چند روز قبل گھر میں گفتگو کے دوران، خاندان کی کچھ خواتین اور بہنوں نے اسلام میں خواتین کے حقوق، اور خصوصاً ملازمت (جوب) کے حوالے سے کچھ سوالات قائم کیے۔انہوں نے گفتگو کے درمیان حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے کاروبار اور ان کی جدوجہد کا تذکرہ کیا۔ چونکہ میں بغیر مکمل تحقیق کے اس حساس معاملے پر کوئی جواب نہیں دینا چاہتا تھا، اس لیے اب ان کے سوالات كو آپکے سامنے پیش کر رہا ہوں تاکہ واضح رہنمائی حاصل ہوسکے۔
سوالات درج ذیل ہیں:
- کیا اسلام میں خواتین کے لیے ملازمت کرنا سرے سے ممنوع ہے، یا مخصوص شرائط کے ساتھ اس کی اجازت ہے؟
- اگر کوئی خاتون ملازمت کرنا چاہے، تو شریعت نے اس کے لیے کیا حدود، پردے کے احکام اور ماحول (Atmosphere) کے ضوابط مقرر کیے ہیں؟
- اگر کسی خاتون کو مالی ضرورت نہ ہو (یعنی اس کے کفیل جیسے والد یا شوہر موجود ہوں)، لیکن اس کے اندر کوئی خاص صلاحیت (Skill) ہو یا وہ اپنے شوق اور جذبے کے تحت جوب کرنا چاہے، تو کیا ایسی صورت میں اس کے لیے جوب کرنا جائز ہے؟
اور مزید اس بات کی طرف بھی رہنمائی فرمائیں کہ اس طرح کے سوالات کے جوابات کس انداز میں دیے جائیں کہ ان کو تسلی بھی ہو اور وہ ان کے دل و دماغ کو اپیل بھی کریں۔
![]() |
| خواتین کے لیے شرعی اصولوں کے مطابق ایک پروقار، محفوظ اور غیر مخلوط دفتری ماحول |
آپ نے اپنے خاندانی ماحول میں پیش آنے والی اُس گفتگو کو جس احتیاط اور فکر کے ساتھ پیش کیا ہے، یہ آپ کے تقوے اور دین کے صحیح فہم کو ظاہر کرتا ہے۔ آج کے دور میں خواتین کے حقوق اور ان کی معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے جو سوالات اٹھائے جاتے ہیں، ان کا جواب شریعت کی روح، اس کے مقاصد اور حکمتوں کو بھی سامنے رکھ کر دینا انتہائی ضروری ہے تاکہ سائل کی عقلی تشفی کے ساتھ ساتھ قلبی تسلی بھی ہوسکے۔ بحیثیت ایک طالبِ علم اور شریعت کے خادم کے، میں ان سوالات کا تفصیلی، اصولی اور حکیمانہ جواب ذیل میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
حکمتِ دین اور مخاطَبات کی نفسیاتی تسلی کا اسلوب
خواتین کے ان سوالات کا جواب دینے سے پہلے یہ سمجھنا اور انہیں سمجھانا بے حد ضروری ہے کہ اسلام نے مرد و زن کے درمیان ذمہ داریوں کی جو تقسیم کی ہے، وہ درحقیقت عورت کی تکریم، اس کی فطری ساخت اور اس کے وقار کی حفاظت پر مبنی ہے۔ جب گھر کی خواتین ایسے سوالات کریں تو بات چیت کی ابتداء میں ان کی صلاحیتوں، ان کے جذبات اور دین کو سمجھنے کی لگن کی بھرپور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ انہیں یہ باور کرانا چاہیے کہ شریعت کوئی قید خانہ نہیں ہے بلکہ ایک محفوظ قلعہ ہے، اور اسلام نے عورت کو کمانے کی مشقت سے اس لیے آزاد رکھا ہے تاکہ وہ نسلِ انسانی کی تعمیر و تربیت جیسے عظیم ترین اور نازک ترین فریضے کو یکسوئی کے ساتھ ادا کرسکے۔
