"اسلامائزیشن آف ایجوکیشن" کیا ہے؟ فی نفسہ اس کی کیا ضرورت و اہمیت ہے؟ اور اسلامی اعتبار سے اس کی کیا حیثیت ہے؟ کیا موجودہ دور میں یہ دنیا اور انسانیت کی ہمہ جہت بہتری اور ترقی کے لیے واقعی مفید ہے؟ اور اس کا صحیح اور مؤثر طریقۂ کار کیا ہے؟
موجودہ عالمی تعلیمی نظام، جو کہ بنیادی طور پر مغربی نشاۃ الثانیہ کے بعد پیدا ہونے والے سیکولر فلسفے پر کھڑا ہے، جس نے خدا، مذہب اور وحی کو سائنس اور علم سے مکمل طور پر الگ کر دیا ہے، اگر اُس کا اسلامائزیشن نہ کیا جائے، بلکہ من و عن اختیار کرلیا جائے تو اُس سے دنیائے انسانیت کو کیا نقصان ہے؟
![]() |
| عصرِ حاضر میں اسلامی تشکیلِ تعلیم کے فکری اور علمی مباحثے کا ایک بصری خاکہ |
"اسلامائزیشن آف ایجوکیشن" (اسلامی تشکیلِ تعلیم) عصرِ حاضر کے اہم ترین علمی اور فکری مباحث میں سے ایک ہے۔ آپ کے سوالات نہایت جامع ہیں، جنہیں ترتیب وار سمجھنا اس موضوع کی گہرائی کو جاننے کے لیے ضروری ہے۔
"اسلامائزیشن آف ایجوکیشن" کا مفہوم
اسلامائزیشن آف ایجوکیشن سے مراد عصری اور جدید علوم (طبیعیاتی، حیاتیاتی، اور سماجی علوم) کو اسلامی اقدار، اخلاقیات، اور توحید کے کائناتی تصور کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔
اس نظریے کے مفکرین (جن میں سید محمد نقیب العطاس اور اسماعیل راجی الفاروقی نمایاں ہیں) کے نزدیک یہ عمل محض جدید سائنسی کتابوں میں قرآنی آیات شامل کر دینے یا اسکولوں کا نام اسلامی رکھ دینے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ اس کا اصل مقصد علم کی بنیادوں (Epistemology) کو خالص مادی اور سیکولر تصورات سے پاک کر کے، انہیں الٰہیاتی اور اخلاقی فریم ورک (Framework) کے ماتحت لانا ہے۔
ضرورت اور اہمیت
موجودہ عالمی تعلیمی نظام بنیادی طور پر مغربی نشاۃِ ثانیہ کے بعد پیدا ہونے والے سیکولر فلسفے پر کھڑا ہے، جس نے خدا، مذہب اور وحی کو سائنس اور علم سے مکمل طور پر الگ کر دیا ہے۔ اس پس منظر میں اسلامائزیشن آف ایجوکشن کی ضرورت یوں اجاگر ہوتی ہے کہ جدید تعلیم انسان کو ایک بہترین معاشی پرزہ تو بنا دیتی ہے، لیکن اسے زندگی کے حقیقی مقصد اور روحانی سکون سے دور کر دیتی ہے۔ اسلامائزیشن اس خلا کو پر کر کے مادیت اور روحانیت میں توازن پیدا کرتی ہے۔ پھر، کوئی بھی علم غیر جانبدار (Neutral) نہیں ہوتا۔ سائنس ایک طاقت ہے، اور یہ طاقت انسان کو تباہ بھی کر سکتی ہے اور آباد بھی۔ اس علم کو اخلاقی مقاصد کے تابع کرنے کے لیے ایک مضبوط نظریاتی بنیاد کی ضرورت ہے۔ نیز، اسلامائزیشن کا مقصد محض ایک ماہرِ اقتصادیات یا انجینئر پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا انسان (مردِ مومن) تیار کرنا ہے جو اپنے پیشے میں ماہرِ فن ہونے کے ساتھ ساتھ دیانت دار اور خدا ترس بھی ہو۔
اسلامی اعتبار سے اس کی حیثیت
