میں اپنے اندر مغرب سے ٹکر لینے کا جذبہ رکھتا ہوں اور مغرب کے مقابلہ کی خواہش رکھتا ہوں۔ تو اس زمانہ میں مغرب اور مغربی تہذیب کا مقابلہ کس طرح کیا جا سکتا ہے حکمت اور بہادری کے ساتھ؟ اور مغرب اور مغربی تہذیب کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لئے کن چیزوں سے استفادہ مفید ثابت ہوگا؟
![]() |
| ایک تاریخی کتب خانے میں علماء اور طلباء کا علمی مطالعہ |
آپ کا یہ جذبہ کہ آپ باطل نظریات کے مقابلے میں حق کا پرچم بلند کرنا چاہتے ہیں اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے کوشاں ہیں، انتہائی قابلِ قدر اور لائقِ تحسین ہے۔ تاہم، یہ سمجھنا ہوگا کہ عصرِ حاضر میں مغرب سے ٹکر لینے کا مفہوم محض جذباتی نعرہ بازی یا سطحی تصادم ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نہایت گہری فکری، تہذیبی اور علمی کشمکش کا متقاضی ہے۔
مغربی تہذیب کوئی اینٹ گارے سے بنی مادی عمارت نہیں جسے کسی ظاہری ضرب سے گرایا جاسکے، بلکہ یہ افکار، نظریات اور طرزِ حیات کا ایک ایسا ہمہ گیر سیلاب ہے جس نے پوری دنیا کے ذہنوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس لیے حکمت کا اولین تقاضا یہ ہے کہ ہم تصادم اور محض ردِعمل کی نفسیات سے نکل کر دعوت، اصلاح اور متبادل پیش کرنے کی مضبوط نفسیات کو اپنائیں۔
ہمارا بنیادی ہدف مغرب کو تباہ کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ انسانیت کو ان گمراہیوں سے نکال کر ربانی ہدایت کی طرف لانا ہونا چاہیے، جس میں خود اہلِ مغرب کی بھی حقیقی فلاح اور نجات پوشیدہ ہے۔
مغربی تہذیب کی فکری بنیادوں کا عمیق ادراک
مغرب اور مغربی تہذیب کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ ہم اس کی ظاہری اور چکاچوند کر دینے والی مادی ترقی سے مرعوب ہوئے بغیر اس کی فکری جڑوں تک رسائی حاصل کریں۔ مغربی تہذیب کی عظیم الشان نظر آنے والی عمارت دراصل جن بنیادوں پر کھڑی ہے، ان میں وحیِ الٰہی سے بغاوت، سیکولرازم یعنی حیاتِ دنیا کو مذہب سے جدا کرنا، شدید مادیت پرستی، اور مادر پدر آزاد انفرادیت کا غلبہ شامل ہے۔ جب تک ایک طالبِ علم نشاۃ الثانیہ، تحریکِ تنویر، اور صنعتی انقلاب کے بعد پیدا ہونے والے فلسفیانہ افکار کا تنقیدی نگاہ سے مطالعہ نہیں کرتا، وہ مغرب کی اصل کمزوریوں اور اس کے فکری تضادات کو نہیں جان سکتا۔
آپ چونکہ تخصص فی التفسیر کے طالب علم ہیں، اس لیے آپ کے لیے یہ فہم پیدا کرنا اور بھی ضروری ہے کہ قرآنِ حکیم کس طرح جاہلیتِ اولیٰ کے افکار پر کاری ضرب لگاتا ہے، اور بالکل اسی قرآنی منہج کو بروئے کار لاتے ہوئے جدید جاہلیت یعنی مغربی افکار کا عقلی و نقلی تجزیہ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔
اس مقصد کے لیے جدید مغربی فلسفہ، عمرانیات اور سیاسیات کے بنیادی اصولوں سے اصولی واقفیت پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ فکری مرض کی درست تشخیص کی جاسکے اور پھر قرآن کی روشنی میں اس کا شافی علاج تجویز کیا جاسکے۔
حکمت اور جرأتِ رندانہ کا عصری اسلوب
موجودہ دور میں بہادری اور شجاعت محض میدانِ جنگ کی عسکری صلاحیت کا نام نہیں رہا، بلکہ آج کے دور کا سب سے بڑا چیلنج ایک عظیم فکری اور علمی جرأت کا متقاضی ہے۔ مغرب کے ہمہ گیر سیاسی، معاشی اور ابلاغی غلبے کے سامنے احساسِ کمتری کا شکار ہوئے بغیر، پوری خود اعتمادی اور یقینِ کامل کے ساتھ اسلامی تعلیمات کی حقانیت کو دنیا کے سامنے مدلل انداز میں ثابت کرنا بھی آج کی بہت بڑی اور مؤثر بہادری ہے۔
اسی طرح حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم مغرب کی ان سنگین خامیوں اور بحرانوں پر اپنی اور دنیا کی توجہ مرکوز کریں اور کرائیں جن کا وہ اس وقت انتہائی شدت سے شکار ہے، جن میں خاندانی نظام کی مکمل تباہی، بے پناہ مادی ترقی کے باوجود اندھا کر دینے والا روحانی کھوکھلا پن، اخلاقی زوال اور بڑھتے ہوئے نفسیاتی امراض شامل ہیں۔ ہمیں اسلام کو محض چند رسومات یا صرف ایک عباداتی مذہب کے طور پر پیش کرنے کے بجائے، انسانیت کے سامنے اسے ایک مکمل، متوازن اور بے عیب تہذیبی متبادل کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔
اس عظیم مقصد کے لیے ہمیں جدید اسلوب، عصری زبان اور مضبوط عقلی دلائل سے لیس ہونا پڑے گا، اور درحقیقت یہی وہ حکمتِ عملی ہے جس کی تلقین اور تاکید قرآنِ حکیم نے ہمیں دعوتِ دین کے عظیم الشان باب میں قدم قدم پر کی ہے۔
گہرے مطالعے کے لیے فکری مآخذ اور لائحہ عمل
مغربی تہذیب کو اس کی تمام تر جزئیات اور گہرائیوں کے ساتھ سمجھنے اور اس کے بھرپور علمی محاکمے کے لیے آپ کو ایک نہایت وسیع، منظم اور کثیر جہتی مطالعے کی ضرورت ہوگی۔
سب سے پہلے تو ان جلیل القدر مسلم مفکرین کی کتابوں کا بغور مطالعہ اپنی عادت بنا لیں جنہوں نے مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا بے لاگ تجزیہ کیا۔ ان میں مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی شہرۂ آفاق تصانیف بالخصوص "انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر" اور "معرکۂ ایمان و مادیت"، علامہ اقبالؒ کی فکری و فلسفیانہ تشریحات، نیز سید قطب شہیدؒ اور دیگر عصری اسلامی مفکرین کی وہ معرکۃ الآراء کتابیں شامل ہیں جو جدیدیت کا پردہ چاک کرتی ہیں اور اسلامی نظریۂ حیات کی برتری ثابت کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، خود ان صفِ اول کے مغربی دانشوروں کی تصانیف کا مطالعہ بھی بے حد مفید ثابت ہوگا جو اپنی ہی تہذیب کے کھوکھلے پن کے شدید ناقد ہیں، جن میں ایڈورڈ سعید کی "اورینٹلزم" اور پسِ جدیدیت کے دیگر مغربی ناقدین کی بصیرت افروز تحریریں شامل ہیں۔
چونکہ آپ کا خاص میدان تفسیرِ قرآن ہے، اس لیے ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن ہتھیار قرآنِ مجید کا وہ آفاقی اور ابدی پیغام ہی ہونا چاہیے جو ہر دور کے باطل نظریات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ اپنے اس شاندار علمی سفر کو منظم کریں، فلسفے، تاریخ اور تقابلِ ادیان کے ماہر اساتذہ سے مسلسل رہنمائی حاصل کرتے رہیں، اور اپنے اندر غیر معمولی وسعتِ ظرفی اور فکری گہرائی پیدا کریں تاکہ آپ کا یہ مبارک جذبہ مستقبل میں ایک عظیم علمی اور دعوتی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکے۔

0 تبصرے