جہاں تک حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی مبارک زندگی اور ان کے تجارتی مشاغل کا تعلق ہے، تو اسے بالکل درست تناظر میں پیش کرنا چاہیے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایک متمول اور دانا خاتون تھیں جو اپنا مال تجارت کے لیے مضاربت کے اصول پر مردوں کے حوالے کرتی تھیں اور وہ ان کی طرف سے تجارتی سفر کیا کرتے تھے، جیسا کہ انہوں نے نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنا مال دے کر شام بھیجا تھا۔ وہ خود بازاروں میں جا کر غیر محرموں کے ساتھ اختلاط نہیں فرماتی تھیں، بلکہ گھر کی چار دیواری میں رہتے ہوئے ایک بہترین منتظم (Manager) کے طور پر اپنے کاروبار کی نگرانی فرماتی تھیں۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام عورت کی تجارتی اور انتظامی صلاحیتوں کو تسلیم کرتا ہے، مگر اس کے لیے ایسا طریقۂ کار اپنانے کی ترغیب دیتا ہے جس میں اس کا وقار اور شرعی پردہ مجروح نہ ہو۔
خواتین کی ملازمت کا بنیادی حکم
عورت کے لیے کسبِ معاش یا ملازمت کرنا سرے سے کوئی ممنوع یا حرام فعل نہیں ہے۔ خرید و فروخت، تجارت، اور جائز ذرائع سے مال کمانا جس طرح مرد کے لیے مباح ہے، اسی طرح عورت کے لیے بھی اصولی طور پر مباح ہے۔ تاہم، اسلام نے عائلی نظام (Family System) کی بقاء اور حسنِ انتظام کے لیے مرد کو ''قوام'' (نگران اور کفیل) بنایا ہے اور عورت کے نفقے (روٹی، کپڑا، مکان اور دیگر ضروریات) کی مکمل ذمہ داری مرد کے کاندھوں پر ڈالی ہے، خواہ وہ بیٹی کی صورت میں ہو، بہن کی صورت میں ہو، بیوی ہو یا ماں ہو۔ عورت کو معاشی فکروں سے اس لیے آزاد کیا گیا ہے کہ وہ گھر کے اندرونی نظام اور بچوں کی پرورش پر اپنی توانائیاں صرف کرسکے۔ لیکن اگر کوئی عورت کسی مجبوری کے تحت، یا کسی خاص ضرورت کے پیشِ نظر کوئی جائز ملازمت یا کاروبار کرنا چاہے، تو شریعت اس پر کوئی مطلق پابندی نہیں لگاتی۔ شرط صرف یہ ہے کہ جس طرح مردوں کے لیے کمائی کے کچھ حلال و حرام اصول ہیں، اسی طرح خواتین کے لیے بھی ان کی صنف اور عفت کی حفاظت کے پیشِ نظر کچھ حدود و قیود مقرر کی گئی ہیں۔ اگر ان حدود کی پاسداری کی جائے تو عورت کی کمائی بھی بالکل حلال اور طیب ہے، اور بسا اوقات معاشرے کی ضرورت کے تحت بعض پیشوں (جیسے خواتین کی تعلیم اور علاج معالجہ) میں خواتین کا کام کرنا کارِ ثواب بھی بن جاتا ہے۔
ملازمت کے جواز کے لیے حدود اور ماحول کے ضوابط
اگر کوئی خاتون ملازمت کا ارادہ رکھتی ہے، تو اسے چند انتہائی اہم حدود اور ضوابط کا پابند رہنا ہوگا۔ سب سے اہم چیز کام کی نوعیت کا جائز ہونا ہے، یعنی وہ کام بذاتِ خود حلال ہو اور اس میں کوئی غیر شرعی فعل شامل نہ ہو۔ اس کے بعد ماحول کا شرعی تقاضوں کے مطابق ہونا لازمی ہے۔ ملازمت کی جگہ پر مرد و زن کا آزادانہ اختلاط نہ ہو، اور عورت کو کسی بھی غیر محرم مرد کے ساتھ خلوت (تنہائی) میں وقت گزارنے کی نوبت نہ آئے۔ خاتون کے لیے لازم ہے کہ وہ گھر سے نکلتے وقت مکمل شرعی پردے کا اہتمام کرے، جس میں اس کا لباس ساتر ہو، زینت ظاہر نہ ہو، اور اس کے لباس یا خوشبو سے کسی قسم کا فتنہ پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ بات چیت کے دوران اس کی آواز اور لہجے میں وہ فطری وقار اور سنجیدگی ہونی چاہیے جس کا حکم قرآنِ مجید نے ازواجِ مطہرات کے واسطے سے تمام مسلمان عورتوں کو دیا ہے تاکہ کسی کے دل میں کوئی طمع پیدا نہ ہو۔