اسلامی نقطۂ نظر سے "اسلامائزیشن آف ایجوکیشن" کوئی نیا دین یا بدعت نہیں، بلکہ قرآن کی بنیادی تعلیمات کا ہی عملی اطلاق ہے۔ کیونکہ اسلام میں علم کو "دین" اور "دنیا" کے متصادم خانوں میں تقسیم نہیں کیا گیا ہے۔ تمام علوم کا حتمی سرچشمہ اللہ کی ذات ہے۔ قرآن کی پہلی وحی "اقرأ باسم ربک" (پڑھیے اپنے رب کے نام سے) اسی حقیقت کا اعلان ہے کہ علم (خواہ وہ کائنات کا ہو یا شریعت کا) خالق کے نام اور اس کی پہچان کے ساتھ جڑا ہونا چاہیے۔ نیز، اسلام انسان کو زمین پر اللہ کا خلیفہ قرار دیتا ہے۔ کائنات پر غور و فکر کرنا، سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرنا تاکہ انسانیت کی خدمت کی جا سکے، یہ محض دنیاوی کام نہیں بلکہ ایک کارِ ثواب اور اسلامی فریضہ (فرضِ کفایہ) ہے۔
موجودہ دور میں دنیا اور انسانیت کے لیے افادیت
کیا یہ آج کے دور میں دنیا کے لیے واقعی مفید ہے؟ اس کا جواب بلاشبہ اثبات میں ہے، بشرطیکہ اسے تنگ نظری کے بجائے اس کی آفاقی اور حقیقی روح کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ آج دنیا کو سائنس یا ٹیکنالوجی کی کمی کا سامنا نہیں ہے، بلکہ ماحولیاتی تباہی، ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ، مصنوعی ذہانت (AI) کے اخلاقی خطرات اور ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔ اسلامائزیشن ماہرین کو یہ شعور دیتی ہے کہ وسائل کا استحصال نہیں کرنا ہے، بلکہ ان کے ساتھ امانت داری والا رویہ اختیار کرنا ہے۔ علمِ معاشیات یا سماجیات کو جب اسلامی اصولوں (عدل، احسان، زکوٰۃ، اور سود سے پاک معیشت) کی روشنی میں پڑھایا اور برتا جائے گا، تو یہ عالمی سطح پر غربت اور طبقاتی تفریق کو کم کرنے میں انتہائی موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اسلامائزیشن آف ایجوکیشن کا نظریہ مغربی یا دیگر تہذیبوں کے حاصل کردہ علوم کو مسترد نہیں کرتا، بلکہ ان کی خامیوں اور تباہ کن پہلوؤں کو چھان کر، ان کے مفید پہلوؤں کو پوری انسانیت کے لیے قابلِ عمل بناتا ہے۔
صحیح اور مؤثر طریقۂ کار
ماضی میں بعض جگہوں پر اس کا غلط اور انتہائی سطحی اطلاق کیا گیا، جس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ اس کا حقیقی اور مؤثر طریقۂ کار کچھ اِس طرح کا ہوسکتا ہے کہ سب سے پہلے مسلم مفکرین اور اساتذہ کو جدید علوم (فزکس، بائیولوجی، سائیکالوجی، اکنامکس) پر اس قدر گہری دسترس حاصل کرنی چاہیے کہ وہ ان علوم کی فکری بنیادوں کو چیلنج کر سکیں۔ پھر جدید علوم کے اندر چھپے ہوئے ان مفروضوں کو الگ کرنا ہوگا جو مذہب بے زاری، ڈارونزم (بطور ایک ملحدانہ نظریہ)، یا خالص مادیت پر مبنی ہیں۔ پھر حقائق اور آفاقی سچائیوں کو قبول کرتے ہوئے، انہیں اسلامی نظریۂ حیات کی روشنی میں نئے سرے سے مرتب کرنا ہوگا۔ سائنس کے قوانین کو اللہ کی "سنت" کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔ نیز، محض کتابوں کے سرورق بدلنا کافی نہیں ہے، بلکہ نیا اور معیاری نصاب تشکیل دینے کی ضرورت ہے اور ایسے اساتذہ کی فکری تربیت کرنا ضروری ہے جو ان دونوں جہتوں (عصری علم اور اسلامی بصیرت) پر یکساں عبور رکھتے ہوں۔
