ہے۔ البتہ کاغذات میں جہاں سرپرست (Guardian) کا خانہ موجود ہو، وہاں پالنے والے اپنا نام بلا جھجھک لکھ سکتے ہیں۔
اگر بچے کے حقیقی والدین کا بالکل ہی کوئی علم نہ ہو، جیسا کہ لاوارث
بچوں کے معاملے میں ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں والدین والا خانہ خالی چھوڑ دینا چاہیے، یا اگر کسی وجہ سے اُس خانہ کو پُر کرنا ہی ضروری اور مجبوری ہو تو پھر بچے کی ولدیت میں کسی فرضی نام
(مثلاً عبداللہ یا عبد الرحمٰن اور والدہ کے طور پر امۃ اللہ یا امۃ الرحمٰن وغیرہ) کا اندراج کیا جاسکتا ہے، لیکن تب بھی پالنے والے کے لیے اپنا
نام بطورِ باپ یا ماں درج کرنا درست نہیں ہوگا۔
رشتوں کے ناموں سے پکارنا
جہاں تک لے پالک بچے کی جانب سے
اپنے پالنے والوں کو محبت، عقیدت اور احترام کے جذبے سے "امی" اور
"ابو" کہہ کر پکارنے کا تعلق ہے، تو اِس کی گنجائش ہے۔ یہ ایک انسانی فطری جذبہ ہے، یعنی جب ایک انسان کسی
بچے کو اپنے سگے بچوں کی طرح پالتا ہے، اس کی تمام ضرورتیں پوری کرتا ہے اور اسے
بے پناہ محبت دیتا ہے، تو بچے کے دل میں ان کے لیے والدین جیسے ہی جذبات پیدا ہونا
ایک فطری امر ہے۔ لہٰذا، جب تک حقیقتِ حال اور اصل نسب سب کے ذہنوں میں واضح ہو اور سب کے دلوں میں یہ موجود ہو کہ حقیقی والدین وہ نہیں ہیں، تب تک محض عرفِ عام اور محبت
کے اظہار کے لیے بچے کا اپنے محسنوں کو امی، ابو، اور ان کے دیگر رشتہ داروں کو
چچا، پھوپھی، خالہ یا ماموں کہہ کر پکارنا ٹھیک ہے۔ یہ محض ایک احترامی اور
جذباتی پکار ہے جو کسی ممانعت کے زمرے میں نہیں آتی؛ اس پکار سے نہ تو نسب
تبدیل ہوتا ہے اور نہ ہی دیگر امور و معاملات پر کوئی اثر پڑتا ہے۔
بلوغت کے بعد پردہ اور محرمیت کا تصور
ایک نہایت اہم اور حساس پہلو محرم اور نامحرم کا فرق ہے، جس پر پردے اور تنہائی کے احکام کا دارومدار ہوتا ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ محض کسی بچے کو گود لے لینے، اسے پالنے اور محبت دینے سے وہ بچہ محرم نہیں بن جاتا۔ جب یہ لے پالک بچہ یا بچی بلوغت کی عمر کو پہنچ جائیں، تو ان پر پردے کے وہی احکام لاگو ہوں گے جو کسی بھی دوسرے نامحرم کے لیے مقرر ہیں۔ اگر گود لی گئی بچی ہے، تو بالغ ہونے کے بعد اس کا اپنے منہ بولے باپ، منہ بولے بھائیوں اور دیگر نامحرم رشتہ داروں (جیسے منہ بولے چچا یا تایا) سے پردہ کرنا ضروری ہوگا۔ اسی طرح اگر گود لیا گیا بچہ لڑکا ہے، تو جوان ہونے کے بعد اس سے منہ بولی ماں، منہ بولی بہنوں اور دیگر نامحرم خواتین کو پردہ کرنا ہوگا۔
البتہ اس کا ایک نہایت خوبصورت اور
حکیمانہ حل "رضاعت" (دودھ پلانے) کی صورت میں موجود ہے۔ یعنی اگر گود لیا گیا
بچہ دو سال یا اس سے کم عمر کا ہو اور اس دوران گود لینے والی عورت اسے اپنا دودھ
پلا دے، تو وہ عورت اس بچے کی رضاعی ماں بن جائے گی، اور اس عورت کا شوہر اس
کا رضاعی باپ بن جائے گا۔ اس صورت میں رضاعت کا رشتہ قائم ہو جانے کی وجہ سے وہ
بچہ ان کا محرم بن جائے گا، اور بلوغت کے بعد ان کے درمیان پردے کی پابندی نہیں رہے گی۔ لیکن اگر شیر خوارگی کی عمر میں دودھ پلانے کی نوبت نہیں آئی یا گود لیتے وقت ہی بچہ دو سال سے بڑی عمر کا تھا،
تو پھر بلوغت کے بعد پردے کا اہتمام ہر حال میں لازم ہوگا۔
نکاح اور وراثت کے اصول اور ان کی حکمت
لے پالک بچے اور گود لینے والے خاندان کے درمیان چونکہ کوئی خونی رشتہ موجود نہیں ہوتا (خاص طور پر جبکہ رضاعت بھی ثابت نہ ہو)، اس لیے ان کے درمیان نکاح کے حوالے سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ گود لینے والے والدین کے سگے بچوں اور اس لے پالک بچے یا بچی کے درمیان آپس میں نکاح درست ہے؛ کیونکہ یہ ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہیں۔
اسی طرح حقیقی خاندان اور منہ بولے خاندان کی وراثت کے معاملات بھی بالکل جدا ہیں۔ اسلامی قانونِ وراثت میں حصوں کا تعین خونی رشتوں اور زوجیت کی بنیاد پر کیا گیا ہے، اس لیے لے پالک بچے کا اپنے منہ بولے والدین کی وراثت میں کوئی حصہ مقرر نہیں ہے، اور نہ ہی منہ بولے والدین اس بچے کے ترکے سے وارث بن سکتے ہیں۔ اس کی بنیادی حکمت یہ ہے کہ وراثت حقیقی وارثوں کا حق ہے جسے کسی اور کی طرف منتقل کرنے سے خاندانی نظام میں بگاڑ اور حق تلفی پیدا ہوتی ہے۔ تاہم، یہاں بھی احسان اور صلہ رحمی کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ پالنے والے والدین اگر اس بچے کے معاشی مستقبل کو محفوظ کرنا چاہیں تو وہ اپنی زندگی میں اپنی جائیداد یا مال کا جتنا حصہ چاہیں، اس بچے کو ہبہ (تحفہ) کے طور پر دے کر اُسے اس کا مکمل مالک بناسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنے کل مال کے ایک تہائی (۱/۳) حصے تک اس بچے کے حق میں وصیت بھی کر سکتے ہیں، جو ان کے انتقال کے بعد نافذ ہوگی۔ اس طرح اسلام نے حقیقی وارثوں کے حقوق کا بھی تحفظ کیا ہے اور لے پالک بچے کے ساتھ مالی احسان کرنے کا بہترین راستہ بھی فراہم کیا ہے۔

0 تبصرے