مزید یہ کہ، یہ بھی ایک لازمی شرط ہے کہ عورت کے گھر سے نکلنے اور ملازمت کرنے سے اس کے شوہر، بچوں یا گھر والوں کے وہ حقوق پامال نہ ہو رہے ہوں جو شریعت نے اس پر لازم کیے ہیں۔ چونکہ شادی کے بعد عورت کے وقت پر شوہر کا حق بھی متعلق ہوتا ہے، اس لیے ملازمت کے لیے شوہر (یا غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں والد یا سرپرست) کی رضامندی اور اجازت ضروری ہے تاکہ خاندانی نظام میں کوئی دراڑ یا خلفشار پیدا نہ ہو۔
مالی فراغت کے باوجود محض شوق اور صلاحیت کے اظہار کے لیے ملازمت
یہ سوال عصرِ حاضر کا ایک انتہائی اہم اور حساس معاملہ ہے کہ اگر کفیل موجود ہو اور مالی مجبوری نہ ہو، تو کیا محض اپنے اندر موجود کسی ہنر (Skill) یا شوق کی تسکین کے لیے عورت ملازمت کر سکتی ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صلاحیتیں اور ذہنی توانائیاں مردوں کی طرح عورتوں کو بھی عطا کی ہیں، اور اسلام ان صلاحیتوں کو دفن کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ اگر ایک خاتون مالی طور پر مستحکم ہے لیکن وہ اپنی تعلیم، ہنر اور صلاحیتوں کو معاشرے کی بہتری یا اپنی قلبی تسکین کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے، تو اس کی اجازت ہے، بشرطیکہ وہ مندرجہ بالا تمام حدود (پردہ، عدمِ اختلاط، اور سرپرست کی اجازت) کی مکمل پابندی کرے۔
تاہم، ایسی خواتین کے لیے سب سے بہترین اور مستحسن راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو ایسے میدانوں میں صرف کریں جو خواتین کی مخصوص ضروریات سے متعلق ہوں، جیسے بچیوں اور خواتین کے تعلیمی ادارے قائم کرنا، مستورات کے لیے دینی یا دنیاوی ہنر کے مراکز چلانا، طبِ نسواں (Gynecology) کے میدان میں خدمات انجام دینا، یا گھر بیٹھے جدید ذرائع (Internet/Online Platforms) کا استعمال کرتے ہوئے شرعی حدود میں رہ کر تجارت، تصنیف و تالیف، یا آئی ٹی (IT) کی مہارتوں کو بروئے کار لانا۔ اس طرح ان کی صلاحیتوں کا بھرپور اور مثبت اظہار بھی ہو جائے گا، ان کا شوق بھی پورا ہو گا، اور وہ ان تمام مفاسد اور فتنوں سے بھی محفوظ رہیں گی جو عموماً مخلوط اور بے پردہ ماحول میں کام کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔
دینِ اسلام عورت کو ہنر مند اور باصلاحیت دیکھنے کا حامی ہے، بس وہ یہ چاہتا ہے کہ عورت کا یہ ہنر اس کے وقار، اس کی حیا اور اس کے خاندانی سکون کی قیمت پر ظاہر نہ ہو۔
مجھے امید ہے کہ اس حکیمانہ اور مفصل انداز میں بات کرنے سے آپ کی خاندانی خواتین نہ صرف دین کے احکامات کو خوش دلی سے سمجھ سکیں گی، بلکہ ان کے دلوں میں شریعت کی وہ عظمت اور محبت مزید راسخ ہوگی جو عورت کو ایک ملکہ کا درجہ دے کر اس کی عصمت و عفت کی حفاظت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

0 تبصرے