دینی کلمات کے مخففات اور ڈیجیٹل سلام کی کیا حیثیت ہے؟

     اسلامی اور دعائیہ کلمات کو مخفف کر کے لکھنے (جیسے ترضیہ کے لیے 'رض'، ترحیم کے لیے 'رح' اور درود شریف کے لیے 'SAW' یا 'PBUH') کا رواج کب اور کن وجوہات کی بنا پر شروع ہوا، نیز ان کلمات کو اس طرح مختصر لکھنا کیسا ہے؟

     اسی تناظر میں، موجودہ دور کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز (جیسے واٹس ایپ) پر سلام کو مخفف رومن انگلش (As, Aoa وغیرہ) یا بنے بنائے اسٹیکرز (Stickers) کی صورت میں بھیجنے کا کیا حکم ہے، اور کیا ان تمام مختصر اور مشینی طریقوں سے سلام اور درود و دعا کا اصل شرعی مقصد اور ثواب حاصل ہو جاتا ہے؟


ایک روایتی اسلامی کتب خانے میں دو افراد کا منظر؛ جس میں ایک شخص قلم اور سیاہی سے پرانے کاغذ پر "رض" اور "رح" جیسے دعائیہ مخففات لکھ رہا ہے اور دوسرا شخص موبائل میں واٹس ایپ پر پورا سلام دیکھ رہا ہے۔ پس منظر میں کتابوں کے المارے اور دیوار پر "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ" کا فریم شدہ طغرہ موجود ہے، جبکہ دونوں اشخاص کے چہرے بلر ہیں۔
قدماء کی قلمی تحریروں سے لے کر موجودہ دور کے ڈیجیٹل سلام تک، دینی آداب اور تعظیمی کلمات کا ایک باوقار بصری موازنہ


کلماتِ دعا اور درود و ترضیہ کے مخففات کی تاریخ اور حیثیت

​     تاریخی اعتبار سے دینی اور علمی تحریروں میں تعظیمی و دعائیہ کلمات جیسے "صلی اللہ علیہ وسلم" کے لیے (ص) یا (صلعم)، "رضی اللہ عنہ" کے لیے (رض) اور "رحمۃ اللہ علیہ" کے لیے (رح) کے مخففات استعمال کرنے کا رواج، ایسا معلوم ہوتا ہے (واللہ اعلم)، بعد کے ادوار میں کتب کی نقل نویسی کے دوران شروع ہوا۔ اس کا بنیادی سبب، غالباً، نسخ نویسی کے زمانے میں وقت، کاغذ اور روشنائی کی بچت اور کاتبین کی سُستی یا تیز رفتاری تھی، اور شاید مقصد یہ ہوتا تھا کہ پڑھنے والا جب ان مخففات کو دیکھے تو خود پورا کلمہ اپنی زبان سے ادا کرلے۔

     تاہم، اس طرح کے مخففات کچھ خاص پسندیدہ نہیں ہیں۔ درودِ پاک اور دعائیہ کلمات وغیرہ کو مکمل طور پر لکھنے سے جو برکت، اجر و ثواب اور تعظیم حاصل ہوتی ہے، مخفف لکھنے کی صورت میں انسان اس سے محروم رہ جاتا ہے۔ لہٰذا درودِ شریف کو (ص) یا (صلعم) لکھنا خلافِ ادب ہے، پسندیدہ نہیں ہے؛ کیونکہ یہ محبوبِ خدا (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اسمِ گرامی کی تعظیم کے منافی ہے اور انسان کو قلمی درود کے ثواب سے محروم کردیتا ہے۔

​''SAW'' یا ''PBUH'' وغیرہ لکھنے کی حیثیت

​     موجودہ دور میں انگریزی یا رومن میں نبئ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نامِ نامی کے ساتھ ''SAW'' یا ''PBUH'' اور صحابہ و اولیاء کے لیے ''RA'' یا ''RH'' وغیرہ لکھنا اسی تاریخی سُستی کا جدید اور زیادہ غیر مناسب روپ ہے۔ درود شریف اور ترضیہ کوئی محض تعارفی ٹائٹل یا ڈگری نہیں ہیں کہ جنہیں شارٹ فارم (Acronym) میں درج کردیا جائے، بلکہ یہ باقاعدہ عبادات اور دعائیہ الفاظ ہیں جن کے ذریعے امتی اپنے نبی اور اکابر کے حضور محبت و عقیدت کا ہدیہ پیش کرتا ہے۔

