میاں بیوی کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا۔ اس جھگڑے کے دوران بیوی نے ایک کورے کاغذ پر یہ جملہ لکھا کہ: "مجھے طلاق چاہیے۔" شوہر نے اسی کاغذ پر اپنے دستخط (Signature) کردیے اور ساتھ ہی لفظ "طلاق" بھی لکھ دیا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ بالا صورتِ حال میں شوہر کا بیوی کے مطالبے پر دستخط کرنا اور لفظ ''طلاق'' لکھ دینا طلاق واقع ہونے کا سبب بنے گا یا نہیں؟
![]() |
| کاغذ پر لکھی گئی طلاق اور دستخط کے معاملہ کی عکاسی کرتی ایک علامتی تصویر |
نکاح کا تقدس اور طلاق کی حساسیت
اسلام میں نکاح محض ایک دنیاوی معاہدہ نہیں ہے، بلکہ ایک مقدس، مبارک اور مضبوط رشتہ ہے جسے قرآن مجید نے "میثاقِ غلیظ" (انتہائی پختہ عہد) سے تعبیر کیا ہے۔ [سورۂ نساء، آیت نمبر: ٢١] اسلام کا بنیادی مزاج اور منشا یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان یہ رشتہ تاحیات قائم رہے اور اس میں محبت، مودت اور رحمت کے سائے میں نسلِ انسانی کی پرورش ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے طلاق کو جائز تو رکھا ہے؛ تاکہ ناگزیر حالات میں فریقین ایک نہ ختم ہونے والی اذیت سے بچ سکیں، لیکن اسے اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام حلال کاموں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے۔ میاں بیوی کی جانب سے، غصے اور جذبات کی رو میں بہہ کر ایسے انتہائی اقدام کی طرف بڑھنا انتہائی افسوس ناک ہے؛ کیونکہ غصہ انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور بسا اوقات انسان ایسے فیصلے کر گزرتا ہے جن کا ازالہ بعد میں ممکن نہیں ہوتا اور ساری زندگی پچھتاوے کی نذر ہوجاتی ہے۔
تحریری طلاق کے حوالے سے اصول
طلاق جس طرح زبان سے ادا کرنے (زبانی بولنے) سے واقع ہوجاتی ہے، بالکل اسی طرح ایسی واضح اور صریح تحریر (لکھنے) سے بھی واقع ہوجاتی ہے جسے پڑھا جاسکے اور وہ باقاعدہ طور پر مخاطب کے لیے لکھی گئی ہو۔ جب کوئی شوہر طلاق کے ارادے سے یا طلاق کے مطالبے کے جواب میں واضح طور پر کاغذ پر طلاق لکھ دے یا کسی لکھی ہوئی طلاق پر اپنے دستخط ثبت کرکے اس کی توثیق کردے، تو یہ عمل اس کے زبانی طلاق دینے کے ہی قائم مقام سمجھا جاتا ہے اور اس سے طلاق نافذ العمل ہوجاتی ہے۔
مذکورہ واقعے پر اطلاق
آپ کی بیان کردہ صورتِ حال میں بیوی نے جب کاغذ پر اپنا یہ مطالبہ تحریر کیا کہ "مجھے طلاق چاہیے!" اور شوہر نے اس کے جواب میں نہ صرف اس کاغذ پر اپنے دستخط کیے، بلکہ اپنے قلم سے صراحتاً "طلاق" کا لفظ بھی لکھ دیا، تو شوہر کا یہ عمل تحریری طور پر طلاق کو نافذ کرنے کا قطعی ثبوت ہے۔ شوہر کا دستخط کرنا اور طلاق لکھنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس نے بیوی کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی طرف سے طلاق کا حق استعمال کرلیا ہے۔ لہٰذا، اس تحریری عمل کے نتیجے میں بیوی پر ایک طلاق واقع ہو چکی ہے۔ چونکہ طلاق کا لفظ صریح ہے، اس لیے یہ ایک طلاقِ رجعی شمار ہوگی، جس کا مطلب یہ ہے کہ شوہر عدت کے اندر (جو کہ عموماً تین ماہواریاں ہیں) اپنی بیوی سے زبانی یا عملی طور پر رجوع کرسکتا ہے۔ تاہم، اگر یہ مطالبہ کسی مال کے یا مہر کی معافی کے عوض تھا، تو پھر یہ طلاقِ بائن کہلائے گی جس میں تجدیدِ نکاح کے بغیر اکٹھے رہنا درست نہیں ہوتا۔
ضروری نصیحت اور مستند دارالافتاء سے براہِ راست رجوع کا مشورہ
جانبَین کے لیے ہمدردانہ اور پرخلوص نصیحت یہ ہے کہ خاندانی معاملات کو غصے اور ضد کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے تحمل اور بردباری سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ شیطان کا سب سے پسندیدہ عمل میاں بیوی کے درمیان تفریق ڈالنا ہے۔ چونکہ طلاق میاں بیوی اور اُن کی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک انتہائی نازک اور حساس معاملہ ہے، اس لیے محض آن لائن رہنمائی پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے فوری طور پر وہ اصل کاغذ جس پر طلاق اور دستخط ثبت ہیں، لےکر اپنے علاقے کے کسی مستند، معتبر اور مستند مفتیانِ کرام پر مشتمل دارالافتاء میں تشریف لے جائیں۔ وہاں بالمشافہ بیٹھ کر فریقین اپنے پورے حالات، نیت اور کاغذ کی نوعیت وغیرہ وضاحت کے ساتھ بیان کریں؛ تاکہ مکمل، حتمی اور باقاعدہ فتویٰ حاصل ہوسکے اور آپ کی آئندہ زندگی کسی بھی قسم کے شرعی شبہے اور گناہ سے محفوظ رہ سکے۔

0 تبصرے