غرضیکہ، "اسلامائزیشن آف ایجوکیشن" کا مقصد دنیا کو سائنسی ترقی سے روکنا یا پیچھے کی طرف لے جانا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ اس کا اصل ہدف سائنس اور ٹیکنالوجی کے بے قابو اور مادی گھوڑے کو الٰہیاتی اخلاقیات کی لگام ڈالنا ہے، تاکہ انسانیت تباہی کے بجائے ایک متوازن، پرامن اور فلاحی مستقبل کی جانب سفر کر سکے۔
لیکن اگر موجودہ مغربی اور سیکولر تعلیمی نظام کی بنیادوں کو، جو کہ خالصتاً مادی اور ماوراء الطبیعیاتی (Metaphysical) حقائق، یعنی خدا اور وحی سے کٹی ہوئی ہیں، من و عن اپنا لیا جائے، تو اس سے سائنسی، تکنیکی اور مادی ترقی تو بلاشبہ حاصل ہوتی ہے، لیکن انسانیت کو بحیثیتِ مجموعی کئی سنگین اور ہمہ جہت نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور ان نقصانات کا تعلق محض عقیدے سے نہیں ہے، بلکہ انسانی بقا، سماجی امن اور عالمی نظام سے ہے۔ اگر علم کو وحی اور الٰہیاتی اخلاقیات سے مکمل طور پر منہا کر دیا جائے تو اس سے تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثلاً:
اخلاقی اضافیت (Moral Relativism) اور مطلق اقدار کا خاتمہ
سیکولر تعلیمی نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اخلاقیات کا کوئی حتمی اور مطلق (Absolute) معیار فراہم نہیں کرتا۔ جب خدا اور وحی کو نکال دیا جاتا ہے، تو اخلاقیات محض انسانی عقل، سماجی رواج یا ریاست کے قوانین کے تابع ہو جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں صحیح اور غلط کے معیار بدلتے رہتے ہیں۔ جو چیز آج ایک معاشرے میں بری ہے، کل وہی قانونی اور اخلاقی طور پر درست تسلیم کر لی جاتی ہے۔ اس "اخلاقی اضافیت" نے انسانیت کو ایک ایسے مقام پر کھڑا کر دیا ہے جہاں طاقتور کی مرضی ہی قانون اور اخلاق بن جاتی ہے۔
انسان کی تنزلی: خلیفہ سے ''معاشی پرزے'' تک
اسلامی نقطۂ نظر انسان کو اللہ کا ''خلیفہ'' (نائب) اور اشرف المخلوقات قرار دیتا ہے، جس کا ایک روحانی اور ابدی مقام ہے۔ اس کے برعکس، سیکولر مادی فلسفہ انسان کو محض ایک ترقی یافتہ جانور (Biological Entity) اور معاشی پیداوار کا ایک پرزہ (Economic Unit / Human Resource) سمجھتا ہے۔ اور جب انسان کی روحانی حیثیت ختم ہو جاتی ہے تو نظامِ تعلیم کا مقصد صرف ایسے کلرک، انجینئر یا منیجر پیدا کرنا رہ جاتا ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کی مشین کو چلاتے رہیں۔ اس سے انسان کا باطنی سکون چھن جاتا ہے اور وہ محض کمانے اور خرچ کرنے والی مشین بن کر رہ جاتا ہے۔
علم اور طاقت کا بے لگام اور تباہ کن استعمال
مغربی سائنس یہ تو بتاتی ہے کہ "ہم کیا کر سکتے ہیں"، لیکن یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہے کہ "ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں"۔ اخلاقیات سے کٹی ہوئی سائنس نے انسانیت کو ایٹمی اور حیاتیاتی ہتھیار (Bioweapons) دیے۔ آج کلوننگ (Cloning)، جینیاتی انجینئرنگ اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے میدان میں جو بے تحاشا اور خطرناک پیش رفت ہو رہی ہے، اگر اس پر کسی اعلیٰ اخلاقی نظام کا پہرہ نہ ہو تو یہ خود انسانی نسل کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔
کائنات کا بے دردی سے استحصال (Ecological Exploitation)
اسلامی فلسفے میں کائنات انسان کے پاس اللہ کی "امانت" ہے، جس سے اسے بقدرِ ضرورت فائدہ اٹھانا ہے اور اس کی حفاظت کرنی ہے۔ جبکہ سیکولر فلسفہ کائنات کو ایک "مردہ مادی شے" سمجھتا ہے جسے مسخر کر کے اس کا آخری حد تک استحصال (Exploit) کرنا انسان کا حق ہے۔ اسی بے رحم مادی سوچ کا نتیجہ آج گلوبل وارمنگ، ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور آبی حیات کی تباہی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ قدرت کو فتح کرنے کے جنون نے خود زمین کو انسان کے رہنے کے قابل نہیں چھوڑا ہے۔
افادیت پسندی (Utilitarianism) اور سماجی ڈارونزم
سیکولر نظامِ تعلیم بقائے اصلح (Survival of the Fittest) کے حیاتیاتی نظریے کو لاشعوری طور پر سماج اور معیشت پر بھی لاگو کرتا ہے۔ جس کے تحت کمزور کو مٹا کر طاقتور کا زندہ رہنا ایک فطری عمل سمجھا جاتا ہے۔ اس فلسفے نے جدید سرمایہ دارانہ نظام کو جنم دیا جس میں ہمدردی، ایثار اور قربانی کے بجائے مسابقت (Competition)، حرص اور افادیت پسندی (ہر چیز کو فائدے کے ترازو میں تولنا) نے لے لی ہے۔ اس نے دنیا میں طبقاتی تفریق اور غربت کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ دنیا کی نصف سے زیادہ دولت اِس وقت چند سو افراد کے قبضے میں ہے۔
روحانی خلا اور وجودی بحران (Existential Crisis)
جب نظامِ تعلیم نوجوان نسل کو یہ بتاتا ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں، زندگی کا کوئی حتمی مقصد نہیں، اور موت کے بعد کوئی حساب کتاب یا زندگی نہیں، تو انسان ایک شدید "وجودی بحران" کا شکار ہو جاتا ہے۔ مادی آسائشوں کی فراوانی کے باوجود آج ترقی یافتہ مغربی ممالک میں ڈپریشن، خودکشی کے رجحانات، اور ذہنی امراض کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ روح کی پیاس کو مادیت سے بجھانے کی کوشش نے ایک بے سکون اور کھوکھلا معاشرہ پیدا کیا ہے۔
الغرض، سیکولر نظامِ تعلیم نے انسان کو کائنات کی تسخیر تو سکھا دی، لیکن خود انسان کی اپنی تسخیر اور اس کی داخلی اصلاح کے حوالے سے یہ مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ اس نظام کو من و عن اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک ایسی گاڑی میں سوار ہو رہے ہیں جس کا انجن (سائنس اور ٹیکنالوجی) تو انتہائی طاقتور ہے، لیکن اس کا کوئی اسٹیئرنگ (اخلاقیات) یا منزل (آخرت کا تصور) نہیں ہے۔ یہ بے سمت طاقت بالآخر انسانیت کو تباہی کے گڑھے میں گرا دینے کا سبب بنتی ہے۔

0 تبصرے