     ان بے روح حروف سے نہ تو درود و سلام کا مفہوم باادب طریقے سے ادا ہوپاتا ہے اور نہ ہی دل میں وہ تعظیمی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو ایک مومن کا شیوہ ہونی چاہیے۔ اسی لیے انگریزی یا رومن میں میں اس طرح مخففات کا استعمال بھی پسندیدہ نہیں ہے؛ اگر انگلش یا رومن میں لکھنا ہی ہو تو پورا "Peace Be Upon Him" یا "Sallallahu Alaihi Wasallam" لکھا جائے یا کم از کم پڑھتے وقت زبان سے کامل درود و سلام کی تلاوت کی جائے۔

​ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ناقص سلام (As, Aoa وغیرہ) اور بنے بنائے اسٹیکرز کا استعمال 

​     سلامِ مسنون اسلام کا ایک عظیم الشان شعار اور باہمی الفت و دعا کا بہترین ذریعہ ہے۔ واٹس ایپ اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر "Aoa"، "As" یا "Wswb" جیسے بے معنی حروف لکھ کر بھیجنا، بھلا یہ بھی کوئی سلام یا جوابِ سلام ہوتا ہے! ان ناقص حروف سے نہ تو سلام کی سنت ادا ہوتی ہے اور نہ ہی مخاطب پر اس کا جواب دینا ضروری ہوتا ہے، نیز سلام بھیجنے والے کو اس کے دس، بیس یا تیس نیکیوں والے اجر سے بھی محروم رہنا پڑتا ہے۔

     جہاں تک واٹس ایپ وغیرہ پر بنے بنائے اسٹیکرز یا تصویری تحریروں کا تعلق ہے، تو اگر اسٹیکر پر واضح اور صحیح عربی یا اردو رسم الخط میں پورا "السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ" لکھا ہوا ہو اور بھیجنے والا سلام ہی کی نیت سے بھیجے، تو اس سے سلام کا مسنون عمل اور تحریری پیغام ادا ہوجاتا ہے اور دریافت کرنے والے پر اس کا جواب دینا بھی لازم ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود انسان کا اپنے ہاتھ سے پورا سلام تحریر کرنا یا زبانی سلام بھیجنا زیادہ افضل اور اخلاص کے قریب تر ہے، کیونکہ محض تیار اسٹیکر بھیجنے میں بعض اوقات رسمی بے توجہی اور میکانکی انداز غالب آجاتا ہے جو الفت و خلوص کی اس روح کو متاثر کرتا ہے جو سلام کا بنیادی مقصد ہے۔

​اصل مقصد کا حصول اور حاصلِ کلام

​     خلاصہ یہ ہے کہ دینِ اسلام میں الفاظ، آداب اور نیت کی سچائی کو محوری حیثیت حاصل ہے۔ تعظیمی و دعائیہ کلمات اور سلام و درود وغیرہ کو مخفف انداز میں یا بے روح اشاروں سے پیش کرنے سے وہ اصل مقصد اور کامل ثواب حاصل نہیں ہوتا جو ان کی مکمل ادائیگی پر مرتب ہوتا ہے۔

     اگرچہ مجبوری یا عمومی تحریر میں ترضیہ و ترحیم (رض، رح) کو صرف پڑھنے والے کی یاد دہانی کے لیے ماضی میں بعض کاتبین نے استعمال کیا ہے، لیکن درود شریف اور سلام کے معاملے میں اختصار اور بے توجہی سے کام لینا محرومی کا باعث ہے۔ مومن کو چاہیے کہ ڈیجیٹل دور کی تیز رفتاری میں اپنے دینی آداب کو قربان نہ کرے، بلکہ سلام و درود جیسے عظیم الشان کلمات کو ان کے تمام تر احترام، مکمل الفاظ اور قلبی حضور کے ساتھ تحریر و تلفظ میں لائے تاکہ دنیاوی مواصلات کے ساتھ ساتھ اخروی برکات بھی حاصل ہوتی رہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے