اسلامی اور مغربی قانون سازی میں بنیادی فرق کیا ہے؟

    اسلامی اور مغربی نظامِ قانون سازی (Legislation) کے بنیادی طریقہ کار اور ان کے نفاذ میں کیا نمایاں فرق ہے؟ مشاہدہ یہ ہے کہ جب مغرب کسی سماجی برائی (مثلاً شراب نوشی) پر پابندی لگاتا ہے اور اس کے لیے باقاعدہ شعوری مہمات (Awareness Campaigns) اور تدارکی پروگرامز چلاتا ہے، تب بھی وہ معاشرے کو پوری طرح اس قانون کا پابند بنانے میں ناکام رہتا ہے۔ اس کے برعکس، اسلام کسی قانون کو نافذ کرنے سے پہلے ایسی کون سی مؤثر حکمتِ عملی اور تدریجی طریقہ کار اختیار کرتا ہے کہ معاشرہ بغیر کسی بڑی مزاحمت کے بخوشی اس قانون کا پابند ہو جاتا ہے؟

    اسلامی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ احکام (جیسے شراب کی حرمت، پردے کے احکام وغیرہ) کے نفاذ کے وقت لوگوں کی ذہنی و قلبی کیفیت اس قدر تیار ہو چکی ہوتی تھی کہ شراب کی پرانی لت کے باوجود ان کی اندرونی فطرت خود ان پابندیوں کا تقاضا کرتی تھی۔ آخر اسلامی قانون سازی کا وہ کیا امتیازی پہلو ہے جو محض بیرونی جبر کے بجائے انسان کے ضمیر اور ذہن کو اس حد تک ہم آہنگ کر دیتا ہے کہ قانون پر عمل درآمد ایک بوجھ کے بجائے دلی رضامندی بن جاتا ہے؟


ایک تمثیلی تصویر جس کے دو حصے ہیں۔ بائیں جانب مغربی معاشرے میں پولیس کے جبر کے ذریعے قانون کا نفاذ اور عوامی مزاحمت دکھائی گئی ہے، جبکہ دائیں جانب اسلامی معاشرے میں لوگ دلی رضامندی سے شراب کے مٹکے گلیوں میں بہا رہے ہیں۔ تصویر میں موجود تمام افراد کے چہرے دھندلے (بلر) رکھے گئے ہیں۔
اسلامی اور مغربی نظامِ قانون کے نفاذ میں فرق کی ایک واضح تمثیل: ریاستی جبر کے مقابلے میں دلی رضامندی


    اسلامی اور مغربی نظامِ قانون سازی میں پایا جانے والا یہ فرق محض طریقۂ کار کا نہیں، بلکہ ان دونوں کے بنیادی فلسفۂ حیات، تصورِ کائنات اور انسانی نفسیات کو سمجھنے کے زاویۂ نگاہ کا نتیجہ ہے۔ جب ہم ان دونوں نظاموں کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں، تو یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام قانون کو محض ایک ریاستی ڈنڈے یا جبر کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک مکمل ضابطۂ حیات کے ناگزیر اور طبعی نتیجے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس کے برعکس، مغربی طرزِ قانون سازی میں قانون عموماً مادی ضرورتوں، وقتی سماجی دباؤ یا اکثریت کی خواہشات کے تابع ہوتا ہے۔ اس فرق کو چند بنیادی اور اصولی پہلوؤں سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔

قانون سازی کے بنیادی فلسفے اور مآخذ کا فرق

    مغربی نظامِ قانون سازی، جسے وضعی قانون (Positive Law) کہا جاتا ہے، خالصتاً انسان کے محدود فہم، تجربات اور سماجی معاہدے (Social Contract) کی پیداوار ہے۔ اس قانون کی بنیاد افادیت پسندی (Utilitarianism) اور مادی فوائد پر استوار ہوتی ہے۔ چونکہ اس کا ماخذ خود انسان ہے، اس لیے اس قانون میں کوئی روحانی تقدس یا الوہی کشش نہیں ہوتی۔ عوام ان قوانین کو محض ایک ریاستی پابندی سمجھتے ہیں اور جیسے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت کمزور پڑتی ہے، لوگ اسے توڑنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ اس کے برعکس، اسلامی قانون کا سرچشمہ وحیِ الٰہی ہے جو انسان کے خالق کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ ایک مسلمان کے لیے اسلامی قوانین کی پابندی محض ایک سماجی معاہدے کی تکمیل نہیں ہے، بلکہ خالقِ کائنات کی بندگی اور عبادت کا حصہ ہے۔ یہ الوہی ماخذ قانون کو ایک ایسا تقدس عطا کرتا ہے کہ انسان اسے بوجھ سمجھنے کے بجائے اپنی روح کی غذا اور آخرت کی نجات کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان جب اسلامی احکام پر عمل کرتا ہے تو اس کے پیشِ نظر صرف پولیس یا عدالت کا خوف نہیں ہوتا، بلکہ اللہ کی رضا اور اس کی ناراضگی کا خوف ہوتا ہے جو اسے تنہائی اور اندھیرے میں بھی قانون شکنی سے باز رکھتا ہے۔

عقیدے اور ضمیر کی تعمیر: قانون کے نفاذ کی اولین شرط

    اسلام کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے سے پہلے معاشرے کا ضمیر اور ذہن تیار کرتا ہے۔ مغربی ممالک جب شراب یا کسی اور سماجی برائی پر پابندی لگاتے ہیں تو ان کے پاس عوام کو قائل کرنے کے لیے صرف طبی نقصانات، معاشی نقصانات یا ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار ہوتے ہیں۔ یہ شعوری مہمات انسان کی عقل کو تو اپیل کرسکتی ہیں، لیکن اس کے نفسانی جذبات اور دیرینہ لت (Addiction) کو شکست دینے کے لیے ناکافی ثابت ہوتی ہیں۔ اسلام نے قانون کے نفاذ سے پہلے مکہ کے تیرہ سالہ دور میں عقیدۂ توحید، رسالت اور آخرت کے ذریعے انسان کے اندر ایک طاقتور "داخلی پولیس" (Internal Conscience) قائم کی۔ جب لوگوں کے دلوں میں یہ بات پوری طرح راسخ ہو گئی کہ اللہ انہیں ہر حال میں دیکھ رہا ہے اور مرنے کے بعد ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے، تب مدینہ کے دور میں عملی احکام نازل کیے گئے۔ جب ضمیر بیدار ہو جائے اور دل میں ایمانی حرارت موجود ہو، تو قانون کا نفاذ معاشرے پر گراں نہیں گزرتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب مدینہ میں شراب کی حرمت کا قطعی حکم آیا تو لوگوں نے اپنے گھروں میں موجود شراب کے مٹکے گلیوں میں بہا دیے، حالانکہ شراب ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی اور اس کے بغیر وہ زندگی کا تصور بھی نہیں کرتے تھے۔

احکام میں تدریج اور انسانی نفسیات کی کامل رعایت

    اسلامی قانون سازی کا ایک انتہائی حکیمانہ اور ماہرانہ پہلو "التدرج في التشريع" یعنی احکام کو بتدریج نافذ کرنا ہے۔ انسان کی نفسیات ہے کہ وہ جن عادات یا رسم و رواج کا عادی ہوچکا ہو، انہیں یکدم ترک کرنا اس کے لیے ناممکنات میں سے ہوتا ہے۔ مغرب کا طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی قانون پاس ہوتا ہے تو وہ راتوں رات پورے معاشرے پر نافذ کردیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ بغاوت، بلیک مارکیٹنگ اور جرائم پیشہ گروہوں (Mafias) کے ابھرنے کی صورت میں نکلتا ہے۔ جیسا کہ انیسویں صدی کی دہائی میں امریکہ میں شراب پر پابندی (Prohibition Era) کے دوران ہوا۔ اس کے مقابلے میں اسلام نے شراب کو بیک جنبشِ قلم حرام قرار نہیں دیا۔ پہلے مرحلے میں صرف یہ احساس دلایا گیا کہ اس میں نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہے۔ دوسرے مرحلے میں حالتِ نشہ میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا، جس نے عملاً دن کے بڑے حصے میں شراب نوشی کی عادت پر ضرب لگائی اور انسان کو اس سے دوری کا عادی بنایا۔ جب معاشرہ ذہنی اور نفسیاتی طور پر مکمل تیار ہو گیا اور لوگوں کے دلوں سے خود یہ آواز اٹھنے لگی کہ کاش اس کے بارے میں کوئی دو ٹوک حکم آجائے، تب آخری اور حتمی مرحلے میں اسے "شیطانی عمل" قرار دے کر قطعی حرام کر دیا گیا۔ یہ تدریجی عمل انسانی فطرت کے عین مطابق تھا جس نے قانون کی اطاعت کو انتہائی سہل بنادیا۔

اخلاقیات، قانون اور معاشرتی ماحول کی ہم آہنگی

    مغربی نظامِ زندگی میں قانون اور اخلاقیات کے درمیان ایک گہری خلیج پائی جاتی ہے۔ وہاں قانون کا تعلق صرف انسان کے ظاہری اور عوامی افعال سے ہے، جبکہ اسلام میں قانون، اخلاقیات اور معاشرتی اقدار ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ اسلام جب کسی چیز سے منع کرتا ہے، تو صرف قانون کا ڈنڈا نہیں چلاتا بلکہ پورے سماجی ماحول کو اس قانون کے لیے سازگار بناتا ہے اور برائی کے تمام محرکات (سدِ ذرائع) کا استیصال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب اسلام نے زنا کو حرام قرار دیا اور پردے کے احکام نازل کیے، تو صرف ایک قانون پاس کر دینا کافی نہیں سمجھا گیا، بلکہ اس کے ساتھ نگاہوں کو نیچا رکھنے (غضِ بصر)، خلوتِ اجنبیہ کی ممانعت، اور نکاح کو آسان بنانے کے احکام بھی دیے۔ یعنی ایک طرف انسان کے اندر تقویٰ پیدا کیا، دوسری طرف معاشرے سے وہ تمام ظاہری اسباب ہٹا دیے جو جذبات کو بھڑکانے کا باعث بن سکتے تھے، اور تیسری طرف فطری تقاضوں کی تسکین کے لیے ایک پاکیزہ اور جائز راستہ (نکاح) ہموار کیا۔ مغرب کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایک طرف تو لبرلزم اور مطلق آزادی کے نام پر معاشرے میں شہوات، جنسی بے راہ روی اور بے حیائی کا سیلاب کھول دیتا ہے اور دوسری طرف ریپ (Rape) اور ہراسانی کے خلاف قوانین بنا کر جرائم کو روکنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ ایسی صورتحال میں قانون سازی کبھی مؤثر نہیں ہو سکتی کیونکہ معاشرے کا مجموعی مزاج اور قانون کا تقاضا ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں۔

    خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اسلامی قانون سازی کی کامیابی کا راز اس کے الوہی ماخذ، انسان کی روحانی و اخلاقی تربیت، انسانی نفسیات کے عین مطابق تدریجی نفاذ اور ایک سازگار اور پاکیزہ معاشرتی ماحول کی فراہمی میں پوشیدہ ہے۔ اسلام پہلے دل کی زمین کو ایمان اور خوفِ خدا سے نرم کرتا ہے، اور پھر اس پر قانون کا بیج بوتا ہے، جس کے نتیجے میں اطاعت اور فرمانبرداری کے وہ حیرت انگیز ثمرات ظاہر ہوتے ہیں جن کی نظیر پیش کرنے سے دنیا کا کوئی بھی وضعی اور انسانی قانون قاصر ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے